Advocate Syed Khurram Shah

Advocate Syed Khurram Shah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Syed Khurram Shah, Digital creator, Advocate Syed Khurram Shah House Street No1 Hosue No1, Lahore.

Lawyer & Tax consultant & Digital Creator🎬

Criminal law, Civil Law, Family law. ⚖️📚
Contact Us For
1.Income Tax Return
2.SECP Company reg
3.Sale Tax Return
4.Business Registration
5.Govt Employees Tax Return
6.Salary Tax Return
From Nankana Sahib, Lhr Hello I am Adv Syed Khurram shah
Tax Lawyer
Tax Advisor
Tax Consultant
Corporate Lawyer
Family lawyer
Legal Consultant
Criminal cases lawyer
Civil cases lawyer

15/09/2026

ہائی کورٹ میں دنگل ⚖️🇵🇰 ضمانت خارج
😍

14/09/2026

🚨 رُک جائیں! فری میں Filer بنوانے سے پہلے یہ ویڈیو ضرور دیکھیں، ورنہ بعد میں جرمانہ آپ کو ہی بھرنا پڑ سکتا ہے!

فری میں Filer بنوانے کے چکر میں جرمانہ نہ بھر بیٹھیں! ⚠️

کچھ جگہوں سے مفت میں Filer بنوانے کی پیشکش آپ کو بعد میں مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ FBR میں اپنا NTN، Tax Return اور Filer Status درست طریقے سے چیک کروائیں، ورنہ غلط یا نامکمل فائلنگ کی صورت میں جرمانہ اور قانونی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اپنا Tax Return ہمیشہ کسی ماہر Tax Consultant سے مکمل اور درست طریقے سے فائل کروائیں۔

Advocate Syed Khurram Shah – Tax Consultant
📲 WhatsApp: 03105336747

ایک صاحب نے حال ہی میں رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ایک شخص سے صرف 1,000 روپے میں فائل کرواتے رہے۔اب ا...
12/09/2026

ایک صاحب نے حال ہی میں رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ایک شخص سے صرف 1,000 روپے میں فائل کرواتے رہے۔
اب انہیں 4,33,000 روپے کے ٹیکس سے متعلق نوٹس کا سامنا ہے۔
یہ واقعہ ایک اہم سبق ہے:
ہزاروں روپے کی وقتی بچت بعض اوقات لاکھوں روپے کے مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن صرف ایک فارم بھرنے کا نام نہیں۔ درست ٹیکس پروفائلنگ، آمدن اور اثاثوں کی قانونی پوزیشن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینکنگ معاملات اور متعلقہ ٹیکس قوانین کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
سستی فیس دیکھ کر فیصلہ کرنے کے بجائے پیشہ ورانہ مہارت، قانونی سمجھ بوجھ اور ذمہ دارانہ مشاورت کو ترجیح دیں۔
نوٹس موصول ہونا ہر صورت میں حتمی ٹیکس ذمہ داری ثابت نہیں کرتا، لیکن بروقت اور درست قانونی جواب دینا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
اصل نوٹس سے متعلق حساس اور ذاتی معلومات کو حذف/چھپا کر آگاہی کے مقصد کے لیے شیئر کیا جا رہا ہے۔
Advocate Adv Syed Khurram Shahzad Shah
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

06/09/2026

Tajar Registration FBR ⚖️🇵🇰 Tajar Dost

01/09/2026

⚖️ کیا ضمانت ہو جانے کے بعد آپ کا کیس ختم ہو جاتا ہے؟ 🤔

❌ ضمانت مل گئی… تو کیا کیس بھی ختم؟ ہرگز نہیں!

📌 ضمانت کے بعد کیا ہوتا ہے؟
📄 چالان کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہوتا ہے؟
⚖️ ٹرائل کیسے شروع ہوتا ہے؟
🔍 اور کیس کے اختتام تک آپ کو کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؟

🎥 جاننے کے لیے ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔

Advocate Syed Khurram Shah
📞 03105336747
📱 WhatsApp Only

#ضمانت


23/08/2026

📢 ٹیکس ریٹرن فائلنگ

اپنا سالانہ گوشوارہ 30 ستمبر 2026 سے پہلے لازمی جمع کروائیں۔

مزید معلومات اور فائلنگ کے لیے رابطہ کریں۔

سب انسپکٹر بہن سمیت بھانجے کو چھڑوانے تھانے پہنچ گیا، اہلکاروں سے جھگڑا، مقدمہ درجلاہور: پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو اپنی...
22/08/2026

سب انسپکٹر بہن سمیت بھانجے کو چھڑوانے تھانے پہنچ گیا، اہلکاروں سے جھگڑا، مقدمہ درج

لاہور: پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو اپنی بہن کے ہمراہ بھانجے کو تھانے سے چھڑوانے کی کوشش مہنگی پڑ گئی۔ پولیس کے مطابق باوردی سب انسپکٹر اپنی بہن کے ساتھ تھانے میں داخل ہوا اور گرفتار ملزم کو رہا نہ کرنے پر اہلکاروں سے تلخ کلامی کرتے ہوئے گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کی۔

ایف آئی آر کے مطابق سب انسپکٹر جنید احمد اور اس کی بہن شازیہ بی بی نے انویسٹی گیشن ونگ کے اے ایس آئی غفور احمد اور دیگر اہلکاروں سے بدتمیزی اور مزاحمت کی۔ دونوں افراد اپنے بھانجے زین علی عرف سورج کو پولیس حراست سے چھڑوانے کے لیے تھانے پہنچے تھے۔

پولیس کے مطابق زین علی عرف سورج کو انویسٹی گیشن پولیس تھانہ کوٹ لکھپت نے مقدمہ نمبر 4174/26 کے تحت گرفتار کیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس نے سب انسپکٹر جنید احمد اور شازیہ بی بی کو بھی گرفتار کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جنید احمد انویسٹی گیشن ونگ ہیڈ کوارٹر میں بطور سب انسپکٹر تعینات ہے۔ تھانہ کوٹ لکھپت پولیس نے انویسٹی گیشن ونگ کے سب انسپکٹر محمد اکبر کی مدعیت میں اختیارات سے تجاوز، کارِ سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر حملے سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔

منڈی بہاؤالدین کے گاؤں میانوال رانجھا سے تعلق رکھنے والے اقبال رانجھا صرف 16 سال کی عمر میں دورانِ ڈکیتی قتل کے ایک مقدم...
20/08/2026

منڈی بہاؤالدین کے گاؤں میانوال رانجھا سے تعلق رکھنے والے اقبال رانجھا صرف 16 سال کی عمر میں دورانِ ڈکیتی قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوئے۔ بعد میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ اگرچہ مدعیوں نے انہیں معاف کر دیا اور راضی نامہ بھی ہو گیا، لیکن اس وقت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 396 کے تحت یہ جرم نان کمپرومائز ایبل تھا، اس لیے 2003 میں کورٹ نے راضی نامہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اس طرح اقبال رانجھا کو منڈی بہاؤلدین جیل کے سزائے موت کے سیل چکی میں بھیج دیا گیا۔
جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے قرآنِ مجید پڑھا، مڈل اور میٹرک کی تعلیم مکمل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل صرف قیدی نہیں کاٹتا، اس کی پوری فیملی بھی اس سزا میں برابر کی شریک ہوتی ہے۔
پھر وہ دن بھی آیا جب 30 مارچ 2016 کو ان کی پھانسی کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ چونکہ منڈی بہاؤالدین جیل میں پھانسی کا انتظام نہیں تھا، اس لیے 26 مارچ کو انہیں گجرات جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہاں ایک ایسے سیل میں اکیلے بند کیا گیا جہاں کوئی کیل، لوہا یا ایسی چیز موجود نہیں تھی جس سے خود کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ ڈاکٹر آیا، گردن کا ناپ لیا، وزن کیا، کیونکہ اگر وزن کم ہو تو پھانسی کے وقت مطلوبہ وزن پورا کرنے کے لیے ریت یا مٹی کا وزن بھی باندھا جاتا ہے۔
29 مارچ کو گھر والوں سے آخری ملاقات ہوئی۔ وہ کفن دفن کا مکمل انتظام کر کے آئے تھے، کیونکہ اگلے دن پھانسی ہونی تھی۔ لیکن اسی ملاقات کے دوران خبر ملی کہ ایک زیرِ سماعت درخواست کی وجہ سے پھانسی پر 15 دن کا اسٹے مل گیا۔ اقبال رانجھا کہتے ہیں، “مجھے لگا جیسے میری زندگی صرف پندرہ دن اور بڑھ گئی ہو۔”
اصل معاملہ یہ تھا کہ صدرِ پاکستان کی طرف سے ایک آرڈیننس آیا تھا جس کے مطابق جرم کے وقت نابالغ افراد کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں انہیں نابالغ قرار دیا تھا، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بعد میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم کو یہ رپورٹ ملی، وہ اس کیس تک پہنچی، اور اسی بنیاد پر چند سالوں پر محیط قانونی جدوجہد دوبارہ شروع کی۔ ٹرائل کورٹ سے بات نہ بنی، لیکن ہائی کورٹ نے تسلیم کیا کہ جرم کے وقت وہ نابالغ تھے، اس لیے ان کی سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔
22 سال بعد جب وہ جیل سے باہر آئے تو دنیا مکمل بدل چکی تھی۔
آخر میں اقبال رانجھا کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ جیلوں میں موجود ان لوگوں کے لیے کچھ کر سکیں جو واقعی بے گناہ ہیں۔ ان کا پیغام بھی یہی ہے کہ اعلیٰ حکام جیلوں میں موجود ایسے قیدیوں کے مقدمات ضرور چیک کریں، کیونکہ ممکن ہے کئی لوگ برسوں سے انصاف کے منتظر ہوں۔۔۔
اس پوسٹ کو لازمی شئر کریں شکریہ ،آنکھیں نم ہو گئ😌

1700 ری ایکشنز میں سے صرف 150 لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا باقی سب اس واقعے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں آخر اتنی نفرت اور...
16/08/2026

1700 ری ایکشنز میں سے صرف 150 لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا باقی سب اس واقعے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں آخر اتنی نفرت اور بے حسی اس قوم میں کیوں پیدا ہوگئی پولیس جیسے ادارے کے لیے ۔۔۔۔ وجہ؟؟؟؟

15/08/2026

🚨 لیٹ ایکٹو یا اِن ایکٹو فائلر؟ اب ایک ہی دن میں ایکٹو بنیں!

FBR نے ایکٹو فائلر بننے کی سہولت مزید آسان کر دی ہے۔ مکمل تفصیل ویڈیو میں دیکھیں۔ 👇

⚠️ اہم وارننگ: ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔ دیر نہ کریں!

Address

Advocate Syed Khurram Shah House Street No1 Hosue No1
Lahore
54792

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Syed Khurram Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Syed Khurram Shah:

Shortcuts

Share