07/11/2025
*صبح ہوتی ہے ، شام ہوتی ہے،*
*یوں ہی زندگی تمام ہوتی ہے ،*
*ہم نفس کے شکنجے میں جکڑے اور انجام سے اجنبی ہو کر دنیا میں مست ہیں،*
"سامان سو برس کا ہے بل بھر کی خبر نہیں" حقیقت یہی ہے کہ زندگی کے شجر پر وقت کی کلہاڑی کی کاری ضربیں مسلسل برس رہی ہیں۔
نجانے کس موڑ پر زندگی کی شام ہو جائے
، مگر افسوس!! ہم ظالم بن کر غفلت کی چادر اوڑھے اس مسافر گاہ کو اپنا مسکن بنا بیٹھے ہیں...!!
*جاگ جائیے اس سے پہلے کہ موت ہم سب کو جگادےکیونکہ غفلت میں ڈوبے انسان کی آنکھ تو قبر میں ہی جاکر کھلتی ہے