Maher Ghulam Murtaza

Maher Ghulam Murtaza Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maher Ghulam Murtaza, Digital creator, Lahore.

🌍 Traveling Vlogs | Digital Creator
📍 Exploring Pakistan & beyond
🎥 Budget travel | Nature | Culture
✨ Turning journeys into stories
✈️ سفر کی ویڈیوز | ڈیجیٹل کریئیٹر
🌄 پاکستان کے حسین مناظر
📱 موبائل ولاگز
✨ ہر سفر ایک نئی کہانی

28/02/2026

قطر میں موجود ایک پاکستانی کی لائیو کمنٹری

17/02/2026

طوافِ وداع
طوافِ وداع وہ طواف ہے جو حاجی مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت بطورِ الوداع ادا کرتا ہے۔ اسے طوافِ صدر بھی کہا جاتا ہے۔
حکم:
فقہِ حنفی کے مطابق یہ ہر اس حاجی پر واجب ہے جو مکہ مکرمہ سے باہر جا رہا ہو۔ اگر بلا عذر چھوڑ دیا جائے تو دم لازم آتا ہے۔
کن پر لازم نہیں:
اہلِ مکہ پر لازم نہیں
حائضہ یا نفاس والی عورت پر لازم نہیں
صرف عمرہ کرنے والے پر واجب نہیں، کیونکہ یہ حج کے ساتھ خاص ہے
وقت:
یہ طواف مکہ چھوڑنے سے بالکل پہلے ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد غیر ضروری خریداری یا قیام مناسب نہیں، ورنہ دوبارہ طواف کرنا پڑ سکتا ہے۔
طریقہ:
سات چکر عام طواف کی طرح لگائے جاتے ہیں۔ اس میں رمل اور اضطباع نہیں ہوتا۔ طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے۔
روحانی پہلو:
یہ اللہ کے گھر سے محبت بھرا الوداع ہے اور اس میں قبولیت اور دوبارہ حاضری کی دعا کی جاتی ہے۔

14/02/2026

🌟 مدینہ کے ساتھ "منورہ" کیوں؟

لفظ "منورہ" (مُنَوَّرَہ) عربی کے لفظ "نور" سے بنا ہے، جس کے معنی روشنی کے ہیں۔ "منورہ" کا مطلب ہے "روشن کیا گیا" یا "جسے نور عطا کیا گیا" ۔ مدینہ کو "مدینہ منورہ" کہہ کر مراد لیا جاتا ہے "وہ شہر جو منور (روشن) ہو گیا" .

یہ نورانیت اس شہر کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ اس حوالے سے اہم نکات یہ ہیں:

· اس شہر کا پرانا نام "یثرب" تھا، جس کے معنی "عیب، فساد اور ملامت" کے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو پسند نہیں فرمایا اور اسے بدل کر "مدینہ" (شہر) یا "طابہ" (پاکیزہ) رکھ دیا ۔
· آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور قیام کے بعد یہ شہر آپ کے فیوض و برکات سے جگمگا اٹھا، اس لیے اسے "منورہ" کہا جانے لگا ۔
· یہاں مسجد نبوی ہے جسے دنیا کی مقدس ترین مساجد میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے اور یہیں آپ کا روضۂ اقدس ہے ۔
· قرآن مجید کی بہت سی آیات، جن میں احکامات اور رہنمائی ہے، اس شہر میں نازل ہوئیں ۔

اس طرح "منورہ" کا لفظ اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں نورانی اور مقدس ہو گا۔

14/02/2026

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا نام سنتے ہی دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ محض الفاظ نہیں بلکہ عقیدت و احترام کا اظہار ہے۔ یہ نام دراصل ان مقدس شہروں کی عظمت اور تقدیس کو اجاگر کرنے کے لیے ان کے ساتھ خاص صفات (اوصاف) کا اضافہ ہے۔ ذیل میں ہم ان ناموں کی وجوہات اور معانی پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

🕋 مکہ کے ساتھ "مکرمہ" کیوں؟

لفظ "مکرمہ" (مُکَرَّمَہ) عربی زبان کے لفظ "اکرام" سے نکلا ہے، جس کے معنی عزت دینا، تعظیم کرنا اور قابلِ احترام بنانا کے ہیں . چنانچہ مکہ کو "مکہ مکرمہ" کہہ کر دراصل اسے "عزت والا مکہ" یا "معزز شہر مکہ" قرار دیا جاتا ہے .

یہ نام اس لیے چنا گیا کیونکہ یہ شہر اسلام کا سب سے مقدس مقام ہے اور درج ذیل خصوصیات کی وجہ سے جلا بخشی گئی ہے:

· یہاں خانہ کعبہ واقع ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ ہے .
· یہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے .
· قرآن مجید میں اسے "ام القریٰ" (بستیوں کی ماں) اور "البلد الامین" (پرامن شہر) جیسے باوقار ناموں سے پکارا گیا ہے .
· اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس شہر کی قسم کھائی ہے، جو اس کے بلند مرتبے کی دلیل ہے .

خلاصہ یہ کہ لفظ "مکرمہ" ان تمام تر تعظیموں اور حرمتوں کا احاطہ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو عطا فرمائی ہیں۔

07/02/2026

یہ بیس روپے شاید کسی عام لین دین کا حصہ نہیں تھے، اس میں کسی اپنائیت کی خوشبو ہے.❤️
لگتا ہے کسی بہن نے بھائی کی دی ہوئی چھوٹی سی خوشی سمجھ کر اسے مدتوں سنبھال کر رکھنا ہوگا
مگر آج یہ میرے پاس آ گیا ہے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بڑی مجبوری راستے میں آ کھڑی ہوئی تھی
شاید گھر میں ضرورت آن پڑی، شاید آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھ خالی،
غریبی انسان سے آہستہ آہستہ سب کچھ لے لیتی ہے، حتیٰ کہ وہ یادیں بھی جو دل کے سب سے قریب ہوتی ہیں💯🙂

یو اے ای کی مساجد صفائی ستھرائی میں ایک نمبر ہے ہیں لیکن ایک یہاں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں اگر مرکزی مصلے پہ جماعت خ...
06/02/2026

یو اے ای کی مساجد صفائی ستھرائی میں ایک نمبر ہے ہیں لیکن ایک یہاں کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں اگر مرکزی مصلے پہ جماعت ختم ہو جائے تو دوسری جماعت کروانے پر کوئی پابندی نہیں۔ بلکہ اکثر نمازوں میں تو مرکزی جماعت کے بعد وقفے وقفے سے کئی جماعتیں ہوتی رہتی ہیں کہ بوجوہ تاخیر سے آنے والے لوگ انفرادی نماز کے بجائے باجماعت نماز کا ثواب سمیٹ سکیں۔ اس سے بھی خوبصورت بات یہ کہ امامت کے لیے جُبہ و امامہ اور کم از کم ایک مُشت داڈھی والے کا راستہ بھی نہیں تکا جاتا۔ بلکہ دنیا کے کسی بھی خطے کا کوئی بھی کلمہ گو مسلمان امامت کر لیتا ہے۔ کوئی اس کا مسلک نہیں پوچھتا، اس کی نیشنلٹی چیک نہیں کرتا، داڑھی مونچھ نہیں ماپتا، عمر کا تعین نہیں کرتا، اس کے پہناوے کو ایشو نہیں بناتا۔ واحد شرط صاحبِ ایمان ہونا ہوتا ہے بس۔۔
وضو کرکے آنے والوں میں سے کوئی بھی ایک فرد آگے بڑھ کر امامت کرتا ہے اور باقی سارے لوگ اس کے پیچھے مقتدی بن جاتے ہیں، اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے حنفی مسلک میں یہ ہے کہ جماعت کی نماز ایک دفعہ ہو تاکہ باقی اپنی مرضی سے نہ آئیں کہ جب دل چاہا آئےبلیکن ایک حدیث یہ بھی ہے کہ جماعت کی نماز بہتر ہے الگ الگ پڑھنے سے سو لوگ انفرادی نماز پڑھنے سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور امن کا تو یہ حال ہے کہ یہاں خواتین بھی مسجد جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے آتی ہیں انکے لئے پچھلے حصے یا سائڈ والے حصے میں کمرا ہوتا ہے اور بعض جگہوں پر انکے سہولت کےلئے ٹی وی بھی لگا ہوتا ہے تاکہ امام کو دیکھ سکیں۔
باقی مساجد کی صفائی ستھرائی کا یہ عالم ہے کہ مساجد کے ساتھ ساتھ مساجد کے واش رومز ہوٹل جیسے ہوتے ہیں چمکتے فرش فل ائیرگنڈیشنڈ ہوتے ہیں اور بعص اقاوت توباتھ رومز میں عود کی دھانی کی جاتی ہے ۔
یہ سب اس لیے ہے کیونکہ یہاں عبادت گزاروں کے آرام، صحت اور عزت کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف صفائی نہیں، بلکہ ایک تہذیب ہے، ایک نظام ہے، ایک مثال ہے۔

03/02/2026

مدینے کی یاد دل سے کبھی مٹتی نہیں۔
وہ روشن گنبد، ٹھنڈی ہوا، اذان کی گونج، اور درِ نبی ﷺ پر حاضری کا سکون انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتا ہے۔ وہاں کی فضا میں ایک خاص محبت، عاجزی اور روحانیت ہے جو دل کو نرم اور آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔
یہ تصویر بھی اسی بابرکت سفر کی جھلک لگتی ہے—احرام، بھائی چارہ، اور مدینے کی نورانی فضاؤں میں گزارے ہوئے لمحات، جو زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔ 🤍

02/02/2026

Sohny sohny chity guly da

02/02/2026

مکہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور روحانیت کا مرکز ہے۔ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں خانہ کعبہ واقع ہے، جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز میں رخ کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر انسان کو ایک خاص سکون، عاجزی اور اللہ سے قربت کا احساس ہوتا ہے۔
حج اور عمرہ کے موسم میں یہاں کی فضا بالکل مختلف ہوتی ہے—ہر طرف تلاوت، دعا، لبیک کی صدائیں اور اللہ کی یاد۔ بہت سے لوگ مکہ سے واپس آ کر بھی وہاں کی روحانی کیفیت کو دل میں بسائے رکھتے ہیں۔

01/02/2026

سعودی عرب کے مشرقی علاقے
میں ایک استاد اپنی گاڑی چلا رہے تھے کہ

زندگی ہمیں ایسے لمحے دکھاتی ہے جہاں قانون صرف قانون نہیں رہتا بلکہ character test بن جاتا ہے۔ اور کبھی ایک معمولی سا جرمانہ انسان کی پوری زندگی کی کمائی کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ واقعہ بھی ایسا ہی ہے، جہاں ایک استاد کو اندازہ ہوا کہ اصل کامیابی تنخواہ نہیں، بلکہ وہ نسل ہے جو آپ کے ہاتھوں پروان چڑھتی ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک استاد اپنی گاڑی چلا رہے تھے کہ ٹریفک پولیس نے انہیں روک لیا۔ افسر نے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات مانگے اور سیاہ چشمے کے پیچھے سے ان کے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا۔ تمام دستاویزات چیک کرنے کے بعد اس نے پُرسکون مگر پُرعزم لہجے میں کہا کہ آپ نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی۔ استاد نے فوراً اعتراف کیا کہ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں جرمانے کا مستحق ہوں۔

افسر نے چالان لکھنا شروع کیا، پھر اچانک پوچھا کہ کیا آپ استاد اور تربیت دینے والے ہیں؟ جواب ہاں میں ملا تو اس نے ایک اور سوال کیا: اگر کوئی طالب علم امتحان میں نقل کرے تو کیا آپ اسے معاف کر دیتے ہیں؟ استاد نے کہا نہیں، میں قانون لاگو کرتا ہوں۔ افسر مسکرایا، پرچی تھمائی اور کہا کہ کیا آپ گاڑی سے نیچے اتر سکتے ہیں۔

استاد حیران تھے، مگر نیچے اتر آئے۔ اچانک افسر نے انہیں گلے لگا لیا اور سر پر بوسہ دیا۔ استاد ابھی اس کیفیت کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ اس نے کہا: استاد! میں آپ کا شاگرد ہوں۔ کیا آپ کو یاد ہے جب میں نے امتحان میں آپ کے بیٹے سے نقل کی تھی؟ آپ نے ہم دونوں کی کاپیاں ضبط کیں، دونوں کو صفر دیا اور قانون اپنے بیٹے پر بھی ویسے ہی لاگو کیا جیسے مجھ پر۔

اس نے کہا کہ اسی دن مجھے سمجھ آیا کہ قانون رشتے نہیں دیکھتا، انصاف equal for all ہوتا ہے۔ میں اس دن آپ کے احترام میں بھی رویا تھا اور اس بات پر بھی کہ آپ نے اپنے بیٹے پر بھی قانون نافذ کیا، لیکن وہی دن میری زندگی کا turning point بن گیا۔ آج میں اسی اصول پر کھڑا ہوں، اور اسی لیے میں آپ پر بھی قانون لاگو کر رہا ہوں۔

استاد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ شاگرد اپنی وردی کی ہیبت برقرار رکھنے کی کوشش میں جذبات ضبط کیے کھڑا تھا۔ پھر اس نے جیب سے رقم نکالی اور کہا: استاد، میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ رقم میری طرف سے قبول کر لیجیے۔ قانون تو میں نے نافذ کر دیا، لیکن جرمانہ میری طرف سے۔ آپ میرے معلم، میرے باپ اور میری مثال ہیں۔

استاد نے انکار کیا، مگر شاگرد اور اس کے ساتھی افسر نے اصرار کیا۔ آخرکار وہ وہاں سے رخصت ہوئے تو دل میں عجیب سی طمانیت تھی، آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے اور دل

01/02/2026

جب انسان اپنے ہاتھوں سے ایک پودا لگاتا ہے، اسے پانی دیتا ہے، دھوپ سے بچاتا ہے اور وقت کے ساتھ اسے بڑا ہوتا دیکھتا ہے، تو اس کے ساتھ ایک طرح کا رشتہ بن جاتا ہے۔

جب وہی پودا آخرکار پھل دیتا ہے تو خوشی بہت گہری اور خالص ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے محنت رنگ لے آئی ہو۔ دل میں فخر، سکون اور شکر کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی دیکھ بھال اور صبر کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

یہ خوشی صرف پھل کی نہیں ہوتی بلکہ اس سفر کی بھی ہوتی ہے جو بیج سے درخت بننے تک طے ہوا — جیسے آپ نے خود زندگی کو پروان چڑھتے دیکھا ہو۔

30/01/2026

Allah pak bakshish farmaiy Ameen

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maher Ghulam Murtaza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share