Saadat International

Saadat International Office(SAADAT INTERNATIONAL GROUP OF PUBLICATION)
SINCE-1937- Saadat Building ,19-A ,Abbot Lahore

3-12-25
03/12/2025

3-12-25

DAILY SAADAT LAHORE  26-11-2025
27/11/2025

DAILY SAADAT LAHORE 26-11-2025

DAILY SAADAT LAHORE  25-11-2025
25/11/2025

DAILY SAADAT LAHORE 25-11-2025


WEEKLY SAADAT INTERNATIONAL LAHORE (23 TO 30 NOV  2025 )                     عثمان غنی (خصوصی رپورٹ)سعادت انٹرنیشنلوائے ...
25/11/2025

WEEKLY SAADAT INTERNATIONAL LAHORE
(23 TO 30 NOV 2025 )





عثمان غنی
(خصوصی رپورٹ)سعادت انٹرنیشنل
وائے آئی این این نیوز ایجنسی
شاعر مشرق اور مصور پاکستان علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ا±ن کے پیغام کا اعادہ کرنے کے لیے یوم اقبال ۹۔نومبر کی مناسبت سے ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کی تقریب ”نہیں ہے نا ا±مید اقبال اپنی کشت ِویراں سے، ا±مید، محنت اور قوم کی صلاحیت پر یقین“ کے موضوع پر گزشتہ دنوں بیت الحکمہ آڈیٹوریم مدینتہ الحکمہ میں ہمدرد فاﺅنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد(ہلال امتیاز) کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کی مہمان خصوصی معروف شاعرہ اور مصنفہ ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبرصاحبہ تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ڈاکٹر علامہ اقبال وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی فکر و فلسفہ اور لازوال کلام کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے روشن راستہ متعین کیا۔ ا±ن کے خواب، ا±ن کی سوچ اور ا±ن کا پیغام آج بھی ہماری رہنمائی کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کے نزدیک تعلیم اقوام کی کام یابی کی بنیاد ہے۔ وہ بارہا کہتے تھے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔یہ امر آج کی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ثابت ہوتا ہے کہ ا±ن کی کام یابی کا راز تعلیم، نظم و ضبط، اخلاق اور اعلیٰ شعورمیں پوشیدہ ہے۔ہمیں علامہ اقبال کے بتائے ہوئے انہی اصولوں پر کاربند ہوگا۔ نونہالان وطن کو علامہ اقبال کے فلسفے’خودی‘ کو اپنانا ہوگا ، یعنی اپنی صلاحیتوں پر یقین، اپنے مقصد سے وفاداری اور دنیا کے سامنے سر ا±ٹھا کر جینے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔آج کے نوجوان کے لیے یہ پیغام پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبرنے کہاکہ پر اعتماد اور باشعور نونہال ہی پاکستان کے روشن و درخشاں مستقبل کی نوید ہیں۔ شاعر مشرق حکیم الامت نے اپنے کلام کے ذریعے نونہالوں اورنوجوانوں کو منتخب کیا۔ عظیم لوگ صاحب بصیرت اور اہل فکر و نظر ہوتے ہیں اسی لیے وہ مستقبل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ یہی کام شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو کسی چمن کی طرح سینچنا پڑتا ہے، ذہنی آبیاری کرنی پڑتی ہے تب جاکر ریاستیں عظیم مملکت میں ڈھلتی ہیں۔ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانان برصغیر میں مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ ا±ن کے ہم عصر شعراء کے کلام اور ادباءکی تحاریر میں مایوسی کا پہلو واضح تھا۔ تاہم اپنی قوم کے لیےفکر مند مدبرِ ملّت علامہ اقبال نےمشکل وقت میں مسلمانوں میں ا±مید پیدا کی۔ ہم پر واضح کیا کہ ہماری طاقت روحانیت ہے۔ہم پر علم کی حقیقت اور خودی کی اہمیت آشکار کی۔ہمیں سمجھایاکہ ہر مقصد کا حصول کٹھن ہوتا ہے جس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ، علم حاصل کرنا ہوتا ہے پھر جا کے ا±س مقام پر پہنچتے ہیں جہاں سے خود کو منواسکیں۔
نونہال مقررین قائد ایوان عائشہ فواد (ہمدرد پبلک اسکول)، قایم مقام قائد حزب اختلاف جائشہ احمر(ہمدرد پبلک اسکول)، علیزہ ندیم(اوسس گرامر اسکول)، اقصیٰ بلوچ(مسلم پبلک ہائی اسکول)، تسبیحہ ناصر (جی سی ٹی ہلال اسکول) اور لائبہ رضا (ہمدرد ولیج اسکول) نے بھی خطاب کیا۔
ا±نہوں نے علامہ اقبال کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ا±نہیں ا±مید کا شاعر قرار دیا اور کہاکہ ہم اقبال کے نوجوان اور شہید حکیم محمد سعید کے نونہال معمارِ پاکستان بن کر ملک کو بلندیوں پر لے جائیں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔علامہ اقبال کے تصور، مرد آہن کی عملی تصویر شہید حکیم محمد سعید ہیں ، جنہوںنے اپنی قوت ارادی اور حوصلے سے مدینتہ الحکمہ جیسا شہر علم و حکمت بنایا۔ تقریب میں ہمدرد فاﺅنڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر سید محمد ارسلان ، اساتذ ہ کرام اور مختلف اسکولوں کے بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ۔

25/11/2025
DAILY SAADAT LAHORE  21-11-2025
21/11/2025

DAILY SAADAT LAHORE 21-11-2025

DAILY SAADAT LAHORE  14-11-2025
14/11/2025

DAILY SAADAT LAHORE 14-11-2025

DAILY SAADAT LAHORE  13-11-2025
13/11/2025

DAILY SAADAT LAHORE 13-11-2025

اردو غزل کے عصری رویے۔۔۔۔۔DAILY SAADAT LAHORE  13-11-2025محمد نوید مرزاڈاکٹر نثار ترابی ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانے...
13/11/2025

اردو غزل کے عصری رویے۔۔۔۔۔
DAILY SAADAT LAHORE 13-11-2025
محمد نوید مرزا
ڈاکٹر نثار ترابی ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب بیک وقت شاعر ،نقاد اور محقق کے روپ میں اپنی ادبی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ان علمی و ادبی سرگرمیوں بھر پور حصہ لینے کے علاو¿ہ وہ دوستوں سے دوستی نبھانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب ایک پرخلوص اور محبت کرنے والی ایسی ہستی کا نام ہے جو دلوں کو تسخیر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
ڈاکٹر نثار ترابی کی علمی و ادبی کارناموں سے ایک زمانہ واقف ہیں اور ادبی دنیا کے معتبر ترین نام انھیں بھر پور خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔آپ کی تنقید و تحقیق پر مشتمل کتب شائع ہو کر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔جب کہ بطور شاعران کے اردو اور پنجابی کے کئی شعری مجموعے زیور طباعت سے آراستہ ہو کر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
پچھلے برس ڈاکٹر صاحب کی ایک اور عمدہ تحقیقی کاوش ،اردو غزل کے عصری رویے۔۔۔۔منظر عام پرآئی۔جو اردو غزل کی تاریخ اور تخلیقی انفرادیت کے حوالے سے کسی دستاویز سے کم نہیں۔غزل ہمارے اردو شعرائ کو بہت محبوب ہے اور بعض اوقات ایک شعر پوری زندگی پر محیط ہو سکتا ہے،سو ڈاکٹر صاحب نے بھی غزل کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کار دشوار میں آسانی سے ہاتھ ڈال دیا۔وہ خود لکھتے ہیں،،زیر بحث مقالے کا عنوان،چونکہ،اردو غزل کے عصری رویے،، 1947ئ تا 1997ئ ہے۔لہذا موضوع تحقیق کے تکمیلی مراحل کے دوران ہم اردو غزل کے جدید اور متنوع صورتوں میں ڈھل کر غزلیہ روپ اختیار کر جانے والے ان عصری رویوں کا کھوج لگائیں گے،جو قیام پاکستان کے آغاز اور بعد کے عہد میں تخلیق ہونے والی اردو غزل میں عصری سچی آواز کی طرح گونج رہے ہیں اور جن کی اثر پذیری کے نتیجے میں اردو غزل اپنے متعدد جدید حوالوں کے ساتھ ابلاغ،تعلیم ،مقبولیت اور وسعت کے کئی زاویے اجاگر کر رہی ہے،،

اس اہم تحقیق کا انتساب آسمان غزل کے سات ستاروں ولی دکنی،میر تقی میر ،مرزا اسد اللہ غالب،داغ دہلوی،علامہ محمد اقبال،فیض احمد فیض اور احمد فراز کے نام ہے۔یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو میرے علاو¿ہ آپ کے بھی پسندیدہ ہوں گے۔ڈاکٹر صاحب نے دنیا سے جانے والے ان عظیم شعرائ کے نام انتساب کر کے ادب میں ایک ایمانداری کا کام کیا ہے ورنہ وہ اگر چاہتے تو آج کے دور کی کسی بڑے عہدے پر فائز ادبی شخصیت کے نام سے کتاب منسوب کر کے وہ کئی فائدے حاصل کر سکتے تھے۔لیکن انھوں نے ایک سچے اور مستند تحقیق کار ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے،جواپنے طور پر ایک اہم بات ہے۔
اردو غزل کے عصری رویے،میں کل آٹھ ابواب ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے مرحلہ وار اردو غزل کے ابتدائی دور سے لے کر 1857ئ تک اور اس کے بعد کی غزل کا جائزہ لیا ہے۔انھوں نے پاکستان بننے کے بعد اور پھر آخری باب میں 1988ئ تا 1997ئ تک کی غزل کو سامنے رکھ کر شعری حوالوں اور شعرائ کے تذکروں کے ساتھ اپنی تحقیق ہمارے سامنے رکھی ہے۔یقینی طور پراس کتاب کے اگلے حصے میں اگلے تیس برسوں کی تاریخ محفوظ ہو گی۔بقول ڈاکٹر محمد کامران،،ڈاکٹر نثار ترابی ایک ایسا آئینہ ساز ہے جس نے اردو غزل کی صدیوں پر پھیلی ہوئی روایت کے ساتھ ساتھ معاصر اردو غزل کے مزاج کو اپنی کتاب میں منعکس کیا ہے،،
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تخلیقی ،تنقیدی اور تحقیقی کام طویل ریاضت مانگتا ہے اور ڈاکٹر صاحب ایک ان تھک قلم کار ہیں۔
اس کتاب میں غزل کے ابتدائی اور ارتقائی دور کے علاو¿ہ اردو غزل اور اس سے منسلک موضوعات مثلاً جدید ادبی تحریکیں،غزل کے مختلف ادوار کے اجمالی جائزے،اہم رجحان ساز عصری رویوں کے تناظر میں ،غزل کے موضوعاتی اسلوبیاتی اور فنی رویے،حمد نعت اور سلام کی جدید غزلیہ روایت ،جدید غزل اور اس کی علامتی فضا اور ہجر اور ہجرت کا نیا منظر نامہ جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ان مرکزی موضوعات کی مزید تفصیل کتاب میں الگ سے دستیاب ہے۔ڈاکٹر صاحب نے غزل کے مختلف رنگ بھی کتاب میں بیان کئے ہیں۔انھوں نے غزل کے مزدور دوست رویے،ظریفانہ رویے،صوفیانہ رنگ،حقیقت پسندانہ نسائی لہجے کا طہور،غزل میں مرگ پسندانہ کیفیت ،غزل میں داستانوی کردار،دد غزل کا رویہ ،غزل اور احساس باطنی اور شعرائ کے ہاں غزل میں سفر ،گھر اور سحر کا استعارہ جیسے موضوعات کو بڑی عمدگی سے بیان کیا ہے۔یہ کتاب بڑی عرق ریزی اور ریاضت کے بعد وجود میں آئی ہے۔
۔ڈاکٹرصاحب اپنی اس تاریخی اور بے مثال کاوش کے بارے میں اختتامیہ کلمات میں لکھتے ہیں،،اردو غزل کے عصری رویوں کے اس عہد بہ عہد مطالعے اور شعری صنف کے طور پر غزل کے فن کے سلسلے میں تحقیقی مہم جوئی،سیکڑوں قابل ذکر شعرائ کے غائر مطالعے ،معتبر ناقدین کی رائے اور ناقابل تردید تاریخی شواہد کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اردو شعری ادب میں غزل کا تعین صرف اور صرف اس کے عہد با عہد عصری رویوں کی اثر پذیری اور مقبولیت کی بنا پر ہی ممکن ہے ،اس لئے کہ فنی طور پر یہی صنف عصر اور روح عصر کو محفوظ کر لینے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے اور بلاشبہ اس کی یہ فنی خوبی دوسری شعری اصناف کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔اسی سبب سے اس کا تخلیقی سرمایہ معیار اور مقدار کے اعتبار سے بھی خصوصی امتیاز کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اپنے آغاز سے لمحہئ موجود تک یہ واحد صنف ہے،جس کا تتبع سب سے زیادہ زیادہ کیا گیا اور اسی نے اردو کا بہترین شعری سرمایہ ایک صنف کی حیثیت سے محفوظ کیا،،
گزشتہ دنوں اس کتاب کی تقریب ڈاکٹر سعادت سعید کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔جس میں شرکائ نے ڈاکٹر صاحب کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
اردو غزل اور اس کے شعرائ کو خراج تحسین پیش کرنے اور غزل کو ایک نمائندہ صنف سخن قرار دینے پر میں ڈاکٹر نثار ترابی کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس تاریخی ادبی دستاویز کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،ویل ڈن

Address

Lahore

Telephone

+923334373575

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saadat International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saadat International:

Share

Category