Qabeela Tv

Qabeela Tv Qabeela Tv House of media Group

6 September Defence day of Pakistan
06/09/2021

6 September Defence day of Pakistan

‏ڈی جی آئی ایس آئی کی کابل میں غیر ملکی صحافی سے گفتگو   ‎
05/09/2021

‏ڈی جی آئی ایس آئی کی کابل میں غیر ملکی صحافی سے گفتگو

10/06/2021

COMING SOON

 #گنجِ بخشِ فیض عالم مظہرِ نورِخدا ناقصاراں پیرِکامل کاملاراں راہنما28 October 2018 !! 12 : 31 a.m      #حضرت داتا گنج ب...
27/10/2018

#گنجِ بخشِ فیض عالم مظہرِ نورِخدا
ناقصاراں پیرِکامل کاملاراں راہنما
28 October 2018 !! 12 : 31 a.m


#حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی ولادت باسعادت افغانستان کے معروف شہر غزنی میں 400ھ کو ہوئی۔آپؒ نیک اور شرافت کے پیکرسادات خاندان کے چشم وچراغ تھے۔آپؒ کا اسم شریف ’’علی‘‘ کنیت’’ابُوالحسن‘‘اور لقب داتا گنج بخش ہے۔

شہر غزنی کے محلہ جلاب میں آپؒ کے ددھیال کا گھر تھا جبکہ آپؒ کے ننھیال کا گھر محلہ ہجویر میں تھا۔اور اسی نسبت سے آپؒ ہجویری اور جلابی کہلاتے تھے۔آپؒ نے چار برس کی عمر میں اپنے والدِ محترم حضرت عثمان بن علیؒ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔آپؒ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے اور تھوڑے ہی عرصہ میں قرآن مجید پڑھنے کی سعادت حاصل کرلی تھی۔اس کے بعد آپؒ نے عربی اور فارسی اور دیگر علوم کے حصول کیلئے سفر کی صعوبتیں نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیں اور شام،عراق،بغداد شریف،مدائن،فارس،کوہستان،آذربائیجان،طربستان،
خوزستان اور خراسان وغیرہ کے مشہور جید اور معتبر علماء فضلاء سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔آپؒ نے جن اساتذہء کرام سے اکتسابِ فیض کیا اُن کے اسمائے گرامی تاریخ میںیوں ملتے ہیں۔


ابو الفضل محمد بن الحسن الختلی،شیخ ابو القاسم عبداللہ الکریم بن ہوازن القشیری،امام ابو العباس بن محمد اشقانی،شیخ ابو سعید ابو الخیر،خواجہ احمد مظفربن احمد حمدان،ابو العباس احمد بن محمد قصاب،ابو جعفر بن محمد بن صباح صدلانی باب فرغانی،حضرت ابو عبداللہ بن علی الداغستانی،حضرت شیخ ابو القاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔آخر الذکر شیخ ابو قاسم گرگانی کاشمار آپؒ کے استادوں میں سب سے پہلے نمبر ہوتاہے ۔جن سے آپؒ نے درسی علوم حاصل کرتے ہوئے سب سے زیادہ استفادہ کیا۔آپؒ خود ’’کشف الاسرار‘‘میں شیخ ابو القاسم گرگانی کو اپنا علمِ دین کا استاد لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’میرے علمِ دین کے استاد فرمایا کرتے تھے ،فقر میں رضا جوئی مرشد سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے،پس فقیرکو چاہیے کہ مرشد ہی کی حضوری رکھے یعنی تصور میں ہر وقت اپنے مرشد کو اپنے پاس ہی سمجھے۔آگے مرشد کی تعریف کے ضمن میں بتایا کہ اسے کس قسم کا ہونا چاہیے،ایسا نہ ہو کہ مرشد خود بھی ڈوبا ہوا ہو، اور مرید کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔‘‘

اس حوالہ سے حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ کے آستانہء عالیہ سے فیض یافتہ ابومختار حضرت خواجہ صوفی جمال الدین چشتی تونسویؒ (دیپال پور)اپنی مجالس میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ’’ بیعت ہونا کوئی بچوں کا کھیل نہیں،اس لیے خوب جانچ پڑتال کرتے ہوئے سرکارِ دوعالم ﷺ کی شریعتِ مطہرہ کی مکمل پابندی کرنے والے شیخ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے۔اور ساتھ رحمتِ عالمﷺ کایہ فرمانِ مقدس سنایا کرتے تھے کہ’’ (مفہوم)اگر ایک شخص جائے نماز پہ بیٹھا ہوا،ہوا میں بھی اُڑتا ہوا نظر آئے،مگر وہ شخص شریعتِ مطہرہ کا پابند نہ ہو ،اور اس کا پاؤں جادہء شریعت سے باہر ہو ،تو سمجھوکہ وہ جادو گر ہے،اُس پہ کچھ اعتبار نہیں۔‘‘

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ نے سلسلہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ کے دستِ شفقت پر بیعت فرمائی۔جواپنے زمانے کے جلیل القدر،قرآن وحدیث کے اعلیٰ پائے کے عالم،زہد وتقویٰ ،متقی وپرہیزگاراور کشف وکرامات میں اپنی مثال آپ بزرگ تھے۔حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف’’کشف المحجوب‘‘ جس کے بارے میں حضرت بابا فرید الدین گنجِ شکرؒ کے خاص منظورِ نظر،اور سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ فرماتے ہیں کہ’’جس کا کوئی مرشد نہ ہو اُسے اِس کتاب (کشف المحجوب)کے مطالعہ کی برکت سے مرشد مل جائے گا۔‘‘میں رقم طراز ہیں کہ

’’ایک مرتبہ میں آپؒ کو وضو کرارہا تھا ،معاََ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جب تمام امور تقدیر اور قسمت سے وابستہ ہوتے ہیں،توپھر آزاد لوگوں کو پیروں اور فقیروں کا غلام کس لیے بنایا جاتا ہے۔کیا کرامات کی امیدپر،میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کچھ کہنے نہیں پایا تھا کہ مرشد(حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ )نے اپنے کشف سے جان لیا ،فرمانے لگے بیٹا جو بات تیرے دل میں پیدا ہوئی ہے مجھے معلوم ہوگئی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی کو تاج وتخت دینا چاہتا ہے تو اسے توبہ کی توفیق عطا فرماتا دیتا ہے اور وہ ایک مہربان دوست کی خدمت کرنے لگتا ہے۔اسی خدمت کے نتیجے میں اس کی کرامت کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ’’ایک دفعہ میں اپنے پیر ومرشدحضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ کے ساتھ بیت الجن سے دمشق کاسفر کررہا تھا ،کہ راستے میں بارش ہو گئی،جس کی وجہ سے بہت زیادہ کیچڑ ہوگیا اور ہم بہت ہی مشکل سے چل رہے تھے کہ اچانک میری نظر پیرومرشد پر پڑی،تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُن کا زیبِ تن کیا ہوا لباس بھی بالکل خشک ہے اور پاؤں مبارک پر بھی کیچڑ کا کوئی نشان نظرنہ آیا۔مجھے بڑی حیرت ہوئی،دریافت کیا تو آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ، ہاں جب سے میں نے پروردگارِ عالم پر توکل کرتے ہوئے ہر قسم کے وہم وشبہ کو خود سے دور کردیا ہے اور دل کو حرص ولالچ کی دیوانگی سے محفوظ کرلیا ہے،تب سے اللہ رب العزت کی ذاتِ مقدس نے میرے پاؤں کو کیچڑ سے محفوظ رکھا ہے۔‘‘

اسی طرح ایک اور مقام پر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنے پیرومرشد کاتذکرہ یوں فرماتے ہیں کہ’’جب میرے پیرومرشد حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ کا وصال ہوا تو اُن کا سر مبارک میری گود میں تھااور میں سخت مضطرب اور خاصا پریشان تھا۔آپؒ نے میری حالت کو دیکھا توفرمانے لگے کہ میں تمہیں عقیدے کا ایک مسئلہ بتاتا ہوں ۔اگر تم سمجھ گئے اور اُس پر عمل کیا تو ہر قسم کے دکھ اور اور تکلیف سے بچ جاؤ گے۔آپؒ نے فرمایا ،یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے ہر کام میں حکمت اور مصلحت مضمر ہوتی ہے۔وہ حالات کو اُن کے نیک وبد کا لحاظ کرکے پیدا فرماتا ہے۔اس لیے بیٹا!اُس کے کسی فعل پر انگشت نمائی نہ کراور نہ ہی دل میں اس پر معترض ہو۔اس کے بعد آپؒ خاموش ہوگئے اور اپنی جان،اس کائنات کو سجانے اور بنانے والے حقیقی خالق ومالک کے سپرد کردی۔‘‘

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ نے حضرت شیخ ابو الفضل ختلیؒ کے علاوہ،دو بزرگ (جن کا شمار اپنے زمانے کے باکمال علماء واولیاء اللہ میں ہوتا تھا)ابو سعید ابو الخیرؒ اور امام ابو القاسم قشیریؒ سے بھی خصوصی فیض حاصل کیا۔آپؒ حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مقلد تھے۔اور اپنے میں دل اُن کیلئے بے حد محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ ۔۔۔اپنی زندگی کا ایک خاص اور سبق آموز واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ’’ایک مرتبہ میں عراق میں تھا ۔مجھے دنیا کمانے اور خرچ کرنے میں بڑی دلیری اور جرا ت حاصل ہوگئی ،حتیٰ کہ جس کسی کو کوئی بھی ضرورت پیش آتی تو وہ میرے پاس چلا آتااور میں اسکی ضرورت پوری کردیتاکیوں کہ میں چاہتا تھا کہ کوئی بھی شخص میرے ہاں سے خالی ہاتھ واپس نہ جائے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میری اپنی کمائی اس غرض سے کم پڑنے لگی اور دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے مجھے قرض لینا پڑتا،یوں میں چند ہی دنوں میں خاصا مقروض ہوگیااور سخت پریشانی کا شکار ہوگیا۔اُس دور کے ایک بزرگ نے میرے احوال کو دیکھتے ہوئے مجھے نصیحت فرمائی کہ دیکھو!یہ تو ہوائے نفس ہے ۔اِس قسم کے کاموں میں پڑ کر کہیں خدا سے دور نہ ہو جانا۔جو ضرورت مند ہے اس کی احتیاج تو ضرور پوری کرو۔مگر پروردگارِ عالم کی ساری مخلوق کے کفیل بننے کی کوشس نہ کرو۔کیوں کہ انسانوں کی کفالت کا فریضہ خودربِ قدوس نے انجام دینا ہے۔مجھے اُس بزرگ کی نصیحت سے اطمینانِ قلب حاصل ہوا ۔‘‘

آپؒ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں تاریخ کے ورق صرف اتنا ہی بتاتے ہیں کہ آپؒ رشتہء ازدواج میں منسلک ہوئے تھے مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بیوی سے علیحدگی ہوگئی۔اورپھر تاحیات دوسری شادی نہ کی۔بہ اختلاف روایت432ھ میں مرشد کریم حضرت شیخ ابو الضل ختلیؒ نے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کو حکم فرمایا کہ علی !تم لاہور روانہ ہو جاؤ وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے ۔سر زمینِ ہند تمہارا انتظار کر رہی ہے اور تمہارے فیض کا سلسلہ لاہور ہی جاری ہوگا آپؒ نے ایک لمحے کے توقف کے بعد مودبانہ انداز سے عرض کیا کہ حضور !وہاں تو ہمارے پیر بھائی اور آپؒ کے مریدِ کامل حضرت میراں حسین زنجانیؒ موجود ہیں۔اُن کے ہوتے ہوئے میری وہاں کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟شیخ ابو الفضل ختلیؒ قدرے مسکرائے اور فرمایاکہ یہ تمہارے سوچنے کا کام نہیں بس تم فوراََ روانہ ہو جاؤ اور دین اسلام کی ترویج واشاعت کا کام کرو۔

آپؒ نے اپنے پیرومرشد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے وطن غزنی کو خیر باد کہا اور دینِ اسلام کی تبلیغ کا بے مثل شوق لیے کئی مہینوں کے دشوار گزار کٹھن سفر کے بعد لاہور پہنچے ۔شہر کے داخلی دروازے تک پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی شہر کی حفاظت کے پیش نظرداخلی دروازے شام کو بند کردیئے جاتے تھے اِس لیے آپؒ کو اپنے دیگر ساتھیوں اور مسافروں کے ہمراہ ،رات بیرونِ شہر ہی بسر کرنی پڑگئی ۔جب صبح ہوئی تو شہر کی جانب روانہ ہوئے ابھی چند ہی قدم چلے تھے کہ سامنے سے ایک بہت بڑا ہجوم آتا ہوا نظر آرہا تھاقریب آئے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک جنازہ ہے ۔غزنی سے نو وارد مسافروں نے دریافت کیا تو پتا چلا کہ یہ حضرت شیخ میراں حسین زنجانیؒ کاجنازہ ہے ۔یہ سن کر آپؒ دم بخود ہوگئے اور بے اختیار آپؒ کی زبان مبارک سے نکلا کہ ’’اللہ شیخ کو جزائے خیر دے ،وہ واقعی روشن ضمیر تھے۔‘‘جب جنازے کے شرکاء نے آپؒ کا یہ عجیب فقرہ سنا تو استفسار کیا ۔آپؒ نے انہیں پورا واقعہ سنا دیا۔جب لوگوں کو پتا چلا کہ آپؒ حضرت شیخ حسین زنجانیؒ کے پیر بھائی ہیں تو انہوں نے جنازہ پڑھانے کا اصرار کیا اوریوں آپؒ نے پہلے جنازہ پڑھایا اور پھر تدفین کے عمل سے فارغ ہوکرشہر کی جانب روانہ ہوئے۔ اور پھر لاہور میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔یہاں مسلمانوں کو استحکام حاصل کیے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا،ہر طرف ہندومذہب کے پیرو کار اور پیشواؤں کا دور دورہ تھا۔مگر آپؒ کی،شریعتِ مطہرہ کی پابند،بے داغ اور دلکش سیرت،اور شفقت ومحبت سے بھرپور شخصیت ۔۔۔لوگوں کو کفرو شرک کی دلدل سے نکال کر ’’صراطِ مستقیم‘‘ کی طرف گامزن کرنے کی باعث بنی۔فقط رضائے الہٰی کی خاطر آپؒ نے خلوصِ دل سے دین کی ترویج واشاعت کا بیڑہ اُٹھایا،اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپؒ کے ارشاداتِ عالیہ اور مواعظِ حسنہ کی اثر انگیزی سے لوگوں نے اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہوئے جوق درجوق دائرہء اسلام داخل ہونے اورآپؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔شاعرِ مشرق اور اپنے دور کے مردِ قلندرحضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے اسی تناظر میں فرمایا تھا کہ

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

یہی وجہ ہے کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے حسنِ اخلاق اور مزاجِ کریمانہ اورنگاہِ فیض کے باعث جو خوش قسمت لوگ آپؒ کے دستِ حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوئے،وہ نہ صرف خود ،تادمِ واپسیں،دامنِ مصطفےٰﷺ تھامتے ہوئے ’’شجرِ اسلام‘‘سے وابستہ اور اُس پہ قائم رہے،بلکہ اُن کی نسلیں بھی تقریباََ ساڑھے نوسو سال گزرنے کے باوجود اسلام پر قائم ودائم ہیں۔ایسا کیوں نہ ہوتا۔۔۔کہ آپؒ ایک ایسے مردِکامل،صوفی با صفاء،درویش اور بزرگ تھے،جن کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا ،نہ سپاہ۔۔۔نہ دنیاوی وسائل اور نہ ہی جاہ وحشمت!کہ جس سے لوگ مرغوب ہو کرآپؒ کے پاس آتے۔۔۔بس آپؒ اپنے’’ مصلہ ‘‘پربیٹھے ہوئے ہمہ وقت اپنے حقیقی خالق ومالک کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔اور ،ریاکاری سے پاک ،اخلاص کے ساتھ کی جا نے والی عبادت وریاضت کی وجہ سے ربِ قدوس کے انوار وتجلیا ت کے نزول کے باعث،اللہ رب العزت نے آپؒ کو وہ شان عطا فرمائی کہ لوگ آپؒ کے پاس کھچے کھچے آتے اور آپؒ کے نورانیت سے بھرپور چہرہء انور کو دیکھ کر ایمان کی دولت سے مالا مال ہوجاتے تھے۔

آپؒ کی نگاہِ فیض کا اظہارخواجگانِ چشت کی آنکھوں کی ٹھنڈک غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے بھی فرمایا ۔جب ایک بار خواجہ غریب نوازؒ لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے مزارِ اقدس پر حاضری دی اور ایک حجرہ میں چالیس دن کا چلہ کاٹا اور عبادت وریاضت میں مصروف رہے،اِس دوران حضور داتا صاحبؒ نے جو فیوض برکات کی بارش آپؒ پرکی ،اس کا اندازہ خواجہ غریب نواز ہی لگا سکتے ہیں۔جب خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ چلہ سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو بے ساختہ خواجہ غریب نوازؒ کی زبان مبارک پر داتا علی ہجویریؒ کیلئے بطورِ خاص یہ شعر جاری ہواکہ

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نور خدا
نا قصاں را پیرِکامل کاملاں رارہنما

اس مردِ خدا کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ شعر اِس قدر زبان زدخاص وعام ہوا کہ کہ جس کی گونج چہار سو پھیل گئی۔اور لوگ آپؒ کے آستانہ سے فیض پانے لگے۔

حضرت داتا گنج بخشؒ ۔۔۔علم ومعرفت کے ہزاروں دیئے جلاکر۔۔۔ آخر کار 19صفر 465ھ،1087ء کووصال فرما گئے۔آپؒ کا سالانہ عرسِ مقدس 19صفر کو انتہائی عقیدت واحترام اور شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے جس میں نہ صرف پاکستان بھر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی آپؒ کے عقیدت مندوں کی کثیر تعداد شرکت کرنے کا شرف حاصل کرتی ہے۔اور فیض پاتی ہے۔

دوسری طرف افسوس صد افسوس اس بات پر کہ آج انہی بزرگوں کے آستانوں اور درباروں پردہشت گردی اور بم دھماکے ہورہے کہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کی روشنی پھیلاتے ہوئے غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے اور بے راہ روی کے شکار لوگوں کو راہِ ہدایت دکھانے میں گزار دی۔

 #قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا عبدالوہاب کی ...
18/10/2018

#قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا عبدالوہاب کی عیادت
18 October 2018 !! 9 : 49 p.m

مولانا عبدالوہاب کی پاکستان اور تبلیغ اسلام کیلئے بڑی خدمات ہیں جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا: چودھری پرویزالٰہی، عثمان بزدار
ہسپتال انتظامیہ کو مولانا عبدالوہاب کے بہترین علاج کیلئے ہدایات دی ہیں: قائم مقام گورنر چودھری پرویزالٰہی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار
صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر اور راسخ الٰہی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

‏اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی راہنما پاکستان پیپلز پارٹی خورشید شاہ سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات..!!17 October 2018 !! 3 : ...
17/10/2018

‏اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی راہنما پاکستان پیپلز پارٹی خورشید شاہ سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات..!!
17 October 2018 !! 3 : 39 P.m

ملاقات میں پارلیمنٹ کے اجلاس اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حکمت عملی پر غور

 #ضمنی انتخابات: 37 نشستوں میں سے پی ٹی آئی 16 اور ن لیگ 11 جیتنے میں کامیاب15 October 2018 !! 4 : 50 P.m
15/10/2018

#ضمنی انتخابات: 37 نشستوں میں سے پی ٹی آئی 16 اور ن لیگ 11 جیتنے میں کامیاب
15 October 2018 !! 4 : 50 P.m

 #اسلام کے عظیم روحانی برزگ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کا 779واں سالانہ عرس مبارک۔15 Oc...
15/10/2018

#اسلام کے عظیم روحانی برزگ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کا 779واں سالانہ عرس مبارک۔
15 October 2018 !! 1: 34 P.m


سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے تین روزہ تقریبات کا آغاز اور پہلی نشست کی صدارت کی۔ ملک بھر سے علماء، مشائخ، عقیدتمند اور دینی و سماجی شخصیات شریک۔

 #وزیراعظم عمران خان ووٹ کاسٹ کررہے ہیں:  #اسلام آباد: قومی اور صوبائی اسمبلی کی 35 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے چاروں...
14/10/2018

#وزیراعظم عمران خان ووٹ کاسٹ کررہے ہیں:
#اسلام آباد: قومی اور صوبائی اسمبلی کی 35 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے چاروں صوبوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔
14 October 2018 !! 1 : 35 P.m


قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے شہری حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر آرہے ہیں جب کہ پولنگ عملہ بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے موجود ہے۔

تمام حلقوں پر پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

جن حلقوں پر پولنگ ہورہی ہے اس میں اسلام آباد کی نشست این اے 53 سمیت پنجاب میں قومی اسمبلی کی 9، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ایک ایک حلقہ شامل ہے۔

پنجاب اسمبلی کی 11، سندھ اور بلوچستان کی دو دو جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

این اے 243 کراچی کے ایک پولنگ اسٹیشن پر شہری حق رائے دہی استعمال کر رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 35 حلقوں میں 92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن کے لیے 7 ہزار 489 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں اور ایک ہزار 727 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

پنجاب کے حلقہ پی پی 87 میانوالی اور پی پی 296 راجن پور پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

سمندر پار پاکستان بھی انتخابی عمل کا حصہ

ترجمان الیکشن کمیشن ندیم قاسم کے مطابق ضمنی انتخابات میں پہلی بار 7 ہزار 364 سمندر پار پاکستانی آئی ووٹنگ کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ یہ پائلٹ پراجیکٹ ہے اس لیے اگر اس میں کوئی تکنیکی مسئلہ نہ آیا تو الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹوں کو گنتی میں شامل کیا جا سکتا ہے ورنہ ان کو گنتی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

این اے 103 میں پولنگ کے عمل میں تاخیر

فیصل آباد کے این اے 103 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 282 میں پولنگ کا عمل شروع نہ ہوسکا جب کہ پی پی 103 پولنگ اسٹیشن نمبر 134 پر بھی پولنگ کے عمل میں تاخیر کا سامنا ہے۔

پریزائیڈنگ آفیسر کا کہنا ہے کہ پولنگ ایجنٹ نہ پہنچنے کے باعث پولنگ شروع نہیں ہوسکی ہے۔

قومی اسمبلی کے 2 حلقوں پر سب کی نظریں

لاہور کے دو حلقوں پر ملک بھر کے عوام کی نظریں ہیں جن میں این اے 131 پر مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق اور تحریک انصاف کے ہمایوں اختر کے درمیان مقابلہ ہے۔

این اے 124 میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا مقابلہ تحریک انصاف کے غلام محی الدین سے ہے جب کہ گجرات سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الٰہی میدان میں ہیں۔

سیاسی رہنماؤں نے کہاں ووٹ کاسٹ کیا؟

کراچی کے حلقے این اے 243 میں چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال نےگلشن اقبال پولنگ اسٹیشن نمبر74 میں ووٹ کاسٹ کیا۔
کراچی سے ایم کیوایم کے امیدوار عامر چشتی نے پولنگ اسٹیشن نمبر 111 میں ووٹ کاسٹ کردیا۔
گجرات کے حلقہ این اے 69 سے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار مونس الٰہی نے گورنمنٹ اسکول ستارہ گڑھ میں ووٹ کاسٹ کیا۔
پارٹی کےصدر و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے میونسپل ماڈل اسکول مسلم آباد میں ووٹ کاسٹ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنا ووٹ این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ اسٹیشن موہڑہ نور اسکول بنی گالہ میں کاسٹ کیا۔ اس حلقے سے تحریک انصاف کے علی نواز اعوان امیداور ہیں۔ وزیراعظم کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولنگ اسٹیشن کو ووٹرز سے خالی کرالیا گیا۔
لاہور کے اہم ترین حلقے این اے 131 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ سعد رفیق نے بھی ووٹ کاسٹ کردیا۔
اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر نے پولنگ اسٹیشن ہائی اسکول مرغز صوابی میں ووٹ ڈالا۔

وزیراعظم عمران خان ووٹ کاسٹ کررہے ہیں:

پولنگ اسٹیشن جانے سے قبل ووٹرز ز اپنے ووٹ کی معلومات قومی شناختی کارڈ نمبر 8300 پر ایس ایم ایس کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔

موبائل فون، کیمرہ اور تصویر کھینچنے والی ڈیوائس پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جانے کی ممانعت ہے اور شناختی کارڈ کے بغیر پولنگ اسٹیشن پر آنے والے شہری ووٹ کاسٹ نہیں کرسکیں گے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ زائد المیعاد اصل شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالا جا سکتا ہے، میڈیا کارکنان بھی صرف جن کے پاس اجازت نامہ ہے وہ کیمرہ پولنگ اسٹیشن کے اندر لے جا سکتے ہیں تاہم موبائل فون کی اجازت ہر گز نہیں ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی و صوبائی حلقوں کی شکایات 0519217131 پر درج کرائی جا سکتی ہیں اور ووٹرز اپنی شکایات بذریعہ فیکس ان نمبروں پر 0519217132 ،0519217134 بھی درج کرا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شکایات سیل میں پولنگ اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں اور شکایتی سیل دو شفٹوں میں کام کرے گا۔

ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز کی تفصیلات جاری

واضح رہے کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کُل 661 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، جن میں 16 امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے اور 645 کے منظور ہوئے جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 35 حلقوں میں 92 لاکھ، 83 ہزار 74 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے جبکہ 51 ہزار 235 انتخابی عملہ خدمات سر انجام دے گا۔

25 جولائی کو بعض حلقوں پر ووٹنگ نہ ہونے کی وجوہات
25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات قومی و صوبائی اسمبلیوں کی بعض نشستوں پر ووٹنگ ملتوی کردی گئی تھی جس میں قومی اسمبلی کا حلقہ این 60 راولپنڈی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حنیف عباسی کی سزا کے بعد انتخاب ملتوی کیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 35 میں سراج رئیسانی کی شہادت کے باعث ووٹنگ ملتوی کی گئی جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 78 میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور کی شہات کی وجہ سے 25 جولائی کو انتخاب ملتوی کیا گیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے 99 پر تحریک انصاف کے امیدوار اکرام اللہ گنڈا پور کی شہادت پر 25 جولائی کو ووٹنگ ملتوی کی گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کی چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی 4 نشستوں پر بھی انتخابات ہورہے ہیں جن میں این اے 53 اسلام آباد، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی اور این اے 35 بنوں کی نشست شامل ہے۔

این اے 103 فیصل آباد میں آزاد امیدوار کی خودکشی اور پی پی 103 فیصل آباد پر امیدوار کے انتقال پر الیکشن ملتوی کیا گیا۔

پی پی 87 میانوالی میں امیدوار احمد خان، پی کے 99 ڈی آئی خان اور پی ایس 87 ملیر کراچی میں بھی امیدواروں کی وفات پر 25 جولائی کو الیکشن ملتوی ہوا تھا۔

 #وزیراعظم عمران خان نے کلین گرین پاکستان مہم کا آغاز کر دیا،13 October 2018 !! 1 : 28 P.m    وزیراعظم نے اسلام آباد کے ...
13/10/2018

#وزیراعظم عمران خان نے کلین گرین پاکستان مہم کا آغاز کر دیا،
13 October 2018 !! 1 : 28 P.m


وزیراعظم نے اسلام آباد کے مقامی کالج میں پودا لگایا اور صفائی میں حصہ لیا ۔

’’ آج کی اچھی بات۔۔۔ ‘‘
12/10/2018

’’ آج کی اچھی بات۔۔۔ ‘‘

Address

Lahore

Telephone

923214551629

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qabeela Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share