27/12/2025
لندن کی ہولناک آگ: راکھ سے تعمیر تک
لندن کی تاریخ میں 2 ستمبر 1666 کی تاریخ ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب پڈنگ لین میں واقع تھامس فیرنر کی بیکری میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے ہولناک آگ کی شکل اختیار کر لی۔ بیکری کے لڑکے نے رات کے ایک بجے شعلے اٹھتے دیکھے، لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ معمولی آگ پورے شہر کو خاکستر کر دے گی۔ اس وقت لندن کے گھر لکڑی سے بنے تھے اور تنگ گلیوں میں ایک دوسرے کے بالکل قریب تھے، جس کی وجہ سے آگ کو پھیلنے کے لیے بہترین ایندھن مل گیا۔
اس تباہی کے پھیلاؤ میں انسانی غفلت کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ لارڈ میئر، سر تھامس بلڈ ورتھ نے ابتدائی طور پر اس خطرے کو مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا، جس کی وجہ سے بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے جا سکے۔ جب تک آگ بجھانے کی کوششیں شروع ہوئیں، شعلے بے قابو ہو چکے تھے۔ شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے قیمتی سامان اٹھا کر دریائے ٹیمز کی طرف بھاگے اور کشتیوں میں پناہ لی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے لندن کا مشہور سینٹ پال کیتھیڈرل اور رائل ایکسچینج جیسی عظیم الشان عمارتیں بھی گرا دیں۔
چار دن کی مسلسل تباہی کے بعد، بادشاہ چارلس دوم اور ان کے بھائی جیمز نے خود میدان میں اتر کر منظم کوششیں کیں۔ انہوں نے بارود کے ذریعے کچھ عمارتوں کو گرا کر 'فائر بریک' بنائے، جس سے آگ کا راستہ رک گیا۔ اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں ہلاکتیں کم بتائی گئیں، لیکن حقیقت میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور شہر کا 80 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
لیکن اس تباہی کے بطن سے ایک جدید لندن نے جنم لیا۔ مشہور ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر رین نے شہر کی دوبارہ تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے پرانے لکڑی کے مکانات کی جگہ اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارتوں اور چوڑی گلیوں کا نقشہ تیار کیا تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جا سکے۔ آج پڈنگ لین کے قریب کھڑا 'دی مانیومنٹ' نامی مینار ہمیں اسی واقعے کی یاد دلاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ لندن اپنی راکھ سے دوبارہ ایک عظیم شہر بن کر ابھرا۔