Exciting Pakistan

Exciting Pakistan News | History | Travel

27/12/2025

لندن کی ہولناک آگ: راکھ سے تعمیر تک

لندن کی تاریخ میں 2 ستمبر 1666 کی تاریخ ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب پڈنگ لین میں واقع تھامس فیرنر کی بیکری میں ایک چھوٹی سی چنگاری نے ہولناک آگ کی شکل اختیار کر لی۔ بیکری کے لڑکے نے رات کے ایک بجے شعلے اٹھتے دیکھے، لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ معمولی آگ پورے شہر کو خاکستر کر دے گی۔ اس وقت لندن کے گھر لکڑی سے بنے تھے اور تنگ گلیوں میں ایک دوسرے کے بالکل قریب تھے، جس کی وجہ سے آگ کو پھیلنے کے لیے بہترین ایندھن مل گیا۔

اس تباہی کے پھیلاؤ میں انسانی غفلت کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ لارڈ میئر، سر تھامس بلڈ ورتھ نے ابتدائی طور پر اس خطرے کو مذاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا، جس کی وجہ سے بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے جا سکے۔ جب تک آگ بجھانے کی کوششیں شروع ہوئیں، شعلے بے قابو ہو چکے تھے۔ شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے قیمتی سامان اٹھا کر دریائے ٹیمز کی طرف بھاگے اور کشتیوں میں پناہ لی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے لندن کا مشہور سینٹ پال کیتھیڈرل اور رائل ایکسچینج جیسی عظیم الشان عمارتیں بھی گرا دیں۔

چار دن کی مسلسل تباہی کے بعد، بادشاہ چارلس دوم اور ان کے بھائی جیمز نے خود میدان میں اتر کر منظم کوششیں کیں۔ انہوں نے بارود کے ذریعے کچھ عمارتوں کو گرا کر 'فائر بریک' بنائے، جس سے آگ کا راستہ رک گیا۔ اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں ہلاکتیں کم بتائی گئیں، لیکن حقیقت میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور شہر کا 80 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

لیکن اس تباہی کے بطن سے ایک جدید لندن نے جنم لیا۔ مشہور ماہرِ تعمیرات سر کرسٹوفر رین نے شہر کی دوبارہ تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے پرانے لکڑی کے مکانات کی جگہ اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارتوں اور چوڑی گلیوں کا نقشہ تیار کیا تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جا سکے۔ آج پڈنگ لین کے قریب کھڑا 'دی مانیومنٹ' نامی مینار ہمیں اسی واقعے کی یاد دلاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ لندن اپنی راکھ سے دوبارہ ایک عظیم شہر بن کر ابھرا۔












21/12/2025

سانڈبوسٹل، جرمنی – 29 اپریل 1945
ایک ایسی جگہ جو انسانیت کو تباہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، وہاں انسانیت کا ایک واحد عمل چمک اٹھا۔
جب برطانوی فوجیں اسٹالاگ ایکس-بی سانڈبوسٹل میں داخل ہوئیں تو ان کے سامنے ایک خوفناک منظر تھا۔ تیس ہزار سے زائد قیدی – سوویت، پولش، ڈچ، فرانسیسی، روما، سیاسی قیدی اور عام شہری – کھلے میدانوں، گھٹن بھرے باراکوں اور سڑتی ہوئی جھونپڑیوں میں گرے پڑے تھے۔ بہت سے اٹھنے کے قابل نہ تھے۔ کچھ پانی مانگ رہے تھے، باقی صرف خالی آنکھوں سے گھور رہے تھے۔ بھوک، بیماری اور لاپرواہی نے کیمپ کو زندہ لوگوں کا قبرستان بنا دیا تھا۔
اس ہولناکی کے بیچ ایک نوجوان برطانوی میڈک نے کیچڑ میں دو آدمی دیکھے۔
ایک کی سانسیں ختم ہونے کو تھیں۔
دوسرا، ایک ڈچ قیدی جس کا نام پیٹر تھا، خود بھی بھوک سے لرزہ طاری، نیم بےہوش حالت میں تھا۔ پھر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ کیچڑ میں گھٹنوں کے بل بیٹھا، اس نے اجنبی کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور آہستہ آہستہ اس کی انگلیوں کو سہلانے لگا، جیسے اسے واپس دنیا میں لانا چاہتا ہو۔
”وہ مر رہا ہے،“ پیٹر نے سرگوشی میں کہا، ”لیکن اسے اکیلا نہیں مرنا چاہیے۔“
میڈک نے مدد کرنے کی کوشش کی، مگر چند منٹوں میں اجنبی کی سانسیں رک گئیں۔ پھر بھی اس کی انگلیاں پیٹر کے ہاتھ میں مڑی رہیں۔ جب میڈک نے پیٹر کے کندھے کو چھوا تب جا کر اس نے ہاتھ چھوڑا۔ کانپتے ہوئے، تھک کر چور، اس نے بڑبڑایا:
”یہاں کسی کے پاس کوئی اپنا نہ تھا۔
آج... اس کے پاس میں تھا۔“
پیٹر اگلی صبح مر گیا، اس سے پہلے کہ فیلڈ ہسپتال پہنچ سکیں۔
میڈک نے بعد میں لکھا کہ اس نے جنگ میں بہت سی بہادریاں دیکھی تھیں –
مگر ایسی کبھی نہیں:
ایک بھوکا آدمی اپنی آخری قوت اپنی بقا کے لیے نہیں،
بلکہ ایک اجنبی کو عزت کے ساتھ مرنے دینے کے لیے خرچ کر رہا تھا۔
اس کیمپ میں جہاں موت ہر طرف تھی،
پیٹر کا آخری عملِ مہربانی وہ واحد چیز تھی جو ان دونوں سے زندہ بچ گئی۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

13/12/2025

دوارکا: ہندوستان کی ڈوبی ہوئی قدیم شہر اور اس کی آثار قدیمہ کی تحقیق
دوارکا، جو گجرات کے ساحل پر واقع ہے، ہندو مذہب میں ایک مقدس مقام ہے۔ مہابھارت، بھاگوت پران اور دیگر قدیم گرنتھوں میں اسے بھگوان کرشن کا قائم کردہ شاندار شہر قرار دیا گیا ہے۔ ان متنوں کے مطابق، یہ ایک منصوبہ بند شہر تھا جس میں عظیم الشان محلات، باغات اور بندرگاہ تھی۔ کرشن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہ شہر عرب سمندر میں ڈوب گیا، جو کلی یگ کے آغاز کی علامت تھا۔ اس ڈوبنے کی کہانی کی وجہ سے بعض لوگ اسے "ہندوستان کا ایٹلانٹس" کہتے ہیں، حالانکہ ایٹلانٹس افلاطون کی فلسفیانہ کہانی ہے جبکہ دوارکا کی آثار قدیمہ کی بنیاد موجود ہے۔
مشہور آثار قدیمہ کے ماہر ایس آر راؤ (1922-2013) نے دوارکا کی تحقیق میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی کے ساتھ مل کر 1983 سے 1990 تک سمندر کے اندر کھدائی کی۔ ان کی ٹیم نے بیت دوارکا اور جدید دوارکا کے ساحل پر ڈوبے ہوئے ڈھانچے دریافت کیے، جن میں پتھر کی دیواریں، ستون، قلعہ نما ڈھانچے، لنگر اور برتن شامل ہیں۔ تھرمولومیسنس ڈیٹنگ سے ان کی عمر تقریباً 1500 قبل مسیح ثابت ہوئی، جو دیر ہڑپہ دور سے مطابقت رکھتی ہے۔ راؤ نے اپنی کتاب "دی لاسٹ سٹی آف دوارکا" میں دعویٰ کیا کہ یہ دریافتیں قدیم متنوں کی تاریخی بنیاد کو ثابت کرتی ہیں۔ ان کے کام نے بھارت کو سمندری آثار قدیمہ کا علمبردار بنایا۔
تاہم، راؤ کی تحقیق پر تنازعات بھی رہے۔ بعض ماہرین ان کی کرشن کے شہر سے براہ راست نسبت کو قیاس آرائی قرار دیتے ہیں، کیونکہ تاریخ سازی مکمل طور پر متنوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ خلیج خمبھات کی متنازع دریافتیں بھی الگ ہیں، جنہیں قدرتی تشکیلات سمجھا جاتا ہے۔
2025 میں، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی انڈر واٹر آرکیالوجی ونگ نے دوارکا اور بیت دوارکا میں نئی کھدائی شروع کی ہے۔ پروفیسر الوک تریپاٹھی کی قیادت میں ٹیم سمندری ڈھانچوں کی دستاویزی سازی، سائنسی تجزیہ اور عمر کا تعین کر رہی ہے۔ یہ کام گوومتی ندی کے قریب اور دیگر علاقوں میں جاری ہے، جو قدیم ساحلی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دے گا۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

12/12/2025

وائکنگ سورج پتھر (Sunstone) برائے جہاز رانی

وائکنگز کے نیویگیشن (جہاز رانی) کے لیے "سورج پتھر" (Sunstone یا Sólarsteinn) کا تصور تاریخی حوالوں اور جدید سائنسی نظریے کا ایک دلچسپ امتزاج ہے۔ اس کا بنیادی خیال ایک خاص قسم کے کرسٹل کو استعمال کرنا ہے تاکہ بادلوں والے دنوں میں بھی سورج کی پوزیشن کا پتہ چلایا جا سکے۔
✨ سورج پتھر کا نظریہ اور کام کا اصول

یہ طریقہ کار روشنی کے پولرائزیشن (Polarization of Light) کے مظہر پر انحصار کرتا ہے۔
1. متوقع مواد (Proposed Material)

آئس لینڈ سپار (Iceland Spar / Calcite): سب سے زیادہ تجویز کردہ معدنیات "آپٹیکل کیلسائٹ" ہے، جسے آئس لینڈ سپار کہتے ہیں۔ یہ ایک شفاف کرسٹل ہے جو آئس لینڈ میں عام ہے۔

خصوصیت: یہ کرسٹل بائی ریفرینجینٹ (Birefringent) ہوتا ہے، یعنی یہ روشنی کی ایک شعاع کو دو شعاعوں میں تقسیم کر دیتا ہے، جس سے اس میں سے دیکھنے پر دہری تصویر نظر آتی ہے۔

2. پولرائزیشن کا پتہ لگانا (Detecting Polarization)

جب سورج کی روشنی زمین کے ماحول سے گزرتی ہے تو وہ بکھر کر پولرائزڈ ہو جاتی ہے۔ اس پولرائزیشن کی سمت آسمان میں سورج کی پوزیشن کے گرد ایک واضح اور پیش گوئی کے قابل نمونہ (pattern) بناتی ہے۔

وائکنگز کرسٹل کو آسمان کی طرف گھما کر دیکھتے تھے۔ پولرائزڈ روشنی کرسٹل میں داخل ہوتی اور دو روشنی کے دھبے (یا سائے) بناتی۔

جب کرسٹل کو اس پوزیشن پر گھمایا جاتا تھا جہاں روشنی کے دونوں دھبے برابر چمکدار نظر آتے، تو کرسٹل کا آپٹیکل محور (optical axis) پولرائزڈ روشنی کی سمت کے ساتھ منسلک ہو جاتا تھا۔

یہ الائنمنٹ (alignment) براہِ راست بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی سمت کی نشاندہی کرتی تھی۔

3. نیویگیشن میں استعمال (Use in Navigation)

ایک بار جب سورج کی سمت (اس کا سمتِ سَمت یا Azimuth) کا تعین ہو جاتا، تو بحری جہاز ران اس معلومات کو سن-کمپاس (Sun-Compass، ایک قسم کا شمسی قطب نما) کے ساتھ استعمال کر کے اپنا راستہ متعین کر سکتے تھے۔ یہ خاص طور پر اس وقت مفید ہوتا تھا جب سورج بادلوں یا دھند میں چھپا ہوتا تھا۔

⚓ تاریخی اور آثار قدیمہ کے شواہد

وائکنگز کے جہازوں سے براہِ راست کسی سورج پتھر کی عدم دستیابی اس نظریے کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
1. کہانیوں میں ذکر (Literary Evidence)

آئس لینڈک داستانیں (Sagas): قرون وسطیٰ کی آئس لینڈک داستانوں (جیسے Rauðúlfs þáttr) میں ایک پراسرار کرسٹل، Sólarsteinn (سورج پتھر)، کا ذکر ہے جو بادلوں میں چھپے سورج کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

2. متبادل شہادت (Circumstantial Evidence)

الڈرنی کرسٹل (Alderney Crystal): 16ویں صدی کے ایک انگریزی بحری جہاز (وائکنگ دور کے بہت بعد) کے ملبے سے آئس لینڈ سپار کا ایک ٹکڑا ملا تھا۔ یہ کرسٹل جہاز رانی کے آلات کے قریب پایا گیا، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پولرائزنگ کرسٹل کو جدید کمپاس سے پہلے سمندر میں استعمال کیا جاتا تھا۔

3. سن-کمپاس (The Partner Tool)

یونارٹوق ڈِسک (Uunartoq Disc): گرین لینڈ میں ایک وائکنگ بستی کے کھنڈرات سے ایک لکڑی کی ڈسک کا ٹکڑا ملا ہے۔ یہ ایک سن-کمپاس مانا جاتا ہے۔

یہ ڈسک ایک قسم کی شمسی گھڑی (Sundial) تھی جس میں ایک مرکزی پن (Gnomon) لگا ہوتا تھا۔ اس کا سایہ سال کے مختلف اوقات میں لکیروں پر پڑتا تھا، جس سے جہاز ران درست شمال (True North) کا پتہ لگاتے تھے۔

اندھیرے یا بادل میں، سورج پتھر چھپے سورج کی سمت تلاش کرتا اور یہ معلومات سن-کمپاس کو گھما کر درست شمال معلوم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

11/12/2025

ہڑپہ تہذیب یا سندھ وادی تہذیب دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک ہے جو تقریباً 3300 قبلِ مسیح سے 1300 قبلِ مسیح تک پھلی پھولی۔ اس کا عروج 2600–1900 قبلِ مسیح کے درمیان تھا۔ یہ تہذیب رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی قدیم تہذیب تھی جو موجودہ پاکستان، شمال مغربی اور مغربی بھارت اور افغانستان کے کچھ حصوں پر پھیلی ہوئی تھی؛ کل رقبہ دس لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ!
اہم شہر: ہڑپہ، موئن جو دڑو، راکھی گڑھی، دھولا ویرا، گنیر والا اور لوٹھل۔
یہ دنیا کے پہلے منصوبہ بند شہر تھے جن میں سیدھی گرِڈ نما گلیاں، اینٹوں کے گھر، نالیوں کا جدید نظام اور ذاتی کنویں تھے۔ موئن جو دڑو کا “عظیم غسل خانہ” آج بھی حیرت میں ڈالتا ہے؛ شاید یہ مذہبی طہارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ لوٹھل میں بندرگاہ ملی جو سمندری تجارت کی گواہ ہے۔
لوگ اینٹوں کا تناسب 4:2:1 استعمال کرتے تھے، جو آج بھی پاکستان اور بھارت میں عام ہے۔ ہتھیار اور جنگ کے نشانات بہت کم ملے، یعنی یہ تہذیب نسبتاً پرامن تھی۔
معیشت زراعت پر مبنی تھی: گیہوں، جو، کپاس (دنیا میں سب سے پہلے کپاس یہیں کاشت ہوئی)، چاول اور تِل۔ وہ میسوپوٹیمیا، خلیجِ فارس اور شاید مصر تک تجارت کرتے تھے۔ کارنیلین کے موتی، ہاتھی دانت، لکڑی اور کپڑا برآمد کرتے تھے۔ مہریں جن پر گینڈا، ہاتھی، بیل اور “ایک سینگ والا جانور” بنا ہوتا تھا، ان کی تجارت کی مہر تھیں۔
تحریر اب تک نہیں پڑھی جا سکی۔ چھوٹی چھوٹی مہروں پر اوسطاً صرف پانچ نشانات ہوتے ہیں، کل 400–600 علامات ہیں۔ زیادہ تر ماہرین سمجھتے ہیں کہ زبان قدیم دراوڑی تھی، کچھ کہتے ہیں ابتدائی سنسکرت یا کوئی گم شدہ خاندانِ زبانیں۔
1900 قبلِ مسیح کے بعد تہذیب زوال پذیر ہوئی۔ مون سون کمزور پڑا، گھگھر۔ہاکڑا (قدیم سرسوتی) دریا خشک ہوا، سیلاب اور زلزلے آئے، تجارت کے راستے بدل گئے۔ لوگ شہروں کو چھوڑ کر گنگا کے میدانوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ آخری ہڑپہ مرحلہ بتدریج ویدک دور میں ضم ہو گیا۔
آج بھی ہمارے کپانی سے طہارت، کپاس کے کپڑے، کچھ زیورات اور شاید یوگا جیسے کرتب انہی کی باقیات ہیں۔ 1920 کی دہائی میں دوبارہ دریافت ہونے والی یہ تہذیب تین بڑی قدیم تہذیبوں (مصر، میسوپوٹیمیا، سندھ وادی) میں سب سے کم سمجھی جانے والی ہے، صرف اس لیے کہ اس کی تحریر اب تک راز ہے۔
ہڑپہ تہذیب صرف اینٹوں کا ڈھیر نہیں، جنوبی ایشیا کی جڑیں ہیں۔










👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

10/12/2025

✈️ گیارہ دن کی خاموشی: جولیانے کوئپکے

کرسمس کی شام، 1971 کو، 17 سالہ ہائی اسکول کی طالبہ جولیانے کوئپکے اپنی والدہ کے ساتھ پیلنکووا میں اپنے والد سے ملنے کے لیے LANSA فلائٹ 508 میں سوار ہوئیں۔ جولیانے اسکول کی تعلیم مکمل کرنے اور جنگل کے ریسرچ اسٹیشن پر واپس جانے کی منتظر تھی جہاں اس کے والدین، جو جرمن ماہرِ حیوانات تھے، رہتے تھے۔

جیسے ہی طیارہ ایک بڑے گرج چمک کے طوفان سے گزرا، ہوا میں شدید ہلچل مچ گئی۔ اچانک، بجلی دائیں پر سے ٹکرائی، اور ٹربوپروپ طیارہ ایمیزون کے برساتی جنگل کے اوپر ہوا میں ہی ٹوٹنا شروع ہو گیا۔ جولیانے کو بعد میں چیخ و پکار اور طیارے کے ٹوٹنے کی خوفناک آوازیں یاد تھیں، جس کے بعد ایک پراسرار خاموشی چھا گئی۔ وہ اپنی سیٹ کی قطار سے بندھی ہوئی تھی، اور ٹوٹتے ہوئے طیارے سے نکل کر تقریباً 10,000 فٹ نیچے گھنے جنگل کے اوپر گری۔

وہ گرنے کے بعد بچ گئی، درختوں کے گھنے پتوں سے اسے کچھ سہارا ملا، لیکن اگلی صبح وہ اکیلی، نیلوں سے بھری ہوئی، ہنسلی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی، ٹانگ پر گہرا زخم اور سوجی ہوئی آنکھ کے ساتھ بیدار ہوئی۔ جولیانے، جو 92 افراد میں واحد زندہ بچنے والی تھی، کے پاس صرف پہنے ہوئے کپڑے اور کینڈی کا ایک چھوٹا بیگ تھا جو اسے قریب ہی ملا۔

اپنے والد کے دیے ہوئے بقا کے علم پر بھروسہ کرتے ہوئے—سب سے اہم مشورہ یہ تھا کہ تہذیب کو تلاش کرنے کے لیے پانی کے بہاؤ کے ساتھ نیچے کی طرف جائیں—جولیانے نے اپنا مشکل 11 دن کا سفر شروع کیا۔ وہ ایک نالے کے گدلے پانی میں چلی گئی، زہریلے سانپوں، مکڑیوں، اور ڈنک مارنے والی مچھلیوں سے بچتے ہوئے، یہ سب کچھ اُس نے اُس وقت کیا جب وہ شدید گرمی اور انفیکشن کا مقابلہ کر رہی تھی۔ اس کا کیڑے پڑا ہوا بازو کا زخم اس کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔

دس دن جنگل میں لڑکھڑانے، تھکاوٹ اور پانی کی کمی کا شکار ہونے کے بعد، اسے ایک چھوٹی سی جھونپڑی کے قریب کنارے پر بندھی ہوئی ایک کشتی ملی۔ اپنے والد کے کھیتوں کے مشورے کو یاد کرتے ہوئے کہ ان کے کتے کے زخموں کا علاج کیسے کیا جاتا تھا، اُس نے اپنے بازو سے کیڑوں کو نکالنے کے لیے جھونپڑی میں موجود مٹی کا تیل استعمال کیا۔ اگلے ہی دن، تین مقامی لکڑہارے واپس آئے، اُس کمزور لڑکی کو ڈھونڈا، اور فوری طور پر اُسے محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کی۔










👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

09/12/2025

🌋 پومپیئی: ایک رات میں غائب ہونے والا شہر

نیپلز (Naples) کی خلیج کے قریب، موجودہ اٹلی کے علاقے کمپانیا (Campania) میں واقع، پومپیئی ایک شاندار اور خوشحال رومی تفریحی شہر تھا۔ یہ شہر اپنی خوبصورت گلیوں، پرتعیش گھروں اور ہلچل مچاتی منڈیوں کے لیے مشہور تھا۔ یہاں کے باسی اپنی روزمرہ کی زندگی میں مگن تھے، کھانے پینے اور تجارت میں مشغول رہتے تھے، انہیں یہ وہم بھی نہیں تھا کہ ان کے سروں پر کھڑا سرسبز پہاڑ ویسوویئس دراصل ایک فعال آتش فشاں ہے۔ صدیوں کی خاموشی نے اسے ایک بے ضرر پہاڑ کا روپ دے رکھا تھا۔

پھر، 24 اگست 79 عیسوی کو، قسمت نے پلٹا کھایا۔ دوپہر کے وقت، زمین کانپی اور ویسوویئس دھماکے سے پھٹ پڑا۔ راکھ، پتھروں اور گیس کا ایک دیو ہیکل کالم آسمان کی طرف بلند ہوا، جس نے سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک لیا۔ آسمان سے راکھ اور جھاواں (Pumice) پتھروں کی بارش شروع ہو گئی، جس نے گلیوں کو تیزی سے ڈھانپنا شروع کر دیا۔ خوف و ہراس پھیل گیا؛ بہت سے لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھر بار اور سامان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

لیکن اصل تباہی اس رات کے بعد صبح سویرے آئی۔ آتش فشاں کا کالم ڈھے گیا، جس سے "پائروکلاسٹک فلو" کہلانے والے انتہائی گرم گیس اور آتش فشاں کے ملبے کے بادل پیدا ہوئے۔ یہ بادل اتنی تیز رفتاری سے شہر کی طرف بڑھے کہ کسی کو ردعمل ظاہر کرنے کا موقع نہیں ملا۔ جو لوگ پومپیئی میں پناہ لیے ہوئے تھے وہ لمحوں میں دم گھٹنے یا شدید درجہ حرارت (Thermal Shock) کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

پورے شہر کو تیزی سے 20 فٹ سے زیادہ راکھ اور پاؤڈر کی تہہ کے نیچے دفن کر دیا گیا، جس سے یہ ہمیشہ کے لیے وقت کے ایک کیپسول میں منجمد ہو گیا۔

جب صدیوں بعد اس کی کھدائی کی گئی تو یہ شہر ویسا ہی ملا جیسا کہ تباہی سے پہلے تھا۔ روٹی کے ڈھانچے، میزیں، اور دیواروں پر بنی پینٹنگز سب محفوظ تھیں۔ سب سے زیادہ المناک وہ متاثرین کے المناک کاسٹ تھے، جو کھدائی کرنے والوں کو راکھ میں ان کے جسموں کے خالی جگہوں میں پلاسٹر بھر کر ملے تھے۔ یہ خاموش مجسمے آج بھی قدیم زندگی کے اچانک اور تباہ کن انجام کی المناک جھلک پیش کرتے ہیں۔ پومپیئی آج بھی ہمیں قدرت کی بے پناہ طاقت کی یاد دلاتا ہے اور یہ ایک تاریخی ورثہ ہے جسے دیکھنے کے لیے ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

08/12/2025

سیرم جھیل: نیلمی برف میں قید سائنسی شاہکار

سردیوں کی گہری رات میں، سنکیانگ کے بلند و بالا پہاڑوں میں گھری سیرم جھیل (Sayram Lake) ایک طلسماتی اور سائنسی دنیا میں بدل جاتی ہے۔ یہ جھیل، جسے "بحر اوقیانوس کا آخری آنسو" بھی کہا جاتا ہے، شدید ٹھنڈ کی وجہ سے ایک وسیع اور مکمل طور پر شفاف، نیلمی کرسٹل کی چادر اوڑھ چکی ہوتی ہے۔

جھیل کی شیشے جیسی شفاف سطح پر جب روشنی پڑتی ہے، تو ایک حیرت انگیز سائنسی راز منظر عام پر آتا ہے۔ برف کے اندر ہزاروں چھوٹے، گول، سفید ڈھیر نظر آتے ہیں جو قطار در قطار جھیل کی گہرائی سے اوپر کی طرف اٹھتے ہوئے آئس ببلز (برفانی بلبلے) کہلاتے ہیں۔

سائنسی حقیقت یہ ہے کہ جھیل کی تہہ میں نباتاتی اور نامیاتی مادے (organic matter) کے گلنے سڑنے سے قدرتی طور پر میتھین گیس پیدا ہوتی ہے۔ یہ میتھین، جو کہ قدرتی گیس کا بنیادی جزو اور ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس بھی ہے، سطح کی طرف اٹھتی ہے۔ لیکن شدید سردی کے ماحول میں، یہ گیس پانی کی مختلف تہوں میں جم کر لاکھوں بلبلوں کی صورت میں وقت کے ساتھ ساکت ہو جاتی ہے۔ یہ مظاہرہ ایسا لگتا ہے جیسے سفید موتیوں کو نیلے پتھر میں جما دیا گیا ہو۔

مزید برآں، دباؤ اور سرد ہوا کی وجہ سے برف کی تہہ ٹوٹتی ہے اور کنارے پر نوک دار برف کے ٹکڑوں کا انبار لگا دیتی ہے۔ یہ آئس شوز (Ice Shoves) کسی ہیرے کی چٹان یا ڈریگن کے چھلکوں جیسی ساختیں بناتے ہیں۔ جھیل کی خالص نیلمی رنگت اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی نیلی روشنی کو منعکس کرتا ہے جبکہ لال اسپیکٹرم کو جذب کر لیتا ہے، جس سے اس کی جادوئی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

سیرم جھیل محض ایک دلکش منظر نہیں، بلکہ ایک زندہ قدرتی آرٹ گیلری ہے جہاں کی خاموشی اور سردی نے پانی، گیس، اور وقت کے اصولوں کو منجمد کر کے ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جو لاکھوں سال کے جیولوجیکل عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ منفرد اور شاندار تجربہ ہر دیکھنے والے کی یاد میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتا ہے۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

07/12/2025

سکندریہ کی سنہری شاموں میں، جہاں دریائے نیل کی موجیں ماضی کے قصے سناتی تھیں، وہیں مصر کی آخری فرعون، کلیوپٹرا، اور رومی جرنیل مارک انٹونی کی محبت نے جنم لیا۔ یہ صرف ایک سیاسی اتحاد نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا جنون تھا جس نے دو عظیم تہذیبوں کے مقدر کو آپس میں جوڑ دیا۔ کلیوپٹرا اپنی ذہانت، دلکشی اور سیاست دانی کے لیے مشہور تھی، جبکہ انٹونی اپنی شجاعت اور فوجی طاقت کے سبب جانے جاتے تھے۔ ان کی داستانِ عشق نے اس وقت کے طاقتور رومی حکمران، آکٹیوین (جو بعد میں آگسٹس کہلایا) کی نظر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

لیکن قدرت کو یہ وصل ہمیشہ کے لیے منظور نہ تھا۔ ایکٹیم کی فیصلہ کن شکست نے ان کے مقدر کی بازی پلٹ دی۔ جب رومی فوجوں نے اسکندریہ کا محاصرہ کیا، تو انٹونی نے غلط خبر سن کر خود کو تلوار مار لی۔ کلیوپٹرا نے اپنے محبوب کے پاس ہی، اپنے بنائے ہوئے عالیشان مقبرے میں پناہ لی۔ تاریخ دانوں کے مطابق، اس نے آکٹیوین کے ہاتھوں رسوائی سے بچنے کے لیے ایک زہریلے سانپ (جسے کوبرا سمجھا جاتا ہے) کے ذریعے موت کو گلے لگا لیا۔

وصیت کے مطابق، آکٹیوین نے انہیں ایک ہی مقبرے میں دفن کرنے کی اجازت دی۔ یہ مقبرہ اسکندریہ کے شاہی محل کے قریب کہیں موجود تھا، جو ان کی ابدی محبت کی نشانی بننا تھا۔ مگر زمانہ قدیم میں آنے والے شدید زلزلوں اور سمندری لہروں نے اسکندریہ کے ساحلی علاقے کو زیرِ آب کر دیا، اور ان کا مقبرہ تاریخ کے صفحات میں ایک معمہ بن کر رہ گیا۔

آج، دو ہزار سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ آج بھی اس راز کو کھولنے کی جستجو میں مصروف ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ مقبرہ اسکندریہ کی ڈوبی ہوئی بندرگاہ میں، سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہے جہاں کبھی محل کھڑا تھا۔ جبکہ دیگر ماہرین، خاص طور پر ڈومینیکن آرکیالوجسٹ کیتھلین مارٹینز، کی توجہ تاپوسیریس میگنا کے قدیم مندر پر مرکوز ہے۔ یہاں حالیہ برسوں میں کلیوپٹرا کے نقش و نگار والے سکے، ایک سرنگ، اور دیگر اہم نوادرات دریافت ہوئے ہیں جو اس امید کو زندہ رکھتے ہیں کہ وہ اس جگہ دفن کیے گئے ہوں گے۔

کلیوپٹرا اور مارک انٹونی کی محبت اور المیے کی کہانی تو امر ہو چکی ہے، لیکن ان کی آخری آرام گاہ کا معمہ آج بھی ریت اور سمندر کی گہرائیوں میں چھپا، تاریخ کے اس سب سے بڑے راز کے افشاء کا منتظر ہے۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

06/12/2025

نازی قبضے کے دوران دوسری جنگِ عظیم میں پولینڈ کے دو ڈاکٹرز — ایوگین لیزوسکی اور ستانسواف ماٹولیویچ — نے بغیر گولی چلائے مزاحمت کا ایک انوکھا راستہ اختیار کیا۔ ماٹولیویچ نے دریافت کیا کہ اگر وہ صحت مند مریضوں کو ایک ایسا بے ضرر ویکسین لگائیں جس میں پروٹیئس بیکٹیریا کے مردہ ذرات ہوں، تو ان کے جسموں کے ٹیسٹ ٹائیفَس (Typhus) جیسی بیماری کے لئے مثبت آئیں گے — ایک ایسی بیماری جس سے نازی فوج سخت خوفزدہ تھی۔

جرمنوں کی سخت پالیسی تھی: جہاں بھی ٹائیفَس کی وبا کا شبہ ہوتا، وہ پورے علاقے کو فوراً قرنطینہ کر دیتے اور فوجی وہاں جانے سے کتراتے۔ لیزوسکی اور ماٹولیویچ نے سمجھ لیا کہ اس خوف کو ایک ڈھال میں بدلا جا سکتا ہے۔ چپکے چپکے انہوں نے روزواڈوو (Rozwadów) کے اردگرد کی بستیوں میں یہ "جعلی انفیکشن" پھیلانا شروع کر دیا۔

جلد ہی جرمن حکام کو یقین ہو گیا کہ ایک بڑی وبا پھیل چکی ہے۔ انہوں نے ان گاؤں کو بند کر دیا، اور نتیجے کے طور پر ان علاقوں کو جبری مشقت یا بدترین جلاوطنی سے بچا لیا گیا۔ اس طبی فریب کے ذریعے ان دونوں ڈاکٹروں نے اندازاً آٹھ ہزار پولش یہودیوں اور غیر یہودیوں کی زندگیاں بچائیں۔

یہ دھوکا اتنا کامیاب رہا کہ جب جرمن ڈاکٹرز نے علاقے کا معائنہ کیا تو ٹیسٹ کے نتائج بالکل اصلی لگے، کیونکہ یورپ کے دوسرے حصوں میں واقعی ٹائیفَس پھیلا ہوا تھا۔ یہ راز جنگ کے اختتام تک قائم رہا۔

بعد میں لیزوسکی نے اسے اپنی "ذاتی جنگ" قرار دیا — ایک ایسی جنگ جو نہ بندوق سے لڑی گئی اور نہ بم سے، بلکہ سرنج اور سائنس کے ذریعے۔ یہ تاریخ کی سب سے حیرت انگیز مثالوں میں سے ایک ہے کہ کس طرح ہوش مندی، جرات اور انسانیت ظلم کے اندھیروں میں روشنی بن سکتی ہے۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

05/12/2025

دلہن کے آنسو: سیچوان کی صدیوں پرانی انوکھی روایت

دنیا بھر میں شادی کی رسومات اپنے جذبات اور رنگوں سے بھرپور ہوتی ہیں، مگر چین کے صوبہ سیچوان میں موجود ایک روایت واقعی حیران کر دینے والی ہے۔ اسے “روتے ہوئے دلہن” یا توجیا کی دلہن کی رسم کہا جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف جذبات سے لبریز ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری تاریخ اور ثقافتی معنی بھی موجود ہیں۔

اس رسم کے مطابق دلہن کو شادی سے ایک مہینہ پہلے روزانہ ایک گھنٹہ رو نا ہوتا ہے۔ پہلے 10 دن وہ اکیلے روتی ہے، پھر اس کی ماں، بہنیں اور دیگر قریبی رشتے دار بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ مقصد صرف آنسو بہانا نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں سے جدائی کے درد کو محسوس کرنا اور ان کی محبت کا اظہار کرنا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ روایت کم از کم 500 سال پرانی ہے اور چنگ خاندان (1644–1912) کے زمانے میں باقاعدہ ایک معروف ثقافتی رواج کے طور پر مشہور ہوئی۔ توجیا اقلیت کا ماننا تھا کہ دلہن جتنی زیادہ روئے گی، اس کا ازدواجی مستقبل اتنا ہی خوشحال ہوگا۔ دلہن کے ان آنسوؤں کو “خوشی کے آنسو” کہا جاتا تھا، کیونکہ انہیں محبت، شکرگزاری اور جدائی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس دوران دلہن اور اس کی خواتین رشتے دار خصوصی روایتی لوک گیت بھی گاتی ہیں، جنہیں “کوجیا شو” کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں میں ماں کی محبت، بہنوں کا پیار، بچپن کی یادیں اور گھر چھوڑنے کے جذبات بیان ہوتے ہیں۔ اگر کبھی دلہن کم روئے تو اسے بے رحم سمجھا جاتا تھا اور خاندان ناراض ہو جاتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روایت آج بھی سیچوان کے چند علاقوں میں دیکھی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں لوگ اس رسم کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہیں، جس سے یہ روایت ایک نئی نسل تک پہنچ رہی ہے۔

اگر اس روایت کو ایک تصویر میں دکھایا جائے تو منظر کچھ یوں ہوگا:
روایتی سرخ لباس میں ملبوس ایک دلہن لکڑی کے قدیم طرز کے چینی گھر میں بیٹھی ہے، اس کے چہرے پر آنسو ہیں، اردگرد ماں اور بہنیں بھی روتے ہوئے گیت گا رہی ہیں، سرخ لالٹینیں اور دیواروں پر چین کی قدیم سجاوٹ ماحول کو مزید جذباتی بنا رہی ہے۔











👉 اگر آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق مزید معلومات ہوں تو ہمیں کمنٹس میں ضرور گائیڈ کریں اور شیئر کریں۔

Address

32 Purley Downs Road
Lahore
CR81HA

Telephone

+923164352225

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Exciting Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Exciting Pakistan:

Share

Category