AL-Nishat Book Center

AL-Nishat Book Center Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AL-Nishat Book Center, Publisher, urdu bazar lahore, Lahore.

30/01/2026
12/01/2026

Any suggestions for urdu Novel
@

26/12/2025

قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش کیا جائے گا تو وہ محض پڑھنے کی چیز نہیں ہوگا، بلکہ ایک مکمل منظر کی صورت میں آپ کے سامنے آئے گا، بالکل ایسے جیسے کوئی ہائی ریزولوشن ویڈیو چل رہی ہو۔

﴿فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ﴾
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا)
— سورۃ الزلزال

یہاں لفظ پڑھنے کا نہیں، صاف طور پر دیکھنے کا ذکر ہے۔
یعنی اعمال کی Visual Presentation۔

نکولا ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی ہو یا جدید نیورو سائنس—یہ سب دراصل اس سچ کی ایک دھندلی سی جھلک ہیں جو قیامت کے دن مکمل طور پر ظاہر ہوگا۔
اسی لیے یہ طاقت چند مخصوص ہاتھوں تک محدود رکھی جاتی ہے۔

آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟
دماغ میں چِپ لگا کر خیالات کو پڑھنے کی کوشش۔

کل کو اگر وہ سوچ پڑھ سکتے ہیں تو سوچ بدلنا بھی مشکل نہیں رہے گا۔
انسان کو مجرم ٹھہرا دیا جائے گا، اس سے پہلے کہ وہ کوئی جرم کرے—جیسا کہ مغربی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

یہی وہ بڑا فتنہ ہے جس کی خبر دی گئی تھی۔
مگر ہمارا نوجوان کہاں ہے؟
ٹک ٹاک کی اسکرین پر رقص میں گم۔

اور یہاں میرا سوال اپنے فرسودہ تعلیمی نظام سے ہے:
ہم بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟

رٹّا
ڈارون کا نظریہ
غلامی کی تاریخ

لیکن یہ کیوں نہیں سکھاتے کہ انسان محض جسم نہیں، ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
تزکیۂ نفس کی سائنس کیوں نصاب سے غائب ہے؟

اس لیے کہ اگر مسلمان جان گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقت رکھتی ہے، تو وہ ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ہو جائے گا۔

یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ایمان سے جنم لینے والی تھوٹ ٹرانسفر کی حقیقت تھی۔
ہم نے وہ علم کھو دیا، اور آج سمارٹ فون نے ہمیں غلام بنا لیا۔

میرے مسلمان بھائیو!
تمہارا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔
ہر خیال محفوظ ہو رہا ہے، اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔

ٹیسلا کی تھیوریز ہمیں یہی پیغام دیتی ہیں کہ
غیب ایک حقیقت ہے۔

اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔

قرآن کو صرف ثواب کی کتاب نہیں، فہم اور شعور کی کتاب سمجھ کر پڑھو،
تاکہ آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔

اُٹھو!
اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو
کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے

Copied

18/11/2025

سویڈن کا ایک وزیر قتل ہو گیا۔ وزرا اور ممبران اسمبلی میں عدم تحفظ کی سراسمیکی پھیل گئی۔ ایک ممبر نے پارلیمینٹ میں قرارداد پیش کی کہ حکومت تمام ممبران اسمبلی کی سیکیورٹی کیلئے پولیس اہلکار فراہم کرے۔ قرارداد پر بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی تو یہ بل اکثریتی رائے سے مسترد ہو گیا۔

آپ حیران ہونگے کہ ممبران پارلیمینٹ کی اکثریت نے اپنے ہی تحفظ اور فائدے کے خلاف ووٹ کیوں دیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اچھنبے کی بات بل مسترد کرتے ہوئے سپیکر کی رولنگ تھی۔
ووٹوں کی گنتی کے بعد سپیکر نے اپنی ریوالونگ چیئر گھمائی اور دائیں طرف کھڑے پارلیمینٹ کے سیکریٹری سے پوچھا "کیا ہمارے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ ہم اپنے ملک کے ہر بچے سے لیکر بوڑھے اور مرد زن کو سیکیورٹی اہلکار دے سکیں؟".
We
سیکریٹری نے سر جھگایا اور کہا "نو سر".
سپیکر نے کرسی کا رخ ممبران کی طرف کیا اور رولنگ پڑھنی شروع کی:

"اس میں کوئی شک نہیں کہ ممبران پارلیمینٹ کی جان قیمتی ھے لیکن یہ اسی طرح قیمتی ھے جس طرح اس ہال میں کھڑے نائب قاصد کی، یہ اسی طرح قیمتی ھے جس طرح باہر چوک میں کھڑے گداگر کی۔ ہمارے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ ہم ہر ایک شہری کو انفرادی طور پر سیکیورٹی اہلکار مہیا کر سکیں اور جب تک ہم اس قابل نہ ہو جائیں کہ ہر شہری کو سیکوریٹی مہیا کر سکیں تب تک ہم ممبران کو یہ سہولت کیونکر دے سکتے ہیں لہذا بل مسترد کیا جاتا ھے"

سپیکر نے ایک نظر ممبران اسمبلی پر ڈالی اور اپنی رولنگ جاری رکھتے ہوئے کہا "آپ لوگ سیاست میں با امر مجبوری نہیں بلکہ بائی چوائس آئے ہیں۔ سیاست بڑا پرخطر کھیل ھے۔ اس میں دشمنیاں ہونا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا کوئی انہونی بات نہیں۔ لہذا جسے اپنی جان زیادہ پیاری لگتی ھے وہ سیاست کی بجائے کسی اور شعبے کا انتخاب کر لے".

یہ ہے جمہوریتت
تمام اداروں کے سربراہوں ان کے افسروں کو بھی اس اصول پر عمل کرنا چاہئے خزانے پر بوجھ کے بجائے گھر جلے جانا چاہئیے۔

- پڑھے لکھے معاشروں میں یقینا ایسا ہی ھوتا ھے

17/11/2025

ماڈل ٹاؤن لاہور کا ماسٹر پلان تیار کرنے والے ٹاؤن پلانر / آرکیٹکٹ کو 800 روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔ ▪️قسط 12:

پچھلی قسط 11 میں ہم نے یہ دیکھا کہ ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کو رکھ کوٹ لکھپت کے ریزروڈ فاریسٹ علاقے کی زمین جون 1922 میں ایک باقاعدہ مالی اور قانونی عمل کے تحت الاٹ ہوئی۔ اور حیازت (possession) کا عمل مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ تھا منصوبہ بندی (Planning) اور بنیادی خاکہ (Layout Design) کی تیاری۔

چنانچہ سوسائٹی نے فیصلہ کیا کہ اس منصوبے کا ڈیزائن کسی ایک فرد کے بجائے ایک اوپن مقابلے کے ذریعے منتخب کیا جائے اور اس کے لیے پورے ہندوستان کے ٹاؤن پلانرز اور آرکیٹیکٹ فرمز کے مابین ایک Comprehensive Urban Layout Design Competition کروایا جائے تاکہ بہترین ماسٹر پلان حاصل ہو۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے لاہور کے معروف انگریزی اخبارات، Civil & Military Gazette اور The Tribune میں اگست 1922 میں ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں ہندوستان بھر کے آرکیٹیکٹس اور ٹاؤن پلانرز کو ماڈل ٹاؤن لاہور کے لیے ماسٹر پلان ڈیزائن کرنے کی دعوت دی گئی۔ اور جیتنے والے کے لیے انعامی رقم 1200 روپے رکھی گئی۔

اشتہار میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ منصوبے کو Garden City Movement کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے، تاکہ لاہور کے مضافات میں ایک ایسی بستی بن سکے جو صحت مند، منظم اور قدرتی ماحول سے ہم آہنگ ہو۔

مقابلے میں پورے ہندوستان سے مجموعی طور پر 32 plans موصول ہوئے تھے، جو مختلف تخلصات (pseudonyms) کے تحت جمع کرائے گئے اور جنہیں 17 اور 18 دسمبر 1922 کو سوسائٹی کے دفتر واقع سر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ مال روڈ میں نمائش کے لیے رکھا گیا، جو اس وقت نئی نئی تعمیر ہوئی تھی۔ ان دو دنوں کے دوران سوسائٹی کے اراکین اور عام عوام کو منصوبے دیکھنے کی اجازت دی گئی، اور 17 دسمبر کو گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن نے بھی نمائش کا دورہ کیا اور اپنی بے پناہ دلچسپی کا اظہار کیا۔

یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے پہلے ماسٹر پلان (1922–23) کو منتخب کرنے والی ججنگ کمیٹی کے ارکان یہ تین شخصیات تھیں:
1. سر گنگا رام، ریٹائرڈ چیف کنسلٹنگ انجینئر، حکومتِ پنجاب
2. ڈبلیو۔ جی۔ لوٹن، کنسلٹنگ آرکیٹیکٹ، PWD پنجاب
3. بیرسٹر دیوان کھیم چند، سیکریٹری، ماڈل ٹاؤن کوآپریٹو سوسائٹی

اس مقابلے کا مقصد صرف سوسائٹی کے لیے ایک نقشہ منتخب کرنا نہیں تھا بلکہ شہری منصوبہ بندی کے جدید اصولوں جیسے علاقہ بندی (Zoning)، سڑکوں کی ریڈیئل ترتیب (Radial Road Pattern)، مرکزی سبز خطہ (Central Green Core)، اور مخصوص مقاصد کے استعمال (Functional Land Use) کو لاہور کے جغرافیے اور آب و ہوا کے مطابق ڈھالنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

اس مقابلے میں ججز نے کسی ایک خاکے کو مکمل طور پر منتخب کرنے کے بجائے ان چار نمایاں ڈیزائنوں کو شارٹ لسٹ کیا:
1. مسٹر جی۔ کے۔ تِرلوکےکر (بمبئی) کا “دل نگر”
2. مسٹر ایس۔ سی۔ پال (کلکتہ) کا “کامن سینس”
3. مسٹر این۔ ایل۔ ورما (الہ آباد) کا “جیوپٹر”
4. ڈاکٹر جے۔ بی۔ ساہنی (لاہور) کا “ڈیلما”

چاروں ڈیزائنز میں پیش کیے گئے اصول، تناسب اور جمالیاتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے انعامی رقم 1200 روپے چاروں میں برابر تقسیم کی گئی۔

ججز کی رائے میں ہر منتخب خاکے میں کچھ نہ کچھ نمایاں ڈیزائن اسٹرینتھ (Design Strength) موجود تھی۔ کسی میں سڑکوں کا ریڈیئل پیٹرن (Radial Road Network) زیادہ متوازن تھا، کسی میں زوننگ اور لینڈ یوز (Zoning and Land Use) کی وضاحت بہتر تھی، کسی میں گرین بیلٹس اور (Open Spaces) کا تناسب مثالی تھا، جبکہ کسی نے کلب، مارکیٹ اور کمیونٹی سینٹرز کے درمیان تعلق (Functional Relationship) کو زیادہ مؤثر انداز میں ترتیب دیا تھا۔ چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ ان چاروں پلانز کے فنکشنل، جمالیاتی اور انجینئرنگ پہلوؤں کو یکجا کر کے ایک Comprehensive Master Plan تشکیل دیا جائے۔

چنانچہ ججوں نے مسٹر این۔ ایل۔ ورما کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ ان چاروں نقشوں کی بہترین خصوصیات جیسا کہ ٹریفک موومنٹ (Traffic Movement)، رہائشی بلاکس کی پلاننگ، عوامی سہولیات کی جگہوں کا انتخاب، اور اوپن گرین بیلٹس کے ربط کو یکجا کر کے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کریں۔ اس مقصد کے لیے سوسائٹی نے انہیں 300 روپے انعامی رقم کے علاوہ الگ سے مزید 500 روپے فیس ادا کی۔

مسٹر این۔ ایل۔ ورما نے چاروں پلانز کے Core Elements کو ایک مربوط شہری خاکے (Integrated Urban Framework) میں ضم کیا۔ اُن کا تیار کردہ حتمی ماسٹر پلان نہ صرف ایرگونومک اور فزیبلٹی اسٹینڈرڈز پر پورا اترتا تھا بلکہ اُس نے لاہور کے ممکنہ پھیلاؤ کے لیے ایک Precedent Model بھی قائم کیا۔ اُن کے پلان کو 1923 میں حکومتِ پنجاب نے باضابطہ طور پر منظور کیا۔

دوسرے الفاظ میں، جب ججوں نے مسٹر این۔ ایل۔ ورما (N. L. Verma) کو یہ
ذمہ داری دی کہ وہ تمام خاکوں کی بہترین خصوصیات کو یکجا کر کے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کریں، تو دراصل یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اُن کا ڈیزائن “Jupiter” مقابلے میں پیش کیے گئے دیگر ڈیزائنوں جیسا کہ “Dilnagar”, “Common Sense”, اور “Dalma” میں سب سے زیادہ متوازن اور قابلِ عمل سمجھا گیا۔ ورما کے پلان میں ٹریفک کی روانی، رہائشی بلاکس کی ترتیب، عوامی سہولیات کے مقامات کا انتخاب، اور اوپن گرین بیلٹس کا آپس میں ربط ایک سائنسی اور جمالیاتی ہم آہنگی کے ساتھ پیش کیا گیا، جس نے اُن کے تصور کو باقی تمام ڈیزائنز پر فوقیت دلائی۔ اسی لیے تاریخی و تکنیکی طور پر مسٹر این۔ ایل۔ ورما ہی ماڈل ٹاؤن لاہور کے حتمی ماسٹر پلان کے خالق اور آرکیٹکٹ تسلیم کیے جاتے ہیں، کیونکہ موجودہ ماڈل ٹاؤن کا شہری ڈھانچہ، زوننگ، اور منصوبہ بندی بنیادی طور پر انہی کے تیار کردہ پلان پر مبنی ہے۔

یاد رہے، مسٹر نند لال ورما (Mr. Nand Lal Verma) الہ آباد کے ایک تربیت یافتہ آرکیٹیکٹ اور ٹاؤن پلانر تھے۔ ان کا تیار کردہ ماسٹر پلان اُس زمانے کے شہری منصوبہ بندی کے تمام سائنسی تقاضوں پر پورا اترتا تھا، اور بعد ازاں یہی نقشہ ماڈل ٹاؤن لاہور کے حتمی ماسٹر پلان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

پلان میں 1960 ایکڑ اراضی پر 10 بلاکس (A سے J تک)، 1000 سے زائد رہائشی پلاٹس، اور مرکزی پارک، سکولز، کلبز، ہسپتال، مسجد، مندر اور گردوارہ جیسی سہولیات شامل تھیں۔

1923 میں حکومتِ پنجاب نے باضابطہ طور پر اس منصوبے کی منظوری دی۔ اور یوں لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور آرکیٹیکچرل ڈیزائن کے اشتراک کی پہلی باقاعدہ مثال سامنے آئی۔

جبکہ بعض موّرخین یہ مثال کرشن نگر (اسلام پورہ) کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کرشن نگر 1920 کی دہائی کے آغاز تک مکمل طور پر آباد ہو چکا تھا اور اُس وقت لاہور کی جدید شہری منصوبہ بندی کی نمایاں مثال سمجھا جاتا تھا۔ یک منزلہ قطار در قطار مکانات، verandahs، اور میونسپل بورڈ کے زیرِ انتظام نکاسی و صفائی کے منظم انتظامات نے اسے ایک کامیاب رہائشی اسکیم بنا دیا تھا اور اکثر ماڈل ٹاؤن کے منصوبے کے لیے اسے بطور مثال بھی پیش کیا گیا۔

1923 میں، ماسٹر پلان کی تکمیل کے بعد، سوسائٹی نے رہائشی گھروں کے ڈیزائن کے لیے ایک اور مقابلے کا اعلان کیا، جس میں انعامات 400، 300، اور 100 روپے رکھے گئے۔ اس مقابلے سے حاصل ہونے والے ڈیزائنز کو بنیاد بنا کر تقریباً 100 تیار شدہ پلانز کی ایک پیٹرن بک تیار کیا گیا، جو اراکین اپنی مرضی سے منتخب کر سکتے تھے۔

ماسٹر پلان کی منظوری کے فوراً بعد سوسائٹی کی باضابطہ رجسٹریشن کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1912 کے تحت 1924 میں ہوئی، اور اسی کے ساتھ ماڈل ٹاؤن لاہور میں رہائشیوں اور ممبران کے استعمال کے لیے پہلی عمارت Gentlemen’s Club کا سنگِ بنیاد 11 اپریل 1924 کو گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن نے رکھا۔

(یاد رہے ماڈل ٹاؤن لاہور کے ماسٹر پلان کے مقابلے سے متعلق خبر The Civil and Military Gazette, Lahore کے شمارہ 19 مئی 1923 میں شائع ہوئی تھی۔ یہی خبر بعد میں World Garden Cities کی ویب سائٹ اور دیگر متعدد ذرائع میں بطور ماخذ (source citation) درج کی گئی ہے۔)

جاری ہے۔۔۔ باقی آئندہ قسط میں۔

▪️یہ مضمون ماڈل ٹاؤن لاہور پر میری زیرِ طبع کتاب
The Birth of Model Town in Colonial Lahore
“برطانوی لاہور میں ماڈل ٹاؤن کا جنم”
سے اخذ شدہ ہے۔
اس کتاب کی کچھ اقساط رئیل اسٹیٹ تھنک ٹینک اور ویب
پورٹل SyedShayan.com پر دستیاب ہیں۔
اسی موضوع پر ایک جامع ڈاکیومنٹری بھی ریفرنس کے لیے تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔
اگر کوئی فرد یا ادارہ تاریخی دستاویزات، تحقیقی مواد یا تصویری ریکارڈ شیئر کرنا چاہے تو میں انہیں خوش آمدید کہوں گا۔
یہ مواد تحقیقی استناد اور علمی استفادے کے لیے نہایت قیمتی ہوگا۔
ماڈل ٹاؤن کے موجودہ یا سابقہ رہائشی حضرات اگر اس تاریخی کتاب یا ڈاکیومنٹری کے لیے اپنی کوئی یاد، تصویر یا تاثرات شیئر کرانا چاہیں تو براہِ کرم میرے ویب پورٹل پر جا کر بذریعہ ای میل مجھ سے رابطہ کریں۔

ویب پورٹل: SyedShayan.com

15/11/2025
10/11/2025

عارفہ سیدہ کی رحلت (1)

عارفہ سیدہ پاکستان کی صورت گری کرنے والوں میں سے نہیں تھیں، لیکن اُنھوں نے پاکستان کی شخصیت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔ وہ ہمارے ذہنوں میں موجود رہیں گی۔ اُنھوں نے بہت سی تقاریب میں بہت سے خیالات کا اظہار کیا، لیکن لکھا شاید کچھ بھی نہیں۔
پہلی بار اُن سے روبرئی 2010ء کے قریب فیض امن میلے کے موقعے پر ہوئی۔ اُن کی گفتگو تھوڑی سی سن کر میں ہال سے باہر آ گیا۔ یہ تقریر یا گفتگو ختم کر کے ہال سے باہر آئیں۔ میری بیوی اِن سے ملنے گئی۔ میں نے بھی تھوڑی سی بات کی اور کہا، ’’آپ بہت اچھا بولتی ہیں، چبا چبا کر۔‘‘ اُن کی آنکھوں میں ایک غضبناکی تڑپی: ’’ہوں، چبا چبا کر....۔ چبا چبا کر۔‘‘ میں اُن دنوں فرہنگ آصفیہ ایڈٹ کر رہا تھا تو یہ لفظ ذہن میں رہ گیا۔ اُنھیں بُرا لگا۔
پھر میری بیٹی نے بی ایس میں داخلہ لیا تو پتا چلا کہ ایک کورس عارفہ سیدہ کا اور ایک ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا بھی لیا ہے۔ کورس کے فوراً بعد ہودبھائی کو ایف سی کالج سے نکال دیا گیا، یا استعفا دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ پھر مجھے ایف سی کالج کی ایک تقریب میں بطور سپیکر مدعو کیا گیا۔ ہال میں کوئی پچیس تیس لوگ تھے۔ اچھا پروگرام رہا۔ میں زندگی میں پہلی بار سٹیج پر بیٹھا تھا۔ باہر نکلا تو ایک اور ہال کے باہر رش دیکھا۔ اندر جھانکا تو پتا چلا کہ عارفہ سیدہ سٹیج پر براجمان تھیں۔ ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ طلبہ سیڑھیوں پر بھی بیٹھے تھے، دیواروں کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیا سماں تھا۔ میں ریاست سے جل گیا۔
اُنہی دنوں ان کے پروگرامز کی کچھ ویڈیوز دیکھنا شروع کیں، ان کے بارے میں پڑھا بھی۔ تب پتا چلا کہ کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی، وہ بھی سرسید پر۔ اُنھیں لکھنوی تہذیب کی شائستگی، اپنے والد اور والدہ کے صوفیانہ خیالات اور اشفاق احمد سٹائل میں توکل اور نیکی کی تلقین کرنے کا شوق تھا۔ وہ پاکستانی اقوام (بالخصوص پختونوں اور بلوچوں) سے شدید کد رکھتی تھیں۔ بیٹی اور اُس کے کلاس فیلوز نے اُنھیں بہت ’’rude‘‘ بیان کیا۔ وہ اُن سے خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ وہ نوجوان لڑکیوں پر خصوصاً سختی کرتی تھیں۔
چنانچہ میں اُن کے ’’اثرات‘‘ کے بارے میں لکھنے لگا اور دیگر لوگ بھی اپنے تجربات بیان کرنا شروع ہو گئے۔ ایک نوجوان نے اُنھیں دادی اماں کہا تو برا مان گئیں۔ ایک اور نے کہا کہ میں آپ کے ماتھے پر بوسہ لینا چاہتا ہوں تو اُسے بھی اُنھوں نے ڈانٹ دیا کہ مرد اور عورت ننگی تاریں ہوتے ہیں۔ وہ دائمی ناکتخدا تھیں۔ ہمیشہ ’’تربیت‘‘ پر زور دیتی رہیں۔
معاشروں میں ہر طرح کے لوگ اور ہر طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ گھٹیا معاشرے صرف اُن کو پروان چڑھاتے ہیں جو لوگوں کو چیلنج کرنے کی بجائے جوں کا توں رکھیں۔ ہمارے معاشرے کو تصوف کے انٹرٹینر چاہئیں، سو عارفہ سیدہ کو چنا۔ وہ تھوڑی بہت نیکی کی تلقین کر کے لوگوں کو جوں کا توں رکھنے کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔ اور کیا چاہیے پاکستان کو؟
(ارادہ ہے کہ اُن کی فکری میراث پر مزید لک
چسپاں شدہ تحریر #

10/11/2025

بمطابق رپورٹ رانا مسعود حسین
پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی ، گھریلو تشدد اور متاثرہ خاتون کو نکاح ختم کرنے کاحق دینے سے متعلق ایک مقدمہ میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کا تاریخ ساز فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیاہے کہ فیملی کورٹ عورت کی مرضی کے بغیر اسے خلع نہیں دے سکتی ہے ،عدالت نے قراردیاہے کہ نکاح اس بنیاد پر ختم کیا جاتا ہے کہ شوہر نے بغیر اجازت دوسری شادی کی ، پہلی بیوی کو اپنا مہر واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، شوہر کی جانب سے پہلی بیوی کی اجازت بغیر دوسری شادی ،پہلی بیوی کی جانب سے تنسیخِ نکاح کے لیے جائز بنیاد ہے،ایسا طرزِ عمل جو عورت کو ذہنی یا جذباتی اذیت پہنچائے اور اس کے لیے عزت و سلامتی کے ساتھ اس گھر میں رہنا ناممکن بنا دے، ظلم کے زمرہ میں آتا ہے ، ظلم کے لئے محض جسمانی زخم ہوناہی شرط نہیں ،بلکہ ظلم ہر ایسے رویے پر مشتمل ہو سکتا ہے جو عورت کو دکھ، مایوسی اور اعتماد کی کمی سے دوچار کرے، اگر اس کے اثرات تکلیف دہ اور شدید ہوں اوراس کے لیے ازدواجی زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے تو یہ ظلم کہلائے گا،

07/11/2025

✨ حجاب امتیاز علی — اردو ادب کی ملکہ اور فضاؤں کی فاتح
خاتون ✨

اگر آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ایک عورت ایک ہی وقت میں ادیبہ، خواب دیکھنے والی شاعرہ، پائلٹ، ترجمہ نگار اور انسانی روح کی نفسیات پر عبور رکھنے والی لکھاری ہو سکتی ہے — تو یقین کیجیے، یہ سب کچھ ایک ہی شخصیت میں جمع تھا:
حجاب امتیاز علی۔

🌸 آغازِ زندگی

1908ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہونے والی حجاب امتیاز علی کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ان کی تعلیم کے بڑے حامی تھے — اور اسی تربیت نے ان کے اندر ایک روشن ذہن، خوبصورت احساس اور مضبوط ارادہ پیدا کیا۔
بچپن سے ہی انھیں اردو ادب اور انگریزی ناولز سے دلچسپی تھی۔ یہی شوق آگے چل کر ان کے قلم میں وہ نرمی، نزاکت اور جذباتی گہرائی لے آیا جس نے انھیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام دیا۔

🖋️ ادبی سفر

حجاب امتیاز علی صرف لکھنے والی نہیں تھیں — وہ محسوس کرنے والی ادیبہ تھیں۔
ان کے مشہور افسانے اور ناول، جیسے "ظالم محبت", "مہک", "احتیاط عشق"، اور "صنوبر کے سائۓ" اس دور کی اردو فکشن میں عورت کے جذبات، قربانی، اور سماجی قید و بند کی جھلک دکھاتے ہیں۔

ان کی تحریروں میں عورت کسی کمزور کردار کے طور پر نہیں آتی — بلکہ وہ خود فیصلہ کرنے والی، محبت کرنے والی اور قربانی دینے والی شخصیت کے طور پر ابھرتی ہے۔
ان کے اندازِ بیان میں نفسیاتی گہرائی، رومانوی حسن اور جذباتی سچائی کی ایک حسین آمیزش ملتی ہے۔

💕 ادب اور احساس کا سنگم

حجاب صاحبہ اردو ادب کی ان چند خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے عورت کے باطن کو زبان دی۔
ان کے کردار بولتے نہیں، محسوس ہوتے ہیں۔
وہ محبت کو خواب نہیں، ایک ذمہ داری سمجھتی تھیں۔
ان کی تحریروں میں عورت کی ذات، اس کی خواہشات، اس کی قربانیاں — سب کچھ ایک شفاف آئینے کی طرح نظر آتا ہے۔

✈️ آسمانوں کی بلندیوں تک سفر

لیکن ان کی شخصیت کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ وہ صرف قلم تک محدود نہیں رہیں۔
1936ء میں وہ برصغیر کی پہلی مسلم خاتون پائلٹ بنیں۔
اس زمانے میں جب عورتوں کے لیے گھر سے نکلنا بھی کٹھن سمجھا جاتا تھا، وہ جہاز اڑا کر آسمان کو چُھو رہی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ عورت اگر چاہے تو کوئی آسمان اس کی حد نہیں۔

انھوں نے اڑان کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا کہ

> "پرواز صرف جہاز کی نہیں — خوابوں کی بھی ہوتی ہے۔"

🧠 ذہانت اور علم کا امتزاج

ادب کے ساتھ ساتھ حجاب امتیاز علی نے نفسیات (Psychology) میں بھی دلچسپی لی۔
ان کی تحریروں میں انسانی دماغ اور روح کی گہرائیوں کو جس باریکی سے بیان کیا گیا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مشاہدہ کار ذہن اور محسوس کرنے والا دل رکھتی تھیں۔
انھوں نے اردو ادب کو صرف زبان کی مٹھاس نہیں دی، بلکہ انسانی احساسات کا تجزیہ بھی دیا۔

❤️ ازدواجی زندگی

حجاب امتیاز علی کی شادی اردو کے معروف ادیب امتیاز علی تاج سے ہوئی — جن کا ڈرامہ "انارکلی" اردو ادب کا کلاسک شمار ہوتا ہے۔
یہ جوڑا اردو ادب کی تاریخ میں ایک خوبصورت مثال بنا۔
جہاں امتیاز علی تاج نے ڈرامے کو نئی بلندی دی، وہیں حجاب امتیاز علی نے افسانے اور نثر کو نیا ذائقہ عطا کیا۔
ان دونوں نے مل کر ادب کی ایسی فضا پیدا کی جو آج بھی دلوں کو معطر کرتی ہے۔

🕌 قیامِ پاکستان کے بعد:

1947ء میں تقسیم کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ لاہور (پاکستان) منتقل ہو گئیں۔

انہوں نے باقی زندگی پاکستان میں گزاری۔

ادب، صحافت، خواتین کے حقوق، اور بچوں کے ادب کے لیے کام کرتی رہیں۔

⚰️ وفات:

19 مارچ 1999ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پائی۔

انہیں لاہور ہی میں سپردِ خاک کیا گیا
🌹 وفات اور وراثت

حجاب امتیاز علی 1999ء میں وفات پا گئیں، لیکن ان کی تحریری خوشبو آج بھی اردو ادب کے دالانوں میں بستی ہے۔
ان کی تحریروں میں خود اعتمادی، محبت، عورت کی خودی، اور خوابوں کا یقین جھلکتا ہے۔
انھوں نے آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام چھوڑا کہ:

> “عورت کی پہچان اس کے خوابوں میں ہے — اور خواب دیکھنا جرم نہیں، حوصلہ ہے!”

🌺 اختتامی پیغام

حجاب امتیاز علی صرف ایک نام نہیں، ایک عہد تھیں —
ایک ایسی عورت جنہوں نے قلم سے بھی پرواز کی، اور جہاز سے بھی۔
انہوں نے اردو ادب کو احساس کی نئی زمین دی اور عورت کے وجود کو طاقت کی نئی تعبیر عطا کی۔

وہ ثابت کر گئیں کہ:

> “عورت جب لکھتی ہے، تو تاریخ بدلتی ہے۔
اور جب اڑتی ہے، تو نسلوں کو پرواز کا ہنر سکھاتی ہے۔” ✈️✨

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہو ❤️
تو اسے شیئر ضرور کریں تاکہ حجاب امتیاز علی جیسی عظیم خواتین کی داستانیں آنے والی نسلوں تک پہنچ سکیں۔

وہ جو دنیا بدل گئیں قسط اول
تحریر:عائشہ مہر

22/04/2024

مطالعے کا شوق اتنا وسیع رکھو کہ محی الدین نواب کی تحریر کردہ اور فرہاد علی تیمور کی روایت کردہ اردو زبان کا سب سے طویل ترین سلسلہ وار داستان"دیوتا" بھی کم پڑھ جائے پڑھنے کے لئے

11/01/2024

AMBER HUSSAINI
Fiction writer
Birthplace Bahawalpur
Ancestry Ludhiana

A new signature in Punjabi fiction Amber Hussaini has penned a 128-page novel Peero published in 2023 by the Punjabi Adbi Board Lahore.

Her short story Mardaangi published in Punjabi quarterly Taasman (No. 12, Jan-Mar 2024, Patiala) deals deftly with a sensitive aspect of male sexuality which is a taboo subject in Punjabi literature.

Address

Urdu Bazar Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00

Telephone

+924237234929

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AL-Nishat Book Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category