Urdu Novels

Urdu Novels - is the 1st and largest online free Urdu novels books site and can download in PDF form

A Site Where you can Read and Download free online Best Urdu Novels in PDF.

کوئٹہ میں ہفتے کو کو لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ہمایوں شاہ پولیس سرچ آپریشن کے دوران ’ہتھیار ڈالنے کے حکم پر...
06/06/2026

کوئٹہ میں ہفتے کو کو لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ہمایوں شاہ پولیس سرچ آپریشن کے دوران ’ہتھیار ڈالنے کے حکم پر فائرنگ کرنے‘ کے بعد مارا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا ہے کہ ’ملزم کو نوشکی بس سٹاپ کے قریب دیکھا گیا۔ جب پولیس نے اسے ہتھیار ڈالنے کو کہا تو اس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ملزم مارا گیا۔‘
کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں ہفتے کی دوپہر کو ایک خاتون ڈاکٹر پر لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا، جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ملزم کی عدم گرفتاری پر ہسپتالوں میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال اور طبی سروسز کے بائیکاٹ کے بیانات دیے تھے۔
وارڈ میں موجود عینی شاہدین کے مطابق ہفتے کی دوپہر ایک نوجوان نے سرجیکل وارڈ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جیسے ہی پی جی ڈاکٹر ماہ نور ناصر باہر آئیں، اس نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔ فوکل پرسن ٹراما سینٹر عین الدین قریشی کے مطابق وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کی ہدایت پر ڈاکٹر کو فوری طور پر آریا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم کے معائنے کے بعد کراچی منتقلی کا فیصلہ ہوا اور ائیر ایمبولینس کو تیار رکھا گیا ہے۔
ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر عبدالہادی کا کہنا ہے کہ متاثرہ ڈاکٹر کے جسم کا 50 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔
واقعے میں خاتون ڈاکٹر کا چہرہ اور جسم شدید متاثر ہوا، جبکہ انہیں بچانے کی کوشش کرنے والا ایک اور شخص بھی زد میں آکر زخمی ہو گیا۔
وزیراعلیٰ کے معاون شاہد رند نے میڈیا کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے کی گئی اور پولیس نے وائرلیس اور سوشل میڈیا گروپس پر ملزم کی گرفتاری کے پیغامات نشر کر دیے گئے۔
سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالہادی نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوری بعد ہسپتال کے دیگر ملازمین نے ملزم کو قابو کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔

ایران کا خاموش دشمن؟ایران کو صرف اسرائیل سے نہیں، بلکہ اُن منافق دوستوں سے بھی خطرہ ہے جو پسِ پردہ مخالف کردار ادا کر رہ...
06/06/2026

ایران کا خاموش دشمن؟
ایران کو صرف اسرائیل سے نہیں، بلکہ اُن منافق دوستوں سے بھی خطرہ ہے جو پسِ پردہ مخالف کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں آذربائیجان، یو اے ای، بحرین، کویت اور عراق شامل ہیں، جہاں موساد کے اڈے اور نیٹ ورکس ایران کے خلاف سرگرمِ عمل بتائے جاتے ہیں۔
عالمی سیاست میں نہ مستقل دوست ہوتے ہیں اور نہ مستقل دشمن، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ ایران کے لیے شاید سب سے بڑا جھٹکا دشمن کی طاقت نہیں، بلکہ دوستوں کی خاموشی اور دوہرا کردار ہے۔

06/06/2026
یہ سڑک محض ایک عام صحرائ راستہ نہیں ہے بلکہ یہ رحیم یار خان کو چولستان کے گہرے صحرا اور وہاں موجود تاریخی قلعوں جیسے قلع...
06/06/2026

یہ سڑک محض ایک عام صحرائ راستہ نہیں ہے بلکہ یہ رحیم یار خان کو چولستان کے گہرے صحرا اور وہاں موجود تاریخی قلعوں جیسے قلعہ بجنوٹ اور نویں کوٹ سے جوڑنے والا ایک اہم ترین بین الاقوامی کوریڈور ہے ابوظہبی کے شاہی خاندان خصوصاً شیخ زاید بن سلطان النہیان اور ان کے خاندان کی یہاں آمد و رفت کی وجہ سے اس سڑک ہمیشہ بہترین حالات میں اور کارپٹڈ رکھا جاتا ہے

نظام عدل پر عدم اعتماد کی ایک خوفناک مثال : آج سے لگ بھگ اٹھارہ سال قبل لاہور میں پیش آیا سچا واقعہ ۔۔۔۔ شاہدرہ کے کسی م...
06/06/2026

نظام عدل پر عدم اعتماد کی ایک خوفناک مثال : آج سے لگ بھگ اٹھارہ سال قبل لاہور میں پیش آیا سچا واقعہ ۔۔۔۔ شاہدرہ کے کسی محلے میں گھر والوں کا لاڈلا ایک نوجوان معمولی جھگڑے پر محلے داروں نے مار ڈالا ، کیس چلا ملزم گرفتار ہوئے اور مرکزی ملزم کو عدالت نے سزا۔ئے موت سنا دی ، مق۔تول کے گھر والون کو چین نہ آیا اور انکی حیرانگی کی تب انتہا نہ رہی جب ثابت شدہ مجرم کے لواحقین اپنے بیٹے یا بھائی کو جیل سے نکالنے کے لیے کچہریوں عدالتوں اور وکیلوں کے پاس جانے لگے اور اپیل پر اپیل ہونے لگی ۔۔ جب مق۔تول پارٹی کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ مجرم کو رہا کروا لیں گے تو اب انہوں نے ایک چال چلی باقاعدہ منصوبے کے تحت ان لوگوں نے ملزم کے گھر والوں کو پیغام بھجوایا کہ ہمارے بیٹے کی اتنی ہی زندگی تھی وہ چلا گیا اللہ کی مرضی مگر اب آپ لوگ سولی پر لٹکے ہو ہم آپ کے بیٹے کو اللہ کی رضا کی خاطر معاف کرنا چاہتے ہیں ۔۔ چنانچہ محلے میں ایک بڑا اکٹھ ہوا اور مق۔تول کے لواحقین نے قران مجید پر ہاتھ رکھ کر کلمہ پڑھ کر اور دعائے خیر کروا کے صلح کر لی ، چند ہفتے گزرے تو قا۔تل رہا ہو گیا ۔۔ جب گھر آیا تو گھر والوں نے اسے ایک دو بزرگوں کے ساتھ مق۔تول کے والدین کے پاس بھیجا کہ انکے پیر پکڑ کر ان سے معافی مانگ آؤ ۔۔ قا۔تل یا معافی کے بعد صلح سے رہائی پانیوالا شخص اس لڑکے کے گھر پہنچا تو وہاں اسکے کئی رشتہ دار موجود تھے سب نے اپنے بھائی بیٹے اور کزن کے قا۔تل کو باندھ کر بٹھا لیا پھر اسکے جسم کے اعضاء ایک ایک کرکے کا۔ٹے گئے اسکی آنکھیں نکالی گئیں اور اس بدقسمت کو اذیت ناک موت سے دوچار کردیا گیا اسکے بعد انہوں نے جیسے لا۔ش کا قیمہ کر ڈالا کوئی حصہ کوئی عضو سلامت نہ چھوڑا اور بوری میں بند یہ انسانی گو۔شت کا ڈھیر دریائے راوی میں بکھیر دیا ۔ بعد ازاں ان پر مقدمہ درج ہوا گرفتار ہوئے مگر لا۔ش کبھی برآمد نہ ہوسکی اگرچہ انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور واضح کہا کہ جب ہمیں یقین ہو گیا یہ کچہریاں عدالتیں ہمارے بیٹے کے خون کا ہمیں انصاف نہیں دے سکیں گی تو پھر ہم نے خود انصاف کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔ اس مقدمہ میں ایک شخص کو سزا۔ئے موت اور دو کو عمر قید ہوئی ۔ سزا۔ئے موت والا چند سال بعد ساتھی قیدیوں اور گھر والوں کے گلے لگ کر ہنستا مسکراتا دوڑ کر تختہ دار پر چڑھا اور جھول گیا ۔۔۔۔

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصلی پورٹریٹ جو پچھلے سال بلجیئم میں  تین ملین یورو  یعنی کوئی 90 کروڑ روپئے کا بکا ہے۔ یہ اس کی ا...
06/06/2026

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصلی پورٹریٹ جو پچھلے سال بلجیئم میں تین ملین یورو یعنی کوئی 90 کروڑ روپئے کا بکا ہے۔
یہ اس کی اصلی شکل تھی۔

افغانستان میں تجارت، فاسسٹ افغان حکمرانوں کی پالیسیاں اور شمالی اقوام کا معاشی حقافغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ...
06/06/2026

افغانستان میں تجارت، فاسسٹ افغان حکمرانوں کی پالیسیاں اور شمالی اقوام کا معاشی حق

افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بناتی ہے۔ اگرچہ وسطی ایشیائی منڈیاں اور تجارتی راستے صدیوں سے موجود رہے ہیں، لیکن بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ ماضی میں افغان ریاست کی تجارتی ترجیحات زیادہ تر ملک کے جنوبی اور مشرقی راستوں، خصوصاً قندھار اور جلال آباد کے ذریعے ہونے والی تجارت پر مرکوز رہیں۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی افغانستان کے وہ علاقے، جو تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے ملحق ہیں، اپنی جغرافیائی اہمیت کے باوجود مطلوبہ معاشی توجہ حاصل نہ کر سکے۔

وسطی ایشیا کی منڈیاں، تجارتی راستے اور معاشی مواقع کوئی نئی چیز نہیں تھے، بلکہ صدیوں سے موجود تھے۔ مسئلہ راستوں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان راستوں کے بارے میں اختیار کی جانے والی سیاسی پالیسیوں کا تھا۔ ماضی کے فاسسٹ پشتون حکمران افغانستان کی تجارت کو زیادہ تر ان راستوں تک محدود رکھنا چاہتے تھے جو پشتون اکثریتی علاقوں، خصوصاً قندھار اور جلال آباد، سے گزرتے تھے تاکہ تجارت اور ٹرانزٹ سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد انہی علاقوں اور قبائل تک محدود رہیں۔

شمالی افغانستان، جو تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، تجارتی اعتبار سے انتہائی اہم خطہ تھا، لیکن چونکہ وہاں پشتون آبادی نہیں تھی، اس لیے شمالی راستوں کی ترقی اور ان کے ذریعے تجارت بڑھانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجتاً تاجک، ازبک اور ہزارہ قومیتیں افغانستان کی ٹرانزٹ معیشت سے وہ حصہ حاصل نہ کر سکیں جس کی وہ جغرافیائی اور تاریخی لحاظ سے حق دار تھیں۔

جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تورخم اور چمن بارڈرز مختلف اوقات میں بند یا محدود ہوئے تو افغانستان کی تجارت کے لیے متبادل راستوں کی ضرورت پیدا ہوئی۔ اس صورتحال میں شیرخان بندر، بلخ، حیرتان اور اسلام قلعہ جیسے شمالی اور مغربی تجارتی راستوں کی اہمیت بڑھ گئی۔ ان راستوں کے فعال ہونے سے تجارت کا ایک حصہ شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہوا، جس کے نتیجے میں تاجک، ازبک اور ہزارہ آبادیوں کو بھی روزگار، سرمایہ کاری، نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں سے فائدہ پہنچنے لگا۔

تاجک و ہزارہ و ازبک و سائر شمالی اقوام پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ تورخم اور چمن کی بندشوں نے غیر ارادی طور پر افغانستان کی تجارت کو متبادل راستوں کی طرف منتقل کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کے نزدیک اگر تمام تجارت ہمیشہ کی طرح صرف جنوبی اور مشرقی راستوں تک محدود رہتی تو شمالی اقوام کو معاشی فوائد میں حصہ ملنے کے امکانات کم رہتے، کیونکہ فاسسٹ پشتون حکمران شمالی قومیتوں کو تجارت اور اقتصاد میں برابر کا حصہ دینے کے قائل نہیں تھے۔

افغانستان کا مستقبل اسی وقت زیادہ مستحکم اور متوازن ہو سکتا ہے جب تجارت، ٹرانزٹ، سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع پورے ملک میں یکساں طور پر تقسیم ہوں۔ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کے تمام سرحدی راستوں کو یکساں اہمیت دی جائے اور تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمان، ایماق، بلوچ، نورستانی اور پشتون سمیت تمام اقوام کو قومی معیشت میں برابر کا شریک تسلیم کیا جائے۔ اقتصادی انصاف اور علاقائی توازن ہی ایک ایسے افغانستان کی بنیاد بن سکتے ہیں جہاں وسائل اور مواقع کسی ایک قوم یا خطے کی اجارہ داری نہ ہوں بلکہ تمام باشندے ان سے مساوی طور پر مستفید ہوں۔

🚨⚠️ کویت میں امریکی فوج کے اسٹریٹجک گڑھ "علی السالم ایئر بیس" پر ایران کا قیامت خیز حملہ، پینٹاگون کے اوسان خطا—مہنگے تر...
06/06/2026

🚨⚠️ کویت میں امریکی فوج کے اسٹریٹجک گڑھ "علی السالم ایئر بیس" پر ایران کا قیامت خیز حملہ، پینٹاگون کے اوسان خطا—مہنگے ترین طیارے اور ڈرونز کے گودام تباہ، کیا خلیج سے امریکی بالادستی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہونے والا ہے؟ 😲

مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے میدانِ جنگ سے ابھرنے والا یہ وہ سب سے کڑک، تیکھا اور سنسنی خیز عسکری سچ ہے جس نے واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک کھلبلی مچا دی ہے!
​جانی! جب خودمختاری کی جنگ سمندروں سے نکل کر براہِ راست ایئر بیسز تک پہنچ جائے، تو پھر عالمی طاقتوں کا تکبر مٹی میں ملتے دیر نہیں لگتی۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، خود صیہونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ کویت میں قائم امریکی فوج کے سب سے حساس اور اہم ترین دفاعی مرکز "علی السالم ایئر بیس....
" (Ali Al Salem Air Base) پر ایرانی فورسز نے ایسا کاری وار کیا ہے جس نے امریکی سیکیورٹی نیٹ ورک کو ہلا کر رکھ دیا ہے! اس تباہ کن حملے کا اصل ہدف بیس کا وہ مخصوص حصہ تھا جہاں پینٹاگون نے اپنے مہنگے ترین لڑاکا طیارے اور ڈرونز ذخیرہ کر رکھے تھے، اور اس ہائی ٹیک اسٹوریج فیسیلٹی پر ہونے والی براہِ راست ضرب نے پورے دفاعی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے!
​جانی! ذرا اس ہولناک اسٹریٹجک نقصان کی مسلسل روانی کو سمجھیے کہ اس کامیاب حملے کی زد میں آ کر متعدد جدید ترین امریکی ڈرونز اور جنگی طیارے یا تو مکمل طور پر خاکستر ہو چکے ہیں یا انہیں شدید ترین نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور انٹیلیجنس کارروائیوں کا سب سے بڑا گڑھ بری طرح ہچکولے کھا رہا ہے! مبصرین کا صاف کہنا ہے کہ کویت جیسے اہم ترین خلیجی ملک کے اندر گھس کر پینٹاگون کے اثاثوں کو یوں سیکنڈوں میں نشانہ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب کوئی بھی امریکی تنصیب محفوظ نہیں رہی....

اور اس سنسنی خیز پیش رفت کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی ہولناک آگ مزید بھڑک اٹھی ہے جو اب امریکی بالادستی کو کھلا چیلنج دے رہی ہے۔ مختصر بات یہ ہے جانی کہ اب زبانی جمع خرچ کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب خالص ملٹری پرفارمنس اور ننگی طاقت کا دور ہے جہاں ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی ہر جارحیت کا جواب منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں کی رفتار سے دینے کی بھرپور عسکری صلاحیت رکھتا ہے! 🇮🇷💥🇺🇸
​.
​💬 کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر ایران کی یہ تاریخی اور کڑک ضرب مشرقِ وسطیٰ سے امریکی نیٹ ورک کے خاتمے کا پیش خیمہ ہے؟ پینٹاگون کے اس ہولناک مالی اور عسکری نقصان صدیوں تک یاد رکھا جائے گا

05/06/2026

تحریر
#شازل
کوئی خاتون جب اپنے میکے والوں ، اپنے محبوب کے کہنے پر یا پھر اپنی انا میں آ کر عدالت کے ذریعے شوہر سے خلع لے لیتی ہے تو کچھ ہی عرصے بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے لیکن اس وقت وہ اپنے سارے پتے کھیل چکی ہوتی ہے اسان الفاظ میں کہیں تو کھیل ختم ہو چکا ہوتا ہے تب پچھتاوے اور ملال کے سوا کچھ نہیں بچتا

کینیڈا کے علاقے مونٹریال میں مقیم جاسم مسیح ایک واقع بیان کرتے ہوئے بتاتے کہ
پاکستان میں میرا تعلق کوئیٹہ سے تھا میری فیملی کے کچھ لوگ آزادی کے وقت بیرون ملک چلے گئے جو پیچھے رہ گئیے انہوں نے بھی اپنے کاروبار بنا لئیے میرا خاندان بھی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ایک تھا ہم نے خشک میوہ جات کا کاروبار کیا اس سے بہت پیسہ کمایا ایک وقت تھا کہ پاکستان کے کونے کونے میں ہماری سپلائی جاتی تھی لیکن پھر بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو گئے خاص طور پر مشرف دور میں جب حالات بگڑ گئے تو ہمارا خاندان بھی بیرون ملک منتقل ہو گیا پہلے ہم سب انگلینڈ شفٹ ہوئے لیکن پھر میں وہاں سے کینیڈا اگیا یہاں اکر میں نے محنت مشقت شروع کی اور پھر اپنا کاروبار بنا لیا اج میں بہت اچھا کما رہا ہوں اور ایک مطمئن زندگی گزار رہا ہوں
میں یہاں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ 2010 میں مجھ سے میری بہن کا رابطہ ہوا مجھ سے میرے ایک عزیز کا بھی رابطہ ہوا جو تب پاکستان میں ہی تھے انہوں نے بتایا کہ ان کے پڑوس میں موجود فیملی کے سربراہ نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا ھے وجہ صرف یہ تھی کہ بیٹی نے بغیر اجازت کے روٹی کھائی تھی
میرے لیے اس بات پر یقین کرنا ممکن نہیں تھا اس سے بڑھ کر حیرت کا جھٹکا یہ لگا کہ نہ تو اس بچے کی موت کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی اس گھر کا سربراہ بچی کی تدفین کے لیے اخراجات کرنے پر راضی تھا وہ اپنی بیوی سے کہتا تھا کہ اگر اسے دفنانا بھی ہے تو اس کی موت پر انے والے اخراجات تم نے خود اٹھانے ہیں یا پھر اسے یہیں گڑھا کھود کے دفن کر دو میں اس کے کفن دفن کا انتظام نہیں کروں گا
ان حالات کو سن کر میں حیران تھا کہ ایک باپ اپنی اولاد کے بارے میں یا ایک گھر کا سربراہ اپنے خاندان کے بارے میں اتنا پتھر دل کیسے ہو سکتا ہے پھر اسلام جس کے بارے میں ہم نے سن رکھا ہے کہ وہاں انسان تو انسان جانوروں تک کے حقوق موجود ہیں اس مذہب کے پیروکار اس حد تک کیسے گر سکتے ہیں بہرحال میں نے اس بارے میں تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ

جس بچی کو قتل کیا گیا تھا وہ قاتل کی سگی اولاد نہیں تھی بلکہ خاتون نے برسوں پہلے اپنے ہی والدین کے کہنے پر اپنے پہلے شوہر سے طلاق لی تھی وہ بچی اس پہلے شوہر کی بیٹی تھی عدالت کے ذریعے بچی کو کسٹڈی میں لیا اور اس کے نان نفقہ کے نام پر باقاعدہ ہر ماہ خرچ لیتی رہی اور وہ خرچ اپنے موجودہ شوہر اور موجودہ بچوں پر کرتی رہ گئی نہ تو بچی کی تعلیم پر کچھ لگایا اور نہ ہی بچی کو کوئی خاص تربیت دی گئی بلکہ اس بچی کی گھر میں حالت صرف ایک ملازمہ کی سی تھی اس کو بنیادی اسلامی تعلیم یعنی قران پاک تک نہیں پڑھایا گیا تھا میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ ایک باپ سے اس کی اولاد کی تعلیم و تربیت کے نام پر اور نان و نفقہ کے نام پر ہر ماہ باقاعدہ خرچ لیا جا رہا ہے اور بچی کو محض نماز اور قران پاک تک کی تعلیم نہیں دی گئی اور اج اس کی صرف اس لیے جان لے لی گئی ہے کہ اس نے بغیر اجازت کے روٹی کھا لی تھی خیر جب یہ ساری بات کھل کر سامنے اگئی تو میں نے اپنے ان عزیزوں سے کہا کہ اس خاتون سے کہیں اگر وہ قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتی ہو تو بھی ہم اس کو سپورٹ کریں گے اگر اس کا شوہر بچی کی تدفین کے اخراجات برداشت نہیں کرتا تو ہم برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں بچی کو اسلامی طریقوں کے مطابق دفن کیا جائے میرے عزیزوں میں سے ایک خاتون چوری چھپے جا کر اس میں مر جانے والی بچی کی والدہ سے ملی اور اس نے میرا پیغام پہنچایا لیکن اس نے احتیاط اور تدبر سے کام لیتے ہوئے قانونی کاروائی کا مشورہ دینے سے گریز کیا خاتون نے میری مدد کی پیشکش کو قبول کیا یوں اس بچی کے کفن دفن اور آنے والے مہمانوں کے کھانے کا خرچہ میں نے برداشت کیا

مگر اس واقعہ کے بعد میں نے اسلام کے بارے میں اپنے طور پر تحقیق کی یقین مانیں مجھے کہیں بھی یہ نظر نہیں ایا کہ طلاق کی صورت میں ایک باپ سے اس کی اولاد چھین لی جائے نہ ہی یہ نظر ایا کہ نان و نفقہ کے نام پہ سابقہ شوہر سے اخراجات لیے جائیں اور اس کی اولاد پر خرچ نہ کیا جائے میں نے اسلام کو جب قریب سے دیکھا تو میں اسلام قبول کرنا چاہتا تھا لیکن پھر جب میں نے اپنے ملک پاکستان کے حالات دیکھے تو نہ جانے کیوں میں نے فیصلہ بدل لیا میں یہ بات اج بھی کہہ رہا ہوں کہ جس دن زندگی میں مجھے کوئی با عمل مسلمان ملا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص اسلام کے متعین کردہ راستوں پر چلتا ہے اور شرعی حدود کو پامال نہیں کرتا اس دن میں اسلام قبول کر لوں گا
مگر میں اس بات پر اواز اٹھانا ضرور چاہتا ہوں کہ اولاد کا سب سے بڑا محافظ اس کا باپ ہوتا ہے خاص طور پر بیٹیوں کو کسی بھی صورت میں ان کے سگے باپ سے جدا نہیں کرنا چاہیے ورنہ ان کا انجام اس انتقال کر جانے والی بچی سے مختلف نہیں ہوتا

اختتام

یو ای اے ایک خطرناک ریاست بن چکی ھے بدنام زمانہ ھارپ ٹیکنالوجی یہی نصب تھی جسے ایران نے تباہ کردیا تھا جو  دجالی موسمیات...
05/06/2026

یو ای اے ایک خطرناک ریاست بن چکی ھے بدنام زمانہ ھارپ ٹیکنالوجی یہی نصب تھی جسے ایران نے تباہ کردیا تھا جو دجالی موسمیاتی کنٹرول سسٹم تھا۔۔اسے مسلم ممالک کوتباھی سے بچانے والے ایران سے شدید بغض ھوچکا ھے ۔۔۔یہی
(Harp redeo technalogy)ھارپ ٹیکنالوجی سے ایران سات سال خشک سالی کا شکار رھا ھے۔۔اسکے تباہ ھوتے ھی ایران پاکستان میں بارشیں معمول پر آگئیں جو کہ مصنوعی طور پر روکی گئیں تھیں ۔۔۔بارشیں بحال ھوتے ھی ایران کے پہاڑ برف سے بھر گئے اسکے اسی گاوں پانی کے قلت کا شکار تھے ۔۔اور پاکستان میں یہی دجالی ٹیکنالوجی استعمال کیجارھی تھی۔۔۔گلاسکو امریکہ کے بعد یو اے ای میں نصب تباہ کردی گئی تھی۔۔ایران نے دو میزیلز مارے تھے ایک انٹرسیپٹ ھوگیا تھا اور ایک سے یہ تباہ کردیا گیا تھا۔۔لیکن یہ پھر لگایا جائیگا تاکہ قحط سالی زلزلے سیلابوں سے غلام ملکوں پر حکومت کیجاسکے۔۔۔ایک حدیث شریف کیمطابق دجال جہاں چاھے گا پانی برسائیگا اور جو اسے نہیں مانے گا وہاں قحط سالی اور بھوک لائیگا۔۔۔۔لگتا ھے فرمان نبی مکرم صل کے پورا ھونیکا وقت قریب تر ھے دنیا اسی فرامین کو ہورا کرنے جت چکی ھے۔یعنی دجال کا خروج قریب ھی ھے اور موجودہ ملکی اور غیرملکی علامات اسی طرف اشارہ کررھے ھیں ۔۔۔اخری رکاوٹ ایران کی ھے جیسے ھی یہ رکاوٹ ھٹتی ھے دجال کا خروج ممکن لگتا ھے یعنی شیطان کو دنیا کا ھولڈ مل جائیگا۔۔۔گریٹر اسرائیل کا قیام اور ٹرمپ کا زھنی توازن یہی اشارہ کررھا ھے۔دنیا تیار رھے اور مسلمان اپنےایمانوں کی حفاظت کریں ۔اللہ ھی وحدہ لاشریک ھے اور وہ وھی رب العالمین اور خالق اور مالک ھے۔
منقول

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Novels:

Share