28/09/2025
فیس بُک پر ایک گائناکالوجسٹ لیڈی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے خلاف پوسٹس دیکھیں۔۔۔خود تو میں جانتی نہیں تھی مگر اُن پوسٹس کے مطابق مخالفین کا کہنا تھا کہ وہ کوئی ایسی ڈاکٹر ہیں جو لبرلز کے غلط ایجنڈے پر ہیں اور چونکہ خود گائنی ہیں اس لیے عورتوں کو آپریشن کے مشورے دیتی ہیں اور سخت ترین مخالفت یہ تھی کہ عورتوں کو بچے پیدا کرنے سے روکتی ہیں۔۔۔خیر یہ میری ذاتی رائے نہیں تھی بلکہ اُن پوسٹس کا خلاصہ تھا۔۔۔ویسے تو موم بتی مافیا سے مجھے خود بھی کافی اختلافات ہیں لیکن ان خاتون کو میں نہیں جانتی تھی۔۔۔ معلوم نہیں کہ یہ واقعی ایسی ہیں بھی یا نہیں
فیس بُک کے الگورتھم کی وجہ سے اچانک اُسی خاتون ڈاکٹر کی پوسٹ مجھے نظر آگئی جس کا کیپشن ہی ایسا تھا کہ مجھے مجبوراً وہ پوسٹ پڑھنی پڑی 😅۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے اسکرین شاٹ لگا رکھے تھے اور ساتھ لکھا تھا کہ "جس طرح میری 35 برس کے تجربے اور ڈاکٹری کی ڈگری کا تیا پانچہ کیا ہے آپ لوگوں کی جہالت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی"۔۔۔جب اسکرین شاٹ پڑھے تو علم ہوا کہ اُن کی خواتین کے امراض پر کوئی پوسٹ تھی شاید، جس پر نیم حکیم خطرۂ جان گھریلو ٹوٹکوں کی بھرمار کیے ہوئے تھے، جن میں مرد بھی شامل تھے۔۔۔😐😐
ایک چوہدری صاحب نے تو انتہا کر دی، لکھا تھا: "آپ ڈاکٹر ہیں اِس لیے مرض کی وجہ نہیں جان پائیں"۔ 😅😅مطلب کہ وہ ڈاکٹر، پڑھی لکھی اسپیشلسٹ خاتون ہیں جس معاملے میں وہ مرض کی وجہ نہیں پہچانتیں، عام انسان، وہ بھی مرد، عورتوں کے امراض جانتے ہیں 😂😂۔۔۔
خیر کچھ مزید پوسٹس پڑھیں تو سمجھ آیا کہ اصل میں ڈاکٹر صاحبہ لوگوں کو آگاہی دینے کی کوشش کر رہی ہیں خواتین کے مسائل کے بارے میں جن کی واقعی ہمارے مُلک میں شدید ضرورت ہے۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ موصوفہ کا اندازِ بیان ایسا ہے کہ کچھ لوگوں کو غصہ آجاتا ہے حالانکہ بات کا مقصد بالکل بھی غلط نہیں ہوتا، لیکن اُن کا مخاطب کرنے کا طریقہ دیسی لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ پھر کچھ تعلیم و شعور کی کمی بھی وجہ بنتی ہے جو سادہ سی بات کو سمجھ نہیں پاتے۔
جو سمجھ جاتے ہیں وہ ہنستے ہیں اور بات کو مانتے ہیں، اور جو نہیں سمجھ پاتے وہ مخالفت کرتے ہیں۔
میری ذاتی رائے اس پر یہی ہے کہ اگر کوئی اچھی بات یا تعلیم و شعور کی بات کرے تو اُس کو قبول کرنا چاہیے یہ دیکھے بغیر کہ وہ کر کون رہا ہے... چلو مخالفت ہو بھی کسی بات پر تو اپنی جگہ لیکن حق بات دشمن بھی کرے تو قبول کرنا انسان کا فرض ہے🤷🏻🤷🏻