08/08/2026
ڈیڑھ سال تک ق.ت.ل کا راز چھپا رہا ، پھر ایک روز قا.تل خود چیخ پڑا ، ہاں میں نے وہ ق.ت.ل کیا تھا ۔۔۔۔۔ 30 سالہ خاتون کی اپنے 17 سالہ ملازم سے معاشقے کی خوفناک داستان ۔۔۔۔ 2023 میں اس خاتون کا شوہر اپنا ذاتی جنرل سٹور چلاتا تھا ، دکان کے اوپر اسکی فیملی رہائش تھی ، تصویر میں نظر آنیوالا لڑکا تب 16 سال کا تھا اور دن بھر مختلف کام چائے کھانا پانی لینے یا برتن دینے اوپر نیچے آتا جاتا رہتا ۔ اسی آمدورفت میں اسکے اپنے مالک کی بیوی سے نا.جائز تعلقات بن گئے ، دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے ، ظاہر ہے یہ جسمانی پیار تھا ۔ ڈیڑھ ماہ تک اس لڑکے اور خاتون کا سلسلہ کامیابی سے چلتا رہا ۔ اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ خاتون کا بھائی اپنے بہنوئی کی جائیداد ہتھیانا چاہتا تھا اسے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی جو اس خاتون کا شوہر دینے سے انکاری تھا ، بہن بھائی نے پھر ایک پروگرام بنایا ، بہن کی اپنی راہ صاف ہورہی تھی بھائی کو رقم ملنے کی امید تھی ۔ چنانچہ اس 16 ،17 سالہ ملازم نے خاتون کے بھائی کے ساتھ ملکر پلان بنایا ۔ وقوعہ کے روز خاتون نے چائے میں نشا آور گو.لیاں ملائیں ، ملازم چائے نیچے لے گیا جب چائے پینے کے بعد مالک دکان بے ہوش ہو گیا تو ملازم اور خاتون کے بھائی نے دکان میں ہی منہ پر تکیہ رکھ کر دکاندار کو ما.ر ڈالا اور شور مچا دیا کہ اسکے مالک کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ خاتون بھی اوپر سے نیچے دکان میں آگئی اس نے واویلا اور بین ڈالنا شروع کیے ، رشتہ دار قریب رہتے تھے وہ بھی آگئے ، مق.تول کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سب نے ظاہر کیا کہ دل کا مریض تھا اور ہارٹ اٹیک ہوا ہے ، ڈاکٹروں نے بھی توجہ نہ دی نہ پولیس کو کسی قسم کا شک ہوا چنانچہ یہ لوگ مق.تول کو گھر لے آئے عزت و تکریم اور محبتوں کے ساتھ گھر کے مالک کو جنازے کی صورت میں رخصت کیا گیا اور اسکی تدفین ہو گئی ، اب تمام فیصلوں میں خاتون خود مختار تھی اس نے ایک بڑی رقم بھائی کو دے دی اور اس سے راز کو ہمیشہ راز رکھنے کو کہا ، اپنے خفیہ محبوب کو اس نے کل وقتی طور پر پاس رکھ لیا سارا دن وہ نیچے جنرل سٹور چلاتا اور رات کو اپنی مالکن کی بانہوں میں سوجاتا ، ایک بار خاتون کے بھائی نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو فارغ کردو ، تمہارے پانچ بچے ہیں اسکا گھر میں تمہارے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں لیکن خاتون نے دھڑلے سے کہا میرے معاملات میں بہتر جانتی ہوں تم اپنے کام سے کام رکھو ، ظاہر ہے بھائی کانا ہو چکا تھا اس لیے خاموش ہو گیا ۔۔۔ یوں ڈیڑھ سال گزر گیا ۔۔ لیکن مکافات عمل بھی ہونا تھا ، خاتون کے اس من پسند ملازم کو چھوٹی موٹی بدمعاشی اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے کا شوق تھا اس نے یونہی اپنی ہوائی فا۔ئیرنگ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی ، پولیس نے اسے ٹریس کرکے گرفتار کیا اور جب رات کے وقت اس 18 سالہ نوجوان کوتھانے کے ڈرائنگ روم کی سیر کروائی گئی تو اس نے اپنا کھاتہ خود کھول کر پولیس کے سامنے رکھ دیا ، پولیس افسر نے پوچھا کسی کو آج تک فا۔ئیر مارا ہے ؟ تو یہ چیخ پڑا نہیں میں نے فا۔ئیر کبھی کسی کو نہیں مارا بس ایک بندہ کے منہ پر تکیہ رکھا تھا ۔۔۔۔ یوں اس بے گناہ شخص کے ق۔ت۔ل کی واردات پولیس کے علم میں آئی اور اسکے ق۔ت۔ل کا مقدمہ ڈیڑھ سال بعد درج ہوا جس میں گرفتار لڑکے کے انکشافات پر ملزمہ خاتون اسکے بھائی اور واردات میں شامل ایک اور لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا ۔۔۔۔ گرفتاری کے بعد خاتون کا موقف تھا کہ اس نے غلط کام کیا ہے تب پتہ نہیں چلا مت ماری گئی تھی اب غلطی کا احساس ہے لیکن میں معافی نہیں چاہتی سزا چاہتی ہوں اور میرے ساتھ شامل سب ملزمان کو سزا ملنی چاہیے ۔۔۔ پولیس نے اس کیس کے تمام ملزمان کو چالان کرکے عدالت پیش کیا جہاں سے انہیں جیل بھجوا دیا گیا تھا ۔ اس کیس کا عدالت میں حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔۔۔۔