Urdu Novels

Urdu Novels - is the 1st and largest online free Urdu novels books site and can download in PDF form

A Site Where you can Read and Download free online Best Urdu Novels in PDF.

ڈیڑھ سال تک ق.ت.ل کا راز چھپا رہا ، پھر ایک روز قا.تل خود چیخ پڑا ، ہاں میں نے وہ ق.ت.ل کیا تھا ۔۔۔۔۔ 30 سالہ خاتون کی ا...
08/08/2026

ڈیڑھ سال تک ق.ت.ل کا راز چھپا رہا ، پھر ایک روز قا.تل خود چیخ پڑا ، ہاں میں نے وہ ق.ت.ل کیا تھا ۔۔۔۔۔ 30 سالہ خاتون کی اپنے 17 سالہ ملازم سے معاشقے کی خوفناک داستان ۔۔۔۔ 2023 میں اس خاتون کا شوہر اپنا ذاتی جنرل سٹور چلاتا تھا ، دکان کے اوپر اسکی فیملی رہائش تھی ، تصویر میں نظر آنیوالا لڑکا تب 16 سال کا تھا اور دن بھر مختلف کام چائے کھانا پانی لینے یا برتن دینے اوپر نیچے آتا جاتا رہتا ۔ اسی آمدورفت میں اسکے اپنے مالک کی بیوی سے نا.جائز تعلقات بن گئے ، دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے ، ظاہر ہے یہ جسمانی پیار تھا ۔ ڈیڑھ ماہ تک اس لڑکے اور خاتون کا سلسلہ کامیابی سے چلتا رہا ۔ اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ خاتون کا بھائی اپنے بہنوئی کی جائیداد ہتھیانا چاہتا تھا اسے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی جو اس خاتون کا شوہر دینے سے انکاری تھا ، بہن بھائی نے پھر ایک پروگرام بنایا ، بہن کی اپنی راہ صاف ہورہی تھی بھائی کو رقم ملنے کی امید تھی ۔ چنانچہ اس 16 ،17 سالہ ملازم نے خاتون کے بھائی کے ساتھ ملکر پلان بنایا ۔ وقوعہ کے روز خاتون نے چائے میں نشا آور گو.لیاں ملائیں ، ملازم چائے نیچے لے گیا جب چائے پینے کے بعد مالک دکان بے ہوش ہو گیا تو ملازم اور خاتون کے بھائی نے دکان میں ہی منہ پر تکیہ رکھ کر دکاندار کو ما.ر ڈالا اور شور مچا دیا کہ اسکے مالک کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ خاتون بھی اوپر سے نیچے دکان میں آگئی اس نے واویلا اور بین ڈالنا شروع کیے ، رشتہ دار قریب رہتے تھے وہ بھی آگئے ، مق.تول کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سب نے ظاہر کیا کہ دل کا مریض تھا اور ہارٹ اٹیک ہوا ہے ، ڈاکٹروں نے بھی توجہ نہ دی نہ پولیس کو کسی قسم کا شک ہوا چنانچہ یہ لوگ مق.تول کو گھر لے آئے عزت و تکریم اور محبتوں کے ساتھ گھر کے مالک کو جنازے کی صورت میں رخصت کیا گیا اور اسکی تدفین ہو گئی ، اب تمام فیصلوں میں خاتون خود مختار تھی اس نے ایک بڑی رقم بھائی کو دے دی اور اس سے راز کو ہمیشہ راز رکھنے کو کہا ، اپنے خفیہ محبوب کو اس نے کل وقتی طور پر پاس رکھ لیا سارا دن وہ نیچے جنرل سٹور چلاتا اور رات کو اپنی مالکن کی بانہوں میں سوجاتا ، ایک بار خاتون کے بھائی نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو فارغ کردو ، تمہارے پانچ بچے ہیں اسکا گھر میں تمہارے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں لیکن خاتون نے دھڑلے سے کہا میرے معاملات میں بہتر جانتی ہوں تم اپنے کام سے کام رکھو ، ظاہر ہے بھائی کانا ہو چکا تھا اس لیے خاموش ہو گیا ۔۔۔ یوں ڈیڑھ سال گزر گیا ۔۔ لیکن مکافات عمل بھی ہونا تھا ، خاتون کے اس من پسند ملازم کو چھوٹی موٹی بدمعاشی اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے کا شوق تھا اس نے یونہی اپنی ہوائی فا۔ئیرنگ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دی ، پولیس نے اسے ٹریس کرکے گرفتار کیا اور جب رات کے وقت اس 18 سالہ نوجوان کوتھانے کے ڈرائنگ روم کی سیر کروائی گئی تو اس نے اپنا کھاتہ خود کھول کر پولیس کے سامنے رکھ دیا ، پولیس افسر نے پوچھا کسی کو آج تک فا۔ئیر مارا ہے ؟ تو یہ چیخ پڑا نہیں میں نے فا۔ئیر کبھی کسی کو نہیں مارا بس ایک بندہ کے منہ پر تکیہ رکھا تھا ۔۔۔۔ یوں اس بے گناہ شخص کے ق۔ت۔ل کی واردات پولیس کے علم میں آئی اور اسکے ق۔ت۔ل کا مقدمہ ڈیڑھ سال بعد درج ہوا جس میں گرفتار لڑکے کے انکشافات پر ملزمہ خاتون اسکے بھائی اور واردات میں شامل ایک اور لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا ۔۔۔۔ گرفتاری کے بعد خاتون کا موقف تھا کہ اس نے غلط کام کیا ہے تب پتہ نہیں چلا مت ماری گئی تھی اب غلطی کا احساس ہے لیکن میں معافی نہیں چاہتی سزا چاہتی ہوں اور میرے ساتھ شامل سب ملزمان کو سزا ملنی چاہیے ۔۔۔ پولیس نے اس کیس کے تمام ملزمان کو چالان کرکے عدالت پیش کیا جہاں سے انہیں جیل بھجوا دیا گیا تھا ۔ اس کیس کا عدالت میں حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔۔۔۔

07/08/2026

پوچھا گیا الفاظ کیا کر سکتے ہیں
جواب ایا مائل بھی قائل بھی اور گھائل بھی, 🙂

07/08/2026

مدھم سا پکارو تو سہی میرا نام ❤️

07/08/2026

زندگی میں ایک دوست ایسا رکھو جو دلاسہ نہیں ،چپ کر آپ کو سنے 🥀

🌴 ٹارزن اور گمشدہ بادشاہ کا آخری راز 🌴افریقہ کے جنگلوں میں ایک ایسا پہاڑ تھا جسے "پتھر کا دیو" کہا جاتا تھا۔ سینکڑوں سال...
07/08/2026

🌴 ٹارزن اور گمشدہ بادشاہ کا آخری راز 🌴
افریقہ کے جنگلوں میں ایک ایسا پہاڑ تھا جسے "پتھر کا دیو" کہا جاتا تھا۔ سینکڑوں سالوں سے کوئی انسان اس کی چوٹی تک نہیں پہنچ سکا تھا، کیونکہ جو بھی اوپر گیا، وہ کبھی واپس نہیں آیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ ہر چند دن بعد رات کے وقت پہاڑ کی چوٹی پر آگ کی ایک بڑی لَو روشن ہوتی، مگر وہاں کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مقامی قبائل اسے کسی بھوت یا جنات کا کام سمجھتے تھے، اس لیے سب اس جگہ سے دور رہتے تھے۔
ایک دن ٹارزن کو جنگل میں ایک زخمی بوڑھا شخص ملا، جس کے کپڑے کسی عام شکاری جیسے نہیں بلکہ کسی قدیم بادشاہ کے محافظوں جیسے تھے۔ اس کے ہاتھ میں سونے کا ایک عجیب نقشہ تھا۔ مرتے مرتے اس نے صرف اتنا کہا، "بادشاہ ابھی زندہ ہے... لیکن اگر آج رات سے پہلے نہ پہنچے... تو سب کچھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا..." یہ کہہ کر اس کی سانس ٹوٹ گئی۔
ٹارزن نے نقشہ کھولا تو اس پر جنگل کے ایسے راستے بنے ہوئے تھے جو آج تک کسی نے نہیں دیکھے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ نقشے میں کہیں خزانے کا ذکر نہیں تھا، بلکہ صرف ایک جملہ لکھا تھا: **"جو لالچ میں آئے گا، وہ کبھی واپس نہیں جائے گا۔"** ٹارزن نے فوراً فیصلہ کیا کہ اسے آج ہی اس پراسرار پہاڑ تک پہنچنا ہوگا۔
جیسے ہی سورج غروب ہونے لگا، ٹارزن اور اس کا بندر دوست نقشے کے مطابق پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے۔ کئی گھنٹے چلنے کے بعد وہ ایک بہت بڑے پتھریلے دروازے کے سامنے پہنچے۔ دروازہ خود بخود آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ اندر مکمل خاموشی تھی... نہ پرندوں کی آواز، نہ ہوا کی سرسراہٹ۔ صرف دور اندھیرے میں ایک بوڑھے انسان کی آواز گونجی...
"آخرکار... کوئی تو آ ہی گیا..."
ٹارزن نے مشعل روشن کی اور آہستہ آہستہ غار کے اندر قدم رکھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، دیواروں پر بنی ہزاروں سال پرانی تصویریں سامنے آنے لگیں۔ ان میں ایک عظیم بادشاہ، اس کے سپاہی اور ایک عجیب سنہری تخت دکھایا گیا تھا۔ مگر آخری تصویر سب سے زیادہ خوفناک تھی۔ اس میں پورا محل آگ میں جل رہا تھا، جبکہ بادشاہ اپنے ہی سپہ سالار کے ہاتھوں دھوکا کھا رہا تھا۔
اچانک غار کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔ بندر دوست گھبرا کر ٹارزن کے کندھے پر چڑھ گیا۔ اسی لمحے اندھیرے سے وہی بوڑھی آواز دوبارہ گونجی، "اگر واپس جانا چاہتے ہو... تو تین آزمائشیں مکمل کرنا ہوں گی۔ ایک بھی غلطی ہوئی تو تم ہمیشہ کے لیے یہی دفن ہو جاؤ گے۔"
اتنے میں پتھر کی زمین ہلنے لگی۔ سامنے کی دیوار آہستہ آہستہ کھلی اور اس کے پیچھے ایک لمبا راستہ ظاہر ہوا۔ راستے کے دونوں طرف سینکڑوں پتھر کے سپاہی کھڑے تھے، ہاتھوں میں تلواریں لیے، جیسے کسی بھی لمحے زندہ ہو جائیں گے۔ ٹارزن نے جیسے ہی پہلا قدم رکھا، تمام سپاہیوں کی آنکھوں میں سرخ روشنی جگمگا اٹھی، اور ان کے ہاتھوں کی تلواریں آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگیں۔
ٹارزن فوراً سمجھ گیا کہ یہ کوئی عام جنگ نہیں، بلکہ عقل، ہمت اور صبر کا امتحان ہے۔ اس نے نقشے پر آخری بار نظر ڈالی تو نیچے ایک بہت چھوٹا سا جملہ لکھا تھا، جو پہلے اس کی نظر سے اوجھل رہا تھا:
**"پہلی آزمائش میں دشمن سے نہیں... اپنے خوف سے لڑنا ہوگا۔"**
اسی لمحے پورا راستہ زور سے کانپا، اور پتھر کے تمام سپاہی ایک ساتھ ٹارزن کی طرف بڑھنے لگے...
ٹارزن نے تلوار نکالنے کے بجائے ایک لمحے کے لیے اپنی نظریں بند کر لیں۔ اسے نقشے پر لکھا جملہ یاد آیا، "پہلی آزمائش میں دشمن سے نہیں... اپنے خوف سے لڑنا ہوگا۔" اس نے جیسے ہی دوبارہ آنکھیں کھولیں، حیرت انگیز منظر اس کے سامنے تھا۔ پتھر کے سپاہی اس پر حملہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ ہر سپاہی اس کی زندگی کا ایک خوفناک لمحہ بن چکا تھا۔
ایک سپاہی کی شکل اس کے بچپن کے دشمن جیسی تھی، دوسرے کی آنکھوں میں آگ تھی، تیسرے کے ہاتھ میں اس کے والد کا ٹوٹا ہوا نیزہ تھا۔ اچانک پورا ہال چیخوں سے گونج اٹھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ماضی کے تمام خوف ایک ساتھ زندہ ہو گئے ہوں۔ بندر دوست گھبرا کر ایک ستون کے پیچھے چھپ گیا، مگر ٹارزن نے ہمت نہ ہاری۔ وہ جان گیا کہ اگر اس نے حملہ کیا تو وہ ہمیشہ کے لیے اسی قید میں پھنس جائے گا۔
اس نے اپنا نیزہ زمین پر رکھ دیا اور بغیر کسی خوف کے سیدھا آگے بڑھنے لگا۔ جیسے ہی وہ پہلے پتھر کے سپاہی کے قریب پہنچا، وہ دھوئیں میں بدل کر غائب ہو گیا۔ پھر دوسرا... پھر تیسرا... چند ہی لمحوں میں پورا لشکر ایک ایک کر کے ختم ہونے لگا۔ آخر میں پورا ہال خاموش ہو گیا، اور سامنے کی دیوار خود بخود کھل گئی۔
دوسرے کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹارزن کی سانس رک گئی۔ درمیان میں ایک عظیم سنہری تخت رکھا تھا، لیکن اس پر کوئی بادشاہ نہیں بیٹھا تھا۔ تخت کے پیچھے زنجیروں میں جکڑا ہوا ایک سفید بالوں والا بوڑھا شخص کھڑا تھا، جس کی آنکھوں میں برسوں کی تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے سر اٹھایا، ٹارزن کی طرف دیکھا اور کمزور آواز میں بولا:
"میں اس سلطنت کا بادشاہ نہیں... میں وہ غدار سپہ سالار ہوں جس نے اپنے بادشاہ کو دھوکا دیا تھا۔ دو سو سال سے یہی قید میری سزا ہے... لیکن اصل بادشاہ ابھی بھی زندہ ہے... اور وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے..."
یہ سنتے ہی تخت کے نیچے سے پوری زمین زور زور سے ہلنے لگی، اور ایک خفیہ زینہ آہستہ آہستہ نیچے کی تاریکی میں اترنے لگا...
ٹارزن نے مشعل مضبوطی سے پکڑی اور خفیہ زینے سے نیچے اترنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ ہوا ٹھنڈی ہوتی جا رہی تھی۔ اچانک زینہ ختم ہوا اور وہ ایک وسیع زیرِ زمین شہر میں پہنچ گیا۔ وہاں سونے کے محلات یا خزانے نہیں تھے، بلکہ سینکڑوں لوگ خاموشی سے رہ رہے تھے۔ ان کے لباس قدیم تھے، مگر چہروں پر خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے ٹارزن کو دیکھا، سب ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔
اسی وقت ایک بلند دروازہ آہستہ آہستہ کھلا۔ اندر ایک بوڑھا مگر باوقار شخص سادہ لباس میں تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر کوئی تاج نہیں تھا، مگر اس کی شخصیت شاہانہ تھی۔ وہ مسکرایا اور بولا، "میں ہی اس گمشدہ سلطنت کا اصل بادشاہ ہوں۔ دو سو سال پہلے میرے سب سے قابل اعتماد سپہ سالار نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، مگر میرے وفادار سپاہیوں نے مجھے یہاں چھپا دیا۔ میں نے اپنی قوم کو بچانے کے لیے دنیا سے خود کو غائب کر دیا، لیکن اب میری عمر ختم ہو رہی ہے، اور میری رعایا کو ایک محافظ چاہیے... خزانہ نہیں۔"
اتنے میں پورے شہر میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ایک نوجوان سپاہی دوڑتا ہوا آیا اور گھبرا کر بولا، "بادشاہ سلامت! وہ لوگ آ گئے ہیں... انہیں خفیہ راستہ مل گیا ہے!" ٹارزن فوراً دروازے کی طرف لپکا۔ باہر درجنوں خزانہ خور شکاری بارود، رائفلوں اور مشعلوں کے ساتھ شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ انہیں صرف سونا چاہیے تھا، اور وہ اس کے لیے پورے شہر کو تباہ کرنے پر تیار تھے۔
ٹارزن نے فوراً شہر والوں کو لڑنے سے روک دیا۔ اس نے سب کو ایک خفیہ سرنگ سے محفوظ مقام پر بھیجا، جبکہ وہ خود چند نوجوانوں کے ساتھ شہر کے بڑے آبی دروازے تک پہنچا۔ جیسے ہی شکاری محل کے قریب آئے، ٹارزن نے ایک قدیم پتھر کا لیور پوری طاقت سے کھینچ دیا۔ اگلے ہی لمحے پہاڑ کے اندر جمع صدیوں پرانا پانی خوفناک سیلاب کی صورت میں شکاریوں پر ٹوٹ پڑا۔ ان کے ہتھیار بہہ گئے، بارود بھیگ گیا اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلے۔ ایک بھی گولی چلائے بغیر جنگ ختم ہو گئی۔
صبح کی پہلی کرن کے ساتھ بادشاہ نے ٹارزن کا ہاتھ تھاما اور کہا، "تم نے ثابت کر دیا کہ اصل ہیرو وہ نہیں جو خزانہ جیتے، بلکہ وہ ہے جو لوگوں کی زندگیاں بچائے۔" یہ کہہ کر اس نے اپنا شاہی نشان ٹارزن کے حوالے کیا، مگر ٹارزن نے مسکرا کر وہ نشان بادشاہ کے سب سے بہادر نوجوان محافظ کو دے دیا اور بولا، "ہر قوم کا محافظ اسی قوم میں ہونا چاہیے۔"
ٹارزن خاموشی سے اپنے بندر دوست کے ساتھ غار سے باہر نکل آیا۔ جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پورا پتھریلا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا، جیسے وہاں کبھی کوئی شہر تھا ہی نہیں۔ جنگل میں صرف ہوا کی سرسراہٹ باقی تھی... اور ٹارزن کے چہرے پر ایک مسکراہٹ، کیونکہ اس نے اس بار کسی جانور کو نہیں، بلکہ ایک پوری گمشدہ سلطنت کو بچایا تھا۔

By MS Journey

"جو زبانیں آج تمہاری تعریف میں رطب اللسان ہیں، ہوا کا رخ بدلتے ہی وہی تم پر لعنت ملامت کرنے لگتی ہیں۔"مفہوم:یہ قول اس حق...
07/08/2026

"جو زبانیں آج تمہاری تعریف میں رطب اللسان ہیں، ہوا کا رخ بدلتے ہی وہی تم پر لعنت ملامت کرنے لگتی ہیں۔"
مفہوم:
یہ قول اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی تعریف یا حمایت مستقل نہیں ہوتی، بلکہ حالات، مفادات اور وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ اس لیے انسان کو لوگوں کی تعریف پر مغرور اور ان کی تنقید سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے کردار، اصولوں اور سچائی پر قائم رہنا چاہیے۔

07/08/2026

جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت کوئی اور شیطان نہیں تھا، تو پھر اسے کس نے ورغلایا؟
سب کے لیے ایک سوچنے اور غور کرنے والا سوال!
بہت ہی اہم سوال: جب شیطان نے اللہ کی نافرمانی کی، تو اس کا شیطان کون تھا؟
یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا حقیقی شیطان کون ہے، یہ چند سطریں پڑھیں:
"نفس" کا لفظ انتہائی حساس اور اہم ہے، اور یہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ذکر ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة ق میں فرماتا ہے:
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ}
"اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو وسوسے اس کے دل میں اٹھتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔"
ہم اللہ عزوجل پر ایمان رکھتے ہیں، اس کا ذکر کرتے ہیں، مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں... وغیرہ۔
اس کے باوجود ہم سے گناہ اور غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں!
تو ایسا کیوں ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حقیقی دشمن کو چھوڑ دیا اور ایک کمزور دشمن کے پیچھے لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے:
{إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا}
"بیشک شیطان کا مکر (اور چال) کمزور ہے۔"
اصل اور حقیقی دشمن تو (نفس) ہے۔ جی ہاں... نفس ایک ٹائم بم اور انسان کے اندر موجود ایک سرنگ (لغم) کی مانند ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورة الإسراء میں فرماتا ہے:
{اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا}
"پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔"
اور سورة غافر میں فرماتا ہے:
{الْيَوْمَ تُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ}
"آج ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔"
اور سورة المدثر میں فرماتا ہے:
{كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ}
"ہر نفس اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔"
اور سورة النازعات میں فرماتا ہے:
{وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ}
"اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا۔"
اور سورة التكوير میں فرماتا ہے:
{عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ}
"تب ہر نفس جان لے گا کہ وہ کیا پیش کر کے لایا ہے۔"
غور کریں کہ یہ تمام آیات لفظ "نفس" کے گرد گھومتی ہیں، تو یہ نفس آخر کیا ہے؟
علماء کرام فرماتے ہیں کہ وہ تمام جھوٹے معبود جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی تھی (جیسے اللات، العزى، مناة، سواع، ود، يغوث، يعوق، اور نسر)... یہ تمام بت تو توڑ دیے گئے، مگر ایک جھوٹا معبود ایسا ہے جس کی آج بھی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
{أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ}
"کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟"
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نفس کی خواہش انسان پر غالب آ جاتی ہے تو وہ کسی شرعی حکم یا دینی مانع پر کان نہیں دھرتا، بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کا دل چاہتا ہے۔ امام بوصیری اپنی بردہ میں فرماتے ہیں:
"نفس اور شیطان دونوں کی مخالفت کرو اور ان دونوں کی نافر مانی کرو۔"
قابیل کے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کے واقعے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:
{فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ}
"پس اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا۔"
جب آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو کسی گناہ میں مبتلا ہوا اور بعد میں تائب و نادم ہوا کہ "تمہیں اس کام پر کس نے ابھارا؟" تو وہ کہے گا: "مجھے شیطان نے بہکایا تھا!" اس کی اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے ہر برے کام کے پیچھے صرف شیطان ہی ہو۔
حالانکہ گناہوں اور معاصی کا سبب یا تو شیطان ہوتا ہے یا پھر برائی پر ابھارنے والا نفس (نفسِ امارہ)۔ شیطان یقیناً خطرناک ہے... لیکن نفس اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے!
انسان پر شیطان کا داخلہ غفلت اور بھول کے ذریعے ہوتا ہے، وہ انسان کو ثواب و عذاب سے غافل کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ کر بیٹھتا ہے۔ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے:
{وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ}
"اور میں اپنے نفس کی پاکی بیان نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے۔"
آخر میں، ہم بارگاہ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ دعا گو ہیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔
آ مین ثم آمین
ثناءاللہ حسین:7/8/26
اسلام آباد

یونان میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ کل ساحل پر 2 بچے گیند سے کھیل رہے تھے... کھیل کے دوران گیند ان سے دور ہوگئی، ہوا نے ...
07/08/2026

یونان میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ کل ساحل پر 2 بچے گیند سے کھیل رہے تھے... کھیل کے دوران گیند ان سے دور ہوگئی، ہوا نے اسے سمندر میں گرا دیا، لہروں نے اسے کھینچ کر نگل لیا اور وہ غائب ہوگئی... بچوں نے اسے واپس لینے کی کوشش کی، مگر بے سود۔ مقدونیہ سے تعطیلات منانے کیلئے ایفان نامی ایک نوجوان یونان آیا تھا۔ جہاں بچے کھیل رہے تھے، وہاں سے 120 کلومیٹر دور وہ سمندر کی لہروں سے نبردآزما تھا۔ وہ سمندر میں تیرتے ہوئے کچھ آگے ہی نکل گیا۔ وہ ساحل کی طرف آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر مخالف ہوا اسے مزید گہرے سمندر کی طرف لے جا رہی تھی۔ یوں وہ ساحل سے کئی کلومیٹر دور کھلے سمندر میں پہنچ گیا۔ اب اس کا ڈوبنا یقینی ہوگیا تھا۔ وہ لہروں کے آگے بے بس ہو چکا تھا۔ قویٰ نے جواب دے دیا تو ایفان نے ہار مان کر خود کو بے رحم موجوں کے حوالے کردیا اور موت کا انتظار کرنے لگا۔ مگر جسے خدا رکھے اسے کون چکھے؟ ڈوبتے کو تنکے سہارا ۔ بچوں کے ہاتھ سے چھوٹنے والی وہی بال ایفان کے سامنے آگئی ۔ گویا وہ اسے ہی تلاش کر رہی تھی۔ اسنے گیند کو پکڑا جس سے اسے تیرنے میں مدد فراہم کی اور وہ آہستہ آہستہ تیرتا ہوا ساحل کی طرف آنے لگا۔۔۔۔اس دوران امدادی ٹیمیں اس تک بھی پہنچ گئی۔ ۔۔ ۔۔زندگی میں کوئی بھی چیز اتفاقاً نہیں ہوتی۔۔ ہر چیز رب العزت کے حکم اور مشیت سے درست اور منصفانہ توازن میں چلتی ہے۔ بے شک رب العزت ہرچیز پرقادر ہے ❤ تحریر اچھی لگے تو لائک لازمی کریں اور فالو کرنا مت بھولیں۔

تورین کا کفن جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔بہت سے عیسائی لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہی وہ کپڑا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ ...
06/08/2026

تورین کا کفن جن پر صدیوں سے بحث جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔بہت سے عیسائی لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہی وہ کپڑا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے اتارنے کے بعد لپیٹا گیا تھا۔۔ ۔اسی وجہ سے یہ کپڑا عیسائی دنیا میں نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہر سال لاکھوں لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔۔۔۔لیکن بہت سے مورخین اور سائنس دان کہتے ہیں کہ آج تک ایسا کوئی حتمی سائنسی ثبوت موجود نہیں ملا ۔۔۔۔جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ یہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل کفن ہے۔۔۔۔اسی لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے سائنس دان اس کپڑے پر مختلف سائنسی تحقیقات کر رہے ہیں۔۔۔۔ تاکہ اس کی حقیقت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔۔۔۔۔مگراس بار سائنس دانوں نے ایک بالکل مختلف سوال پوچھا۔انہوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ کفن اصلی ہے یا جعلی۔بلکہ انہوں نے سوچا کہ اگر یہ کپڑا واقعی صدیوں سے محفوظ ہے تو یقینااس پر ان تمام انسانوں جانوروں پودوں اور ماحول کے کچھ نہ کچھ نشانات موجود ہوں گے۔۔ جن سے یہ اپنی طویل تاریخ میں گزرا ہوگا۔اگر ان نشانات کو جدید سائنس کی مدد سے پڑھ لیا جائے تو شاید اس کپڑے کی پوری حیاتیاتی تاریخ سامنے آ جائے۔۔۔۔اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے 1978 میں اس کفن سے لیے گئے سرکاری نمونوں پر جدید ترین ڈی این اے تحقیق کی۔۔۔۔۔انہوں نے ایک انتہائی طاقتور ٹیکنالوجی استعمال کی ۔۔۔۔یعنی اتنی طاقتور ٹیکنالوجی جو عام ڈی این اے ٹیسٹ سے کہیں زیادہ حساس ہے۔۔۔ اور کپڑے کے ریشوں میں موجود انتہائی معمولی جینیاتی ذرات کو بھی تلاش کر سکتی ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اس کپڑے کے اندر چھپے ہوئے ایسے حیاتیاتی نشانات تک پہنچ گئے جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئے تھے۔۔۔۔تحقیق کے نتائج حیران کن تھے۔سائنس دانوں کو صرف ایک انسان کا نہیں بلکہ کئی مختلف انسانوں کے ڈی این اے کے آثار ملے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سب لوگ ایک ہی وقت میں اس کپڑے کے ساتھ تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدیوں کے دوران بے شمار لوگوں نے اس کپڑے کو چھوا۔۔۔اٹھایامحفوظ کیا۔۔ یا اس کے قریب آئے اور ان کے جسم سے نکلنے والے نہایت باریک خلیے جلد کے ذرات اور دوسرے جینیاتی نشانات اس کپڑے کے ریشوں میں جمع ہوتے گئے۔۔۔ اس کے بعد سائنس دانوں نے کپڑے میں موجود خرد جانداروں کا جائزہ لیا تو انہیں مختلف اقسام کے بیکٹیریا ملے۔۔۔یہ وہ بیکٹیریا تھے جو عام طور پر انسانی جلد پر رہتے ہیں۔اس کے علاوہ کئی اقسام کی فنگس بھی دریافت ہوئی۔حیرت کی بات یہ تھی کہ ایسے خرد جاندار بھی ملے جو صرف بہت زیادہ نمکین ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کپڑا اپنی تاریخ میں مختلف علاقوں اور مختلف ماحول سے گزرا ہوگا۔۔۔۔۔تحقیق میں صرف انسانوں اور جراثیم کے نشانات ہی نہیں ملے بلکہ مختلف پودوں کا ڈی این اے بھی ملا۔۔۔۔۔ان میں گندم
گاجر مکئی کیلا اور مونگ پھلی شامل تھے۔۔۔۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام چیزیں شروع سے اس کپڑے کا حصہ تھیں۔۔۔۔زیادہ امکان یہی ہے کہ صدیوں کے دوران یہ کپڑا مختلف علاقوں میں گیا جہاں ان پودوں کے ذرات ہوا گردوغبار یا لوگوں کے ہاتھوں کے ذریعے اس پر منتقل ہوتے رہے۔۔۔۔۔اس کے علاوہ سائنس دانوں نے کئی جانوروں کے جینیاتی آثار بھی دریافت کیے۔۔۔ان میں گائے سور مرغی کتا اور بلی شامل تھے۔۔۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان جانوروں کا اس کفن کے ساتھ براہ راست تعلق تھا۔بلکہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کپڑا ایسے ماحول میں موجود رہا جہاں ان جانوروں کے نہایت باریک حیاتیاتی ذرات اس تک پہنچے۔یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسان انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا لیکن جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی انہیں آسانی سے شناخت کر سکتی ہے۔۔۔۔۔اس تحقیق میں ایک اور چیز بھی سامنے آئی۔ بحیرۂ روم میں پائے جانے والے سرخ مرجان کا بھی ڈی این اے ملا۔اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کپڑا اپنی تاریخ کے کسی مرحلے پر ایسے علاقوں یا ایسے لوگوں کے رابطے میں آیا ۔۔۔جہاں سرخ مرجان استعمال کیا جاتا تھا۔اگرچہ اس سے کسی خاص مقام کا یقین سے تعین نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ اس کپڑے کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کی ایک نئی جھلک ضرور پیش کرتا ہے۔۔۔۔۔لیکن سب سے اہم سوال۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کیا اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ یہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کفن ہے۔۔۔اس کا جواب ہے نہیں۔۔۔۔۔خود سائنس دانوں نے اپنی تحقیق میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ان کا مقصد کفن کی عمر یا اس کی اصلیت ثابت کرنا نہیں تھا۔ان کے مطابق اس کپڑے کو صدیوں سے لاکھوں افراد نے چھوا ہے یہ مختلف گرجا گھروں عجائب گھروں اور مختلف شہروں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔۔۔اس لیے اگر کبھی اس پر کوئی اصل قدیم ڈی این اے موجود بھی تھا تو وہ بعد میں جمع ہونے والے بے شمار جینیاتی نشانات میں گم ہو چکا ہوگا۔۔۔۔اسی وجہ سے صرف ڈی این اے کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل کفن ہے۔۔۔۔۔
اس تحقیق کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس نے جدید فرانزک سائنس کی طاقت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اب سائنس دان صرف ہڈیوں یا خون کا ہی نہیں بلکہ صدیوں پرانے کپڑوں کے ریشوں میں محفوظ انتہائی معمولی جینیاتی ذرات کو بھی پڑھ سکتے ہیں۔اس کے ذریعے وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی تاریخی چیز اپنی پوری زندگی میں کن انسانوں کن جانوروں کن پودوں اور کن ماحول سے گزری۔یعنی ایک کپڑا بھی اپنے اندر صدیوں پر محیط ایک مکمل حیاتیاتی تاریخ محفوظ رکھ سکتا ہے ۔۔

*یہ ہیں وہ سائنسدان جنہوں نے بجلی کے بلوں کا 199 , 201 یونٹ والا فارمولا ایجاد کیا تھا موصوف کا نام راشد محمود لنگڑیال ہ...
05/08/2026

*یہ ہیں وہ سائنسدان جنہوں نے بجلی کے بلوں کا 199 , 201 یونٹ والا فارمولا ایجاد کیا تھا موصوف کا نام راشد محمود لنگڑیال ہے اور آجکل چیئرمین FBR ہیں. بس 50 ارب کی دولت کے مالک ہیں👊🏿

*میں نے اپ کو دکھا دیا اگے اپ کی مرضی🤚🤚🤚

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Novels:

Shortcuts

Share