Business Tv

Business Tv بزنس ٹی وی پاکستان کا معروف ویب چینل جو کاروباری خبریں، بزنس آئیڈیاز اور کامیابی کی کہانیاں پیش کرتا ہے۔
(8)

گدھا گاڑی سے ہانگ کانگ تک کا سفر ❤️👇
07/06/2026

گدھا گاڑی سے ہانگ کانگ تک کا سفر ❤️👇

گدھا گاڑی کی دھول سے ہانگ کانگ کی چمچماتی سڑکوں تک کا سفر!" اگر آپ زندگی کی مشکلات سے ہار مان چکے ہیں تو ذرا رکیے، ڈیرہ غازی خان کے اس لڑکے کی کہانی آپ کے اندر ایک نئی آگ لگا دے گی۔ شعیب محمد، جس کے والد محمد بخش ایک غریب کسان تھے۔ اس لڑکے نے ہوش سنبھالا تو چاروں طرف صرف غربت اور محرومی دیکھی۔ لیکن اس کے سینے میں ایک ایسی ضد پل رہی تھی جو کچے مکانوں کی محتاج نہیں تھی۔ کہانی کا پہلا راز اس کی وہ خاموش محنت تھی؛ جب گاؤں کے دوسرے لڑکے آرام کرتے، تو شعیب تپتی دھوپ میں گدھا گاڑی پر بوجھ ڈھوتا اور باپ کے ساتھ کھیتوں میں مزدوری کرتا۔ کپڑوں پر مٹی اور ہاتھوں پر چھالے پڑ چکے تھے مگر دماغ کتابوں میں الجھا رہتا۔ اسی غربت میں اس نے ڈیرہ غازی خان سے بی ایس (BS) کیا اور پھر ہمت کر کے ایم ایس (MS) کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔ لوگوں نے سوچا کہ اب یہ غریب کسان کا بیٹا کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر کے غربت کی چکی میں پس جائے گا۔ مگر شعیب نے ولایت سے پی ایچ ڈی (PhD) کرنے کی ٹھان لی۔ لوگ ہنستے کہ "جو کل تک گدھا گاڑی چلاتا تھا، جس کے پاس اگلے وقت کی روٹی کے پیسے نہیں، وہ غیر ملکی یونیورسٹی جائے گا؟" لیکن شعیب کا خدا پر کامل بھروسہ تھا۔ یہاں سے اس کی اصل آزمائش شروع ہوئی۔ 2021 سے اس نے سکالرشپس کے لیے اپلائی کرنا شروع کیا۔ تین سال تک لگاتار ریجیکشنز (Rejections) آتی رہیں، طعنے بڑھتے گئے، مگر وہ راتوں کو جاگ کر اپلائی کرتا رہا۔ اور پھر بالآخر 2024 کی ایک صبح وہ ای میل آ گئی جس نے سب کے منہ بند کر دیے! ہانگ کانگ کی ایک ٹاپ یونیورسٹی نے نہ صرف اسے پی ایچ ڈی کے لیے فل سکالرشپ (Scholarship) دے دی، بلکہ ساتھ ہی ایک شاندار ریسرچ جاب (Research Job) بھی آفر کر دی۔ تصویر خود بول رہی ہے! کل تک گدھا گاڑی پر ننگے پاؤں بیٹھنے والا کسان کا بیٹا، آج ہانگ کانگ کی ٹاپ یونیورسٹی کا ریسرچر بن کر سوٹ بوٹ میں کھڑا ہے۔ پیغام صاف ہے: حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، خدا سچی محنت رائیگاں نہیں کرتا۔ اگر ڈیرہ غازی خان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ لڑکا اپنی تقدیر بدل سکتا ہے، تو یقین جانیں... محنت سے سب ممکن ہے 👍❤️

سپین کے ایک شہر کے سمندر کے نزدیک واقع دکان پر ایک جرمن معمر جوڑا جو چھٹیاں گزارنے اس جزیرہ پر آیا ہوا تھا، کچھ خریداری ...
07/06/2026

سپین کے ایک شہر کے سمندر کے نزدیک واقع دکان پر ایک جرمن معمر جوڑا جو چھٹیاں گزارنے اس جزیرہ پر آیا ہوا تھا، کچھ خریداری کے لیئے میرے پاس آیا ۔ انکے ساتھ 15، 14 سال کی ایک بچی بھی تھی۔ ان بزرگوں نے اپنے لیئے تو کچھ نہ خریدا لیکن بچی کو وہ مختلف چیزیں دکھاتے رہے ۔ میں نے سوچا کہ چند منٹ ان کو خود تسلی آرام سے سوچنے اور فیصلہ کا موقع دوں تا کہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ کچھ دیر بعد میں نے ان سے خریداری کے سلسلے میں ان کی مدد کرنے کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی اس پوتی کے لیئے پرس خریدنا ہے۔ بچی کو چند پرس دکھائے۔ بالآخر بچی نے اپنے لیئے ایک پرس پسند کیا۔۔۔۔

اکثریت جرمن لوگ اپنی زبان میں گفتگو کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔ حالانکہ ماسوائے 10 فیصد کے سب انگلش سمجھتے بھی ہیں اور بہت مجبوری میں بول بھی لیتے ہیں۔ چونکہ مجھے جرمن کے 2-4 الفاظ کے علاوہ جرمن زبان نہیں آتی لہذا میں انگلش میں ہی سیاحوں سے بات چیت کرتا ہوں۔ میں نے ان سے چند رسمی کاروباری جملے بولے۔ جرمن جوڑا تو انگلش اچھی سمجھتے بولتے تھے لیکن بچی سے وہ جرمن زبان میں کچھ پوچھ کر مجھے ترجمہ کر کے بتاتے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ تو بہت اچھی انگلش جانتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ بچی نہیں جانتی؟ انھوں نے بتایا کہ اگر آپ عربی بول سکتے ہیں تو آپ اس سے عربی میں بات کر سکتے ہیں۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ پوچھا آپ جرمن اور اس بچی کو آپ نے انگلش کے بجائے عربی سکھائی ؟ کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔ چونکہ میں تو اس بچی کو ان کی پوتی سمجھ رہا تھا

ایسا لگ رہا تھا کہ میرا سوال ان کے لیئے بھی مشکل تھا۔ دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کچھ ہچکچاہٹ کے بعد مجھے جواب دیا۔۔ جو جواب انھوں نے دیا۔ اس نے مجھے حیران بھی کیا اور ان کے لیئے میرے دل میں عزت تکریم میں بھی اضافہ ہوا۔ انکے جزبہ انسانیت سے متاثر ہو کر ان کی مرضی سے انکی تصویر لی اور پھر اسے فیس بک پر پوسٹ کرنے کی بھی اجازت حاصل کی۔۔ انكا جواب تھا۔۔ یہ بچی مسلمان اور شامی ہے۔۔ شام کے اپنے ملک سے ہزاروں دربدر خاندانوں میں سے ایک خاندان کی یہ بھی بچی ہے اور ہم نے اسکو اسکی مصیبت پریشانی کیا ہے یعنی اب اسکی Adopt میں مدد کے نکتہ نظر سے پرورش تعلیم اور ضروریات زندگی کی زمہ داری مستقل طور پر ہمارے زمہ ہے۔ اور ہم اسکے ساتھ بہت خوش اور مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے دنیا میں آنے کا کچھ فائدہ ہوا یا ہماری قیمتی خوبصورت زندگی کا ایک قرض ادا ہو گیا اور آپ شائد جانتے ہوں کہ جرمن پوری دنیا میں واحد ملک ہے یا شائد واحد غیر مسلم ملک جس نے بہت بڑی تعداد میں شامیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی۔) صرف یہ اس ایک جوڑے کی بات نہیں جرمنی میں لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازی شامی مہاجرین کے لیئے کھول دیئے. یہاں مجھے جرمن چانسلر انجیلا مارکل کی وہ بات شدت سے یاد آ رہی ہے جو اس نے سعودی بادشاہ کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں عالی جاہ " نے فرمایا کہ ہم شامی مسلمانوں کو جرمنی میں 200 مساجد بناکر دیں گے۔ انجیلا کا جواب تاریخ کی کتابوں کے نمایاں باب میں درج ہو گا۔۔

اس نے جواب میں کہا < گھنٹہ ... پیروی کرنا سعودیہ شامیوں کے لیئے جرمنی سے زیادہ نزدیک تھا۔ شامیوں کو مشکل وقت میں مساجد کی نہیں ہمدردی پناہ اور خوراک کی ضرورت تھی جرمنی نے شامیوں کے لیئے بانہیں پھیلائیں ۔ اگر جرمنی انکی خوراک رہائش تعلیم صحت کی سہولیات کا بندوبست کر سکتا ہے تو مستقبل میں مساجد بنانا بھی کوئی مشکل نہیں انسانیت کا درد رکھ کر جئیں۔ اور اپنے آس پاس رنگ و نسل قوم اور مذہب مسلک کی تفریق سے بالا تر ہو کر ہر ضرورتمند کے لیئے جتنا آپ کے اختیار میں ہے وہ ضرور کریں . پوسٹ کو شئیر کرکے ایک اچھی آواز بنیں 🥹❤️

06/06/2026

اپنی نیندیں قربان کرکے تہجد اور نماز فجر کیلئے اٹھنے والو اللہ تعالیٰ آپکی تمام نیک حاجتیں پوری فرمائے 🤲 آمین

06/06/2026

🚨اہم خبر🚨
بھارت میں ڈاکٹر نے مبینہ طور پہ رشوت نہ دینے پہ کم عمر بچی کی جوڑی گئی ہڈی دوبارہ تو،ڑ دی😓

06/06/2026

آپ کے خیال میں پاکستان میں صحت اور تعلیم کا نظام کتنے فیصد ہے؟

جعلی نوٹ کا بدلہ: اللہ نے 55 ہزار کا 6 لاکھ کر دیاایک غریب بزرگ بابا، جنہیں کسی سنگدل شخص نے 55 ہزار روپے کے جعلی نوٹ تھ...
06/06/2026

جعلی نوٹ کا بدلہ: اللہ نے 55 ہزار کا 6 لاکھ کر دیا

ایک غریب بزرگ بابا، جنہیں کسی سنگدل شخص نے 55 ہزار روپے کے جعلی نوٹ تھما دیے تھے۔ بابا کو جب پتہ چلا تو ان کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ عمر بھر کی جمع پونجی سمجھ کر جو نوٹ رکھے تھے، وہ سب جعلی نکلے۔ لیکن بابا نے صبر کیا۔ اللہ پر بھروسہ رکھا۔ جب ان کی کہانی سوشل میڈیا پر آئی تو لوگوں کے دل بھر آئے۔ کوئی 100 بھیج رہا تھا، کوئی 1000۔ ہر طرف سے مدد کی بارش ہو گئی۔ آج بابا کے پاس 6 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم جمع ہو چکی ہے۔ جو شخص بابا کو جعلی نوٹ دے کر خوش ہو رہا تھا، وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اللہ بابا کو اس سے 10 گنا زیادہ دے گا۔ یہ صرف پیسے کی کہانی نہیں، یہ یقین کی کہانی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ *جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا*۔ بابا کی مسکراہٹ آج ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو کمزوروں کو دھوکہ دیتا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی: 23 سال قید کی سزاپاکستان کی بیٹی، عالم اسلام کی ایک بہادر خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے ...
06/06/2026

ڈاکٹر عافیہ صدیقی: 23 سال قید کی سزا

پاکستان کی بیٹی، عالم اسلام کی ایک بہادر خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے 23 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک خاتون سائنسدان بلکہ پوری امت مسلمہ کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے۔ ڈاکٹر عافیہ ایک نیورو سائنسدان تھیں جنہوں نے MIT اور دیگر عالمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ ان پر لگائے گئے الزامات اور ان کا مقدمہ ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ انہیں بے گناہ سمجھتے ہیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ آج بھی عافیہ صدیقی کی کہانی ہر اس پاکستانی کے دل میں درد پیدا کرتی ہے جو اپنی قوم کی عزت اور اپنی بہنوں کی حفاظت کا سوچتا ہے۔ ۲۳ سال قید... ایک ماں، ایک سائنسدان، ایک مسلمان خاتون کا یہ سفر کتنا تکلیف دہ ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جلد از جلد رہائی عطا فرمائے اور ان کے ساتھ انصاف ہو 😰🤲

اس پوسٹ کو شئیر کرکے عافیہ صدیقی کی آواز کا حصہ بنیں

06/06/2026

نماز فجر کے لیے اٹھنے والوں کو
اسلام علیکم❤️🥹🤝

05/06/2026

Ameen Suma Ameen 🥹❤️🤲

05/06/2026

لاہور میں زلزلے کے شدید جھٹکے 🚨

Address

Allama Iqbal Town
Lahore
54570

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Business Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share