Baldiyat News

Baldiyat News Baldiyat News is a Pakistani magazine focused on local governments.

28/01/2015

لاہور(baldiyat news) محکمہ خزانہ پنجاب نے ضلعی حکومتوں کو 20ارب9کروڑ61لاکھ روپے کا ماہانہ پی ایف سی شیئر جاری کر دیا ہے۔جنوری کے کرنٹ شیئر کے ساتھ ڈویلپمنٹ کا شیئر بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں کٹوتی کا فارمولہ گذشتہ ماہ ہی طعے کر لیا گیا تھا اسی کے مطابق مالی سال 2014,15ء میں ماہانہ ڈویلپمنٹ شیئر جاری ہو گا۔سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کو ایک ارب48کروڑ16لاکھ79ہزار روپے،اٹک کو46کروڑ روپے، بہاولنگر71کروڑ19لاکھ،بہاولپور64کروڑ35لاکھ، بھکر38کروڑ20لاکھ،چکوال 40کروڑ34لاکھ،چنیوٹ23کروڑ34لاکھ، ڈی جی خان49کروڑ17لاکھ، فیصل آبادایک ارب32کروڑ، گوجرانوالہ77کروڑ36لاکھ،گجرات56کروڑ26لاکھ،حافظ آباد24کروڑ16لاکھ، جھنگ55کروڑ48لاکھ،جہلم32کروڑ78لاکھ،قصور55کروڑ28لاکھ،خانیوال58کروڑ51لاکھ، خوشاب33کروڑ11لاکھ،لیہ43کروڑ25لاکھ، لودھراں35کروڑ، منڈی بہاولدین32کروڑ،میانوالی39کروڑ14لاکھ،ملتان73کروڑ99لاکھ، مظفر گڑھ61کروڑ45لاکھ،ننکانہ صاحب31کروڑ29لاکھ،نارووال41کروڑ، اوکاڑہ58کروڑ53لاکھ،پاک پتن32کروڑ56لاکھ،رحیم یار خان76کروڑ،راجن پور31کروڑ67لاکھ،راولپنڈی85کروڑ59لاکھ، ساہیوال52کروڑ72لاکھ،سرگودھا81کروڑ50لاکھ،شیخوپورہ67کروڑ22لاکھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ49کروڑ42لاکھ،وہاڑی55کروڑ71لاکھ اور ضلعی حکومت سیالکوٹ کو67کروڑ22لاکھ روپے کا ماہانہ پی ایف سی شیئر جاری کیا گیا ہے۔تمام فنڈز اکاؤنٹ فور میں منتقل کئے گئے ہیں۔

27/01/2015

پنجاب لینڈ یوز (کلاسیفکیشن،ری کلاسیفکیشن،ری ڈویلپمنٹ)رولز2009ء میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری
لاہور(بلدیات نیوز) ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایزکو ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی اجازت دے دی گئی ہے۔پنجاب بھر کی ضلعی حکومتیں پرانے ماسٹر پلان کو ریوائز کر سکیں گئی۔محکمہ بلدیات کی جانب سے پنجاب لینڈ یوز (کلاسیفکیشن،ری کلاسیفکیشن،ری ڈویلپمنٹ)رولز2009ء میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نظرثانی شدہ ماسٹر پلان میں ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایز کو ایریا میں توسیع کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ضلعی حکومتوں اور ٹی ایم ایز پر مزیدنئی کمرشل سڑکوں کو نوٹیفائی کرنے کی پابندی چھ ماہ کے لیے اْٹھا لی گئی ہے۔مذکورہ مقامی حکومتیں30جون2015ء تک مزید نئی کمرشل سڑکیں ڈکلیئر کر سکیں گئی۔اسی عرصہ کے دوران نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان جاری کیا جائے گا۔نئی کمرشل سڑکیں ڈکلیئر کرنے کے لیے قبل ازیں30ستمبر2012ء کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی جس کے بعد پھر پابندی لگا دی گئی۔بیشتر شہری ضلعی حکومتوں اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کا ماسٹر پلان ریوائز نہ ہونے کی وجہ سے قانونی پچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے 30جون تک نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان منظور کروائے جائیں گے۔ناظمین کی عدم موجودگی میں متعلقہ ایڈمنسٹریٹرز نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان کی منظوری دیں گے۔نظر ثانی شدہ ماسٹر پلان میں کمرشل ایریا میں توسیع کی جا سکے گی۔رہائشی،صنعتی،زرعی،پیری اربن اور نوٹیفائی ایریا کا بھی از سرنو تعین کیا جائے گا۔

27/01/2015

پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمز اینڈ سب ڈویڑن رولز 2010ء میں ترامیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری
لاہور(بلدیات نیوز)حکومت نے نجی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کو اراضی ایکوائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس حوالے سے لگائی گئی پابندی ختم کردی گئی ہے۔محکمہ بلدیات نے پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمز اینڈ سب ڈویڑن رولز 2010ء میں ترامیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے تحت بنائے گئے رولز میں ترامیم کی گئی ہیں۔نجی ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان سکیم کے ٹوٹل ایریا کی3فیصد تک اراضی ایکوائر کرسکیں گے۔ڈویلپرز کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 3فیصد تک اراضی کم ہو جانے کی صورت میں سرکار یہ اراضی ایکوائر کر کے دے گئی۔اراضی کا سکیم سے ملحقہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیمز اینڈ سب ڈویڑن رولز 2010ء کے رول نمبر9کے سب رول کی شق ایف،جی اور ایچ کی کلازون ،ٹو اور تھری میں ترامیم کی گئی ہیں۔مذکورہ رولز میں قبل ازیں 10فیصد تک اراضی ایکوائر کرنے کی اجازت تھی جسے رولز میں ترمیم کر کے ختم کر دیا گیا تھا۔اب دوبارہ ڈویلپرز کو اراضی ایکوائر کرنے کی سہولت دے دی گئی ہے۔جن نجی ہاؤسنگ سکیموں کے پاس مطلوبہ اراضی موجود ہو گی اْن کو سرکار ڈی سی ریٹس پر اراضی خرید کر دے گی جس کا معاوضہ ڈویلپرز ادا کریں گے۔چند لوگوں کی طرف سے سکیم کو اراضی نا دینے اور زیادہ رقم کی ڈیمانڈ سے سکیم کا حلیہ خراب ہونے کے باعث ڈویلپرز کا حکومت پر دوبارہ اراضی ایکوائر کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے رولز میں ترامیم کے لیے دباؤ تھا۔پنجاب پرنٹنگ پریس سے شائع کروا کے رولز میں ترامیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق صوبہ بھر میں ہو گا۔

27/01/2015

لاہور(راجہ محبوب صابر) محکمہ منصوبہ بندی وترقیات نے سیلاب سے متاثرہ 18اضلاع میں سڑکوں کی بحالی کی943سکیموں کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ خزانہ پی اینڈ ڈی سے منظوری کے بعدمتعلقہ ضلعی حکومتوں کو ایک ارب98کروڑ92لاکھ23ہزار روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرے گا۔ترقیاتی سکیمیں ڈی سی اوز سے حاصل کی گئی تھیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے حالیہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں سب سے سیالکوٹ کو جاری کئے جا رہے ہیں جہاں148سکیموں کے لیے40کروڑ21لاکھ14ہزار روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔ضلعی حکومت جھنگ کو 135سکیموں کے لیے31کروڑ85لاکھ56ہزار روپے،حافظ آباد کی108سکیموں کے لیے 27کروڑ87لاکھ58ہزار روپے،راولپنڈی کی106سکیموں کے لیے13کروڑ53لاکھ روپے، گجرات کی58سکیموں کے لیے13کروڑ33لاکھ70ہزار روپے،چنیوٹ کی43سکیموں کے لیے6کروڑ26لاکھ83ہزار روپے،نارووال کی54سکیموں کے لیے11کروڑ11لاکھ70ہزار روپے،سرگودھا کی49سکیموں کے لیے3کروڑ60لاکھ24ہزار روپے، مظفر گڑھ کی37سکیموں کے لیے5کروڑ60لاکھ80ہزار روپے،منڈی بہاولدین کی40سکیموں کے لیے 7کروڑ84لاکھ 7ہزار روپے،گوجرانوالہ کی64سکیموں کے لیے14کروڑ98لاکھ46ہزار روپے،جہلم کی53سکیموں کے لیے12کروڑ76لاکھ81ہزار روپے،ملتان کی 8سکیموں کے لیے99لاکھ84ہزار روپے، خوشاب کی10سکیموں کے لیے65لاکھ33ہزار روپے،شیخوپورہ کی27سکیموں کے لیے7کروڑ63لاکھ67ہزار روپے کے خصوصی ترقیاتی فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے۔ضلعی حکومت چکوال،قصور اور ننکانہ صاحب کی صرف ایک ایک سکیم ہی منظور ہو سکی ہے۔جن کو بدستور ساڑھے دس لاکھ روپے،51لاکھ50ہزار روپے اور ڈیڑھ لاکھ روپے کے فنڈز کا اجراء کیا جائے گا۔متعلقہ کمشنرز اور ڈی سی اوز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے کاموں کی نگرانی کریں گے۔

27/01/2015

پنجاب کی106ٹی ایم ایز کے لیے چار ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری
لاہور(بلدیات نیوز) محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے صوبہ کی106ٹی ایم ایز کے لیے ساڑھے چار ارب روپے کے منصوبہ کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب کے31اضلاع کی ٹی ایم ایز میں اس منصوبہ کے تحت ورلڈ بنک کے تعاون سے ترقیاتی کام مکمل کئے جائیں گے۔محکمہ بلدیات کی جانب سے بھجوایا گیا منصوبہ اب منظوری کے لیے صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔جس کے بعد سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوائے گی۔پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی ورلڈ بنک کے اشتراک سے تحصیلوں کی سطع پر سیوریج،ڈرینیج،واٹر سپلائی اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی سکیمیں مکمل کروائے گی۔لاہور،فیصل آباد، راولپنڈی،ملتان اور گوجرانوالہ کے38ٹاؤنز کو اس پراجیکٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔محکمہ بلدیات کی جانب سے قبل ازیں میونسپل سروسز امپرومنٹ پراجیکٹ کے تحت ورلڈ بنک کے تعاون سے فیز ون میں 37ٹی ایم ایز میں فنانشل مینجمنٹ سسٹم، کیمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم،پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم، جی آئی ایس میپ اور آئی ٹی بیس سسٹم کے منصوبوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے۔اب ٹی ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے کی بجائے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔اس منصوبہ کو پہلے پنجاب حکومت کے فنڈز سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔تاہم اب فیز ٹو بھی ورلڈ بنک کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔

27/01/2015

پنجاب میں دس نئی میونسپل کمیٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری
لاہور(بلدیات نیوز) محکمہ بلدیات پنجاب نے 10مزید میونسپل کمیٹیاں نوٹیفائی کر دی ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پنجاب میں حلقہ بندیوں اور حد بندیوں کے حوالے فراہم کردہ ریکارڈ میں میونسپل کمیٹیوں کی تعداد 172سے بڑھا کر182کر دی گئی ہے۔میونسپل کمیٹی سے بھی کم آبادی کی میونسپل کارپوریشن مری کو برقرار رکھا گیا ہے۔نئی میونسپل کمیٹیاں لیہ،مظفر گڑھ،بھکر،بہاولنگر اورچکوال میں تشکیل دی گئی ہیں۔مظفر گڑھ میں پانچ مزید میونسپل کمیٹیاں بن گئی ہیں۔الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ فہرست اور ریکارڈ کے مطابق میٹروپولیٹن لاہور کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کی تعداد11، اورضلع کونسلوں کی تعداد35ہی ہے۔نئی شامل کی گئی میونسپل کمیٹیوں میں فتح پور،بھون،دولے واالا،ڈونگا بونگا،چوک سرور شہید،ڈیرہ دین پناہ،خان گڑھ،شہر سلطان،سناواں اورجنڈیانہ والا شامل ہیں۔دسمبر2013ء میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول آنے کے بعد مزید میونسپل کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن روک دیئے گئے تھے اور تعداد 172ہی رکھی گئی تھی جو اب182ہو گئی ہے۔

20/09/2014

لاہور20ستمبر14(بلدیات نیوز) پنجاب حکومت نے مجوزہ مسودہ قانون میں بلدیاتی انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیئے ہیں۔اس سلسلہ میں تیار کیا گیامسودہ قانون باقاعدہ منظوری کے لیے وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی کو بھجوا دیا گیا ہے۔اس ترمیمی مسودہ قانون کے مطابق ریٹرنگ و اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی نامزگیاں بھی صوبائی حکومت کی بجائے الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔صوبائی حکومت کے پاس میٹرو پولیٹن،میونسپل کارپوریشن،میونسپل کمیٹیوں،ضلع کونسلوں،یونین کونسلوں اور وارڈز کی حد بندیوں کا اختیار رہے گا۔بلدیاتی اداروں کی حد بندیوں کے نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کو یقینی بنائے گا۔یونین کونسلوں کی آبادی کا تعین کر کے شمارتی بلاکس کو مد نظر رکھ کر حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ بلدیات کی جانب سے وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی امور کو بجھوائے گئے مسودہ قانون کی الیکشن کمیشن سے بھی ختمی رائے لینے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء اور لوکل گورنمنٹ ڈی لیمیٹیشن رولز میں بھی ترامیم کی جا سکیں۔مجوزہ ترمیمی مسودہ قانون میں پہلے طعے کی گئی یونین کونسلوں کی جنرل اور مخصوص نشستوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔یہ مسودہ قانون سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں تیار کروا کر بھجوایا گیا ہے۔واضع رہے کہ قابل ا زیں حلقہ بندیوں،حلقہ بندی افسران کی امزدگیوں سمیت اس حوالے سے تمام اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھے تھے۔

29/05/2014
24/05/2014
30/04/2014

ورلڈ بنک نے پنجاب میونسپل سروسز امپورمنٹ پراجیکٹ کو ناکام قرار دے دیا۔فیز ٹو کے لیے فنڈز روک لیے
لاہور26اپریل(بلدیات نیوز) ورلڈ بنک نے پنجاب کی ٹی ایم ایز کی مالی حالت و استعداد کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ٹی ایم ایز کی استعداد کار نہ ہونے کے باعث ورلڈ بنک کا پنجاب میونسپل سروسز امپورومنٹ پراجیکٹ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔اس منصوبہ کے لیے ورلڈ بنک سے50 ملین ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا۔صوبہ کی پانچ شہری حکومتوں کے ٹاؤنز کو نظر انداز کر کے جن37تحصیل میونسپل انتظامیہ کو پارٹنر بنایا گیا ان میں فنانشل مینجمنٹ سسٹم،کیمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم،پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم،جی آئی ایس میپ اور آئی ٹی بیس سسٹم کے دیگر منصوبوں پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ورلڈ بنک کے اس پراجیکٹ کی ٹیم لیڈر شہناز ارشاد نے اپنی رپورٹ میں منصوبہ پر عمل درآمد نہ ہونے کی جو اہم وجوہات بتائی ہیں ان میں ٹی ایم ایز کی کمزور مالی حالت اور اس حوالے سے صلاحیتوں اور استعداد کار کا نہ ہونا ہے۔پہلے فیز میں متوقع کامیابی نہ ہونے کے باعث مزید68ٹی ایم ایز میں پنجاب میونسپل سروسز امپرومنٹ پراجیکٹ کا دوسرا فیزشروع نہیں ہو سکا۔پہلا فیز30نومبر2013ء تک مکمل ہونا تھا۔ جس میں احمد پور سیال،اٹک،بھلوال،چکوال،چنیوٹ،دنیا پور،گوجرہ،جہلم، قصور،ملکوال،سرگودھا،نورپورتھل،سلیانوالی،بہاؤلنگر،بھکر،بورے والا،چیچہ وطنی،ڈسکہ،فتح جنگ،حسن ابدال،خان پور،کوٹ مومن،پنڈ دانخان، وہاڑی،لیاقت پور،میلسی،منڈی بہاؤلدین،اوکاڑہ،رینالہ خورد،سرائے عالمگیر،شور کوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،لودھراں ،سمبڑیال وغیرہ کی ٹی ایم ایز شامل تھیں۔

30/04/2014

پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کے لیے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ۔وزیر اعلیٰ نے منظوری دے دی
لاہور اپریل۳۰(بلدیات نیوز) پنجاب کے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کی سمری منظور کر لی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے تحریری اجازت ملنے کے بعد محکمہ بلدیات نے مسودہ قانون منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی بھجوانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ایوان سے منظوری کے بعدپنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء میں ترمیم کی جائے گی۔ بلدیاتی انتخابات کی صورت میں بلدیہ عظمیٰ لاہور سمیت صوبہ کی11میونسپل کاپوریشنز فیصل آباد،ملتان،بہاؤلپور،گوجرانوالہ،سرگودھا، سیالکوٹ،راولپنڈی،گجرات ،مری،ڈی جی خان اور ساہیوال ،35ضلع کونسلوں اور172نوٹیفائی میونسپل کمیٹیوں جن کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا میں خواتین کی مخصوص نشستیں22فیصد ہونگی۔قبل ازیں حکومت کومرضی سے بلدیاتی اداروں میں مخصوص نشستوں کا اختیار حاصل تھا جس کی جانب سے حالیہ حلقہ بندیاں جنھیں غیر قانونی قرار دیا گیا اس میں بلدیاتی اداروں میں یونین کونسل کی سطع پر مساوی جبکہ دیگر بلدیاتی اداروں میں خواتین کو10فیصد سے بھی کم نمائندگی دی گئی۔ان میں بلدیہ عظمیٰ لاہور میں25خواتین کی نشستیں مخصوص کی گئیں جن کی تعداد اب دو گنا سے بھی زائد ہو جائے گی یونین کونسلوں کی تعداد274رہتی ہے تو لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں خواتین کی مخصوس نشستیں60ہو نگی۔صوبہ کی 11میونسپل کارپوریشنز میں خواتین کی مخصوص نشستیں82,،35 ضلع کونسلوں میں محض493،پنجاب کی 172نوٹیفائی میونسپل کمیٹیوں میں صرف637نشستیں خواتین کے لیے مخصوص تھیں جن کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔واضع رہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کے تحت مقامی حکومتوں کے نظام میں خواتین کو33فیصد نمائندگی حاصل تھی۔موجودہ حکومت کی جانب سے منظور کردہ ایکٹ پر خواتین کو مناسب نمائندگی نہ دینے پر تنقید ہو رہی تھی جس کے بعدخواتین کو22فیصد نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

26/04/2014

کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کا قیام۔۔پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترمیم کے لیے قانونی مسودہ تیار
لاہور24اپریل( بلدیات نیوز) محکمہ بلدیات نے ڈویڑنل سطع پر کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی ہے۔لاہور،ملتان،گوجرانوالہ،راولپنڈی،فیصل آباد،سرگودھا،ساہیوال،بہاؤلپور اور ڈی جی خان میں کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے قیام کے لیے پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء میں ترمیم کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کی منظوری پنجاب اسمبلی سے حاصل کی جائے گی اور ٹی ایم ایز سے اختیارات کمپنیوں کو منتقل ہو جائیں گے۔کمشنرز،آرپی اوز کے علاوہ تحصیل وٹاؤن ناظم یا ایڈمنسٹریٹرز بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہونگے۔چمبر آف کامرس کے نمائندوں،فارمرز،لائیوسٹاک کے ماہرین،سول سوسائٹی سے ممبران کے نام تجویز کئے گئے ہیں ڈویڑنل سطع پر کمپنیوں میں بطور ممبر ارکان اسمبلی کے ناموں کی ختمی منظوری ایوان وزیر اعلیٰ دے گا۔پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے ترمیمی مسودہ کے مطابق سیکشن 195بی کے تحت بلدیاتی اداروں کے اختیارات کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو منتقل کئے جا رہے ہیں سیکشن146اے کے ذریعے بھی ترمیم ہو گی۔اسی طرز پر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء میں بھی ترمیم کی جائیں گی جو ابھی لاگو نہیں ہوا ہے۔

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baldiyat News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share