Punjab Media Cell

Punjab Media Cell Punjab Media Cell

زیارت کاکا صاحب — روحانیت، تاریخ اور تہذیب کا حسین سنگمخیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع زیارت کاکا صاحب ایک ایسا تار...
18/08/2026

زیارت کاکا صاحب — روحانیت، تاریخ اور تہذیب کا حسین سنگم

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع زیارت کاکا صاحب ایک ایسا تاریخی، مذہبی اور روحانی خطہ ہے جس کی شناخت صدیوں سے اولیائے کرام، علم و عرفان اور روحانی روایات سے وابستہ چلی آ رہی ہے۔ نوشہرہ شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر آباد اس بستی کی شہرت بالخصوص یہاں مدفون عظیم روحانی پیشوا حضرت سید کستیر گلؒ المعروف حضرت کاکا صاحبؒ کے مرقدِ اقدس کی نسبت سے ہے، اور اسی روحانی نسبت نے اسے ’’زیارت کاکا صاحب‘‘ کا نام عطا کیا۔

حضرت کاکا صاحبؒ اپنے عہد کے جلیل القدر صوفی، صاحبِ علم و معرفت اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ سے چشتیہ اور سہروردیہ سلاسل کی نسبت بیان کی جاتی ہے۔ آپ نے ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی معرفت میں بھی بلند مقام حاصل کیا اور اپنی زندگی دینِ اسلام کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور تزکیۂ نفس کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے وابستہ افراد کو شریعتِ مطہرہ کے احکام کی پابندی، حسنِ اخلاق اور روحانی پاکیزگی کی تلقین کی جاتی تھی۔ یوں آپ کی خانقاہ علم و عرفان اور دینی تربیت کا ایک مؤثر مرکز بن گئی، جس کی روشنی گرد و نواح کے علاقوں تک پھیلتی چلی گئی۔

اکوڑہ خٹک میں مدفون بزرگِ دین حضرت اخون الدین باباؒ کو آپ کا استادِ محترم بیان کیا جاتا ہے۔ اس نسبت نے اکوڑہ خٹک، زیارت کاکا صاحب اور گرد و نواح کے اس پورے خطے کو ایک مضبوط روحانی سلسلے میں جوڑ دیا ہے۔

حضرت کاکا صاحبؒ کا مزارِ اقدس آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے ایک روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدیوں سے مختلف علاقوں سے آنے والے زائرین یہاں حاضری دیتے چلے آ رہے ہیں۔ خصوصاً مذہبی اجتماعات، ایامِ عرس اور دیگر روحانی مواقع پر یہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ مزار کے اطراف میں موجود مساجد، مدارس، خانقاہیں اور علمی و روحانی خانوادے اس بستی کی مذہبی شناخت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

زیارت کاکا صاحب کے گرد و نواح کی سرزمین کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ایک ہی روحانی خانوادے سے وابستہ کئی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔ حضرت بہادر باباؒ، حضرت کاکا صاحبؒ کے والدِ محترم، حضرت مست باباؒ آپ کے دادا اور حضرت غالب باباؒ آپ کے پڑدادا بزرگ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ ان بزرگوں کے مزارات اس خطے کی روحانی تاریخ کے اہم آثار شمار ہوتے ہیں اور آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے باعثِ احترام ہیں۔

حضرت کاکا صاحبؒ کی اولاد کو عموماً میاں گان کہا جاتا ہے۔ ان کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے نام کے آغاز میں ’’میاں‘‘ لکھنے کو اپنے بزرگوں کی نسبت اور خانوادۂ روحانیت سے وابستگی کا باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ مزارِ اقدس کے بیرونی احاطے میں خاندان کے افراد اور بعض عقیدت مندوں کے مزارات بھی موجود ہیں، جو اس مقام کی قدامت اور روحانی تسلسل کی خاموش داستان سناتے ہیں۔

زیارت کاکا صاحب صرف ایک مذہبی مقام ہی نہیں بلکہ اپنی قدیم تہذیبی اور ثقافتی فضا کے باعث بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے بازار میں مقامی ہنرمندوں کی تیار کردہ مختلف اشیاء آج بھی بستی کی قدیم دستکاری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہاتھ کے بنے پنکھے، خوب صورت گلدان، دستکاری سے مزین ملبوسات اور دیگر روایتی اشیاء یہاں آنے والے زائرین کے لیے یادگار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بہت سے لوگ ان اشیاء کو اپنے ساتھ لے جا کر اس تاریخی بستی کی خوشبو اور یادیں اپنے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔

زیارت کاکا صاحب کی گلیوں میں قدم رکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی کوئی روشن تصویر آج بھی سانس لے رہی ہو۔ قدیم طرز کے مکانات، روایتی حجرے، پتھروں سے تعمیر کی گئی بلند و بالا دیواریں اور وقت کی دھول میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھنے والی پرانی عمارتیں اس بستی کے تاریخی مزاج کی عکاس ہیں۔ کہیں کسی حجرے میں بیٹھا سفید ریش بزرگ، اپنے چہرے پر وقار اور آنکھوں میں صدیوں کی دانائی لیے، اس قدیم تہذیب کی زندہ علامت دکھائی دیتا ہے۔

یہی وہ خصوصیات ہیں جو زیارت کاکا صاحب کو محض ایک گاؤں یا قصبہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے تاریخ، تصوف، مذہب، تہذیب اور پشتون معاشرت کے ایک حسین امتزاج میں بدل دیتی ہیں۔ یہاں کے مزارات روحانی عقیدت کی علامت ہیں، قدیم حجرے اجتماعی زندگی کی یادگار، بازار مقامی ہنرمندی کا آئینہ اور یہاں کی گلیاں گزرے ہوئے زمانوں کی داستان سناتی ہیں۔

زیارت کاکا صاحب دراصل ایک ایسی بستی ہے جہاں ماضی کی روایت اور حال کی زندگی ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتی ہے؛ جہاں بزرگوں کے مزارات روحانی وابستگی کو زندہ رکھتے ہیں اور قدیم گھروں، حجروں اور دستکاریوں میں ایک گزرے ہوئے عہد کی تہذیبی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

18/07/2026

باغبان پورہ کی تاریخ
باغبان پورہ لاہور کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور اس کی بنیاد مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور (1628–1658ء) میں رکھی گئی۔ یہ علاقہ لاہور کے شمال مشرق میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے اور اپنی تاریخی اہمیت کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ �
نام کی وجہ
باغبان پورہ کا مطلب ہے "باغبانوں کی بستی"۔ جب شاہ جہاں نے شالامار باغ تعمیر کروایا تو اس باغ کی دیکھ بھال کرنے والے مالیوں، کاریگروں اور خدمت گاروں کی رہائش کے لیے اس بستی کو آباد کیا گیا۔ اسی وجہ سے اس کا نام باغبان پورہ پڑ گیا۔ �
شالامار باغ سے تعلق
شاہ جہاں نے شالامار باغ کی تعمیر کے لیے اسحاق پور گاؤں کی زمین حاصل کی۔ اس کے بدلے میں مقامی میان خاندان کو موجودہ باغبان پورہ کی زمین دی گئی اور انہیں شالامار باغ کی نگرانی (Custodianship) بھی سونپی گئی، جو کئی نسلوں تک ان کے پاس رہی۔ �

یہ b

18/07/2026

بادامی باغ کی تاریخ (لاہور)
بادامی باغ لاہور کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے، اور اس کا نام مغلیہ دور سے جڑا ہوا ہے۔
نام "بادامی باغ" کیوں پڑا؟
"بادام" یعنی Almond اور "باغ" یعنی Garden۔ مغل دور میں لاہور قلعے کے شمال اور دریائے راوی کے کنارے ایک بہت بڑا پھلوں کا باغ موجود تھا، جس میں بادام کے درخت نمایاں تھے۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو بادامی باغ (باداموں کا باغ) کہا جانے لگا۔ بعد میں آم، آلوچہ اور دوسرے پھلوں کے درخت بھی لگائے گئے، مگر نام "بادامی باغ" ہی رہا۔ �

سکھ دور (1799–1849)
جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا تو اس باغ کے کھلے میدان میں فوجی پریڈ اور سرکاری تقریبات ہونے لگیں۔ سکھ حکمرانوں نے باغ کو مزید وسیع بھی کیا اور نئے درخت لگوائے۔ �

برطانوی دور
1849ء میں انگریزوں نے لاہور پر قبضہ کیا تو اسی علاقے کو فوجی مشقوں کے لیے استعمال کیا۔ بعد میں اس کے ایک حصے کو منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) کا نام دیا گیا، جبکہ بادامی باغ کا نام برقرار رہا۔ �

قیامِ پاکستان کے بعد
1947ء کے بعد بادامی باغ تیزی سے ایک تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز بن گیا۔ یہاں پاکستان کی بڑی ٹرک اڈا مارکیٹ، فروٹ و سبزی منڈیاں، آٹو پارٹس اور مختلف تھوک بازار قائم ہوئے، جس کی وجہ سے آج یہ لاہور کے اہم کاروباری علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ مقبرہ خیر النساء کا ہے، جو شیر شاہ سوری کے عہدِ حکومت میں خوراک کے وزیر (Food Minister) قادر بخش کی صاحبزادی تھیں۔ اگ...
13/07/2026

یہ مقبرہ خیر النساء کا ہے، جو شیر شاہ سوری کے عہدِ حکومت میں خوراک کے وزیر (Food Minister) قادر بخش کی صاحبزادی تھیں۔ اگرچہ اس کی تعمیر کا دورانیہ تاریخی اعتبار سے 1526ء سے 1857ء (مغلیہ اور سوری دور) کے درمیان کا بتایا جاتا ہے، لیکن شیر شاہ سوری کے وزیر کی بیٹی کا مقبرہ ہونے کے ناطے اس کا قریبی تعلق سولہویں صدی کے وسط سے بنتا ہے، جب قلعہ روہتاس تعمیر ہو رہا تھا۔ یہ مقبرہ اس وقت قلعہ روہتاس کے پاس واقع ہے مگر اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔
​طرزِ تعمیر اور ساخت
​معماری کے لحاظ سے یہ مقبرہ اپنے دور کے روایتی اور پختہ طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے:
​بنیادی ڈھانچہ: یہ مقبرہ چوکور (Square) پلان پر بنایا گیا ہے۔
​گنبد: عمارت کی چھت کے عین مرکز میں ایک وشال (بڑا) گنبد قائم ہے، جبکہ اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھانے کے لیے چاروں کونوں پر چھوٹے گنبد تعمیر کیے گئے ہیں۔
​دواخل اور محرابیں: مقبرے میں داخلے کے لیے متعدد راستے دیے گئے ہیں، جن پر لکڑی کے دروازے اور دوہرے نوکیلے محراب (Double Pointed Arches) بنے ہوئے ہیں۔
​بیرونی ڈیزائن: عمارت کے بیرونی حصوں (Facades) پر خوبصورت طاقچے (Niches) بنائے گئے ہیں، جبکہ چاروں اطراف میں نوکیلے محراب دار منڈیر (Parapets) اس کی جاہ و جلال میں اضافہ کرتے ہیں۔

شفقت حسین "میراث کہن" مقصود احمد

یہ گھنٹہ گھر فیصل آباد 1905 کی تصویر تھی۔  اس وقت یہ بالکل نیا بنا تھا اور لیالپور کی پہچان بن گیا تھا۔ آٹھوں بازار یہیں...
05/07/2026

یہ گھنٹہ گھر فیصل آباد 1905 کی تصویر تھی۔
اس وقت یہ بالکل نیا بنا تھا اور لیالپور کی پہچان بن گیا تھا۔ آٹھوں بازار یہیں سے نکلتے تھے

05/07/2026
سکندر مرزا کی کہانی پاکستان کی تاریخ کے ان عجیب ابواب میں سے ایک ہے جنہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔وہ برطانوی فوج م...
05/07/2026

سکندر مرزا کی کہانی پاکستان کی تاریخ کے ان عجیب ابواب میں سے ایک ہے جنہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔
وہ برطانوی فوج میں شامل ہوئے، پھر اچانک وردی اتار کر کپتان سے سول سروس کا حصہ بن گئے۔ وقت گزرتا گیا اور قسمت انہیں اقتدار کے ایوانوں تک لے آئی۔ پاکستان بننے کے بعد وہ پہلے سیکرٹری دفاع بنے، پھر گورنر جنرل، اور آخرکار ملک کے پہلے صدر بھی بن گئے۔

لیکن ان کی شخصیت کا سب سے حیران کن پہلو ان کا فوجی رینک تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جب وہ گورنر جنرل بنے تو ان کے پرانے فوجی ساتھی ترقی کرتے کرتے میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ چکے تھے۔ یہ بات سکندر مرزا کو اندر ہی اندر کھٹکتی تھی۔ ایک صبح انہوں نے سرکاری حکم جاری کیا اور خود کو “میجر جنرل سکندر مرزا” قرار دے دیا۔ نہ کوئی جنگ، نہ کوئی فوجی بورڈ، نہ کوئی روایتی ترقی — بس ایک حکم، اور عہدہ بدل گیا۔

یہ شاید پاکستان کی تاریخ کا واحد واقعہ تھا جب کسی حکمران نے خود ہی خود کو جنرل بنا لیا۔
مزید عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی ان کے نام کے ساتھ “ریٹائرڈ” نہیں لکھا جاتا، کیونکہ وہ باقاعدہ فوج سے ریٹائر ہی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے فوج چھوڑی، سول سروس اختیار کی، اور پھر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ملک کے سب سے طاقتور انسان بن گئے۔

تاریخ میں کئی عجیب کردار گزرے ہیں، مگر سکندر مرزا ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی زندگی حقیقت سے زیادہ کسی سیاسی ناول کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔
عجیب و غریب تاریخ

باجوڑ کا معرکہ: جب افغانیوں نے پاکستانی سرحد پار کرنے کی ناپاک جسارت کیپاکستان کی سرحدی تاریخ میں باجوڑ کا معرکہ ایک ایس...
05/07/2026

باجوڑ کا معرکہ: جب افغانیوں نے پاکستانی سرحد پار کرنے کی ناپاک جسارت کی

پاکستان کی سرحدی تاریخ میں باجوڑ کا معرکہ ایک ایسا باب ہے جسے عام طور پر کم بیان کیا گیا، مگر یہ واقعہ پاکستان کی قومی وحدت، سرحدی دفاع اور قبائلی وفاداری کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ داستان صرف ایک جھڑپ یا سرحدی تصادم کی نہیں، بلکہ ایک نوخیز ریاست کے عزم کی داستان ہے؛ ایک ایسے وقت کی داستان جب پاکستان ابھی اپنے ادارے مضبوط کر رہا تھا، مشرقی اور مغربی سرحدوں کے دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، اور افغانستان کی اُس وقت کی حکومت “پختونستان” کے نام پر پاکستان کے قبائلی علاقوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

افغانستان میں اس زمانے میں بادشاہ ظاہر شاہ حکمران تھے، مگر کابل کی عملی پالیسی پر وزیر اعظم سردار محمد داؤد خان کا اثر بہت گہرا تھا۔ داؤد خان “پختونستان” کے نظریے کے سخت حامی تھے۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ پاکستان کے سرحدی پشتون علاقوں میں یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ وہاں کے لوگ پاکستان کے بجائے کابل کے سیاسی بیانیے کے ساتھ ہیں۔ مگر تاریخ نے باجوڑ میں اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔ افغانستان نے پاکستان کے قیام کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت پر اعتراض کیا تھا، اور اس اعتراض کی بنیاد بھی یہی تھی کہ پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے کو پاکستان کا حصہ نہ مانا جائے جب تک وہاں کے پشتونوں کو الگ راستہ اختیار کرنے کا موقع نہ دیا جائے؛ لیکن پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بن گیا اور افغانستان کا اعتراض کامیاب نہ ہو سکا۔

اس پس منظر کو سمجھے بغیر باجوڑ کے معرکے کو سمجھنا ممکن نہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد کابل کی طرف سے “پختونستان” کا نعرہ بلند کیا گیا۔ افغان ایجنٹ پاکستانی قبائلی علاقوں میں اثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ بعض تحقیقی بیانات کے مطابق افغان عناصر پشتون علاقوں میں پیسہ، اسلحہ اور تبلیغی ذرائع تقسیم کرتے تھے تاکہ پاکستان کے خلاف وفاداریاں بدل سکیں۔ ۱۹۵۵ میں جب پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں پر انتظامی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی تو کابل میں پاکستان مخالف مظاہرے ہوئے، پاکستانی پرچم کی توہین کی گئی، اور تعلقات اتنے خراب ہوئے کہ دونوں ملکوں نے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ تعلقات ۱۹۵۷ میں بحال ہوئے، مگر بداعتمادی ختم نہ ہوئی۔

باجوڑ کی جغرافیائی حیثیت اس بحران کو مزید حساس بناتی تھی۔ باجوڑ آج خیبر پختونخوا کا قبائلی ضلع ہے۔ اس کا صدر مقام خار ہے۔ یہ علاقہ افغانستان کے کنڑ صوبے کے ساتھ لگتا ہے، شمال مشرق میں دیر، جنوب مغرب میں مہمند اور جنوب مشرق میں ملاکنڈ سے متصل ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً ۱۲۹۰ مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ اس مقام کی اہمیت یہ تھی کہ اگر یہاں بدامنی پیدا ہوتی تو اس کا اثر صرف باجوڑ تک محدود نہ رہتا، بلکہ دیر، مہمند، ملاکنڈ، پشاور اور پورے سرحدی دفاع پر پڑ سکتا تھا۔

کابل کا خیال تھا کہ باجوڑ کے اندرونی اختلافات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اُس وقت مقامی سطح پر نوابِ خار، خان آف خار، خان آف جندول، نوابِ دیر اور دیگر قبائلی شخصیات کا اثر موجود تھا۔ افغانستان کی پالیسی یہ تھی کہ کچھ مقامی حامیوں کو ساتھ ملا کر یہ دکھایا جائے کہ قبائلی عوام پاکستان کے بجائے “پختونستان” کی طرف مائل ہیں۔ مگر میدان میں اصل حقیقت مختلف نکلی۔ باجوڑ کے بڑے حصے نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، اور یہی فیصلہ کابل کی حکمت عملی کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔

ستمبر ۱۹۶۰ میں افغان لشکروں اور فوجی عناصر نے باجوڑ کی طرف دباؤ بڑھایا۔ معتبر سفارتی اور تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ ستمبر ۱۹۶۰ کے آخر میں افغان لشکر پاکستان کے باجوڑ علاقے میں داخل ہوا۔ پاکستان نے اعلان کیا کہ یہ لشکر وفادار قبائلیوں سے ٹکرایا اور بھاری نقصان کے بعد بھاگ گیا۔ پاکستان نے یہ بھی الزام لگایا کہ افغان سرحدی علاقے میں باقاعدہ فوجی وسائل، حتیٰ کہ ٹینک بھی جمع کیے گئے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک معمولی قبائلی جھگڑا نہیں تھا، بلکہ سرحد پار سے ایک منظم سیاسی اور عسکری دباؤ تھا۔

باجوڑ کی اصل فیصلہ کن لڑائی ۲۳ اور ۲۴ ستمبر ۱۹۶۰ کے قریب ہوئی۔ اس مقابلے میں افغان لشکر کے سامنے باجوڑ کے مقامی پاکستانی قبائل کھڑے ہوئے، جن کی قیادت خان آف خار کے زیر اثر مقامی قوتوں نے کی۔ اسلام آباد کے ادارہ برائے تزویراتی مطالعات کے ایک تجزیے کے مطابق سردار داؤد نے “پختونستان” کے مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے کے لیے افغان لشکر تیار کیا، اسمر اور چغہ سرائے کے علاقوں میں فوجی نقل و حرکت بڑھائی، اور باجوڑ میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسی بیان کے مطابق ۲۳ اور ۲۴ ستمبر کو افغان لشکر اور خان آف خار کی قیادت میں مقامی قبائل کے درمیان بڑا مقابلہ ہوا، جس میں باجوڑ کے لوگوں نے افغان لشکر کو ذلت آمیز شکست دی، اسے پسپا کیا، اور کئی افغان افراد گرفتار کر کے پاکستانی حکومت کے حوالے کیے۔

یہ شکست صرف میدان کی شکست نہیں تھی؛ یہ کابل کے سیاسی بیانیے کی شکست بھی تھی۔ افغانستان کا خیال تھا کہ پاکستانی پشتون قبائل “پختونستان” کے نعرے پر پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، مگر ایسا نہ ہوا۔ امریکی سفارتی ریکارڈ میں بھی واضح طور پر لکھا گیا کہ حملہ آور افغان قبائلیوں کو پاکستانی قبائلیوں نے شکست دی، اور پاکستانی قبائل “پختونستان” کے لیے نہیں اٹھے۔ یہ جملہ باجوڑ کے معرکے کی روح بیان کرتا ہے: کابل نے قبائلی شناخت کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہا، مگر قبائلی غیرت پاکستان کی سرحد کے دفاع میں دیوار بن گئی۔

اس موقع پر پاکستان کی ریاستی قیادت نے بھی واضح مؤقف اپنایا۔ صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور میں پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ وہ افغانستان سے امن چاہتا ہے، مگر اپنی سرزمین پر مداخلت قبول نہیں کرے گا۔ امریکی ریکارڈ میں ایوب خان کی گفتگو کا خلاصہ ملتا ہے جس میں انہوں نے باجوڑ کے ستمبر ۱۹۶۰ کے آپریشنز کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانی قبائل نے دراندازوں کو “کچلنے والی شکست” دی۔ اسی ریکارڈ میں یہ بھی درج ہے کہ اس وقت پاکستانی اطلاعات کے مطابق باجوڑ کے مقابل افغان علاقے میں پانچ سے آٹھ بریگیڈ تک فوجی اجتماع کا خدشہ موجود تھا، اور افغان ایجنٹ پاکستانی قبائلی علاقوں میں بغاوت بھڑکانے کی کوشش کر رہے تھے۔

باجوڑ کے پہاڑوں میں پاکستانی فتح کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہ صرف باقاعدہ فوجی طاقت کی فتح نہ تھی۔ اس میں مقامی قبائل، باجوڑ کے وفادار عمائدین، سرحدی دستوں اور پاکستانی ریاستی اداروں کا مشترکہ کردار تھا۔ اس اتحاد نے وہ کام کیا جس کی کابل کو توقع نہ تھی۔ افغانستان کی حکمت عملی یہ تھی کہ قبائلی معاشرے کی دراڑوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے، مگر پاکستان کی کامیابی یہ تھی کہ اس نے قبائلی وفاداری کو اپنے دفاعی نظام کا حصہ بنایا۔ اس طرح باجوڑ میں پاکستان کا دفاع صرف بندوق سے نہیں، بلکہ اعتماد، مقامی قیادت اور قومی وابستگی سے ہوا۔

سنہ ۱۹۶۱ میں کشیدگی دوبارہ بڑھی۔ مارچ میں افغانستان نے پاکستان پر باجوڑ میں بمباری کا الزام لگایا، جبکہ پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ کارروائی اُن ٹھکانوں کے خلاف تھی جہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیاں منظم کی جا رہی تھیں۔ مئی ۱۹۶۱ میں معاملہ مزید سنگین ہوا۔ پاکستانی بیانات کے مطابق افغان افواج نے باجوڑ کے مسکینئی اور سنگپورہ کے قریب پاکستانی چوکیوں پر حملہ کیا۔ اسی دور کی رپورٹوں کے مطابق ۱۹ اور ۲۰ مئی کو حملوں کے بعد ۲۱ مئی کو پاکستانی فضائیہ نے حرکت میں آ کر اُن مشین گن اور مارٹر پوزیشنوں کو تباہ کیا جہاں سے پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

پاکستانی فضائیہ کا کردار اس پورے بحران میں فیصلہ کن تھا۔ باجوڑ کا پہاڑی علاقہ زمینی جنگ کے لیے دشوار تھا؛ راستے تنگ، درّے مشکل، اور سرحدی پگڈنڈیاں پیچیدہ تھیں۔ ایسے ماحول میں فضائی قوت نے پاکستانی دفاع کو مضبوط کیا۔ تحقیقی بیانات کے مطابق مئی ۱۹۶۱ میں افغان پوزیشنوں کے خلاف پاکستانی فضائی کارروائی ہوئی، اور ۲۲ مئی کو پاکستانی طیاروں نے باغانندیل کے قریب افغان حملہ آوروں کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی نے افغان پیش قدمی کو مزید دباؤ میں ڈالا اور باجوڑ کے محاذ پر پاکستان کی برتری واضح کر دی۔

یہاں ایک بات بہت اہم ہے: باجوڑ کا معرکہ افغان عوام کے خلاف نہیں تھا۔ یہ کابل کی اُس وقت کی پالیسی کے خلاف پاکستان کا دفاعی جواب تھا۔ پاکستان نے افغانستان کے لوگوں کو دشمن نہیں بنایا، بلکہ اپنے علاقے میں دراندازی، اسلحہ، لشکر اور سرحدی دباؤ کا مقابلہ کیا۔ یہی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ہوتا ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی سرحدی حرمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

افغانستان کے لیے باجوڑ کا نتیجہ نہایت مایوس کن تھا۔ نہ باجوڑ ہاتھ آیا، نہ پاکستانی قبائل نے “پختونستان” کے نام پر بغاوت کی، نہ کابل کو وہ سیاسی کامیابی ملی جس کی اسے امید تھی۔ اس کے برعکس، پاکستان نے تین سطحوں پر کامیابی حاصل کی: زمینی سطح پر افغان لشکر پسپا ہوا، مقامی سطح پر قبائل پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے، اور سفارتی سطح پر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر کمزور نہیں۔ امریکی دستاویزات میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ پاکستانی قبائل کے ہاتھوں افغان دراندازوں کی شکست نے داؤد خان کے لیے “پختونستان” کے مسئلے کو مزید مشکل بنا دیا۔

اس معرکے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید خراب ہوئے۔ ۱۹۶۱ کے بعد دونوں ملکوں نے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے، تجارت متاثر ہوئی، اور سرحدی راستوں پر سختی بڑھ گئی۔ افغانستان ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک تھا، اس لیے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کا معاشی نقصان کابل کو بھی برداشت کرنا پڑا۔ بعد میں ایران کے شاہ کی ثالثی سے ۱۹۶۳ میں دونوں ملکوں کے درمیان نسبتاً نرمی پیدا ہوئی، مگر باجوڑ کا واقعہ دونوں ممالک کی تاریخ میں ایک گہرا نشان چھوڑ گیا۔
عجیب و غریب تاریخ

دنیا کا پہلا ہوائی جہاز بنانے والا مسلمان سائنس دانابو القاسم عباس بن فرناس وہ عظیم مسلمان سائنسدان ہیں جنہوں نے دنیا کا...
05/07/2026

دنیا کا پہلا ہوائی جہاز بنانے والا مسلمان سائنس دان

ابو القاسم عباس بن فرناس وہ عظیم مسلمان سائنسدان ہیں جنہوں نے دنیا کا پہلا ہوائی جہاز بنا کر اڑایا-

عباس بن فرناس ایک موجد، مہندس (انجنیئر)، طیارچی، حکیم، شاعر اور موسیقار، طبعیات، ماہر فلکیات اور کیمیادان تھے- وہ اندلس، موجودہ اسپین کا پرانا نام ، کے شہر اذن۔ رند۔ اوندا میں 810ء میں پیدا ہوئے اور بعد میں ‘قرطبہ’ میں رہائش اختیار کی۔ عباس ابن فرناس بربرنژاد اور جنوبی اندلس کے ضلع تکرنہ کے باشندہ تھے۔

انہوں نے اپنی تمام عمر قرطبہ میں بسر کی اور اپنے علم و حکمت کی بنا پر اُس زمانے کے عظیم ترین سائنس دان کہلائے۔ ان کی ایجادات اور اختراعات بے شمار ہیں اور اگر انہیں اپنے زمانے کا نابغہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

علمی کارنامے

ابو القاسم عباس بن فرناس علم ریاضی، شاعری، طبعیات، پراسرار علوم کے ماہر اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں یکتا تھے۔ انہوں نے قلمی چٹانوں کو توڑنے کے لیے مشین بنائی اور تال ترازُو بھی بنائی۔ اس کے علاوہ آبی گھڑی بھی ایجاد کی۔ کرسٹل بنانے کا فارمولا بنایا اور تو اور اپنی تجربہ گاہ میں انہوں نے شیشے اور مشینوں کی مدد سے ایک ایسا پلانیٹیریم بنایا جس میں لوگ بیٹھ کر ستارے، بادلوں کی حرکت اور ان کی گرج چمک کا مظاہرہ دیکھ سکتے تھے۔

علم ہیئت اور فلکیات اور علوم نجوم کے ضمن میں اندلسی مسلمان سائنسدانوں میں اگرچہ علی بن خلاق اندلسی اور مظفرالدین طوسی کی خدمات بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، مگر ان سے بھی بہت پہلے تیسری صدی ہجری میں قرطبہ کے عظیم سائنسدان عباس بن فرناس نے اپنے گھر میں ایک کمرہ تیار کر رکھا تھا جو دور جدید کی سیارہ گارہ کی بنیاد بنا۔ اس میں ستارے، بادل اور بجلی کی گرج چمک جیسے مظاہرِ فطرت کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ بعد ازاں البیرونی اور ازرقیل وغیرہ نے اس کو وضع کیا اور ترقی دی۔

عباس بن فرناس کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک دفعہ ایک تاجر بلاد مشرق کے سفر سے واپسی پر مشہور مسلمان عالم خلیل بن احمد کی کتاب اپنے ساتھ لایا۔ خلیل ایک عالم، شاعر اور ماہر لسانیات تھے جو آٹھویں صدی میں بغداد میں ہو گزرا تھے۔ ان کا ایک کارنامہ عربی کی پہلی لغت تیار کرنا تھا۔ انہوں نے شاعری میں علم عروض اورحسابی تقطیع کی بنیاد ڈالی تھی۔ یہ کتاب اسپین میں بالکل نئی آئی تھی اور کوئی اس کے مندرجات سے واقف نہیں تھا اور نہ اس کی تشریح کرنے پر قادر تھا چنانچہ یہ کتاب ابن فرناس کے سپرد کی گئی۔ وہ اسے لے کر ایک گوشے میں چند ساعت کے لیے بیٹھ گئے اور اس کے بعد انہوں نے اس کتاب کی ریاضیاتی ترکیب اور مطالب بڑی وضاحت سے اپنے حاضرین کو بیان کیے جسے سن کر وہ ان کی مہارت اور یادداشت پر ششدر رہ گئے۔

کارہائے نمایاں

ابو القاسم عباس بن فرناس کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخ میں پہلی انسانی پرواز ہے۔ وہ گھنٹوں پرندوں کو محو پرواز دیکھ کر انہیں کی طرح اڑنے کا خواہش مند تھا۔ انہوں نے کئی برس پرندوں کی پرواز کی تکنیک یعنی ایروڈائنامیکس کا بغور مطالعہ کیا اور ایک دن یہ اعلان کیا کہ انسان بھی پرندوں کی طرح اڑ سکتا ہے۔ جب اس عظیم سائنس دان کے ناقدین نے اُس کا مذاق اڑایا تو اس نے اپنی تھیوری کا عملی مظاہرہ بذات خود کرنے کا اعلان کر دیا۔

عباس ابن فرناس نے پرندوں کے سے دو پر سائز میں اپنے وزن کے مطابق تیار کیے اور ان کے فریم ریشم کے کپڑے سے منڈھ دیے۔ پھر قرطبہ سے دو میل دور شمال مغرب میں واقع امیر عبد الرحمن الداخل کے بنائے ہوئے محل رصافہ کے اوپر واقع ایک پہاڑی پر چڑھ کر کئی سو تماش بینوں کی موجودگی میں چٹان کے اوپر کھڑے ہو کر دونوں پر اپنے جسم کے ساتھ باندھ لیے۔ تماشائی بڑی حیرت اور تعجب سے یہ ساری کارروائی دیکھ رہے تھے ان کا خیال تھا کہ ابھی اسی کوشش میں اس پاگل سائنس دان کی ہڈیاں تک سلامت نہیں بچیں گی۔

اپنی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ابن فرناس نے تماشائیوں کی جانب ایک نظر دیکھا اور پھر پہاڑی سے چھلانگ لگا دی۔ وہ اپنے پروں کی مدد سے ہوا میں کچھ دیر تیرتا رہا اور پہاڑ سے کچھ فاصلے پر واقع ایک میدان میں بحفاظت اتر گیا، اگرچہ اس کی کمر اترنے کے دوران دباو کی وجہ سے تھوڑی بہت متاثر ہوئی۔ اس وقت اس کی عمر 65 یا 70 برس بیان کی جاتی ہے۔ یہ واقعہ نویں صدی کے دوسرے ربع میں پیش آیا اور اس طرح یہ عظیم مسلمان سائنس دان انسانی تاریخ کا ہوا میں پہلا اڑنے والا انسان کہلایا۔

عباس ابن فرناس نے اپنا تجربہ ایسی پہاڑیوں پر مشتمل جگہ پر کیا جس کے نیچے ایک بہت بڑا ہموار قطعہ زمیں واقع تھا۔ اس جگہ ہوا نیچے زمین سے ہو کر پہاڑیوں سے ٹکراتی تھی اور اس کے بعد بلندی کی جانب جاتی تھی۔ وہاں پرندے ہوا کی اس قوت کی وجہ سے دوران پرواز فضا میں معلق رہنے کا مزہ اٹھاتے تھے۔ ابن فرناس نے پچھلے تئیس برس ایروڈانامیکس کا مطالعہ کرتے ہوئے گزارے تھے۔ مقررہ دن چھلانگ لگانے کے بعد ابن فرناس ہوا میں کچھ روایات کے مطابق دس سیکنڈ پرواز کرتے رہے مگر لینڈنگ کے دوران زمین سے بری طرح ٹکرا گئے۔ ان کی کمر اور چند دوسری ہڈیاں متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے وہ ایک عرصہ صاحب فراش رہے۔ مگر وہ کچھ مدت بعد اپنی اس معذوری اور بڑھاپے کے باوجود چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ یہ درد اور معذوری ان کی بقیہ عمر کے بارہ سال تک ان کے ساتھ رہی۔ تاہم ان بقیہ سالوں میں انہوں نے اپنے پلانیٹیریم کو امیر اندلس کی فرمائش پر موبائل بنایا۔ ریت سے بلور بنانے کا کام جاری رکھا، پانی اور دوسری قسم کی گھڑیاں بنانا بھی جاری رکھا۔

اپنے فارغ وقت میں وہ اکثر غور کرتے کہ آخر پرواز کرنے والے پروں اور فریم میں کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے انہیں چوٹ کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ان کی سمجھ میں یہی آیا کہ پرندے اپنی پرواز اور لینڈنگ کے دوران اپنی دم کا استعمال کرتے ہیں۔ عباس ابن فرناس نے پر تو بنا لیے تھے مگر دم کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے۔ انہیں اپنی اس غلطی کا احساس شاید آخری سانس تک رہا۔

ابن فرناس کے گزرنے کے کئی سال بعد تقریباً 1010ء میں ایک یورپی راہب ایلمر مالسمبری نے بھی عباس ابن فرناس کے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق اڑن مشین بنائی اور اس کے مزید کچھ صدیوں بعد پندرہویں صدی میں لیونارڈو ڈاؤنچی نے اس میں اضافہ کیا۔

یادگار

دنیا کے پہلے ہوا باز عباس ابن فرناس کا مجسمہ

عباس ابن فرناس کے نام پہ چاند میں ایک گڑھے کا نام بھی رکھا گیا ہے۔

ہسپانیہ میں ابن فرناس کے نام پر ایک برج بنایا گیا۔

دبئی کے ابن بطوطہ شاپنگ مال میں ابن فرناس کا مجسمہ اڑان کے تجربات کے حالت میں نصب کیا گیا۔

ہسپانیہ میں اس کا مجسمہ بناکر نصب کیا گیا۔

حوالہ: وکی پیڈیا

05/07/2026

ابو عبداللہ محمد الادریسی (Abu Abdullah Muhammad al-Idrisi) بارہویں صدی کے ایک عظیم مسلم جغرافیہ دان، نقشہ نویس اور سائنس دان تھے۔ انہوں نے 1154 میں 'Tabula Rogeriana' کے نام سے دنیا کا سب سے پہلا تفصیلی اور سائنسی نقشہ اور 'نزہت المشتاق فی اختراق الآفاق' کے نام سے ایک انسائیکلوپیڈیا نما کتاب تیار کی۔ان کے حالاتِ زندگی اور کام کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:ابتدائی زندگی اور تعلیم:پیدائش: وہ 1100 میں شمالی افریقہ کے شہر سبتہ (Ceuta، موجودہ مراکش) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و سفر: انہوں نے اندلس (اسپین) کے مشہور شہر قرطبہ (Cordoba) سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے جوانی میں اسپین، پرتگال، فرانس، انگلینڈ اور ایشیا کے مختلف حصوں کے سفر کیے۔سسلی میں قیام: ان کی علمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے سسلی کے نائبرمن (Norman) عیسائی بادشاہ راجر دوم (Roger II) نے انہیں اپنے دربار میں مدعو کیا۔دنیا کا نقشہ (Tabula Rogeriana) اور اس کی خصوصیات:تیاری کا عرصہ: الادریسی نے اس نقشے اور کتاب کو مکمل کرنے میں 15 سال لگائے۔معلومات کا ماخذ: یہ نقشہ محض تخیل پر مبنی نہیں تھا، بلکہ انہوں نے دنیا بھر کے مسافروں، تاجروں اور اپنے بھیجے گئے ماہرین سے معلومات اکٹھی کیں۔چاندی کا نقشہ: اس نقشے کے ساتھ بادشاہ کی فرمائش پر ایک بہت بڑا دائرہ نما نقشہ ٹھوس چاندی (Silver Planisphere) پر بھی بنایا گیا تھا جس کا قطر تقریباً 2 میٹر (80 انچ) اور وزن 450 پاؤنڈ تھا۔نقشے کی خاصیت: اس میں دنیا کو 7 موسمی خطوں (Climates) میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں یورپ، ایشیا اور شمالی افریقہ کو بڑی درستگی کے ساتھ دکھایا گیا۔ اس دور کے مسلم نقشوں کی طرح اس میں بھی جنوب کی سمت اوپر اور شمال کی سمت نیچے رکھی گئی تھی۔زمین کے بارے میں نظریہ:الادریسی ان سائنس دانوں میں سے تھے جو اس دور میں بھی زمین کو گول مانتے تھے۔ ان کی کتاب کے مطابق زمین خلا میں بالکل ایسے معلق ہے جیسے انڈے کی زردی۔ انہوں نے زمین کا محیط (Circumference) 22,900 میل کے لگ بھگ ناپا جو جدید پیمائش سے صرف 10 فیصد تک مختلف تھا۔مستقبل پر اثرات:ان کی کتاب 'نزہت المشتاق' اور نقشے یورپ اور اسلامی دنیا میں تقریباً 300 سال تک جغرافیہ کے بنیادی ترین حوالے کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ ان کے کام نے بعد میں آنے والے مشہور یورپی مہم جوؤں، جیسے کرسٹوفر کولمبس، کے سفروں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔کیا آپ الادریسی کے تیار کردہ موسمی خطوں (Climates) یا ان کی کتاب میں درج ممالک اور شہروں کے جغرافیہ کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟The first map to show Europe, Asia, and North Africa - 1001 InventionsNonetheless, he invited Al-Idrisi, who was at that time living in Spain, to make the map for him—a task that would take 15 years. Twelfth-century Sicily was a g...1001 InventionsMuhammad al-Idrisi | Geographer, Maps, & Biography - Britannica۲۰۲۶ مۍ ۱۲ — Al-Idrīsī's work combined existing Arabic and Greek geographical knowledge with firsthand observations and eyewitness accounts. To complete it, he dispatched ob...Encyclopedia BritannicaThe Islamic World Map of 1154 | Timeless۲۰۲۱ اګست ۲۵ — In 1154, Abu Abdallah Muhammad ibn Muhammad ibn Abdallah ibn Idrīs al-sharif al-Idrīsī (or al-Idrisi) completed a detailed geographical work. The map is upside ...Library of Congress (.gov)Muhammad al-Idrisi Father of Modern Geography and Maps!Idrisi worked on the commentaries and illustrations of the map for fifteen years! At an early age he traveled to Islamic. Spain, Portugal, France and England, a...International Journal of Pathologyal-Idrisi and Roger II: Mapping The World in the 12th CenturyIt was with Roger as patron that al-Idrīsī started work, together with a team of collaborators, on the definitive world map of the age. In order to ensure its a...Factum Foundational-Idrīsī | Biography | Research Starters - EBSCOAt Roger's court, al-Idrīsī was honored as a noble, scholar, and traveler, and it was there that his real fame as a geographer and cartographer came. During the...EBSCOWho is al-Idrisi? | Saudi Geographical Society۲۰۲۳ جولای ۱۶ — He was born in Ceuta, Morocco in 1100 and died in 1166. He was educated in Cordoba, Andalusia, and is sometimes called al-Qurtubi. Al-Idrisi was famous for his ...الجمعية الجغرافية السعوديةIn his famous world map and book, the Arab scientist Al-Idrisi ...۲۰۲۱ نومبر ۳۰ — The World Map by Al-Idrisi (1099-1166). The First Map to show Europe, Asia & North Africa. - In the 12th century, Al-Idrisi, a Muslim Scholar produced an atlas ...Facebook·Middle East MonitorAl-Idrisi - Muslim HeritageMuslim HeritageAbu Abdullah Muhammad al-Idrisi al-Qurtubi al-Hasani as-Sabti; or simply al-Idrisi /ælɪˈdriːsiː/ (Arabic: أبو عبد الله محمد الإدريسي القرطبي الحسني السبتي‎; Lat...Muslim HeritageAl-Idrisi - Students - Britannica KidsAl-Idrisi completed three major geographical works. The most important was a descriptive geography, which combined material from Arabic and Greek geographical w...Britannica KidsThe Baddest Elves of History - Muhammad al Isdrisi - Bad Elf۲۰۲۵ مارچ ۲۰ — Who he was: A Moroccan-born geographer (1100–1165) who created one of history's greatest medieval maps. What he did: Al-Idrisi traveled extensively across North...Bad Elfthe biography of muhammad al-idrisi - Facebook۲۰۲۳ جولای ۱۵ — Hey everyone, have you heard of Muḥammad al-Idrīsī? He was an amazing Muslim scientist and geographer from the 12th century who made important contributions to ...Facebook·KOYON KARATUN LARABCI DA NAHWUAl-Idrisi: 12th Century Geographer Who Mapped Medieval Krakow۲۰۲۵ اګست ۱۹ — The Book of Roger and Cartographic Work Al-Idrisi became secretary of the commission established to create a comprehensive map of the known world. This position...krakow.wikiAl-Idrisi's World Map (1154): A Medieval Masterpiece ... - Facebook۲۰۲۶ جون ۱۴ — Muhammad al-Idrisi, a distinguished medieval Arab geographer, cartographer, and scholar, created a remarkable world map in 1154, known as the "Tabula Rogeriana.FacebookMuhammad al-Idrisi Father of Modern Geography and Maps!The ce- lestial and terrestrial planisphere of silver nearly six feet in diameter, and weighed four hundred and fifty pounds; upon the one side the zodiac and t...International Journal of Pathology AI can make mistakes, so double-check responses Ask about Ask about

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjab Media Cell posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share