18/08/2026
زیارت کاکا صاحب — روحانیت، تاریخ اور تہذیب کا حسین سنگم
خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں واقع زیارت کاکا صاحب ایک ایسا تاریخی، مذہبی اور روحانی خطہ ہے جس کی شناخت صدیوں سے اولیائے کرام، علم و عرفان اور روحانی روایات سے وابستہ چلی آ رہی ہے۔ نوشہرہ شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر آباد اس بستی کی شہرت بالخصوص یہاں مدفون عظیم روحانی پیشوا حضرت سید کستیر گلؒ المعروف حضرت کاکا صاحبؒ کے مرقدِ اقدس کی نسبت سے ہے، اور اسی روحانی نسبت نے اسے ’’زیارت کاکا صاحب‘‘ کا نام عطا کیا۔
حضرت کاکا صاحبؒ اپنے عہد کے جلیل القدر صوفی، صاحبِ علم و معرفت اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ سے چشتیہ اور سہروردیہ سلاسل کی نسبت بیان کی جاتی ہے۔ آپ نے ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی معرفت میں بھی بلند مقام حاصل کیا اور اپنی زندگی دینِ اسلام کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور تزکیۂ نفس کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے وابستہ افراد کو شریعتِ مطہرہ کے احکام کی پابندی، حسنِ اخلاق اور روحانی پاکیزگی کی تلقین کی جاتی تھی۔ یوں آپ کی خانقاہ علم و عرفان اور دینی تربیت کا ایک مؤثر مرکز بن گئی، جس کی روشنی گرد و نواح کے علاقوں تک پھیلتی چلی گئی۔
اکوڑہ خٹک میں مدفون بزرگِ دین حضرت اخون الدین باباؒ کو آپ کا استادِ محترم بیان کیا جاتا ہے۔ اس نسبت نے اکوڑہ خٹک، زیارت کاکا صاحب اور گرد و نواح کے اس پورے خطے کو ایک مضبوط روحانی سلسلے میں جوڑ دیا ہے۔
حضرت کاکا صاحبؒ کا مزارِ اقدس آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے ایک روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدیوں سے مختلف علاقوں سے آنے والے زائرین یہاں حاضری دیتے چلے آ رہے ہیں۔ خصوصاً مذہبی اجتماعات، ایامِ عرس اور دیگر روحانی مواقع پر یہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ مزار کے اطراف میں موجود مساجد، مدارس، خانقاہیں اور علمی و روحانی خانوادے اس بستی کی مذہبی شناخت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
زیارت کاکا صاحب کے گرد و نواح کی سرزمین کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں ایک ہی روحانی خانوادے سے وابستہ کئی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔ حضرت بہادر باباؒ، حضرت کاکا صاحبؒ کے والدِ محترم، حضرت مست باباؒ آپ کے دادا اور حضرت غالب باباؒ آپ کے پڑدادا بزرگ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ ان بزرگوں کے مزارات اس خطے کی روحانی تاریخ کے اہم آثار شمار ہوتے ہیں اور آج بھی اہلِ عقیدت کے لیے باعثِ احترام ہیں۔
حضرت کاکا صاحبؒ کی اولاد کو عموماً میاں گان کہا جاتا ہے۔ ان کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے نام کے آغاز میں ’’میاں‘‘ لکھنے کو اپنے بزرگوں کی نسبت اور خانوادۂ روحانیت سے وابستگی کا باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ مزارِ اقدس کے بیرونی احاطے میں خاندان کے افراد اور بعض عقیدت مندوں کے مزارات بھی موجود ہیں، جو اس مقام کی قدامت اور روحانی تسلسل کی خاموش داستان سناتے ہیں۔
زیارت کاکا صاحب صرف ایک مذہبی مقام ہی نہیں بلکہ اپنی قدیم تہذیبی اور ثقافتی فضا کے باعث بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے بازار میں مقامی ہنرمندوں کی تیار کردہ مختلف اشیاء آج بھی بستی کی قدیم دستکاری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہاتھ کے بنے پنکھے، خوب صورت گلدان، دستکاری سے مزین ملبوسات اور دیگر روایتی اشیاء یہاں آنے والے زائرین کے لیے یادگار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بہت سے لوگ ان اشیاء کو اپنے ساتھ لے جا کر اس تاریخی بستی کی خوشبو اور یادیں اپنے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔
زیارت کاکا صاحب کی گلیوں میں قدم رکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی کوئی روشن تصویر آج بھی سانس لے رہی ہو۔ قدیم طرز کے مکانات، روایتی حجرے، پتھروں سے تعمیر کی گئی بلند و بالا دیواریں اور وقت کی دھول میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھنے والی پرانی عمارتیں اس بستی کے تاریخی مزاج کی عکاس ہیں۔ کہیں کسی حجرے میں بیٹھا سفید ریش بزرگ، اپنے چہرے پر وقار اور آنکھوں میں صدیوں کی دانائی لیے، اس قدیم تہذیب کی زندہ علامت دکھائی دیتا ہے۔
یہی وہ خصوصیات ہیں جو زیارت کاکا صاحب کو محض ایک گاؤں یا قصبہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے تاریخ، تصوف، مذہب، تہذیب اور پشتون معاشرت کے ایک حسین امتزاج میں بدل دیتی ہیں۔ یہاں کے مزارات روحانی عقیدت کی علامت ہیں، قدیم حجرے اجتماعی زندگی کی یادگار، بازار مقامی ہنرمندی کا آئینہ اور یہاں کی گلیاں گزرے ہوئے زمانوں کی داستان سناتی ہیں۔
زیارت کاکا صاحب دراصل ایک ایسی بستی ہے جہاں ماضی کی روایت اور حال کی زندگی ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتی ہے؛ جہاں بزرگوں کے مزارات روحانی وابستگی کو زندہ رکھتے ہیں اور قدیم گھروں، حجروں اور دستکاریوں میں ایک گزرے ہوئے عہد کی تہذیبی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔