پیام جہاں

پیام جہاں Monthly Pyam-E-Jahan focused on Urdu Literature, (Poetry, Gazals, Novels)

موضوع: مختار صدیقی کی شاعری، ان کا اسلوب اور منتخب اشعار۔مصنفِ تحریر: محمود الحسن۔نمنماتی اشعار: اس تحریر میں مختار صدیق...
18/09/2026

موضوع: مختار صدیقی کی شاعری، ان کا اسلوب اور منتخب اشعار۔
مصنفِ تحریر: محمود الحسن۔
نمنماتی اشعار: اس تحریر میں مختار صدیقی کے درج ذیل مشہور اشعار بھی شامل ہیں:
شانِ خدا ہے آج زمانہ آیا ہم بے ہنروں کا / ورنہ اس اک بستی میں بھی کیا کیا اہل کمال ہوئے
اپنے حال کو جان کے ہم نے فقر کا دامن تھاما ہے / جن داموں یہ دنیا ملتی، اتنے ہمارے دام کہاں
رات بہت بہ حال رہے ہیں، بھولی بسری یادوں نے / اک ایک گھڑی ہے خوابی کی کن جتنوں سے بہلائی ہے

اس نے چھوڑا ہی نہیں زخم لگانا دل کا ٹوٹ کر رہ گیا ہر خواب سہانا دل کاصبیحہ خان صبیحہ
14/09/2026

اس نے چھوڑا ہی نہیں زخم لگانا دل کا
ٹوٹ کر رہ گیا ہر خواب سہانا دل کا
صبیحہ خان صبیحہ

نہیں گرتا دامن پہ جو اشک غم ہے۔ کسی غمزدہ آنکھ کا وہ بھرم ہے۔ مقدر کسی کا یہاں تشنہ کامی ۔ کسی کے لئے زندگی جام جم ہے۔صب...
14/09/2026

نہیں گرتا دامن پہ جو اشک غم ہے۔
کسی غمزدہ آنکھ کا وہ بھرم ہے۔
مقدر کسی کا یہاں تشنہ کامی ۔
کسی کے لئے زندگی جام جم ہے۔

صبیحہ خان صبیحہ

اک دھواں سا نکل رہا ہو گاآشیاں اب بھی جل رہا ہوگااس ارادے سے آج نکلے ہیں وہ بھی گھر سے  نکل  رہا  ہوگاہم سر راہ  اس  کو ...
14/09/2026

اک دھواں سا نکل رہا ہو گا
آشیاں اب بھی جل رہا ہوگا

اس ارادے سے آج نکلے ہیں
وہ بھی گھر سے نکل رہا ہوگا

ہم سر راہ اس کو مل جائیں
اس کا دل بھی مچل رہا ہوگا

اپنی منزل وہ پائے گا جس کا
فیصلہ گر اٹل رہا ہو گا

ہم نہیں ہیں پر اُس خرابے میں
چاند اب بھی نکل رہا ہوگا

میں رہوں نا رہوں کسی کو کیا
کام گلشن کا چل رہا ہوگا

کچھ نہ کچھ تو صبیحہ کر لیں گے
شوق گر دل میں پل رہا ہوگا

صبیحہ خان صبیحہ

میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نا گئیشاھد ماکلی
10/09/2026

میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نا گئی
شاھد ماکلی

گمشدہ گاؤں از: فرح انورشاید کوئی نہیں جانتا کہ ایک انسان کے اندر کتنی صدیاں مدفون ہیں، میری دادی نے میرے ہاتھ کی لکیروں ...
05/09/2026

گمشدہ گاؤں
از: فرح انور

شاید کوئی نہیں جانتا کہ ایک انسان کے اندر کتنی صدیاں مدفون ہیں، میری دادی نے میرے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ کر پوچھا تھا کہ ان لکیروں میں کیا دیکھتی ہو؟ میں نے کہا: یہ لکیریں شہر نہیں، گاؤں ہیں۔ مجھے ان میں وہ سب کچھ نظر آتا ہے جو میں کھو چکی ہوں۔ ایک دھندلا صبح کا سورج، ایک اداس شام کی اذان، اور مٹی کی وہ خوشبو جو شہر کی سڑکوں پر کبھی نہیں آتی۔ وہ بزرگ خاموش رہے، شاید وہ بھی کسی گمشدہ گاؤں کو تلاش کر رہے تھے۔

اس سیاہی کی طرح، جسے میں نے کبھی دیکھا تھا، میرے اندر بھی ایک پوری بستی بسی ہے۔ جہاں بوڑھی عورتیں چرخے پر کتائی کرتی ہیں، جہاں دادا جان اپنی کھونڈی پر ٹیک لگائے داستانیں سناتے ہیں، اور جہاں مائیں روٹی پکاتے وقت ان گنت دعائیں کرتی ہیں۔ وہاں وقت رکتا نہیں، بہتا ہے—آہستہ، مگر گہرا۔ اور میں آج بھی اس بہاؤ میں اپنا بچپن دیکھتی ہوں۔ وہ آوازیں جو اب خاموش ہو چکی ہیں، مجھے اب بھی بلاتی ہیں۔ "بیٹا، جلدی آؤ، شام ڈھل گئی۔" "اتنا مت پڑھو، آنکھیں تھک جائیں گی۔"

میں نے اس سیاہی میں سفید دوپٹے والی وہ عورتیں دیکھیں جنہوں نے دعاؤں میں ہاتھ اٹھائے تو لگا جیسے آسمان خود جھک گیا ہو۔ اور وہ بزرگ مرد، جن کی داڑھیوں میں حکمت اور آنکھوں میں نرمی تھی۔ ان کے سامنے کوئی بڑا نہیں تھا، صرف ایک جملہ تھا: "آپ کا جو حکم بابا سائیں" یہ وہ زبان تھی جو الفاظ سے نہیں، روح سے بولتی تھی۔

پھر وہ چوری چھپے خط، جو کزنوں کے ہاتھوں پہنچتے تھے۔ وہ جھانکیاں جو سرکنڈوں کے پیچھے سے، چھتوں کی منڈیروں سے، شادیوں کی رونقوں میں کہیں کھو جاتی تھیں۔ ایک نظر جو کچھ کہہ کر بھی خاموش رہتی تھی، اور کچھ سن کر بھی بہرہ۔ وہ زمانہ جب ہنس کر کہتے تھے "عاشقانِ مادھوری ڈکشٹ" — جب چائے اور کیپسٹن کی منفرد مہک ہر گلی میں مہکتی تھی، اور بیٹھک کی ہر دیوار پر عمران خان اور وسیم اکرم کے پوسٹر لگے ہوتے تھے۔

اور اس سب کے پیچھے ایک چہرہ مسکراتا ہے۔ وہ میرے بابا جان کا چہرہ ہے، جن کی شخصیت میں احمد فراز کی سی بےپروائی تھی اور احمد ندیم قاسمی کی سی مٹھاس۔ وہ آج بھی بادلوں میں گاؤں ڈھونڈتے ہیں، اور شہر کی تیز رفتاری میں ٹھہرے ہوئے وقت کو پکارتے ہیں۔ وہ کہتے تھے: شہر آنا جگہ بدلنا نہیں، وجود کا آدھا حصہ وہیں چھوڑ آنا ہے۔

اور آج جب میں شہر کی اس بھیڑ میں کھڑی ہوں، تو ایک سوال بار بار لوٹتا ہے: وہ کیا ہوا جسے ہم گاؤں کہتے تھے؟ کیا وہ صرف نقشے سے مٹا؟ یا وہ ہمارے اندر ہی دفن ہے، کسی سیاہی کی طرح جو انگوٹھے پر لگے تو ایک پوری دنیا دکھا دے؟

ہجرت صرف سفر نہیں، یہ ایک کہانی کا ادھورا رہ جانا ہے، ایک خواب کا ٹوٹنا، اور ایک پہچان کا دھندلانا۔ پھر بھی، جب میں آنکھیں بند کرتی ہوں، تو مجھے وہی گاؤں نظر آتا ہے—جہاں وقت الٹا چلتا ہے، جہاں آوازیں زندہ ہیں، اور جہاں میں ابھی تک وہی لڑکی ہوں جو چھت پر بیٹھ کر بادلوں میں چہرے تلاش کرتی تھی۔
"فرح انور ماہر تعلیم اور شاعرہ ہیں۔ کنیئرڈ کالج لاہور میں درس و تدریس کی خدمات سر انجام دے چکی ہیں اجکل امریکہ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔

03/09/2026
اور کتنی دیر جاہ و جلال دام و درم اور کتنی دیر  ریگ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر  اب اور کتنی دیر یہ دہشت یہ ڈر یہ خوف  ...
03/09/2026

اور کتنی دیر

جاہ و جلال دام و درم اور کتنی دیر
ریگ رواں پہ نقش قدم اور کتنی دیر
اب اور کتنی دیر یہ دہشت یہ ڈر یہ خوف
گرد و غبار عہد ستم اور کتنی دیر
حل بگوشوں عرض گزراروں کے درمیاں
یہ تمکنت یہ زعم کرم اور کتنی دیر
پل بھر میں ہو رہے گا حساب نبود و بود
پیچ و خم و وجود و عدم اور کتنی دیر
شام آ رہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا
ا تم اور کتنی دیر ہو ہم اور کتنی دیر

افتخار عارف

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پیام جہاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to پیام جہاں:

Shortcuts

Share

Category