14/03/2026
پاکستانی اداکار شجاعت ہاشمی — ایک سنہری عہد کا اختتام
پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دور کے ممتاز اداکار شجاعت ہاشمی کے انتقال سے پاکستانی ڈرامہ اور فلم کی دنیا ایک باوقار فنکار سے محروم ہو گئی۔ وہ کئی دہائیوں تک اپنی شاندار اداکاری، مضبوط مکالمہ اور سنجیدہ کرداروں کی وجہ سے ناظرین کے دلوں میں زندہ رہے۔ مارچ 2026 میں ان کے انتقال کی خبر نے شوبز حلقوں اور مداحوں کو غمزدہ کر دیا
پیدائش: 10 نومبر 1937
جائے پیدائش: گجرات
شجاعت ہاشمی کا تعلق ایک سادہ مگر باوقار گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی سے انہیں ادب، تھیٹر اور مکالمہ ادا کرنے میں دلچسپی تھی۔ یہی شوق بعد میں انہیں پاکستان کے نامور فنکاروں کی صف میں لے آیا۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم گجرات میں حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ ادبی سرگرمیوں اور اسٹیج ڈراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ بعد ازاں ریڈیو اور تھیٹر کے تجربے نے ان کی اداکاری کو مزید نکھار دیا۔
شجاعت ہاشمی نے اپنے ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز معروف ہدایتکار یاور حیات کے پی ٹی وی ڈرامے “کہر (Kuhar)” سے کیا۔ یہی ڈراما ان کی شناخت کا آغاز بنا اس کے بعد امجد اسلام امجد کے ڈرامے وارث نے مولا داد کے کردار نے انکے فن کو جلا بخشی
شجاعت ہاشمی نے ٹیلی وژن کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا میں بھی کام کیا ان کی مشہور فلموں میں ۔خاک اور خون ۔چھڈ برے دی یاری ۔وڈا خان ۔دو ضدی ۔راکا۔شامل ہیں
شجاعت ہاشمی کو فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا تمغہ حسن کارکردگی 1993.ستارہ امتیاز 2005.اور لائف اچیومنٹ ایوارڈ 2004 میں دیا گیا
شجاعت ہاشمی نجی زندگی میں نہایت شائستہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور فن کو عبادت سمجھ کر اداکاری کرتے تھے۔
تاریخ انتقال: 13 مارچ 2026
عمر: تقریباً 88 سال لاہور میں انکی نماز جنازہ جامعہ نعیمیہ میں ادا کی گئی
ان کے انتقال پر شوبز شخصیات اور مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا