Bin Khalid Estate

Bin Khalid Estate We have all quality bricks, Sand Ravi, Sand Chenab, and Crushed Sargodha available with high quality. Contact No
03008102880
03008102841

24/08/2026

Ai video 📷

سوال:        “لا حول ولا قوة إلا بالله” کے معنی کیا ہیںلا حول ولا قوة إلا بالله” ایک بہت گہرا ذکر ہے، اور علماء نے اس کے...
20/08/2026

سوال: “لا حول ولا قوة إلا بالله” کے معنی کیا ہیں

لا حول ولا قوة إلا بالله” ایک بہت گہرا ذکر ہے، اور علماء نے اس کے کئی باہم مربوط معانی بیان کیے ہیں۔بنیادی معنیلا حول ولا قوة إلا بالله“اللہ کے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں۔”لیکن یہ مختصر ترجمہ اس کے تمام معانی کو پوری طرح بیان نہیں کرتا۔
1. اللہ کے سوا کسی چیز کو بدلنے کی طاقت نہیںلا حول — کوئی حول یعنی اپنی حالت بدلنے، حرکت کرنے یا کسی حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے کی حقیقی قدرت نہیں۔ولا قوة — اور کوئی قوت یعنی طاقت نہیں۔إلا بالله — مگر اللہ کے ذریعے۔لہٰذا اس کا ایک مفہوم ہے:“میرے پاس اپنی حالت کو بدلنے کی نہ قدرت ہے اور نہ کسی کام کو انجام دینے کی طاقت، سوائے اللہ کی مدد کے۔”مثلاً:میں گناہ چھوڑ نہیں سکتا جب تک اللہ میری مدد نہ کرے۔میں نیک نہیں بن سکتا جب تک اللہ مجھے توفیق نہ دے۔میں اپنا مسئلہ حل نہیں کر سکتا جب تک اللہ اجازت اور مدد نہ فرمائے۔
2. اللہ کی عبادت کرنے کی طاقت بھی اسی کی طرف سے ہےیہ اس ذکر کا بہت خوبصورت مفہوم ہے۔ہم کبھی سوچتے ہیں:“میں اپنی طاقت سے زیادہ نیک اور دین دار بن جاؤں گا۔”لیکن لا حول ولا قوة إلا بالله ہمیں یاد دلاتا ہے:نماز پڑھنے، ذکر کرنے، اپنے نفس کو قابو کرنے، گناہوں سے بچنے، روزہ رکھنے، صدقہ دینے اور صبر کرنے کی صلاحیت بھی اللہ ہی کی عطا ہے۔اس لیے یہ ذکر انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، خود پر غرور نہیں۔
3. مشکل سے نکلنے کی طاقت اللہ ہی سے ہےجب آپ کسی مشکل میں ہوں، مثلاً:مالی پریشانیبیماریگھریلو مسئلہپریشانی یا بے چینیایسا مسئلہ جو آپ کے قابو سے باہر ہوتو لا حول ولا قوة إلا بالله کا مفہوم ہو سکتا ہے:“یا اللہ! میں اپنی طاقت سے اس مشکل سے نہیں نکل سکتا۔ صرف تو ہی اسے دور کرنے اور مجھے اس کا سامنا کرنے کی طاقت دینے پر قادر ہے۔”
4. گناہ سے بچنے کی طاقت بھی اللہ سے ہےاگر کوئی شخص کسی گناہ یا بری عادت سے جدوجہد کر رہا ہو تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے:“یا اللہ! میں اپنی کمزوری سے اکیلا نہیں لڑ سکتا۔ مجھے اسے چھوڑنے کی طاقت عطا فرما۔”یہ ذکر انسان کو اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے اور اللہ سے مدد مانگنے کی طرف لے جاتا ہے۔
5. فائدہ حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کی اصل طاقت اللہ کے پاس ہےہم دوا لیتے ہیں، محنت کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، پڑھتے ہیں، منصوبہ بناتے ہیں اور لوگوں سے مدد لیتے ہیں۔لیکن آخرکار:اصل قدرت اور نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔یعنی:“میں اسباب اختیار کرتا ہوں، لیکن اسباب پر اللہ سے بے نیاز ہو کر بھروسہ نہیں کرتا۔”
6. کمزوری سے طاقت کی طرف منتقل ہوناحول کا ایک مفہوم حالت کو بدلنا یا ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونا بھی ہے۔اس لحاظ سے:“میں اپنی حالت کو خود تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اللہ کے سوا کوئی مجھے ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل نہیں کر سکتا۔”مثلاً:کمزور → طاقتورغریب → خوشحالبیمار → صحت مندگناہ گار → فرمانبردارغمگین → مطمئنپریشان → ہدایت یافتہان تمام تبدیلیوں کی اصل قدرت اللہ کے پاس ہے۔
7. یہ توحید اور اللہ پر انحصار کا اظہار ہےگہرے معنی میں اس کا مطلب ہے:“میں اپنے آپ کو مستقل طور پر طاقتور اور صاحبِ اختیار نہیں سمجھتا۔”آپ کی:عقلصحتمالصلاحیتیںتعلقاتمواقعصبرحتیٰ کہ دعا کرنے کی توفیقسب اللہ کی عطا ہیں۔اس لیے یہ ذکر تکبر کو کم کرتا اور توکل کو مضبوط کرتا ہے۔
8. جب کوئی کام ناممکن محسوس ہو تو یہ ذکر بہت طاقتور ہےفرض کریں آپ کے سامنے کوئی مشکل مسئلہ ہے اور آپ کا ذہن بار بار کہتا ہے:“میں اسے کیسے حل کروں گا؟ میرے پاس تو طاقت ہی نہیں۔”لا حول ولا قوة إلا بالله آپ کی سوچ کا رخ بدل دیتا ہے:“ضروری نہیں کہ تمام طاقت میرے پاس ہو۔ اصل طاقت اللہ کے پاس ہے۔”آپ پھر بھی جائز اسباب اختیار کرتے ہیں، لیکن آپ کا دل صرف اپنی طاقت پر منحصر نہیں رہتا۔
9. اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ نہ کرےیہ بات بہت اہم ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں:“میرے پاس طاقت نہیں، لہٰذا میں کچھ نہ کروں۔”بلکہ مفہوم یہ ہے:اسباب اختیار کرو + یہ یقین رکھو کہ اسباب بھی اللہ کے اذن سے ہی مؤثر ہوتے ہیں۔مثلاً:بیماری ہو → ڈاکٹر سے رجوع کریں، مناسب علاج کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔مال کی ضرورت ہو → کام کریں، مواقع تلاش کریں، دعا کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں۔بری عادت چھوڑنی ہو → اس کے اسباب ختم کریں، اپنے آپ کو قابو میں رکھیں، دعا کریں اور اللہ سے مدد مانگیں۔ایک جملے میں مکمل مفہوماگر آپ اس ذکر کو دل میں اتارنا چاہتے ہیں تو اس کا مفہوم یوں سمجھ سکتے ہیں:“یا اللہ! میرے پاس اپنی کوئی مستقل طاقت اور قدرت نہیں۔ اپنی حالت بدلنے، تیری اطاعت کرنے، تیری نافرمانی سے بچنے، بھلائی حاصل کرنے اور مشکلات پر قابو پانے کی تمام طاقت اور توفیق آخرکار تیری ہی طرف سے ہے۔”اور اس ذکر کی ایک بہت خوبصورت فضیلت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے “لا حول ولا قوة إلا بالله” کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا ہے۔یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔
10. جنت کا خزانہحضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:“کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے بارے میں نہ بتاؤں؟”انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ ﷺ!آپ ﷺ نے فرمایا:“لا حول ولا قوة إلا بالله”یعنی:“اللہ کے سوا نہ کوئی طاقت ہے اور نہ قوت۔”یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ �Hadith Prophet +1اس میں خاص بات کیا ہے؟نبی ﷺ نے اسے صرف ایک اچھا ذکر نہیں کہا بلکہ “جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ” فرمایا۔علماء نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ اس میں بندہ اپنی طاقت اور اختیار سے دستبردار ہو کر اللہ کے سامنے اپنی محتاجی اور سپردگی کا اظہار کرتا ہے۔ �Hadith Prophet
11. جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہحضرت قیس بن سعد بن عبادہؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی ﷺ کی خدمت کے لیے بھیجا تھا۔ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ چکے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں پاؤں سے متوجہ کیا اور فرمایا:“کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟”انہوں نے عرض کیا:“کیوں نہیں۔”آپ ﷺ نے فرمایا:“لا حول ولا قوة إلا بالله”یعنی:“اللہ کے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں۔”یہ روایت جامع ترمذی (3581) میں ہے، اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح غریب کہا ہے۔ �dorar.net +1یہی روایت مسند احمد اور سنن نسائی الکبریٰ میں بھی آئی ہے۔ �dorar.net
12. گھر سے نکلتے وقت یہ ذکرحضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے گھر سے نکلتے وقت کہے:بِسْمِ اللهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِیعنی:“اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اللہ کے سوا نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔”اس کے بارے میں کہا جاتا ہے:“تمہیں کافی کر دیا گیا، تمہاری حفاظت کر دی گئی، اور شیطان تم سے دور ہوگیا۔”پھر ایک شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے:“تم اس شخص کے ساتھ کیا کر سکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، جس کے لیے کفایت کر دی گئی اور جس کی حفاظت کر دی گئی؟”یہ روایت سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں ہے، اور اسے حسن/صحیح قرار دیا گیا ہے۔ �Islam-QAیہ بہت خوبصورت دعا ہے کیونکہ اس میں تین چیزیں اکٹھی ہیں:بسم اللہ → اللہ سے مددتوکلت علی اللہ → اللہ پر بھروسہلا حول ولا قوة إلا باللہ → اپنی طاقت سے براءت اور اللہ کی طاقت کا اعتراف
13. نماز کے بعد بھی اس کا ذکر آتا ہےحضرت عبداللہ بن زبیرؓ نماز کے بعد یہ ذکر پڑھتے تھے:لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافروناس کا مفہوم:“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ نعمت اسی کی ہے، فضل اسی کا ہے اور اچھی تعریف اسی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں، خواہ کافروں کو یہ ناپسند ہو۔”حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔یہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔ �Islam-QA
14. اس ذکر کا سب سے گہرا مفہومصحیح مسلم کی شرح میں امام نوویؒ نے علماء کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ایک مفہوم:“کوئی حرکت، کوئی استطاعت اور کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر نہیں۔”دوسرا:“برائی کو دور کرنے کی کوئی طاقت اور بھلائی حاصل کرنے کی کوئی قوت اللہ کے بغیر نہیں۔”اور ایک نہایت خوبصورت مفہوم:“اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی حفاظت سے، اور اللہ کی اطاعت کرنے کی کوئی قوت نہیں مگر اس کی مدد سے۔” �Hadith Prophetمیرے خیال میں آخری مفہوم اس ذکر کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔یعنی جب آپ کہتے ہیں:لا حول ولا قوة إلا باللهتو صرف یہ نہیں کہہ رہے:“میرے پاس طاقت نہیں۔”بلکہ گویا کہہ رہے ہیں:“یا اللہ! میں اپنی کمزوری کے ساتھ تیرے سامنے ہوں۔ مجھے گناہ سے بچنے کی طاقت بھی تو دے، نیکی کرنے کی توفیق بھی تو دے، مشکل سے نکلنے کا راستہ بھی تو دے، اور جو خیر میں حاصل کرنا چاہتا ہوں اسے حاصل کرنے کی طاقت بھی تو دے۔”
15. ایک اور روایت: “جنت کے دروازے”حضرت معاذ بن جبلؓ سے بھی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:“کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟”پھر فرمایا:“لا حول ولا قوة إلا بالله”اس روایت کو بعض محدثین نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ �dorar.netان تمام احادیث کو ایک ساتھ دیکھیں تولا حول ولا قوة إلا بالله کے بارے میں ہمیں کم از کم یہ بڑی فضیلتیں ملتی ہیں:فضیلتمطلبجنت کا خزانہاس ذکر کا بہت بڑا اجر ہےجنت کا دروازہجنت تک پہنچانے والے عظیم اعمال میں سے ہےاللہ پر مکمل انحصاراپنی طاقت کے بجائے اللہ کی مدد پر اعتمادگھر سے نکلتے وقت حفاظتاللہ کی کفایت اور حفاظت کی بشارتنماز کے بعد ذکرنبی ﷺ سے نماز کے بعد کے اذکار میں منقولگناہ سے بچنے کی طاقتاللہ کی مدد کے بغیر انسان خود کافی نہیںنیکی کی توفیقعبادت کی طاقت بھی اللہ کی عطا ہےمشکل سے نکلنے کی قدرتحالات بدلنے کی اصل قدرت اللہ کے پاس ہےسب سے خوبصورت خلاصہجب آپ “لا حول ولا قوة إلا بالله” کہیں تو صرف زبان سے یہ نہ کہیں کہ:“اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں۔”بلکہ دل میں یہ احساس رکھیں:“یا اللہ! میری اپنی طاقت، میری عقل، میری تدبیر اور میری کوشش سب محدود ہیں۔ اصل طاقت تیری ہے۔ مجھے نیکی کی طاقت تو دے، گناہ سے بچنے کی طاقت تو دے، مشکلات سے نکلنے کی طاقت تو دے، میرے حالات بدلنے کی طاقت تو دے، اور میرے لیے جو بہتر ہے وہ عطا فرمانے کی قدرت بھی تیرے ہی پاس ہے۔”یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے اسے “جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ” فرمایا۔ �Hadith Prophet
“ایک روایت میں نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ لا حول ولا قوة إلا بالله ننانوے بیماریوں کی دوا ہے، جن میں سب سے ہلکی بیماری غم و پریشانی ہے.لیکن اس روایت کوکچھ محدثین نے صحیح اور کچھ نےضعیف قرار دیا ہ بِّ

07/08/2026
27/07/2026
25/07/2026

Nyd de videoer og den musik, du holder af, upload originalt indhold, og del det hele med venner, familie og verden på YouTube.

Meri pari
23/07/2026

Meri pari

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bin Khalid Estate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share