Jumhoori Publications

Jumhoori Publications Independent and Progressive Publisher

Jumhoori Publications have emerged as front runner publishers – in a short span of time – thanks largely to our independent and progressive posturing. A seminal focus on subjects of political, philosophical and cultural import – including art and literature – initially earned us a niche as trend-setters with our own national background. The growing recognition of Jumhoori Publications, having tran

scended the geographical barriers, now claims a global readership – books on international affairs being the most sought after publications. In the process, Jumhoori Publications have elicited favourable response from world’s renowned authors, whose works now have been translated into Urdu, thus adding further to their huge reader base across the globe. Jumhoori Publications look to the future with a fresh resolve to encourage counter-narrative within the tiers of society, and to disseminate the message of knowledge, wisdom and rational thinking so as to bridge differences between the societies of a divided world.

جمہوری پبلیکیشنز ایک ترقی پسند اور غیرجانب دار پبلشر کے طور پر پاکستان میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے میں بڑی تیز رفتاری سے کامیاب ہوا ہے۔ جمہوری پبلیکیشنز نے سیاسیاتِ عالم، تاریخ،ادب، فلسفہ اور ثقافت سے متعلقہ تحریروں کو کتابوں کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا اور اس باعث قومی سطح سے آگے بیرونِ ملک بھی اس ادارے کی پہچان اور ساکھ قائم ہوئی ہے۔ جمہوری پبلیکیشنز نے عالمی امور پر مبنی تحریروں، ترقی پسند ادب کی اشاعت اور تاریخ کی تلاش و درستی کے اس سفر میں نہ صرف پاکستان کے معروف اہل قلم کی تحریروں کو قارئین تک پہنچایابلکہ نئے لکھنے والوں کو بھی متعارف کروایا ہے۔ اس عمل میں ادارے نے مختلف ممالک کے لکھاریوں کی تحریروں کے قومی زبان اردو میں تراجم کرواکر اپنے ہاں کے عام لوگوں کو جدید دنیا کے علومتک رسائی دینے کا بیڑا بھی اٹھایا۔اس اقدام سے جمہوری پبلیکیشنز نے پاکستان میں اشاعت کاری کے شعبے میں اپنی منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ جمہوری پبلیکیشنزاہل علم اور عوام کو ایسا لٹریچر فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے جس سے معلومات اور آگہی کے نئے دریچے وا ہوسکیں،متبادل آراء کو فروغ حاصل ہو،نیز ایک ایسے معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے جس کی بنیاد علم، تدبر اور منطق پر قائم ہو اور جو دنیا کی تمام تہذیبوں میں خلیج کی بجائے پُل بنانے میں معاون ثابت ہو۔

ترکی کی مقبول ادیبہ ایلف شفق  اپنی کہانیوں میں مشرق اور مغرب کا خوبصورت امتزاج پیش کرتی ہیں ۔ ایلف شفق کو ان کے ناول “دی...
28/11/2025

ترکی کی مقبول ادیبہ ایلف شفق اپنی کہانیوں میں مشرق اور مغرب کا خوبصورت امتزاج پیش کرتی ہیں ۔ ایلف شفق کو ان کے ناول “دی فورٹی رولز آف لو” پر عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔

’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ اسی ناول کا اردو ترجمہ ہے۔ انھوں نے انتہاپسندی اور عدم برداشت سے بھری اس دنیا میں مولانا روم اور شمس تبریز کی محبت کو متاثر کن انداز میں افسانوی رنگ دیا ہے ۔
گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کے لیے ابھی آرڈر کیجیے ۔

صفحات 384، قیمت 1350 روپے ، ڈاک خرچ ہمارے ذمے
WhatsApp No. 03334463121

26/11/2025
25/11/2025
20/11/2025

تقریب رونمائی۔۔ “ مجھ سے جو ہو سکا”
بروز جمعرات 27 نومبر 2025 ء ۔۔3 بجے سہ پہر
الحمرا آرٹس کونسل، شاہرہ قائد اعظم لاہور

19/11/2025

"مجھ سے جو ہو سکا"
قیوم نظامی
روزنامہ 19 نومبر 2025ء
محترم حسین نقی پاکستان کے بزرگ دانشور نظریاتی صحافی ہیں ـ قحط الرجال کے اس دور میں ان کا دم غنیمت ہے ـ ان کی منفرد نوعیت کی نئی کتاب " مجھ سے جو ہو سکا" کے بارے میں کالم لکھنا میرے لیے دلی مسرت اور بڑے اعزاز کی بات ہے ـ بلا شک محترم حسین نقی پاکستان کی صحافت اور سیاست کے انسائیکلوپیڈیا ہیں ـ راقم جنرل ضیاء الحق کے مارشل کے دوران محترم حسین نقی کے ساتھ کیمپ جیل لاہور میں اسیر بھی رہا ـ جب پاکستان وجود میں آیا اس وقت وہ چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے ـ محترم حسین نقی کے والد مسلم لیگ کے سپورٹر نہیں تھے جب لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں جانا چاہتے تو انہوں نے کہا کہ" میرا ذاتی خیال ہے کہ انڈیا میں جمہوریت ہوگی اور ہمیں اپنی بات کہنے کی آزادی ہوگی مگر پاکستان میں ایسی کھلی سیاسی فضا نہیں ہوگی لوگ ان کی اس دلیل سے مطمئن نہ ہوئے "ـ محترم حسین نقی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ـ "میں 1950 میں پاکستان آیا تھا اور اس زمانے میں پاکستان میں ایک روپے کا کلو آٹا ملتا تھا جبکہ انڈیا میں ایک روپے کا پانچ کلو آٹا مل رہا تھا تو پانچ گناہ کا فرق تھا اور اس کی وجہ گندم کی کمی تھی ـ قدوائی صاحب نے یہ پالیسی بھی بنوائی تھی کہ اس دوران بھارتی پنجاب کے کسانوں کو اضافی سہولتیں دی جائیں بجلی سستی اور پانی وافر ملے جس کے نتیجے میں بھارتی پنجاب زراعت میں بہت آگے نکل گیا قدوائی صاحب کے بھتیجے خالد قدوائی پاکستانی فوج میں لیفٹنٹ جنرل بنے اور کئی سالوں تک پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے جڑے ادارے ایس پی سی کے سربراہ رہے ـ خالد قدوائی کے والد امین الدین قدوائی اپنے بھائ رفیع احمد قدوائی کے برعکس کٹر مسلم لیگی تھے "ـ محترم حسین نقی کے اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد ہی بھارت نے درست ٹریک پر اپنے سفر کا آغاز کر دیا تھا جبکہ پاکستان آج تک ڈی ٹریک ہے اور مسائل کا شکار ہے ـ محترم حسین نقی سچے اور کھرے صحافی ہیں اسی لیے ان کو کم و بیش ہر دور میں زیر عتاب رہنا پڑاـ شاہی قلعے کی اذیت اور جیلوں کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں ـ ان کی پہلی تحریر لکھنو کے اخبار سرفراز میں شائع ہوئی ـ محترم حسین نقی نے 1946 کے انتخابات کی تفصیل اپنی کتاب میں شامل کی ہے جو بڑی دلچسپ ہے ـ محترم حسین نقی نے بائیں بازو کی طلبہ سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور اپنے مشاہدات کو اپنی منفرد اور جامع کتاب میں بیان کیا ہے اور بائیں بازو کے ان کامریڈوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریک میں قابل تحسین کردار ادا کیا ـ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ" 1962 میں پاکستان نے کشمیر واپس لینے کا سنہری موقع کھو دیا انہوں نے تحریر کیا ہے اکتوبر 1962 میں چین نے میک ماہون لائن پر اپنے متنازعہ علاقے واپس لینے کے لیے انڈیا کے خلاف جنگی کاروائی کی یہ لائن 1914 میں انگریزوں نے ڈیورنڈ لائن کی طرز پر ہند چین بارڈر پر بھوٹان سے بنگال تک زبردستی بنائی تھی انڈیا کو شکست ہوئی ہمیں چین کی فتح اور انڈیا کی شکست پر بہت خوشی ہوئی تھی مگر یہ بعد میں پتہ چلا کہ اس جنگ میں ایوب خان نے امریکی دباؤ کی وجہ سے کشمیر کے پاک انڈیا بارڈر سے فوجیں ہٹا لی تھیں تاکہ دلی اس طرف سے مطمئن ہو جائے" محترم حسین نقی کراچی یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے اور اس ضمن میں انہوں نے اپنی جدوجہد پر مبنی یادیں کتاب میں شامل کی ہیں ـ محترم حسین نقی شخصیت پرستی کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ جمہوری اصولوں کی پاسداری اور علم برداری کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا سیاسی لیڈروں سے اختلاف بھی ہو جاتا تھا جب وہ جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے تھے ـ
محترم حسین نقی اپنی کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہونے والی زرعی اصلاحات کے بارے میں لکھتے ہیں کہ" یہ بھٹو کا بڑا کارنامہ تھا جس میں بابائے سوشلزم شیخ رشید کا بڑا حصہ تھا شیخ صاحب نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایکڑ زمین جاگیرداروں اور وڈیروں سے واپس لی جن میں بھٹو صاحب کی پہلی بیگم کی زمینیں بھی شامل تھیں اور پھر ہزاروں ایکڑ زمینیں بے زمین کسانوں میں بانٹی بھی گئیں "ـ محترم حسین نقی بے نظیر بھٹو سے ملاقاتوں کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھتے ہیں "وزیراعظم بننے سے پہلے بے نظیر بھٹو سے کئی ملاقاتیں ہوئیں پہلی ملاقات چوہری سلطان کے گھر گارڈن ٹاؤن لاہور میں ہوئی جس میں نثار عثمانی عبداللہ ملک آئی اے رحمان بھی تھے اسی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھ سے شہید بابا سے اختلاف کے بارے میں پوچھا تھا میں نے جواب دیا کہ گزر جانے والوں سے اختلاف نہیں کیا جاتا پھر گلزار کے گھر میٹنگ میں اعتزاز بھی تھے جب بے نظیر نصرت بھٹو کو ہٹا کر چیئر پرسن بنی تھیں تب بھی ملاقات ہوئی تھی وہاں انہوں نے کہا تھا کہ یہ میری پارٹی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ میں اور بابا میں کیا فرق ہے تو میں نے کہا کہ آپ کے بابا سنتے زیادہ تھے جبکہ آپ بولتی بہت ہیں آپ سنیں زیادہ اور پارٹی کو کھڑا کریں ـ پھر بے نظیر بھٹو سے ہماری عاصمہ جہانگیر کے گھر بھی ملاقات ہوئی تھی محترم حسین نقی کی یہ کتاب پاکستان کی سیاست صحافت ٹریڈ یونینزم اور طلبہ سیاست کی مستند اور معتبر کتاب ہے جس کے عینی شاہد محترم حسین نقی خود ہیں انہوں نے جو لکھا ہے سچ لکھا ہے وہ ساری عمر سچ بولتے رہے ہیں اور سچ لکھتے رہے ہیں ـ ان کی شخصیت پر یہ شعر پوری طرح صادق اتا ہے
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلال کو کبھی کہہ نہ سکا قند
یہ کتاب " جو مجھ سے ہو سکا "پاکستان کے انقلابی اور نظریاتی دانشور فرخ سہیل گوئندی کے ادارے جمہوری پبلکیشنز لاہور نے خوبصورت انداز میں شائع کی ہے ـ عزیزم فرخ سہیل گوئندی لکھتے ہیں" حسین نقی کی بڑی متحرک زندگی ہے انہوں نے کراچی سے طلبا سیاست کا آغاز کیا جس نے ملک کے آمروں کو شکست پر مجبور کر دیا اس کے بعد صحافت میں بھی کسی حکمران کے خوف سے آزاد ہو کر جو دیکھا اور محسوس کیا وہ لکھا پھر اردو اور انگریزی صحافت میں تو جو کیا سو کیا پاکستان میں پہلے پنجابی روزنامے کا اجرا بھی حسین نقی ہی نے کیا اور اب تک انسانی اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں اپنے مخصوص انداز میں حصہ ڈال رہے ہیں ـ حسین نقی ایک طرز زندگی ہے استقامت بہادری اور تسلسل اس لیے وہ پاکستان بھر میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں زیر نظر کتاب مجھ سے جو ہو سکا حسین نقی کی سوانح حیات تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی 70 سالہ سیاسی اور سماجی تاریخ کی داستانیں بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے یہ اپنی طرز کی منفرد اور جامع سوانح حیات اس حوالے سے ہے کہ یہ کتاب پاکستان میں طلبہ سیاست صحافت سیاسی انسانی اور عوامی حقوق کی بے لاگ گواہ اور مستند دستاویز ہے"ـ اس معتبر کتاب کو 10 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے خاندانی پس منظر پاکستان میں مستقل سکونت طلبہ سیاست اور کراچی ایوبی آمریت لاہور سے تعارف اور حسن ناصر ایوب مخالف لہر میں ترقی پسند طلباء کا کردار رپورٹنگ اور صحافت کا طلسم با وسیلہ پی پی آئی لاہور ایوبی زوال منتخب بنگالی قیادت کو اقتدار دینے سے انکار ذوالفقار علی بھٹو اور ان کا عہد ضیائی مارشل لاء کچھ عشق کیا کچھ کام کیا چند آخری باتیں ـ دلی دعا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کی قابل فخر نایاب نظریاتی شخصیت محترم حسین نقی کو سلامت اور شاداب رکھے ـ

Address

2 Canal Park, Gulberg 2
Lahore
54660

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00

Telephone

+923334463121

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jumhoori Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jumhoori Publications:

Share

Category