11/08/2026
سیاہ چشم بچے۔۔۔۔۔۔ 80 و 90 کی دہائی کا ایک پراسرار معمہ!
( ستونت کور )
کسی غیر معمولی واقعے کو ایک فردِ واحد بیان کرے تو وہ تخیل ہوسکتا ہے۔
چند لوگ بیان کریں تو وہ غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
قدرے زیادہ لوگ بیان کریں تو افواہ ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر سینکڑوں یا ہزاروں لوگ ایک جیسے ہی غیر معمولی واقعات کو بیان کریں۔۔۔ تو شاید۔۔۔ اس کے پیچھے کوئی پراسرار حقیقت چھپی ہو سکتی ہے۔
گو کہ اس کہانی کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہی ہوچکا تھا۔۔۔
لیکن دنیا کے سامنے یہ معمہ 1996 میں آیا کہ جب برائن بیتھل نامی ایک سینیئر صحافی ایک خاموش رات ، گھر واپسی کے سفر پر راستے میں ٹھہر کر ایک خط ایک نیم تاریک سے مقام پر نصب ایک لیٹر باکس میں ڈالنے کی نیت سے رکا۔۔۔
اس کی توجہ ڈیش بورڈ سے خط نکالنے پر تھی کہ جب اسے گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی اور اس نے چونک کر اس جانب دیکھا۔
گاڑی کے بالکل قریب 2 لڑکے کھڑے تھے جن کی عمر بمشکل 9,10 کے قریب تھی ۔
دونوں نے ہوڈیز پہن رکھی تھیں ان کے سر اور نصف چہرہ ہوڈ کے پیچھے چھپا تھا، لیکن باقی نصف چہرے سے ان کی رنگت زرد اور مرجھائی سی لگ رہی تھی۔
چند لمحے بعد ایک لڑکا بالکل سپاٹ اور بےتاثر آواز میں بولا۔۔۔ ہم قریبی تھیٹر میں لگی ایک فلم دیکھنے آئے ہیں لیکن ہم پیسے گھر بھول آئے ہیں۔
جس تھیٹر کی وہ لڑکے بات کر رہے تھے۔ وہ وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر تھا اور بیتھل اپنی کار میں بیٹھا اس تھیٹر کے فرنٹ کو صاف دیکھ سکتا تھا جس پر اس مووی کا بڑے سائز کا پوسٹر لگا ہوا تھا۔۔۔۔ اور۔۔۔۔پوسٹر پر آخری شو کا جو وقت تحریر تھا۔۔۔۔ اس کے مطابق تو رات کے اس پہر فلم کا آخری راؤنڈ ختم ہو چکا ہوتا۔
بیتھل کو فوراً کسی شدید گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔ بچوں کے بیان میں اتنا بڑا جھول تھا کہ اس جھول کو بیتھل اپنے سامنے پوسٹر کی صورت میں صاف دیکھ سکتا تھا۔
ادھر وہ لڑکے بار بار یہی فرمائش دہرا رہے تھے ۔۔۔ ان کی آواز میں عجلت اور سختی آتی جارہی تھی۔
بیتھل کو شدید الجھن کا احساس ہونے لگا۔
لیکن پھر اس نے سوچا، زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے یہ دو بچے ہی تو ہیں۔
بیتھل نے کار کا دروازہ کھولنے کے لیے اپنا ہاتھ ڈرولاک کی جانب بڑھایا۔
اور یہی لمحہ تھا کہ جب ان میں سے ایک بچہ دو تین قدم آگے بڑھا ۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ ہوڈ کی اوٹ سے جب بیتھل کی نگاہیں اس کی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ تو وہ اوپر سے نیچے تک لرز کے رہ گیا۔
اس لڑکے کی آنکھیں مکمل طور پر سیاہ تھیں۔۔۔ کوئلے کی مانند سیاہ۔۔۔ جن میں زندگی کی موہوم سی رمق بھی نہ تھی۔
بیتھل کا جسم پسینے میں نہا، اس کا سانس گویا سینے میں ہی اٹک کے رہ گیا اور دل یوں دھک دھک کرنے لگا جیسے پسلیوں کا پنجرہ توڑ کر باہر آجائے گا۔
سوری۔ میرے پاس فی الوقت کوئی کیش موجود نہیں ہے۔ بیتھل نے بمشکل ہانپتے ہوئے چند لفظ بولے۔
لیکن یہ بات سن کر ان بچوں کی " معصوم سے فرمائش " دھمکی آمیز لہجے میں بدلنے لگی۔
ہمیں اندر آنے دو۔۔۔۔
ہمیں اندر آنے دو۔
ہمیں اندر آنے دو!!
وہ دونوں یک زبان ہو کر کہنے لگے جیسے کوئی ریکارڈڈ آواز مسلسل چل رہی ہو۔
اور پھر، ان میں سے ایک لڑکے نے وہ جملہ بولا۔۔۔ کہ جو آگے چل کر اس پراسرار معمے کی ایک اہم بنیاد بن کے رہ گیا۔
" جب تک تم ہمیں اجازت نہیں دیتے، ہم اندر نہیں آسکتے۔۔۔ "
اور پھر سے۔۔۔
ہمیں اندر آنے دو۔۔
ہمیں اندر آنے دو۔
کی سپاٹ آوازیں۔
گھبراہٹ کے عالم میں بیتھل نے وہ کام کیا کہ جو اسے کافی دیر قبل ہی کر لینا چاہیے تھا، اس نے گاڑی کو گیئر میں ڈالا اور پہیئوں کی چرچراہٹ کی تیز آواز کے ساتھ گاڑی ایک تیز موڑ مڑتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
اسی وقت بیتھل کی نگاہ بیک مرر سے ٹکرائی تو یہ دیکھ کر اس کے وجود کا ایک ایک خلیہ لرز اٹھا کہ۔۔۔۔۔ پیچھے کوئی نہ تھا۔۔۔۔ گویا وہ دونوں بچے ایک لمحے کے دورانیے میں ہوا میں تحلیل ہوچکے تھے۔
بیتھل کئی دن اس واقعے پر بیمار اور خوفزدہ رہا۔
اور پھر جب اس نے یہ واقعہ میڈیا کے سامنے لانے کی ہمت کی،
تو گویا ایک بم تھا جو پھٹ گیا۔۔۔۔
اس کی جانب سے یہ واقعہ بیان کئے جانے کے بعد ان گنت دیگر لوگ بھی سامنے آنے لگے کہ جن کے نزدیک ان کا بھی گزشتہ چند سالوں سے اب تک ( 80 اور 90 کی دہائی) اس طرح کے سیاہ چشم بچوں سے سامنا ہوچکا ہے۔
" کوئی ہماری بات پر یقین نہیں کرے گا۔۔۔۔ "
یہ سوچ کر ان گنت لوگوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو پوشیدہ ہی رکھا ہوا تھا کہ جن میں ان کا ٹاکرا ایسے ہی مرجھائے، زرد چہروں اور گھنگھور سیاہ آنکھوں والے بچوں کے ساتھ ہو چکا تھا۔
نوٹ : (کاپی۔۔ستی )