07/03/2026
عالمی کشیدگی اور گلگت بلتستان کی سیاحت پر ممکنہ اثرات
تحریر : عالم شاہ
موجودہ عالمی حالات، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پورے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کے اثرات سیاحت جیسے حساس شعبے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس کشیدگی کے بعد بعض ممالک کی جانب سے فضائی راستوں میں تبدیلی، پروازوں کے شیڈول میں رد و بدل اور سکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سیاحت عمومی طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب 2026 کے دوران خطے کی سیاحت میں تقریباً 11 فیصد سے 27 فیصد تک کمی واقع ہونے کا امکان ہے، جس کے اثرات قریبی ممالک اور سیاحتی راستوں سے منسلک علاقوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ چونکہ گلگت بلتستان کی سیاحت بھی بڑی حد تک بین الاقوامی سیاحوں، خصوصاً یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے مہمانوں پر منحصر ہے، اس لیے اس عالمی صورتحال کا نفسیاتی اثر یہاں کے سیاحتی رجحان پر پڑنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض غیر ملکی سیاح اپنے سفر کو مؤخر کر سکتے ہیں جبکہ ایئر لائنز کے شیڈول اور سفری منصوبوں میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔
بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں گلگت اور بلتستان کے بعض علاقوں میں احتجاج کے دوران چند عمارتوں کو نذرِ آتش کرنے جیسے افسوسناک واقعات بھی پیش آئے، جس سے اس پرامن خطے کے مثبت تشخص متاثر ہوا.
تاہم یہ بات نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ تحسین ہے کہ وادی ہنزہ اور وادی نگر میں حالات مکمل طور پر پُرامن رہے اور مقامی عوام نے ذمہ داری، شعور اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و رواداری کی شاندار روایت کو برقرار رکھا۔ اس نازک مرحلے پر یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس خطے کی اصل پہچان—امن، مہمان نوازی اور قدرتی حسن—کو مثبت انداز میں دنیا کے سامنے اجاگر کریں تاکہ گلگت بلتستان کے سیاحت کے شعبے کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے اور دنیا کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔