28/05/2026
جب اسپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں
"یہ تو کھیل ہے"
اور جب ڈنمارک میں ہزاروں افراد سینکڑوں ڈالفن کو قتل کر دیتے ہیں
(یہاں تک کہ سمندر سرخ ہو جاتا ہے)
تو کہتے ہیں
"یہ تو ایک تہوار ہے"
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزار مرغیوں کو پتھر پر مار دیتے ہیں ان کے مطابق اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
وہ کہتے ہیں
"یہ ہمارا عقیدہ اور مذہب"
اور جب عیسائی نئے سال کے دن بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کو اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں
تو ملحدین کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا
لیکن
جب مسلمان اللہ کی خاطر کسی جانور کو قربان کر کے اتنا احتیاط برتے کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ اور پانی ڈال کے اور پھر یہ خیال رکھ کے کہ سامنے کوئی اور جانور بھی نہ ہو پھر انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو کفار کے پلے ہوئے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں اف ! ظلم ہوگیا
وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
لیکن مسلمان اسلامی شعائر پر عمل کرتے ہوئے ان کی تکلیف اضافہ کرتے رہیں گے۔ان شاءاللہ
ابوحمدان السندی
#مظلوم