Talha Waheed Asadi

Talha Waheed Asadi Official Facebook of Talha Waheed Asadi ✪. I'm a Youtuber and an educator spreading awareness through Videos. My aim is to spread positivity.

16/01/2026

#نفسیات

13/01/2026

#نفسیات

12/01/2026

#نفسیات

30/12/2025

#نفسیات

27/12/2025
20/12/2025

آج صبح فیس بک گردانی کے دوران ایک خبر نظر سے گزری کہایک  لڑکی،چونٹیوں کے خوف سے تنگ آ کر اپنی جان کی بازی ہار گئی۔ پہلے ...
12/11/2025

آج صبح فیس بک گردانی کے دوران ایک خبر نظر سے گزری کہ
ایک لڑکی،چونٹیوں کے خوف سے تنگ آ کر اپنی جان کی بازی ہار گئی۔ پہلے لمحے میں حیرت ہوئی: چونٹیاں؟
وہ ننھی مخلوق جو ہمارے پاؤں تلے کچلی جاتی ہے اور
جو ہمارے خیال کی دہلیز تک ہی نہیں پہنچ پاتیں کیا واقعی کسی کے لیے موت کا سبب بن سکتی ہے؟
پھر ذہن میں ایک خیال نے دستک دی کہ وہ لڑکی(انسان) تو ہم سب میں سے ایک تھی نا ہمارے اندر بھی کوئی نہ کوئی چونٹی چھپی ہوتی ہے شاید جو راتوں کو کاٹتی ہے یا پھر دن کو ہمیں گھیرتی ہے
اور آہستہ آہستہ دماغ کے ہر خانے میں اپنی سرنگیں بناتی ہے ہمارے شعبہ نفسیات کی رو سے اسے Myrmecophobia کہا جاتا ہے :چھوٹے کیڑوں کا غیرمعمولی خوف۔ مگر یہ خوف صرف چونٹیوں کا تو نہیں ہوتا شاید یہ تو روحانی اور ذہنی بھی ہوتا ہے
جو ہماری تخلیق کو زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے اور پھر انسان کی پرواز کو زمین پر گرا دیتا ہے
وہ خوف جو کوئز یا کسی پرچے کے کے سامنے سانس روک دیتا ہے تھوڑا اگے جائیں تو میرے جیسے کمزور دل کے لوگوں کےلیے ان کے دلوں کو ناکامی اور کسی سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے لرزا دیتا ہے
جو کہتا ہے: "اگر تم نصاب سے ہٹے تو دنیا تمہیں رد کر دے گی۔"
یہ پھر ہمیں اپنی صلاحیتوں کی قبر میں دفن کر دیتا ہےاور ہم زندہ رہتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں خاموش موت جو شاید مجھ سمیت کئی ذی روح اس کا شکار ہوچکے ہیں
قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیں تو اللہ فرماتا ہے:
"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"
(سورۃ آل عمران: 139)
"کمزور نہ بنو، غم نہ کھاؤ، تم غالب ہو اگر ایمان رکھتے ہو۔"
میں اس ایت کو جب بھی غمگین ہوں یا ناکام ہوں پڑھتا ہوں
حال ہی میں ایک مقابلے میں جو ایک نجی یونی ورسٹی Riphah میں منعقد ہوا اس میں جب شکست سے دو چار ہوا تو یہ خوف پہلے تھا کہ جا کر یونی ورسٹی صدر محترم کو کیا کہوں گا کہ پہلا مقابلہ ہی ہار ایا مگر خیر اس ایت نے دوبارہ اٹھنے میں بڑی مدد کی
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ایک کہ
"ہو بہو وہی قوت جو خوف کے سامنے کھڑی ہو، غالب آتی ہے۔"
یہ قوت دل میں ذہن میں ہوتی ہے
مگر ہم اسے نمبروں کی دوڑ میں کھو دیتے ہیں کسی مقام کی تلاش میں بھی
آج جب میں اپنی کلاس کے ساتھ NCA کے اٹرینالے گیا
تو لگا جیسے خوف کے سارے روپ میرے سامنے نئی شکلوں میں ارہیں ہوں
میں نے وہاں کے آرٹ پیسز دیکھے
پہلے تو کچھ سمجھ نہیں آیا اور سب سراب لگا کیونکہ پہلے ہی ذہن میں تھا یہ سب سراب ہی ہے
ایک پلاسٹک کا ٹکڑا، کالی لکیریں، ایک جوتا...
میں نادم ہوا: میری آنکھیں ہیں، سب دیکھتی ہیں ۔مگر ان سب چیزوں میں مجھے کشش کیوں نہیں
پھر حمزہ نواز ایک باکمال انسان اس کالج کے سال دوم کا طالب علم اس سے گفت و شنید ہوئی تو وہ ایک چلتا پھرتا خزانہ معلوم ہوا پھر اس سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا جیسے
وہ شفاف کتاب نما پلاسٹک کا ٹکڑا
جس پر UV شعاعوں سے لکھی تحریر عارضی طور پر نظر آتی ہےاس نے بتایا کہ یہ سال سوم کی طالبہ کا کمال ہے جو دکھانا اور بتانا چاہتی ہیں کہ زندگی کے لمحے کتنے ناپائیدار ہیں۔خوشی عارضی، غم عارضی،
اور جو کچھ ہمارے پاس ہے، وقت اسے مٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد پھر
وہ تصویر صرف کالی لکیریں،
مگر اندر ایک دنیا تھی جو میں نہ دیکھ سکا شاید
سپیس کی کمی، اندرونی زنجیریں، احساسِ کمتری
آرٹسٹ نے چھوٹے ڈاٹس سے سپیس پیدا کی،
جیسے انسان خوف کی دیواروں میں سوراخ کر کے روشنی ڈھونڈتا ہے
اور وہ جوتا جو شیشے میں ایک صفحے پر نقش تھا
محض جوتا تو نہیں تھا مجھے پتا چلا کہ وہ کالج کے پرنسپل کی تخلیق ہے جنہوں نے زندگی میں بہت سفر کیا مگر وہ کہنا چاہتے ہیں میریسوچ محدود رہی صرف جوتوں تک یعنی بہت محدود اتنے سفر کے باوجود
چونٹی، تصویر، جوتا
یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جلال الدین رومی فرماتے ہیں:
"تیرے اندر جو خوف ہے، وہ تیری قبر ہے،
اسے دفن کر، ورنہ تو زندہ رہتے ہوئے مر جائے گا۔"
آج کا NCA وزٹ میرے لیے اپنی زندگی کا بہترین تجربہ تھا
ایک درسِ حیات کہ ہم اپنی تخلیق کی دنیا میں کیسے قید ہو جاتے ہیں اگر خوف کو نام دے دیں، اسے پہچان لیں تو وہی لمحہ آزادی کا آغاز بن سکتا ہے
اور یہی بات مجھے اپنی پہلے سمسٹر کی استاد کی یاد کی طرف کھینچ لایا
وہ نہ صرف استاد ہیں، بلکہ خدمتِ خلق کی ایک زندہ مثال ہیں
ان کے قول و فعل میں کامل مطابقت ہے جو میں نے محسوس کی ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے،
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔
وہ ذہنوں پر لگی گرہوں کو کھولنے کی آرزوء لا متناہی
رکھتی ہیں
کسی نے کہا تھا
دنیا مثال سے بنتی ہے، نہ کہ رائے سے
وہ خود ایک مثال ہیں ۔
میں ان کا غائبانہ شکر گزار ہوں
به راستی خوش‌اقبالی است که استادی یاب شود، که قفل‌های ذهن را بگشاید و پنجره‌های کائنات را به رویت گشاید
ترجمہ
واقعی خوش قسمتی ہے کہ ایسا استاد مل جائے جو ذہن کے تالے کھول دے اور کائنات کی کھڑکیاں تمہارے سامنے کھول دے

05/01/2025

آخر کار سائنس نے مردہ انسان کو زندہ کر ڈالا
آخر یہ کیسے ہوا؟

26/11/2024

Send a message to learn more

Address

Kacheri Road
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Talha Waheed Asadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share