Vlogumentary - Saad Zahid

Vlogumentary - Saad Zahid Vlog + Documentary = Vlogumentary
All Faiths' Forgotten Gems 📍 Lahore 🇵🇰
Pakistan’s Largest Heritage Platform
DM For Tour/Walk

The biggest YouTube channel with 200+ videos on hidden historical sites of Lahore

Tour Guide services available

لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشنکیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اسٹیشن کبھی صرف برطانوی فوجی افسران کے لیے بنایا گیا تھا؟لاہور کینٹ برطانو...
06/06/2026

لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اسٹیشن کبھی صرف برطانوی فوجی افسران کے لیے بنایا گیا تھا؟

لاہور کینٹ برطانوی دور میں ایک فوجی آباد کاری کے طور پر قائم کیا گیا تھا جہاں برطانوی افسران اور فوج رہائش پذیر تھے۔ ان کی آمدورفت کے لیے برطانوی حکومت نے لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا جو آج بھی فعال ہے۔

میں نے اس اسٹیشن کا دورہ شدید بارش کے دوران کیا جس نے تجربے کو مزید یادگار بنا دیا۔ سب سے پہلے جو چیز نظر آئی وہ اس کا سرخ داخلی دروازہ تھا جو ریلوے اسٹیشنز میں عام نہیں ہوتا۔

پلیٹ فارم کی بینچز جدید دور کی ہیں اور پرانے نوآبادیاتی دور کی کوئی بینچ موجود نہیں۔ اسٹیشن کا پیدل پل ایک اہم خاصیت ہے جس کے اطراف کو اب بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ پل پر لگی تختی کے مطابق یہ 1912 میں کراچی کی T. Cosser & Company Limited Engineering نے بنایا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیشن اس سے بھی قدیم ہو سکتا ہے۔

پلیٹ فارم کے شیڈز خوبصورت اور متوازن لوہے کے ستونوں پر قائم ہیں۔ اسٹیشن کا لوہے کا نامی بورڈ بھی ایک منفرد خصوصیت ہے جو عام طور پر سیمنٹ کے بورڈز میں نہیں ملتی۔ قریبی گراج میں آج بھی لوہے کے وہ پرزے موجود ہیں جو انگلینڈ کی Frodingham Iron & Steel Company Limited سے منگوائے گئے تھے اور ان پر اصل اسٹیمپس آج بھی نظر آتے ہیں۔

آج یہاں سے جعفر ایکسپریس، عوامی ایکسپریس اور خیبر ایکسپریس گزرتی ہیں جو لاہور کو کوئٹہ، کراچی، پشاور، راولپنڈی اور دیگر شہروں سے جوڑتی ہیں۔ یہ اسٹیشن صرف ایک سفری مقام نہیں بلکہ برطانوی دور کی ریلوے تاریخ کی ایک زندہ یادگار ہے۔

لاہور کے تاریخی مال روڈ پر واقع جی پی او (GPO) کا یہ قدیم لیٹر باکس برطانوی عہد کی یادگار ہے۔
05/06/2026

لاہور کے تاریخی مال روڈ پر واقع جی پی او (GPO) کا یہ قدیم لیٹر باکس برطانوی عہد کی یادگار ہے۔

لاہور کے تاریخی ورثے سے بھرپور دیہات | پارٹ 1لاہور کے اردگرد ایسے کئی دیہات موجود ہیں جہاں قلعے، گردوارے، حویلیاں، باولی...
01/06/2026

لاہور کے تاریخی ورثے سے بھرپور دیہات | پارٹ 1

لاہور کے اردگرد ایسے کئی دیہات موجود ہیں جہاں قلعے، گردوارے، حویلیاں، باولیاں اور مغل و سکھ دور کی یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔

پڈھانہ

لاہور کے قریب واقع سب سے تاریخی دیہات میں سے ایک۔ یہ سکھ دور کے جرنیل سردار جوالا سنگھ سے منسوب ہے۔ یہاں ان کی بڑی حویلی، چھٹے گرو کا تاریخی گردوارہ اور کئی پرانے مکانات موجود ہیں۔

محمود بوٹی

کہا جاتا ہے کہ یہ گاؤں مغل دور سے آباد ہے۔ لاہور کا کچرا صدیوں سے یہاں ڈالا جاتا رہا ہے۔ گاؤں میں اینٹوں سے بنی چند پراسرار کنویں نما عمارتیں بھی موجود ہیں جن کا مقصد آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔

جاہمن

یہ گاؤں بابا گرو نانک کی بہن بی بی نانکی سے منسوب ہے۔ روایت ہے کہ گرو نانک یہاں دو مرتبہ تشریف لائے تھے۔ یہ گاؤں ایک ٹیلے پر آباد ہے اور یہاں موجود تاریخی گردوارہ کچھ عرصہ پہلے منہدم ہو گیا تھا۔

قلعہ جیون سنگھ

اس گاؤں میں جیون سنگھ کے قلعے کے آثار موجود ہیں۔ اگرچہ قلعہ اب خستہ حال ہے، لیکن اس کے کھنڈرات آج بھی سکھ دور کی تاریخ کی یاد دلاتے ہیں۔

ہڈیارہ

ہڈیارہ کا سب سے خوبصورت تاریخی مقام چھٹے گرو کا گردوارہ ہے۔ اس کے اندر آج بھی خوبصورت فریسکو پینٹنگز دیکھی جا سکتی ہیں۔

بھینی

مغل دور کے اس گاؤں کے باہر ایک تاریخی قبرستان موجود ہے جہاں مغل دور کی ایک جنازہ گاہ کے آثار آج بھی باقی ہیں۔

برہمن آباد

یہ گاؤں مغل دور سے تعلق رکھتا ہے اور ہندو برہمن برادری سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک تاریخی باولی موجود ہے جو اب بھی اپنی اصل شکل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

نرور

پاک بھارت سرحد کے قریب واقع اس گاؤں میں کئی تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔ ان میں سب سے منفرد سندھاوالیہ گردوارہ ہے جو اپنی خاص طرزِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔

پاکستان کی تاریخی مساجدپاکستان کی یہ تاریخی مساجد مغل شان و شوکت، مقامی فنِ تعمیر اور صدیوں پرانی وراثت کی جھلک پیش کرتی...
28/05/2026

پاکستان کی تاریخی مساجد

پاکستان کی یہ تاریخی مساجد مغل شان و شوکت، مقامی فنِ تعمیر اور صدیوں پرانی وراثت کی جھلک پیش کرتی ہیں۔

1۔ بادشاہی مسجد - 1671
📍 لاہور، پنجاب
اورنگزیب عالمگیر کی تعمیر کردہ یہ عظیم مسجد اپنے وسیع صحن، سرخ پتھر اور سنگِ مرمر کی خوبصورتی کے باعث لاہور کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

2۔ شاہ جہاں مسجد - 1644
📍 ٹھٹھہ، سندھ
90 سے زائد گنبدوں، نیلی ٹائلوں اور منفرد صوتی نظام والی یہ مسجد فارسی، سندھی اور مغلیہ طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے۔

3۔ مہابت خان مسجد - 1630
📍 پشاور، خیبر پختونخوا
سفید سنگِ مرمر اور خوبصورت میناروں سے مزین یہ مغلیہ دور کی مسجد پشاور کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔

4۔ وزیر خان مسجد - 1634
📍 لاہور، پنجاب
کاشی کاری ٹائلوں اور خوبصورت فریسکو آرٹ کے باعث یہ مسجد مغلیہ دور کی سب سے خوبصورت مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔

5۔ عباسی مسجد - 1849
📍 چولستان، پنجاب
دراوڑ قلعے کے قریب موجود یہ سفید مسجد اپنے عظیم گنبدوں اور مغلیہ طرزِ تعمیر کی وجہ سے صحرا کا خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔

6۔ جامع مسجد تھل - 1865
📍 کمراٹ، خیبر پختونخوا
دریا کنارے واقع یہ لکڑی کی مسجد اپنے خوبصورت نقش و نگار اور ماحول کی وجہ سے بےحد دلکش نظر آتی ہے۔

7۔ شاہی مسجد - 1646
📍 چنیوٹ، پنجاب
چنیوٹ کے مشہور پتھر سے بنی یہ مسجد مغلیہ فنِ تعمیر اور مقامی کاریگری کی بہترین مثال ہے۔

8۔ سلطان محمود غزنوی مسجد - 1048 عیسوی
📍 سوات، خیبر پختونخوا
پاکستان کی قدیم ترین مساجد میں شامل یہ غزنوی دور کی مسجد ابتدائی اسلامی فنِ تعمیر کی اہم نشانی ہے۔

9۔ تین گنبدی مسجد - 11ویں صدی عیسوی
📍 خانیوال، پنجاب
یہ سادہ تین گنبدوں والی اینٹوں کی مسجد محمود غزنوی کے دور سے منسوب ہے اور ابتدائی سلطنتی طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔

بادامی باغ ریلوے اسٹیشنلاہور کا بادامی باغ ریلوے اسٹیشن آج بھی برطانوی دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ اسٹیشن 1920 کی دہائی ...
26/05/2026

بادامی باغ ریلوے اسٹیشن

لاہور کا بادامی باغ ریلوے اسٹیشن آج بھی برطانوی دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ اسٹیشن 1920 کی دہائی میں گریٹر اقبال پارک اور لاری اڈہ ریلوے اسٹیشن کے قریب تعمیر کیا گیا تھا اور لاہور سے پشاور جانے والی ریلوے لائن پر واقع ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بادامی باغ کے علاقے میں پہلے باداموں کے باغ ہوا کرتے تھے، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام بادامی باغ پڑا۔ آج بھی یہاں پرانے مندر اور تاریخی عمارتیں اس علاقے کے ماضی کی نشانی ہیں۔

اس اسٹیشن کے اندر آج بھی پرانے شیڈز، پنکھے، اسٹور روم، کوارٹرز اور کئی دہائیوں پرانا ریکارڈ موجود ہے۔ کوشش کے باوجود قیامِ پاکستان سے پہلے کے نارتھ ویسٹرن ریلوے دور کا کوئی ریکارڈ یا اسٹیمپ نہ مل سکی۔

اس اسٹیشن کی ایک خاص بات اس کے چار پرانے ریلوے بورڈز ہیں، جبکہ عام طور پر اسٹیشنز پر صرف دو بورڈ ہوتے ہیں۔

اس کی سب سے خوبصورت چیز اوور ہیڈ برج ہے جو 1906 میں Burn & Co. Ltd. Bridge Builders Howrah نے بنایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ برج انگلینڈ کے بجائے ہاوڑہ، انڈیا میں تیار کیا گیا تھا اور آج بھی اس کی اصل اسٹیمپ موجود ہے۔

A JOURNEY THROUGH GT ROAD’S HERITAGEI took more than 20 students from the Department of Tourism and Hospitality Manageme...
22/05/2026

A JOURNEY THROUGH GT ROAD’S HERITAGE

I took more than 20 students from the Department of Tourism and Hospitality Management, COTHM Johar Town, on an educational heritage tour along the historic Grand Trunk Road. The journey began from Lahore and passed through Gujranwala, Wazirabad, Gujrat, Lala Musa, and Kharian before returning to Lahore. One of the best parts of this tour was that all arrangements were managed by the students themselves as part of their field tourism subject.

During the trip, we explored important heritage sites including Tumri Sahib Temple, Dak Chowki, Wazirabad Railway Station, Sheikh Niazuddin’s Haveli, Ram Pyari Mahal Museum, and the historic Bahar Wali Baoli of Kharian. It was inspiring to witness the remarkable restoration and improvement work taking place at many of these sites compared to their condition two years ago.

I am deeply grateful to the , Government of Punjab, for their support and cooperation. This journey was the first step toward documenting the complete heritage of GT Road with Naqsh-e-Pa.


Would you like to travel the historic GT Road part 2 next time?

Nankana Sahib Gurdwaras and Their Sacred StoriesDiscover the sacred gurdwaras of Nankana Sahib and the timeless stories ...
20/05/2026

Nankana Sahib Gurdwaras and Their Sacred Stories

Discover the sacred gurdwaras of Nankana Sahib and the timeless stories connected to Guru Nanak’s childhood, miracles, education, and spiritual journey that continue to inspire millions around the world.

20/05/2026

گردوارہ مال جی صاحب، جہاں سکھ روایت کے مطابق بچپن میں گرو نانک صاحب ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے اور ایک سانپ نے اپنے پھن سے اُن پر سایہ کیا۔ گردوارہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کی خوبصورت عمارت ہے

20/05/2026

Gurdwara Malji Sahib - Gurdwaras of Nankana Part 6

Discover the legendary story of, where Sikh tradition says a cobra shaded young beneath a centuries-old tree in sacred Nankana Sahib. Explore the stunning architecture of Maharaja Ranjit Singh’s era, spiritual history, Sikh heritage, Pakistan tourism, and hidden historical places in this unforgettable journey.

19/05/2026

Address

Lahore
54000

Telephone

+923124477147

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Vlogumentary - Saad Zahid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Vlogumentary - Saad Zahid:

Share