06/06/2026
لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اسٹیشن کبھی صرف برطانوی فوجی افسران کے لیے بنایا گیا تھا؟
لاہور کینٹ برطانوی دور میں ایک فوجی آباد کاری کے طور پر قائم کیا گیا تھا جہاں برطانوی افسران اور فوج رہائش پذیر تھے۔ ان کی آمدورفت کے لیے برطانوی حکومت نے لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا جو آج بھی فعال ہے۔
میں نے اس اسٹیشن کا دورہ شدید بارش کے دوران کیا جس نے تجربے کو مزید یادگار بنا دیا۔ سب سے پہلے جو چیز نظر آئی وہ اس کا سرخ داخلی دروازہ تھا جو ریلوے اسٹیشنز میں عام نہیں ہوتا۔
پلیٹ فارم کی بینچز جدید دور کی ہیں اور پرانے نوآبادیاتی دور کی کوئی بینچ موجود نہیں۔ اسٹیشن کا پیدل پل ایک اہم خاصیت ہے جس کے اطراف کو اب بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ پل پر لگی تختی کے مطابق یہ 1912 میں کراچی کی T. Cosser & Company Limited Engineering نے بنایا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیشن اس سے بھی قدیم ہو سکتا ہے۔
پلیٹ فارم کے شیڈز خوبصورت اور متوازن لوہے کے ستونوں پر قائم ہیں۔ اسٹیشن کا لوہے کا نامی بورڈ بھی ایک منفرد خصوصیت ہے جو عام طور پر سیمنٹ کے بورڈز میں نہیں ملتی۔ قریبی گراج میں آج بھی لوہے کے وہ پرزے موجود ہیں جو انگلینڈ کی Frodingham Iron & Steel Company Limited سے منگوائے گئے تھے اور ان پر اصل اسٹیمپس آج بھی نظر آتے ہیں۔
آج یہاں سے جعفر ایکسپریس، عوامی ایکسپریس اور خیبر ایکسپریس گزرتی ہیں جو لاہور کو کوئٹہ، کراچی، پشاور، راولپنڈی اور دیگر شہروں سے جوڑتی ہیں۔ یہ اسٹیشن صرف ایک سفری مقام نہیں بلکہ برطانوی دور کی ریلوے تاریخ کی ایک زندہ یادگار ہے۔