ValueDigitalhd

ValueDigitalhd Positive Pakistan

*پاکستان کو جشن نہیں، عزمِ تعمیر بھی چاہیے**تحریر: میاں شاہد اسلام*چودہ اگست کا دن صرف چراغاں کرنے، قومی پرچم لہرانے اور...
13/08/2026

*پاکستان کو جشن نہیں، عزمِ تعمیر بھی چاہیے*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

چودہ اگست کا دن صرف چراغاں کرنے، قومی پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے کا دن نہیں، یہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا دیانت داری سے جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے اجتماعی عہد کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی اتفاق کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک طویل سیاسی جدوجہد، بے مثال قربانیاں اور ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ریاست کا عظیم خواب تھا۔ اہلِ وطن کو یومِ آزادی مبارک ہو، مگر اس مبارکباد کے ساتھ ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے پاکستان کو وہ ملک بنا دیا ہے جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ اور تحریکِ پاکستان کے کارکنوں نے دیکھا تھا؟
قیامِ پاکستان کے وقت وسائل محدود اور مسائل بے شمار تھے، لیکن قوم کے حوصلے بلند، قیادت مخلص اور منزل واضح تھی۔ لاکھوں مہاجرین خالی ہاتھ پاکستان پہنچے مگر ان کے دل امید، عزم اور جذبۂ تعمیر سے معمور تھے۔ آج ہمارے پاس مضبوط ریاستی ادارے، زرخیز زمین، قدرتی وسائل، ایٹمی صلاحیت، وسیع منڈی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور نوجوانوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود ہم معاشی کمزوری، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں، تعلیمی پسماندگی، توانائی کے بحران، بدعنوانی، آبادی میں بے ہنگم اضافے اور کمزور طرزِ حکمرانی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات، منصوبہ بندی، تسلسل اور دیانت دارانہ عمل کا فقدان ہے۔ ہم نے بارہا پالیسیاں بنائیں لیکن حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ قومی منصوبوں کی سمت بھی تبدیل ہوتی رہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہاں ریاستی پالیسیاں افراد اور حکومتوں کے بجائے قومی مفادات کے تابع رہتی ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسی ہی قومی سمت درکار ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، کاروباری طبقہ، دانشور، علما اور ذرائع ابلاغ متفق ہوں۔
معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی آزادی ہمیشہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ قرض لے کر روزمرہ اخراجات پورے کرنا کسی بھی ریاست کے لیے مستقل حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنی معیشت کو درآمدات، غیر پیداواری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے گرد گھومنے کے بجائے پیداوار، برآمدات، صنعت، زراعت، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ ٹیکس کا منصفانہ نظام قائم کیا جائے، طاقتور طبقات کو حاصل غیر ضروری مراعات ختم ہوں اور ریاستی وسائل کا استعمال مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔ کفایت شعاری کا آغاز عام شہری سے نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ اور سرکاری اداروں کی بالائی سطح سے ہونا چاہیے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن افسوس کہ ہم متعدد بنیادی غذائی اشیا بھی بیرونِ ملک سے منگوانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کسان کو معیاری بیج، سستی بجلی، پانی، جدید مشینری، زرعی تحقیق اور منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیے بغیر کسان خوشحال ہو سکتا ہے نہ صارف کو ریلیف مل سکتا ہے۔ زرعی پیداوار کو خام حالت میں فروخت کرنے کے بجائے اس کی مقامی سطح پر تیاری اور قدر افزائی کے ذریعے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں۔
تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی پہلی سیڑھی ہے، لیکن ہمارے ہاں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک طرف جدید سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف ایسے سرکاری اسکول بھی موجود ہیں جہاں بنیادی سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ اور معیاری نصاب تک دستیاب نہیں۔ ہمیں محض ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے ایسی تعلیم فراہم کرنا ہوگی جو کردار، تخلیقی صلاحیت، تحقیق، سائنسی فکر اور عملی مہارت پیدا کرے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی ترجیح بنائے بغیر نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
صحت کے شعبے کی صورتِ حال بھی فوری توجہ چاہتی ہے۔ کسی غریب خاندان کے لیے ایک سنگین بیماری معاشی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، بنیادی مراکزِ صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت اور بیماریوں سے بچاؤ پر سرمایہ کاری کی جائے تو بڑے اسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ صاف پانی اور صحت کی سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسے خیرات یا سیاسی احسان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے قانون کی یکساں حکمرانی ناگزیر ہے۔ جس معاشرے میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہو، وہاں اعتماد، سرمایہ کاری اور استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی، پولیس اور عدالتی اصلاحات اور اداروں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدعنوانی صرف رشوت لینے کا نام نہیں؛ اختیارات کا ناجائز استعمال، سفارش، اقربا پروری، سرکاری وقت اور وسائل کا ضیاع بھی بدعنوانی کی صورتیں ہیں۔
سیاسی استحکام کا راستہ مکالمے، برداشت اور آئینی بالادستی سے نکلتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی اور تنقید کو غداری قرار دینے کا رویہ ختم ہونا چاہیے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست محاذ آرائی سے نہیں، آئین کی پاسداری اور جمہوری تسلسل سے مضبوط ہوتی ہے۔ قومی معاملات پر سنجیدہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا کمزوری نہیں بلکہ بالغ سیاسی شعور کی علامت ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی، بے مقصدیت اور نفرت سے بچانا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان نسل ہے، مگر یہی قوت اس وقت مسئلہ بن سکتی ہے جب اسے معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔ خواتین کو تعلیم، کاروبار اور روزگار کے محفوظ مواقع فراہم کیے بغیر آدھی آبادی کو قومی ترقی میں مؤثر شریک نہیں بنایا جا سکتا۔ نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا کسی ایک طبقے کی بہبود نہیں بلکہ قومی معیشت کی ضرورت ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی اب مستقبل کے خدشات نہیں رہے بلکہ موجودہ حقیقت بن چکے ہیں۔ نئے آبی ذخائر، بارش کے پانی کا تحفظ، جنگلات میں اضافہ، شمسی توانائی کا فروغ اور شہروں کی بہتر منصوبہ بندی ہماری قومی سلامتی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ قدرتی وسائل کو بے احتیاطی سے استعمال کرنا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن شہری بھی قومی فرائض سے بری الذمہ نہیں۔ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی، ٹیکس چوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، صفائی سے غفلت، سفارش اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا بھی ملک کو کمزور کرتے ہیں۔ پاکستان صرف حکومت، پارلیمان یا اداروں کا نام نہیں؛ پاکستان ہم سب ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذات، گھر، کاروبار، دفتر اور معاشرتی رویوں میں دیانت، نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا نہیں کریں گے، محض نعروں سے تبدیلی نہیں آئے گی۔
چودہ اگست ہمیں امید دلاتا ہے کہ جس قوم نے ناممکن حالات میں ایک آزاد وطن حاصل کیا، وہ اپنے مسائل پر قابو بھی پا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اصولوں، وقتی مفادات کے بجائے قومی ترجیحات اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو اختیار کریں۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی دولت سے طے نہ ہو، کسی مریض کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی نہ بیچنا پڑے، کسی نوجوان کو روزگار کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور کسی شہری کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔
آئیے، اس یومِ آزادی پر صرف پاکستان سے محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا عہد بھی کریں۔ پاکستان ہمیں ورثے میں ضرور ملا ہے، مگر ایک مستحکم، خوشحال، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کو دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی آزادی کا حقیقی جشن، قربانیوں کا درست اعتراف اور قائداعظمؒ کے پاکستان سے سچی وفاداری ہوگی۔
پاکستان زندہ باد!
#14اگست

#پاکستان #قائداعظم


#تعلیم
#نوجوان























News HDMian Shahid IslamValueDigitalhd

*خاموش قاتل کے سائے میں ایک بیمار قوم**تحریر: میاں شاہد اسلام*بعض المیے ایسے ہوتے ہیں جو نہ سرخیوں میں نمایاں جگہ بنا پا...
01/08/2026

*خاموش قاتل کے سائے میں ایک بیمار قوم*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

بعض المیے ایسے ہوتے ہیں جو نہ سرخیوں میں نمایاں جگہ بنا پاتے ہیں، نہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنتے ہیں اور نہ ہی روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں، مگر وہ خاموشی سے معاشروں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتے رہتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بھی ایسا ہی ایک خاموش قاتل ہے جو برسوں تک انسانی جسم میں پلتا رہتا ہے، جگر کو تباہ کرتا ہے، خاندانوں کو غم میں مبتلا کرتا ہے اور معیشت پر ناقابلِ تصور بوجھ ڈال دیتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اس مرض کی شدت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اسے محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی بحران قرار دینا چاہیے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ رپورٹ نے اس خاموش تباہی کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ صرف تشویش ناک نہیں بلکہ پورے نظامِ صحت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں۔ ان میں 91 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 38 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے یہ اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جو فوری، مربوط اور غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ اس بیماری کے باعث پاکستان میں ہر سال 48 ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ہر 11 منٹ بعد ایک پاکستانی ہیپاٹائٹس کے باعث زندگی ہار جاتا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ہر گیارہ منٹ بعد کسی گھر کا چراغ بجھنے، کسی بچے کے سر سے والدین کا سایہ اٹھنے اور کسی خاندان کے مستقبل کے تاریک ہونے کی المناک داستان ہے۔ بدقسمتی سے یہ اموات بڑی حد تک قابلِ تدارک ہیں، بشرطیکہ بروقت تشخیص، مناسب علاج اور مؤثر احتیاطی تدابیر کو یقینی بنایا جائے۔
اس بحران کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے صرف تین افراد ہی علاج تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں، جبکہ باقی سات مریض یا تو اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں یا مالی، سماجی اور طبی سہولیات کی کمی کے باعث مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال صرف صحت کے نظام کی کمزوری نہیں بلکہ آگاہی، وسائل اور پالیسی سازی میں موجود سنگین خلا کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے۔ یہ اضافہ واضح کرتا ہے کہ بیماری کا پھیلاؤ اب بھی جاری ہے اور موجودہ حفاظتی اقدامات مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صحت بلکہ قومی معیشت، پیداواری صلاحیت اور سماجی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔
ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات کسی حد تک ہماری اپنی غفلت اور نظامی کمزوریوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ غیر محفوظ انجیکشنز کا بے دریغ استعمال، غیر معیاری سرنجوں کی دستیابی، خون کی غیر محفوظ منتقلی، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، دانتوں کے کلینکس، حجام کی دکانوں پر غیر جراثیم کش آلات کا استعمال، ٹیٹو اور جسم چھیدنے کے دوران حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا، سب ایسے عوامل ہیں جو اس بیماری کو خاموشی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک منتقل کرتے رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر اس مقام سے جڑا ہوا ہے جہاں صفائی اور طبی احتیاط کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہیپاٹائٹس کے ابتدائی مراحل میں اکثر مریض کو کسی خاص علامت کا احساس نہیں ہوتا۔ جب تک بیماری کی تشخیص ہوتی ہے، کئی مریض جگر کے شدید نقصان، سروسس یا جگر کے کینسر جیسے پیچیدہ مراحل میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اسکریننگ، بروقت تشخیص اور باقاعدہ طبی معائنے پر زور دیتے ہیں، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص نہ صرف علاج کو آسان بناتی ہے بلکہ ہزاروں زندگیاں بھی بچا سکتی ہے۔
یہ حقیقت خوش آئند ضرور ہے کہ حکومتِ پاکستان نے قومی پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، مگر زمینی حقائق اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ یہ اقدامات مزید مؤثر، مربوط اور وسیع پیمانے پر نافذ کیے جائیں۔ صرف اعلانات یا وقتی مہمات اس بحران کا حل نہیں بن سکتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہیپاٹائٹس کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے اور وفاق، صوبوں، طبی اداروں، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے درمیان مربوط حکمتِ عملی تشکیل دی جائے۔
اگر پاکستان واقعی 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے عالمی ہدف کے قریب پہنچنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے ملک گیر سطح پر مفت اور آسان اسکریننگ پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اپنی بیماری سے بروقت آگاہ ہو سکیں۔ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کی کوریج میں نمایاں اضافہ کیا جائے، جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کو معیاری ادویات تک کم لاگت یا مفت رسائی فراہم کی جائے۔ تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، لیبارٹریوں اور بلڈ بینکس کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ خون کی منتقلی کے تمام مراحل عالمی معیار کے مطابق انجام دیے جائیں۔ غیر ضروری انجیکشن لگانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی، ایک مرتبہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے لازمی استعمال کو یقینی بنانا، اور حجاموں، دندان سازوں اور بیوٹی سیلونز کے لیے جراثیم کش اصولوں پر سختی سے عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کو بھی محض عالمی یومِ ہیپاٹائٹس تک محدود رہنے کے بجائے سال بھر آگاہی مہمات چلانی چاہییں۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات، مساجد اور کمیونٹی مراکز میں عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ پروگرام ترتیب دیے جائیں تاکہ لوگ بیماری کے اسباب، علامات، احتیاطی تدابیر اور علاج سے متعلق درست معلومات حاصل کر سکیں۔
#ہیپاٹائٹس #صحت #پاکستان #آگاہی #جگر #احتیاط #علاج

News HDMian Shahid IslamValueDigitalhdHealth Department, KPPunjab Healthcare Commission - PHCUniversity of Health Sciences LahoreHealth & Population DepartmentHealth Department Punjab

*وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان میڈیا ورکرز کے تحفظ کیلئے امید کی کرن**تحریر: میاں شاہد اسلام*صحافت کو ہمیشہ ریاست کا چوتھا ...
17/07/2026

*وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان میڈیا ورکرز کے تحفظ کیلئے امید کی کرن*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

صحافت کو ہمیشہ ریاست کا چوتھا ستون کہا گیا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں آج یہی ستون اپنی تاریخ کے شاید مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف پرنٹ میڈیا شدید مالی بحران کا شکار ہے، دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا میں ڈاؤن سائزنگ، بے روزگاری اور مہینوں تنخواہیں نہ ملنے جیسے مسائل معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا یہ کہنا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے استحکام اور سرکاری اشتہارات کو ملازمین کی تنخواہوں سے منسلک کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، یقیناً ایک مثبت اور امید افزا پیغام ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں درجنوں اخبارات اور ٹی وی چینلز شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئے۔ اشتہارات میں کمی، اخراجات میں اضافہ اور کاروباری مشکلات کے باعث کئی اداروں نے اپنے ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ متعدد صحافی، کیمرہ مین، پروڈیوسرز اور دیگر میڈیا ورکرز کئی کئی ماہ تک اپنی تنخواہوں کے منتظر رہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں کی ذمہ داری عوام تک سچ پہنچانا ہے، وہ خود اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان نظر آئے۔
یہ صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ اگر صحافی معاشی طور پر غیر محفوظ ہوگا تو آزاد اور ذمہ دار صحافت بھی کمزور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ اعلان کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی اس شرط سے مشروط ہوگی کہ پہلے میڈیا ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں، ایک نہایت اہم قدم ہے۔ اگر اس فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے ہزاروں خاندانوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی اشتہاری پالیسی میں سب سے بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا، اس کے بعد پرنٹ میڈیا اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کے لیے مختص ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم ان کا یہ جملہ تھا کہ "ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دیا جا سکتا۔" موجودہ حالات میں شاید اس سے زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ مؤقف نہیں ہو سکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات کی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے۔ آج خبر چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن اس رفتار کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے، اور وہ ہے فیک نیوز۔ آج سوشل میڈیا پر ایسی جھوٹی خبریں، مصنوعی ویڈیوز، تبدیل شدہ تصاویر اور من گھڑت بیانات گردش کرتے ہیں جو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ بعد میں اگر ان کی تردید بھی آ جائے تو نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
ہم نے کئی مواقع پر دیکھا کہ سوشل میڈیا پر کسی شخصیت کی جعلی ویڈیو وائرل ہوئی، کسی ادارے کے خلاف جھوٹی خبر پھیلائی گئی یا کسی پرانے واقعے کو نئے واقعے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کا نتیجہ صرف غلط فہمی نہیں بلکہ معاشرتی انتشار، نفرت اور بے اعتمادی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معتبر صحافت کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ گئی ہے۔
یہاں پرنٹ میڈیا کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ اخبار آج بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شائع نہیں کرتا۔ ایک خبر رپورٹر سے لے کر سب ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور ادارتی ٹیم کے کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ ہر لفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے، ہر خبر کا جواب دینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں، پارلیمنٹ، جامعات اور تحقیقاتی اداروں میں آج بھی معتبر اخبارات کو حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا ہی مستقبل ہے اور پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو چکا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑے اخبارات آج ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ضرور موجود ہیں، مگر ان کی اصل طاقت ان کی صحافتی ساکھ، تحقیق اور ادارتی معیار ہے، نہ کہ صرف ویوز اور لائکس۔ خبر کی اصل قدر اس کی سچائی ہوتی ہے، اس کی رفتار نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ویوز، امپریشنز اور دیگر ڈیجیٹل اشاریوں کی آزاد تھرڈ پارٹی سے تصدیق کی بات بھی کی ہے۔ یہ ایک مثبت اقدام ہے کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں مصنوعی ویوز اور جعلی ٹریفک پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ عوام کے ٹیکس سے دیے جانے والے اشتہارات شفاف اور قابلِ تصدیق نظام کے تحت تقسیم ہونا ہی انصاف کا تقاضا ہے۔
اسی طرح میڈیا ورکرز کے لیے لائف انشورنس، ای او بی آئی، سوشل سکیورٹی اور دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے اہل خانہ کے لیے مالی پیکیج کی تجاویز بھی خوش آئند ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ورکرز طویل عرصے سے ایسے بنیادی تحفظات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو یقیناً صحافتی برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔
البتہ صرف حکومت پر ذمہ داری ڈال کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ میڈیا مالکان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری واجبات وصول کرنے کے باوجود ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ ملیں تو یہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بھی انحراف ہے۔ صحافی کسی ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہی غیر محفوظ ہوں گے تو ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
پرنٹ میڈیا کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ قوم کی اجتماعی یادداشت محفوظ کرتا ہے۔ آج سے دس یا بیس سال پہلے کی کوئی مستند خبر تلاش کرنی ہو تو لوگ اخبارات کا ریکارڈ دیکھتے ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا کی پوسٹس۔ اخبار صرف خبر نہیں دیتا بلکہ تاریخ بھی محفوظ کرتا ہے، رائے بھی تشکیل دیتا ہے اور عوام کو حقائق کی بنیاد پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ میڈیا کی آزادی اور میڈیا کی ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جس طرح حکومت کو میڈیا کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے، اسی طرح میڈیا کو بھی سچائی، توازن اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ درست خبر دینا ہے۔
آج پاکستان کو ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو افواہوں کے بجائے حقائق پر کھڑی ہو، سنسنی کے بجائے تحقیق کو اہمیت دے اور مقابلے کی دوڑ میں اپنی ساکھ قربان نہ کرے۔ یہی کردار پرنٹ میڈیا برسوں سے ادا کرتا آیا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے حالیہ اعلانات اسی وقت کامیاب سمجھے جائیں گے جب ان پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔ اگر واقعی میڈیا ملازمین کو بروقت تنخواہیں ملنے لگیں، لائف انشورنس اور سوشل سکیورٹی کا نظام فعال ہو جائے، علاقائی اخبارات کو مناسب سرپرستی ملے اور اشتہارات کی تقسیم شفاف انداز میں ہو تو یہ صرف میڈیا انڈسٹری کی کامیابی نہیں بلکہ جمہوریت، اظہارِ رائے اور عوام کے حقِ معلومات کی بھی کامیابی ہوگی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے سچ اور جھوٹ کی سرحدیں بھی دھندلی ہو رہی ہیں۔ ایسے میں پرنٹ اور ذمہ دار الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر ہم نے ان اداروں کو معاشی طور پر مضبوط نہ کیا، صحافیوں کو تحفظ نہ دیا اور خبر کو محض کاروبار سمجھ لیا تو نقصان صرف میڈیا کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوگا۔ کیونکہ جب معتبر صحافت کمزور ہوتی ہے تو افواہیں طاقتور ہو جاتی ہیں، اور جب افواہیں طاقتور ہو جائیں تو سب سے پہلے سچائی شکست کھاتی ہے۔
#صحافت #میڈیا #صحافی #پاکستان
MinistryOfInformation News HDMian Shahid IslamValueDigitalhd

*وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان میڈیا ورکرز کے تحفظ کیلئے امید کی کرن*

*تحریر: میاں شاہد اسلام*

صحافت کو ہمیشہ ریاست کا چوتھا ستون کہا گیا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں آج یہی ستون اپنی تاریخ کے شاید مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف پرنٹ میڈیا شدید مالی بحران کا شکار ہے، دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا میں ڈاؤن سائزنگ، بے روزگاری اور مہینوں تنخواہیں نہ ملنے جیسے مسائل معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا یہ کہنا کہ حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے استحکام اور سرکاری اشتہارات کو ملازمین کی تنخواہوں سے منسلک کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، یقیناً ایک مثبت اور امید افزا پیغام ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں درجنوں اخبارات اور ٹی وی چینلز شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئے۔ اشتہارات میں کمی، اخراجات میں اضافہ اور کاروباری مشکلات کے باعث کئی اداروں نے اپنے ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ متعدد صحافی، کیمرہ مین، پروڈیوسرز اور دیگر میڈیا ورکرز کئی کئی ماہ تک اپنی تنخواہوں کے منتظر رہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں کی ذمہ داری عوام تک سچ پہنچانا ہے، وہ خود اپنے گھروں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان نظر آئے۔
یہ صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ اگر صحافی معاشی طور پر غیر محفوظ ہوگا تو آزاد اور ذمہ دار صحافت بھی کمزور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ اعلان کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی اس شرط سے مشروط ہوگی کہ پہلے میڈیا ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں، ایک نہایت اہم قدم ہے۔ اگر اس فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے ہزاروں خاندانوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی اشتہاری پالیسی میں سب سے بڑا حصہ الیکٹرانک میڈیا، اس کے بعد پرنٹ میڈیا اور پھر ڈیجیٹل میڈیا کے لیے مختص ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم ان کا یہ جملہ تھا کہ "ڈیجیٹل میڈیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی قیمت پر فروغ نہیں دیا جا سکتا۔" موجودہ حالات میں شاید اس سے زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ مؤقف نہیں ہو سکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات کی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے۔ آج خبر چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن اس رفتار کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے، اور وہ ہے فیک نیوز۔ آج سوشل میڈیا پر ایسی جھوٹی خبریں، مصنوعی ویڈیوز، تبدیل شدہ تصاویر اور من گھڑت بیانات گردش کرتے ہیں جو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ بعد میں اگر ان کی تردید بھی آ جائے تو نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
ہم نے کئی مواقع پر دیکھا کہ سوشل میڈیا پر کسی شخصیت کی جعلی ویڈیو وائرل ہوئی، کسی ادارے کے خلاف جھوٹی خبر پھیلائی گئی یا کسی پرانے واقعے کو نئے واقعے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کا نتیجہ صرف غلط فہمی نہیں بلکہ معاشرتی انتشار، نفرت اور بے اعتمادی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معتبر صحافت کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ گئی ہے۔
یہاں پرنٹ میڈیا کا کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ اخبار آج بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شائع نہیں کرتا۔ ایک خبر رپورٹر سے لے کر سب ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر اور ادارتی ٹیم کے کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ ہر لفظ کی ذمہ داری ہوتی ہے، ہر خبر کا جواب دینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں، پارلیمنٹ، جامعات اور تحقیقاتی اداروں میں آج بھی معتبر اخبارات کو حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا ہی مستقبل ہے اور پرنٹ میڈیا کا دور ختم ہو چکا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑے اخبارات آج ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ضرور موجود ہیں، مگر ان کی اصل طاقت ان کی صحافتی ساکھ، تحقیق اور ادارتی معیار ہے، نہ کہ صرف ویوز اور لائکس۔ خبر کی اصل قدر اس کی سچائی ہوتی ہے، اس کی رفتار نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2024ء کے تحت ویوز، امپریشنز اور دیگر ڈیجیٹل اشاریوں کی آزاد تھرڈ پارٹی سے تصدیق کی بات بھی کی ہے۔ یہ ایک مثبت اقدام ہے کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں مصنوعی ویوز اور جعلی ٹریفک پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ عوام کے ٹیکس سے دیے جانے والے اشتہارات شفاف اور قابلِ تصدیق نظام کے تحت تقسیم ہونا ہی انصاف کا تقاضا ہے۔
اسی طرح میڈیا ورکرز کے لیے لائف انشورنس، ای او بی آئی، سوشل سکیورٹی اور دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے اہل خانہ کے لیے مالی پیکیج کی تجاویز بھی خوش آئند ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ورکرز طویل عرصے سے ایسے بنیادی تحفظات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو یقیناً صحافتی برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔
البتہ صرف حکومت پر ذمہ داری ڈال کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ میڈیا مالکان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری واجبات وصول کرنے کے باوجود ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ ملیں تو یہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بھی انحراف ہے۔ صحافی کسی ادارے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر وہی غیر محفوظ ہوں گے تو ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔
پرنٹ میڈیا کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ قوم کی اجتماعی یادداشت محفوظ کرتا ہے۔ آج سے دس یا بیس سال پہلے کی کوئی مستند خبر تلاش کرنی ہو تو لوگ اخبارات کا ریکارڈ دیکھتے ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا کی پوسٹس۔ اخبار صرف خبر نہیں دیتا بلکہ تاریخ بھی محفوظ کرتا ہے، رائے بھی تشکیل دیتا ہے اور عوام کو حقائق کی بنیاد پر سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ میڈیا کی آزادی اور میڈیا کی ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جس طرح حکومت کو میڈیا کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے، اسی طرح میڈیا کو بھی سچائی، توازن اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ درست خبر دینا ہے۔
آج پاکستان کو ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو افواہوں کے بجائے حقائق پر کھڑی ہو، سنسنی کے بجائے تحقیق کو اہمیت دے اور مقابلے کی دوڑ میں اپنی ساکھ قربان نہ کرے۔ یہی کردار پرنٹ میڈیا برسوں سے ادا کرتا آیا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے حالیہ اعلانات اسی وقت کامیاب سمجھے جائیں گے جب ان پر مکمل عمل درآمد ہوگا۔ اگر واقعی میڈیا ملازمین کو بروقت تنخواہیں ملنے لگیں، لائف انشورنس اور سوشل سکیورٹی کا نظام فعال ہو جائے، علاقائی اخبارات کو مناسب سرپرستی ملے اور اشتہارات کی تقسیم شفاف انداز میں ہو تو یہ صرف میڈیا انڈسٹری کی کامیابی نہیں بلکہ جمہوریت، اظہارِ رائے اور عوام کے حقِ معلومات کی بھی کامیابی ہوگی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے سچ اور جھوٹ کی سرحدیں بھی دھندلی ہو رہی ہیں۔ ایسے میں پرنٹ اور ذمہ دار الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر ہم نے ان اداروں کو معاشی طور پر مضبوط نہ کیا، صحافیوں کو تحفظ نہ دیا اور خبر کو محض کاروبار سمجھ لیا تو نقصان صرف میڈیا کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوگا۔ کیونکہ جب معتبر صحافت کمزور ہوتی ہے تو افواہیں طاقتور ہو جاتی ہیں، اور جب افواہیں طاقتور ہو جائیں تو سب سے پہلے سچائی شکست کھاتی ہے۔
#صحافت #میڈیا #صحافی #پاکستان
Lines LahoreMian SbPchs Ittefaq GrpVALUE Welfare FoundationCooperatives Deptt. PunjabMinhaj TV [Official]Anjuman E Tajraan PchsCh AtiqValue News HDValue NewsValueDigitalhdMian Shahid IslamMian Shahid IslamGovt of PunjabXcellent NewsFederal Ministry of Information

برقی انقلاب،پاکستانی مارکیٹ میں 23 نئی الیکٹرک گاڑیوں کی آمدتحریر: میاں محب حسن پیرزادہدنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی رفتار ...
01/06/2026

برقی انقلاب،پاکستانی مارکیٹ میں 23 نئی الیکٹرک گاڑیوں کی آمد

تحریر: میاں محب حسن پیرزادہ

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی رفتار نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کبھی گاڑی صرف ایک سواری سمجھی جاتی تھی، پھر یہ آرام اور سہولت کی علامت بنی، اور اب یہ ماحول دوست ٹیکنالوجی، توانائی کی بچت اور معاشی استحکام کی نئی پہچان بن رہی ہے۔ پاکستان کی آٹو انڈسٹری بھی ایک ایسے ہی تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ بتدریج الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں لے رہی ہیں۔
صنعتی اعداد و شمار کے مطابق جون سے دسمبر 2026 کے دوران پاکستانی مارکیٹ میں 23 نئی گاڑیوں کی آمد متوقع ہے، جن میں سے 20 گاڑیاں الیکٹرک، ہائبرڈ یا رینج ایکسٹینڈڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گی۔ یہ محض ایک تجارتی پیش رفت نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی، معاشی اور ماحولیاتی سمت میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
اگر چند سال پہلے کسی نے کہا ہوتا کہ پاکستان کی نئی گاڑیوں کا 87 فیصد حصہ برقی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوگا تو شاید یہ بات خواب معلوم ہوتی، مگر آج یہ خواب حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ دنیا تیزی سے فوسل فیول سے دور جا رہی ہے اور پاکستان بھی اس عالمی رجحان کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ درآمدی تیل پر انحصار ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر صرف پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں۔ یہی زرمبادلہ اگر ملکی ترقی، تعلیم، صحت یا انفراسٹرکچر پر خرچ ہو تو ترقی کی رفتار کہیں زیادہ تیز ہو سکتی ہے۔ حکومت کے اندازوں کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر کی تدریجی برقی کاری سے سالانہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں یہ رقم کسی نعمت سے کم نہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کی فی کلومیٹر لاگت روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنتا رہا ہے، جبکہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اس بوجھ کو کافی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان میں اس شعبے کی ترقی میں چینی کمپنیوں کا کردار انتہائی اہم دکھائی دیتا ہے۔ چین نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ بن چکا ہے بلکہ اس نے بیٹری ٹیکنالوجی اور الیکٹرک موبلٹی میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اب چینی کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستانی مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو وسعت دے رہی ہیں، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ جدید ٹیکنالوجی بھی ملک میں منتقل ہوگی۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق موجودہ تبدیلی کی بنیاد آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 میں رکھی گئی تھی۔ اس پالیسی نے نئی کمپنیوں کے لیے راستے کھولے، مقابلے کی فضا پیدا کی اور متبادل توانائی پر چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کی بنیاد رکھی۔ اب متوقع آٹو پالیسی 2026-31 اس عمل کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
تاہم اس سفر میں کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ اگر ملک بھر میں مناسب تعداد میں چارجنگ اسٹیشنز قائم نہ کیے گئے تو الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت محدود رہ سکتی ہے۔ اسی طرح بجلی کی مسلسل فراہمی، بیٹریوں کی قیمت، مرمت کی سہولیات اور تکنیکی مہارت بھی اہم عوامل ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔
ایک اور اہم پہلو ماحولیاتی تحفظ کا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی بڑے شہروں میں صحت کے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے کاربن اخراج میں کمی آئے گی، فضائی آلودگی کم ہوگی اور شہریوں کو نسبتاً صاف ماحول میسر آ سکے گا۔ یوں یہ تبدیلی صرف اقتصادی نہیں بلکہ ماحولیاتی اور سماجی فوائد بھی اپنے ساتھ لائے گی۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ نئی گاڑیوں کی آمد سے مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کو ترقی مل سکتی ہے۔ اگر حکومت درست پالیسیاں اپنائے اور مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرے تو پاکستان صرف گاڑیوں کی درآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ برقی گاڑیوں کے پرزہ جات تیار کرنے والا علاقائی مرکز بھی بن سکتا ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
ماضی میں پاکستان کی آٹو مارکیٹ چند محدود کمپنیوں کے گرد گھومتی تھی، لیکن اب مقابلہ بڑھ رہا ہے۔ صارفین کے پاس زیادہ انتخاب ہوگا، بہتر ٹیکنالوجی دستیاب ہوگی اور معیار میں بہتری آئے گی۔ یہی صحت مند مقابلہ کسی بھی صنعت کی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئی صنعتی تبدیلی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ جیسے کبھی گھوڑا گاڑی کی جگہ موٹر کار نے لی تھی، ویسے ہی اب پٹرول گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ پاکستان اگر اس تبدیلی کے ساتھ قدم ملا کر چلے تو نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی لا سکتا ہے بلکہ جدید صنعتی معیشت کی طرف بھی تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں آنے والا یہ برقی انقلاب صرف گاڑیوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ سوچ، معیشت، ماحول اور مستقبل کی تبدیلی کا آغاز ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ شعبہ ملکی ترقی کا ایک اہم ستون بن سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت، صنعت اور سرمایہ کار مل کر اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی سڑکوں پر دوڑنے والی خاموش الیکٹرک گاڑیاں دراصل ایک مضبوط، خودمختار اور جدید معیشت کی نوید ثابت ہوں گی۔
































Address

DHA Phase 3
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ValueDigitalhd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category