13/08/2026
*پاکستان کو جشن نہیں، عزمِ تعمیر بھی چاہیے*
*تحریر: میاں شاہد اسلام*
چودہ اگست کا دن صرف چراغاں کرنے، قومی پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے کا دن نہیں، یہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا دیانت داری سے جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے اجتماعی عہد کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی اتفاق کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک طویل سیاسی جدوجہد، بے مثال قربانیاں اور ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ریاست کا عظیم خواب تھا۔ اہلِ وطن کو یومِ آزادی مبارک ہو، مگر اس مبارکباد کے ساتھ ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے پاکستان کو وہ ملک بنا دیا ہے جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناحؒ اور تحریکِ پاکستان کے کارکنوں نے دیکھا تھا؟
قیامِ پاکستان کے وقت وسائل محدود اور مسائل بے شمار تھے، لیکن قوم کے حوصلے بلند، قیادت مخلص اور منزل واضح تھی۔ لاکھوں مہاجرین خالی ہاتھ پاکستان پہنچے مگر ان کے دل امید، عزم اور جذبۂ تعمیر سے معمور تھے۔ آج ہمارے پاس مضبوط ریاستی ادارے، زرخیز زمین، قدرتی وسائل، ایٹمی صلاحیت، وسیع منڈی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور نوجوانوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود ہم معاشی کمزوری، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں، تعلیمی پسماندگی، توانائی کے بحران، بدعنوانی، آبادی میں بے ہنگم اضافے اور کمزور طرزِ حکمرانی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات، منصوبہ بندی، تسلسل اور دیانت دارانہ عمل کا فقدان ہے۔ ہم نے بارہا پالیسیاں بنائیں لیکن حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ قومی منصوبوں کی سمت بھی تبدیل ہوتی رہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہاں ریاستی پالیسیاں افراد اور حکومتوں کے بجائے قومی مفادات کے تابع رہتی ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسی ہی قومی سمت درکار ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، کاروباری طبقہ، دانشور، علما اور ذرائع ابلاغ متفق ہوں۔
معاشی خودمختاری کے بغیر سیاسی آزادی ہمیشہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ قرض لے کر روزمرہ اخراجات پورے کرنا کسی بھی ریاست کے لیے مستقل حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنی معیشت کو درآمدات، غیر پیداواری اخراجات اور بیرونی قرضوں کے گرد گھومنے کے بجائے پیداوار، برآمدات، صنعت، زراعت، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ ٹیکس کا منصفانہ نظام قائم کیا جائے، طاقتور طبقات کو حاصل غیر ضروری مراعات ختم ہوں اور ریاستی وسائل کا استعمال مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جائے۔ کفایت شعاری کا آغاز عام شہری سے نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ اور سرکاری اداروں کی بالائی سطح سے ہونا چاہیے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن افسوس کہ ہم متعدد بنیادی غذائی اشیا بھی بیرونِ ملک سے منگوانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کسان کو معیاری بیج، سستی بجلی، پانی، جدید مشینری، زرعی تحقیق اور منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیے بغیر کسان خوشحال ہو سکتا ہے نہ صارف کو ریلیف مل سکتا ہے۔ زرعی پیداوار کو خام حالت میں فروخت کرنے کے بجائے اس کی مقامی سطح پر تیاری اور قدر افزائی کے ذریعے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں۔
تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی پہلی سیڑھی ہے، لیکن ہمارے ہاں لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ ایک طرف جدید سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے ہیں اور دوسری طرف ایسے سرکاری اسکول بھی موجود ہیں جہاں بنیادی سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ اور معیاری نصاب تک دستیاب نہیں۔ ہمیں محض ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے ایسی تعلیم فراہم کرنا ہوگی جو کردار، تخلیقی صلاحیت، تحقیق، سائنسی فکر اور عملی مہارت پیدا کرے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو قومی ترجیح بنائے بغیر نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
صحت کے شعبے کی صورتِ حال بھی فوری توجہ چاہتی ہے۔ کسی غریب خاندان کے لیے ایک سنگین بیماری معاشی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، بنیادی مراکزِ صحت، ماں اور بچے کی نگہداشت اور بیماریوں سے بچاؤ پر سرمایہ کاری کی جائے تو بڑے اسپتالوں پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ صاف پانی اور صحت کی سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسے خیرات یا سیاسی احسان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے قانون کی یکساں حکمرانی ناگزیر ہے۔ جس معاشرے میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہو، وہاں اعتماد، سرمایہ کاری اور استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی، پولیس اور عدالتی اصلاحات اور اداروں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بدعنوانی صرف رشوت لینے کا نام نہیں؛ اختیارات کا ناجائز استعمال، سفارش، اقربا پروری، سرکاری وقت اور وسائل کا ضیاع بھی بدعنوانی کی صورتیں ہیں۔
سیاسی استحکام کا راستہ مکالمے، برداشت اور آئینی بالادستی سے نکلتا ہے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی اور تنقید کو غداری قرار دینے کا رویہ ختم ہونا چاہیے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست محاذ آرائی سے نہیں، آئین کی پاسداری اور جمہوری تسلسل سے مضبوط ہوتی ہے۔ قومی معاملات پر سنجیدہ اتفاقِ رائے پیدا کرنا کمزوری نہیں بلکہ بالغ سیاسی شعور کی علامت ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی، بے مقصدیت اور نفرت سے بچانا ہوگا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان نسل ہے، مگر یہی قوت اس وقت مسئلہ بن سکتی ہے جب اسے معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔ خواتین کو تعلیم، کاروبار اور روزگار کے محفوظ مواقع فراہم کیے بغیر آدھی آبادی کو قومی ترقی میں مؤثر شریک نہیں بنایا جا سکتا۔ نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا کسی ایک طبقے کی بہبود نہیں بلکہ قومی معیشت کی ضرورت ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی اب مستقبل کے خدشات نہیں رہے بلکہ موجودہ حقیقت بن چکے ہیں۔ نئے آبی ذخائر، بارش کے پانی کا تحفظ، جنگلات میں اضافہ، شمسی توانائی کا فروغ اور شہروں کی بہتر منصوبہ بندی ہماری قومی سلامتی کا حصہ ہونے چاہئیں۔ قدرتی وسائل کو بے احتیاطی سے استعمال کرنا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ، لیکن شہری بھی قومی فرائض سے بری الذمہ نہیں۔ ٹریفک قانون کی خلاف ورزی، ٹیکس چوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، صفائی سے غفلت، سفارش اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا بھی ملک کو کمزور کرتے ہیں۔ پاکستان صرف حکومت، پارلیمان یا اداروں کا نام نہیں؛ پاکستان ہم سب ہیں۔ جب تک ہم اپنی ذات، گھر، کاروبار، دفتر اور معاشرتی رویوں میں دیانت، نظم و ضبط اور ذمہ داری پیدا نہیں کریں گے، محض نعروں سے تبدیلی نہیں آئے گی۔
چودہ اگست ہمیں امید دلاتا ہے کہ جس قوم نے ناممکن حالات میں ایک آزاد وطن حاصل کیا، وہ اپنے مسائل پر قابو بھی پا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم شخصیات کے بجائے اصولوں، وقتی مفادات کے بجائے قومی ترجیحات اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو اختیار کریں۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی دولت سے طے نہ ہو، کسی مریض کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی نہ بیچنا پڑے، کسی نوجوان کو روزگار کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور کسی شہری کو انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔
آئیے، اس یومِ آزادی پر صرف پاکستان سے محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا عہد بھی کریں۔ پاکستان ہمیں ورثے میں ضرور ملا ہے، مگر ایک مستحکم، خوشحال، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کو دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہی آزادی کا حقیقی جشن، قربانیوں کا درست اعتراف اور قائداعظمؒ کے پاکستان سے سچی وفاداری ہوگی۔
پاکستان زندہ باد!
#14اگست
#پاکستان #قائداعظم
#تعلیم
#نوجوان
News HDMian Shahid IslamValueDigitalhd