16/08/2026
پکار ایشاء نیوز لاہور۔
فیضان نے جو کچھ کیا مجھے شرمندگی بھی ہے اور افسوس ۔ بھی ، شاید میں اسکی ماں کو طلاق نہ دیتا تو وہ ہاتھ سے نہ نکلتا ۔۔۔۔ فیضان و ریحان بٹ کے والد فیاض بٹ کا تہلکہ خیز انٹرویو سامنے آگیا ۔۔ یہ انٹرویو لگ بھگ 15 ماہ قبل فیاض بٹ نے شاہد چوہدری کے پاس آکر انہیں ریکارڈ کروایا تھا ۔۔۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب فیضان بٹ کی پولیس مقابلے میں ہلا.کت کو چند ہفتے گزرے تھے ، فیاض بٹ نے خود شاہد چوہدری سے رابطہ کیا اور اصل کہانی قوم کے سامنے رکھنے کی اپیل کی ۔۔۔۔ اس انٹرویو میں فیاض بٹ کے بقول ۔۔۔۔ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ، فیضان اللہ کو پیارا ہو گیا ، میں نے کچھ سال قبل انکی والدہ کو گھریلو جھگڑے پر طلاق دی تھی ، پہلے تو سب بچے میرے پاس رہے لیکن پھر فیضان زیادہ وقت ماں کے پاس جاکر اپنے نانکے رہنے لگا انہی دنوں میں اسکا اٹھنا بیٹھنا آوارہ لڑکوں میں ہونے لگا ، 19 سال کا ہوا تھا اسے پولیس نے کسی کیس میں اٹھایا ، میرے خیال میں وہ کیس اس پر ناجائز ڈالا گیا اور اسے ایک سال قید کی سزا ہو گئی ، قید کے دنوں میں فیضان کی ملاقات چند ایسے لوگوں سے ہو گئی جو شاید باغی مزاج اور شر۔پسندانہ ذہن والے خطرناک مجرمان تھے ان لوگوں نے 19، 20 سالہ میرے بیٹے فیضان کی برین واشنگ کی اور اسے اس بات پر مائل کیا کہ پولیس والے حرام خور ہوتے ہیں یہ غریبوں پر ظلم کرتے ہیں پولیس والا جہاں نظر آئے اسے مار ڈالنا چاہیے اور پولیس والے کا ق۔ت۔ل جنت کا ٹکٹ ہے کیونکہ یہ کافر ہیں اور انہیں مارنا ثواب ہے ۔۔۔ فیضان ایک سال ان لوگوں کے ساتھ رہا تو انکی باتیں اسکے معصوم اور کچے دماغ پر قطرہ قطرہ لگتی رہیں اور اپنا اثر چھوڑ گئیں ایک سال بعد وہ جیل سے رہا ہوااور گھر آیا تو مجھ سے بھی ملنے آیا اور مجھے بتایا کہ پولیس نے اسے ناجائز پکڑ کر اس پر کیس ڈالا ۔ اس کے بعد کے دنوں میں وہ بہت کم بولتا اور گم سم رہنے لگا کبھی ہمارے پاس ٹھہر جاتا کبھی ماں کے پاس ۔۔ پھر وہ کئی روز مجھے ملنے نہ آیا تو خبروں میں مجھے پتہ چلا کہ اس نے پولیس والوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے ، اس نے دو تین ایسی وارداتیں کیں پھر پولیس اس تک پہنچ گئی وہ گرفتار ہوا اور پھر اسے مقابلے میں پار کردیا گیا ، بقول فیاض بٹ : شاہد چوہدری صاحب میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرا بیٹا معصوم تھا جیل میں بری صحبت نے اس کچے ذہن کو خراب کردیا ورنہ وہ اس سے پہلے شاید چھوٹا موٹا جرم کرتا ہو لیکن وہ د۔ہشت گرد نہ تھا اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے د۔ہشت گرد کا والد کہے یا اس کا اثر ہمارے خاندان پر پڑے ، باقی موت ہر کسی کو آنی ہے یہ اللہ کا حکم تھا کہ 20 ،21 سال کی عمر میں میرا بیٹا مارا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : فیاض بٹ نے اس ویڈیو میں اعتراف کیا کہ وہ دینی لگاؤ رکھنے والا ایک امن پسند انسان ہے ، اب چند روز پہلے وہی فیاض بٹ اپنے بیٹے ریحان بٹ بعمر 18 سال اور ایک اور شخص کے ساتھ بند۔وقیں اٹھائے لاہور کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلتا ہھر رہا تھا ، اور پھر لاہور میں تین پولیس ملازمین کو شہیید کرکے یہ لوگ شیخوپورہ پہنچے اور پولیس مقابلے میں خود بھی پار ہو گئے ۔یہ بات طے ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کا انجام ہمیشہ بھیانک ہی ہوتا ہے ۔