24/08/2026
"POK نہیں، آزاد کشمیر - ایک حقیقت جسے بھارت جھٹلا نہیں سکتا"
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ بیان کہ "POK بھارت کا حصہ ہے اور وہ واپس آئے گا، یہ ہمارا قومی عزم ہے" کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی پرانا راگ ہے جو دہلی ہر الیکشن سے پہلے، ہر داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے چھیڑتا ہے۔
پاکستانی پس منظر میں اس بیان کو دیکھیں تو اس کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔
پہلی بات: نام میں ہی فریب ہے۔
جسے بھارت "Pakistan Occupied Kashmir (POK)" کہتا ہے، وہ دراصل آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہے۔ یہاں کے لوگوں نے 1947 میں ڈوگرہ راج کے خلاف خود مسلح جدوجہد کر کے اپنی آزادی حاصل کی تھی۔ یہ کسی نے ان پر قبضہ نہیں کیا، انہوں نے خود پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ آج وہاں اپنی اسمبلی ہے، اپنا وزیر اعظم ہے، اپنا صدر ہے، اپنا جھنڈا ہے۔ کیا کسی مقبوضہ علاقے میں یہ سب ہوتا ہے؟
دوسری طرف جسے بھارت اپنا "اٹوٹ انگ" کہتا ہے، وہ مقبوضہ کشمیر ہے جہاں 9 لاکھ فوج تعینات ہے، جہاں آئے دن سرچ آپریشن، کرفیو، اور ماورائے عدالت قتل عام کی خبریں آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹس خود اس کی گواہ ہیں۔
دوسری بات: قانونی اور تاریخی حقیقت۔
بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج بھی ایک متنازعہ مسئلہ کے طور پر موجود ہے۔ 1948 اور 1949 کی قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ وہاں کے عوام کی رائے شماری سے ہوگا۔ اگر بھارت کو یقین ہے کہ کشمیر اس کا حصہ ہے تو وہ رائے شماری سے کیوں ڈرتا ہے؟
پاکستان کا موقف کل بھی واضح تھا اور آج بھی واضح ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، ہماری نظریاتی، جغرافیائی اور جذباتی سرحد ہے۔
تیسری بات: بھارتی قومی عزم یا انتخابی نعرہ؟
ڈاکٹر جے شنکر جیسے تعلیم یافتہ سفارت کار کا ایسا بیان دینا افسوسناک ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام پاکستانی ہیں۔ وہ پاکستانی شناختی کارڈ رکھتے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن مناتے ہیں۔ آپ ان کے دلوں سے پاکستان کیسے نکالیں گے؟
یہ "قومی عزم" دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس کا وہ نظریہ ہے جس میں وہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں۔ کبھی وہ لاہور کو بھی بھارت میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ حقیقت سے آنکھیں چرانے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔
حرف آخر:
بھارت کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کو واپس لینے کے خواب دیکھنے کے بجائے، مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے اسے ختم کرے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے بھارت نے جو غیر قانونی قدم اٹھایا، اس نے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن برابری کی بنیاد پر آئے گا۔ ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے، لیکن مذاکرات کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔
جے شنکر صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ نقشے پر لکیر کھینچنے سے زمین آپ کی نہیں ہو جاتی۔ زمین اس کی ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کے لوگوں کا دل دھڑکتا ہے۔ اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ہمیشہ دھڑکتا رہے گا۔