Rahbar

Rahbar Magzine

"POK نہیں، آزاد کشمیر - ایک حقیقت جسے بھارت جھٹلا نہیں سکتا"بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ بیان کہ "POK بھارت کا حص...
24/08/2026

"POK نہیں، آزاد کشمیر - ایک حقیقت جسے بھارت جھٹلا نہیں سکتا"

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا یہ بیان کہ "POK بھارت کا حصہ ہے اور وہ واپس آئے گا، یہ ہمارا قومی عزم ہے" کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی پرانا راگ ہے جو دہلی ہر الیکشن سے پہلے، ہر داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے چھیڑتا ہے۔

پاکستانی پس منظر میں اس بیان کو دیکھیں تو اس کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔

پہلی بات: نام میں ہی فریب ہے۔
جسے بھارت "Pakistan Occupied Kashmir (POK)" کہتا ہے، وہ دراصل آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ہے۔ یہاں کے لوگوں نے 1947 میں ڈوگرہ راج کے خلاف خود مسلح جدوجہد کر کے اپنی آزادی حاصل کی تھی۔ یہ کسی نے ان پر قبضہ نہیں کیا، انہوں نے خود پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ آج وہاں اپنی اسمبلی ہے، اپنا وزیر اعظم ہے، اپنا صدر ہے، اپنا جھنڈا ہے۔ کیا کسی مقبوضہ علاقے میں یہ سب ہوتا ہے؟

دوسری طرف جسے بھارت اپنا "اٹوٹ انگ" کہتا ہے، وہ مقبوضہ کشمیر ہے جہاں 9 لاکھ فوج تعینات ہے، جہاں آئے دن سرچ آپریشن، کرفیو، اور ماورائے عدالت قتل عام کی خبریں آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹس خود اس کی گواہ ہیں۔

دوسری بات: قانونی اور تاریخی حقیقت۔
بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج بھی ایک متنازعہ مسئلہ کے طور پر موجود ہے۔ 1948 اور 1949 کی قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ وہاں کے عوام کی رائے شماری سے ہوگا۔ اگر بھارت کو یقین ہے کہ کشمیر اس کا حصہ ہے تو وہ رائے شماری سے کیوں ڈرتا ہے؟

پاکستان کا موقف کل بھی واضح تھا اور آج بھی واضح ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، ہماری نظریاتی، جغرافیائی اور جذباتی سرحد ہے۔

تیسری بات: بھارتی قومی عزم یا انتخابی نعرہ؟
ڈاکٹر جے شنکر جیسے تعلیم یافتہ سفارت کار کا ایسا بیان دینا افسوسناک ہے۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام پاکستانی ہیں۔ وہ پاکستانی شناختی کارڈ رکھتے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن مناتے ہیں۔ آپ ان کے دلوں سے پاکستان کیسے نکالیں گے؟

یہ "قومی عزم" دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس کا وہ نظریہ ہے جس میں وہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں۔ کبھی وہ لاہور کو بھی بھارت میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ حقیقت سے آنکھیں چرانے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔

حرف آخر:
بھارت کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کو واپس لینے کے خواب دیکھنے کے بجائے، مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے اسے ختم کرے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے بھارت نے جو غیر قانونی قدم اٹھایا، اس نے مسئلہ کشمیر کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن برابری کی بنیاد پر آئے گا۔ ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے، لیکن مذاکرات کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

جے شنکر صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ نقشے پر لکیر کھینچنے سے زمین آپ کی نہیں ہو جاتی۔ زمین اس کی ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کے لوگوں کا دل دھڑکتا ہے۔ اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور ہمیشہ دھڑکتا رہے گا۔

بھارت میں وندے ماترم کا شور اور مسلمانوں کا فکری زوالبھارت کی پارلیمنٹ میں گزشتہ دنوں ایک بل منظور ہوا ہے۔ اس کے تحت وند...
22/08/2026

بھارت میں وندے ماترم کا شور اور مسلمانوں کا فکری زوال

بھارت کی پارلیمنٹ میں گزشتہ دنوں ایک بل منظور ہوا ہے۔ اس کے تحت وندے ماترم کی توہین یا اس کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنے پر تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ خبر بظاہر ایک قانونی ترمیم کی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک پوری تہذیبی اور فکری جنگ کا اعلان ہے۔

وندے ماترم بنگالی ناول نگار بنکم چندر چٹرجی کا 1870ء کی دہائی میں لکھا گیا ایک گیت ہے۔ دستور ساز اسمبلی نے اس کے ابتدائی دو بند ہی قومی سطح پر قبول کیے تھے، کیونکہ پورے گیت میں دیوی درگا کی ثنا، اس کی پوجا اور دھرتی کو ماں اور دیوی کے طور پر پیش کرنے کا تصور شامل ہے۔ اسی لیے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دو ٹوک کہا کہ "وندے ماترم کے الفاظ اسلامی عقائد سے متصادم ہیں، مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے" اور "وندے ماترم کے الفاظ شرکیہ ہیں"۔

مسئلہ گیت کا نہیں، اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کا ہے۔

پچھلے چند مہینوں میں آپ منظر نامہ دیکھیں تو ایک پیٹرن واضح ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں میونسپل بجٹ اجلاس میں وندے ماترم گانے سے انکار پر دو منتخب مسلم کونسلروں روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ ٹرین میں سفر کرتی برقع پوش مسلم خاتون کو ایک ہجوم گھیر کر وندے ماترم کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتا ہے اور انکار پر کہا جاتا ہے "بھارت چھوڑ دو"۔ مقبوضہ کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر مسلم اکثریتی علاقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اسے حب الوطنی کی علامت کے طور پر قبول کریں، اور اتر پردیش میں اسکولوں میں اسے لازمی قرار دیا جاتا ہے جس پر مولانا حلیم اللہ قاسمی کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان بچے اسکولوں سے نکال لو۔

یہ حب الوطنی کا امتحان نہیں، وفاداری کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرے گا۔ اسی انکار کو وہ کیمرے پر ریکارڈ کر کے پورے ملک کو دکھانا چاہتا ہے کہ دیکھو، یہ قومی گیت تک نہیں گاتے، یہ دیش بھکت نہیں ہیں۔

یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ اصل المیہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

اس سارے شور میں بھارتی مسلمان کی قیادت کا ردعمل کیا ہے؟ وہی جو پچھلے ستر سال سے ہے۔ ایک پریس ریلیز، ایک تشویش کا اظہار، ایک فتویٰ کہ یہ شرک ہے، اور پھر خاموشی۔ ہم نے اسے صرف عقیدے کا مسئلہ بنا دیا، جبکہ مدمقابل نے اسے آئین، قانون، تعلیم، میڈیا اور نفسیات کا مسئلہ بنا دیا ہے۔

یہی ہمارا فکری زوال ہے۔

ہم نے سوال ہی غلط پوچھا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ وندے ماترم جائز ہے یا ناجائز، شرک ہے یا نہیں۔ ہمارے لیے تو یہ طے شدہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک سیکولر آئین رکھنے والی ریاست اپنے شہریوں پر ایک خاص مذہبی استعارے والا گیت جبراً کیسے نافذ کر سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 25 جو مذہبی آزادی دیتا ہے، آرٹیکل 28 جو تعلیمی اداروں میں مذہبی ہدایات سے تحفظ دیتا ہے، اور سپریم کورٹ کا 1986ء کا بیجو ایمینوئل فیصلہ جو کہتا ہے کہ قومی ترانہ نہ گانے پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، وہ سب کہاں گئے؟

ہندو انتہا پسند ایک گیت کو قوم پرستی کے لبادے میں لپیٹ کر بیچ رہا ہے، اور ہم اس کا جواب صرف مسجد کے منبر سے دے رہے ہیں۔ ہمیں عدالت میں دینا چاہیے تھا، یونیورسٹی میں دینا چاہیے تھا، تاریخ کی کتابوں سے دینا چاہیے تھا۔

فکری زوال کی تین علامتیں آج بھارتی مسلمان میں بالکل نمایاں ہیں:

اول، ردعمل کی سیاست۔ ہم کبھی عمل نہیں کرتے، ہمیشہ ردعمل دیتے ہیں۔ بل آتا ہے تو جاگتے ہیں، مقدمہ درج ہوتا ہے تو نعرہ لگاتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی تھنک ٹینک نہیں جو پہلے سے بتائے کہ اگلے پانچ سال میں نصاب میں کیا بدلے گا، عدالت میں کیا دلیل آئے گی۔

دوم، مذہبی اختصار۔ ہم نے ہر سیاسی، قانونی اور سماجی مسئلے کو صرف حلال و حرام کے فتوے میں سمیٹ دیا ہے۔ فتویٰ ضروری ہے، لیکن فتویٰ کے بعد وکیل کہاں ہے؟ آئین کا ماہر کہاں ہے؟ میڈیا پر بیٹھ کر بی جے پی کے اینکر کو آئین کی دفعات سے لاجواب کرنے والا مورخ کہاں ہے؟

سوم، متبادل بیانیے کا فقدان۔ ہم نے کبھی بھارت کو یہ نہیں بتایا کہ مسلمان کی حب الوطنی کیسی ہوتی ہے۔ ٹیپو سلطان سے لے کر مولانا آزاد تک، اشفاق اللہ خان سے لے کر اے پی جے عبدالکلام تک، ہم نے اپنی قربانیوں کا کوئی مربوط، جدید، دستاویزی بیانیہ نہیں بنایا۔ جب آپ اپنا بیانیہ خود نہیں لکھتے تو دشمن آپ کا تعارف وندے ماترم کے انکار سے کراتا ہے۔

وندے ماترم کا یہ نیا قانون دراصل ایک ٹریپ ہے۔ اگر مسلمان گائے گا تو اپنا عقیدہ توڑے گا، انکار کرے گا تو تین سال جیل جائے گا اور میڈیا پر غدار کہلائے گا۔ اس ٹریپ سے نکلنے کا راستہ جذبات میں نہیں، حکمت میں ہے۔

ہمیں عدالت میں یہ کہنا ہوگا کہ ہمیں وندے ماترم کے گانے والوں سے کوئی اعتراض نہیں، جیسا کہ مولانا مدنی نے کہا، لیکن ہمیں مجبور نہ کیا جائے۔ ہمیں اسکولوں میں یہ متبادل دینا ہوگا کہ بچہ سارے جہاں سے اچھا یا کوئی اور حب الوطنی کا ترانہ پڑھ لے۔ ہمیں میڈیا پر یہ بتانا ہوگا کہ وفاداری نعرے سے نہیں، آئین سے وفاداری سے ناپی جاتی ہے۔

بھارت میں وندے ماترم کا شور تھمنے والا نہیں۔ یہ ہندوتوا کے ہر الیکشن کا مستقل ہتھیار بنے گا۔ اگر مسلمانوں نے اس کا جواب صرف جذباتی تقریروں اور واٹس ایپ کے غصے سے دیا تو ہر بار وہی ہوگا جو مدھیہ پردیش اور ٹرین میں ہوا۔

عقیدہ تو محفوظ ہے، کیونکہ وہ اللہ محفوظ رکھتا ہے۔ سوال فکر کا ہے۔ اور فکر اس وقت زوال پذیر ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلمانوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معیاری اسکولوں،...
21/08/2026

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلمانوں کی آبادی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معیاری اسکولوں، مناسب قیمتوں پر دستیاب مکانات اور ایک محفوظ و پرسکون ماحول کی تلاش میں بڑی تعداد میں مسلمان خاندان یہاں منتقل ہوئے ہیں۔ بالخصوص ڈلاس فورٹ ورتھ کا علاقہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔
​تاہم، جیسے جیسے مسلم آبادی کا گراف اوپر گیا ہے، ویسے ہی مقامی سطح پر سیاسی اور سماجی سطح پر کچھ ناگواری اور مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کی سیاست میں طویل عرصے سے "بنیاد پرست اسلام" کا مقابلہ کرنے کا نعرہ شامل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں جب قومی سطح پر اہم سیاسی کامیابی حاصل کرنے والے مسلم رہنماؤں، جیسے نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی اور مشی گن کے ممتاز رہنما عبدالالسید، نے سیاست میں قدم جمائے تو اس طرح کے بیانیے میں مزید شدت دیکھی گئی۔
​سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹیکساس کے سیاست دان اب صرف بیان بازی تک محدود نہیں رہے، بلکہ ریاستی اور قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کچھ مسلم تنظیموں کو نشانہ بنانے کے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں۔

ہوسکتا ھے کہ دہشت گردی کا الزام لگا کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے اور ان کے خلاف ظلم و ستم کا نیا باب شروع کیا جائے۔

"جہاں بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی ہو رہی ہے، وہاں فتنہ الخوارج ہمارے دشمن ممالک سے وسائل حاصل کر کے بے گناہ لوگوں ک...
21/08/2026

"جہاں بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی ہو رہی ہے، وہاں فتنہ الخوارج ہمارے دشمن ممالک سے وسائل حاصل کر کے بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔ افواجِ پاکستان دن رات ان دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمیں ان عظیم قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔

جس سڑک کو آپ خونی سڑک کہتے ہیں، اسے امن کی سڑک میں تبدیل کرنے کے لیے 415 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اس پر کام شروع ہو چکا ہے، لیکن دہشت گردی کے باعث یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے اور اپنے تمام بچوں کی خوشحالی اور ترقی چاہتی ہے۔ اگر مسائل ہیں تو انہیں بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ باہمی مشاورت اور گرینڈ ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ اگر ہم مہذب اور مخلصانہ انداز میں بیٹھ کر بات کریں تو میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو نرم کرے گا اور آسانی پیدا کرے گا۔"

وزیراعظم شہباز شریف کا بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب

دہلی میں ہائی کمیشن کے باہر سے رکاوٹیں ہٹنا - ایک چھوٹا قدم، بڑا پیغام؟نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے ...
20/08/2026

دہلی میں ہائی کمیشن کے باہر سے رکاوٹیں ہٹنا - ایک چھوٹا قدم، بڑا پیغام؟

نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن کے باہر لگے کیو لائنرز اور عارضی ڈھانچے ہٹا دیے گئے۔ خبر بظاہر بہت چھوٹی ہے، صرف ایک گلی میں تجاوزات ہٹانے کی کارروائی۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچے کمپاؤنڈ کی منظور شدہ حدود سے باہر تھے۔ لیکن بھارت اور پاکستان کے تناظر میں، سفارت خانوں کے باہر لگی ایک اینٹ بھی صرف اینٹ نہیں ہوتی، وہ ایک پیغام ہوتی ہے۔

سفارتی دنیا میں سیکیورٹی حصار اور بیرئیرز دو دھاری تلوار ہیں۔ ایک طرف یہ تحفظ کی علامت ہیں، دوسری طرف یہ تعلقات کی سرد مہری کی علامت بن جاتے ہیں۔ جب کسی ہائی کمیشن کے باہر قطاریں لمبی ہوں، ویزا کے لیے عام لوگ کھڑے ہوں، تو وہاں لگے کیو مینجمنٹ بیرئیرز دراصل رابطے کی امید ہوتے ہیں۔ ان کا ہٹنا دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔

پہلا زاویہ انتظامی ہے۔ نئی دہلی کے سفارتی انکلیو میں قوانین بہت سخت ہیں۔ کوئی بھی مشن اپنی منظور شدہ باؤنڈری سے باہر مستقل یا نیم مستقل ڈھانچہ نہیں لگا سکتا۔ اس اصول کے تحت کارروائی ایک معمول کی میونسپل کارروائی ہے۔

دوسرا زاویہ علامتی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان ویزا سروسز انتہائی محدود ہو چکی ہیں۔ عام پاکستانی اور بھارتی شہری کے لیے دوسرے ملک کا ویزا لینا اب سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ ایسے میں ویزا سیکشن کے باہر سے قطاروں کے انتظام کے لیے لگے ڈھانچے کا ہٹنا اس بات کی بھی علامت ہے کہ اب وہاں قطاریں ہی نہیں لگتیں جنہیں منظم کرنے کی ضرورت ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمیشنز کے باہر سیکیورٹی کم یا زیادہ کی گئی ہے، اس کا براہ راست تعلق سیاسی درجہ حرارت سے رہا ہے۔ کبھی سڑک کا نام بدل دیا جاتا ہے، کبھی سیکیورٹی بیرئیر بڑھا دیے جاتے ہیں۔ یہ خاموش سفارت کاری ہوتی ہے جو بیانات کے بغیر پیغام دے دیتی ہے۔

اگر اس اقدام کو صرف انتظامی کارروائی تک ہی رکھا جائے تو یہ دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے۔ سفارتی مشنز کا تحفظ میزبان ملک کی ذمہ داری ہے اور ویانا کنونشن کے تحت ہر ملک اس کا پابند ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن ہو یا انڈین ہائی کمیشن اسلام آباد میں، دونوں کا وقار اور تحفظ برقرار رہنا چاہیے۔

عام لوگ، خاص طور پر دونوں طرف منقسم خاندان، مریض، اور طلبہ صرف ایک ہی خواہش رکھتے ہیں کہ ویزا سیکشن کے باہر لگے بیرئیرز کی جگہ پھر سے لمبی قطاریں نظر آئیں۔ کیونکہ قطاریں ہوں گی تو رابطہ ہوگا، اور رابطہ ہوگا تو شاید راستہ بھی نکلے گا۔

رکاوٹیں ہٹانا آسان ہے، دلوں سے رکاوٹیں ہٹانا اصل چیلنج ہے۔

کشمیر اور عالمی طاقتوں کا کردارمسئلہ کشمیر دہائیوں سے کشمیری عوام کی بے پناہ قربانیوں اور سسکیوں کا داستان گو ہے۔ تاہم، ...
20/08/2026

کشمیر اور عالمی طاقتوں کا کردار
مسئلہ کشمیر دہائیوں سے کشمیری عوام کی بے پناہ قربانیوں اور سسکیوں کا داستان گو ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر اس دیرینہ مسئلے کا حل نہ ہونا محض علاقائی کشیدگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے وہ سامراجی اور عالمی طاقتیں ہیں جو اپنے مفادات کے تحت اس خطے کی مظلومیت سے آنکھیں مونھے ہوئے ہیں۔
برطانیہ نے برصغیر کی تقسیم کے وقت جس طرح نامکمل اور متنازع فارمولا پیش کیا، وہی دراصل کشمیر تنازع کی بنیاد بنا۔ تاریخ شاہد ہے کہ برطانیہ کے اس ادھورے فیصلے نے برصغیر کے دو بڑے ممالک کے درمیان مستقل دشمنی کے بیج بوئے، جس کی قیمت آج بھی کشمیری عوام اپنے خون سے چکا رہے ہیں۔
دوسری جانب، امریکہ کی بات کی جائے تو اس کا رویہ ہمیشہ اپنے جیو پولیٹیکل مفادات اور تجارتی پالیسیوں کے تابع رہا ہے۔ عالمی سطح پر حقوقِ انسانی کا داعی بننے والا امریکہ اپنے سفارتی بیانات کو بھی وقتی سیاسی مفادات کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ اس کی تازہ ترین اور واضح مثال حال ہی میں سامنے آئی، جب بھارت میں متعین امریکی سفیر سرجیو گور نے سری نگر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر عمر عبداللہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران امریکی سفیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو "بھارت کا ایک اہم حصہ" قرار دے دیا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع کی حیثیت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس طرح کے متنازع بیانات دینا امریکہ کی تاریخی منافقت اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے بے وفائی کو واضح کرتا ہے۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کی شمولیت نے مقبوضہ وادی میں مظالم کے انداز کو مزید شدید اور نفاست پسند بنا دیا ہے۔ فلسطین اور کشمیر دونوں علاقوں میں ایک ہی طرز کی ریاستی حکمتِ عملی، ڈیموگرافک تبدیلیاں اور غاصبانہ کنٹرول کا نمونہ نظر آتا ہے۔
جب تک عالمی طاقتیں اور ان کے سفارت کار انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کو اپنے سیاسی و اقتصادی مفادات سے بالاتر نہیں رکھتے، اس وادی میں امن قائم ہونا ناگزیر حد تک دشوار رہے گا۔ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت کسی سفارتی سودے بازی یا طاقتور ممالک کے بیانات کا محتاج نہیں، بلکہ یہ ان کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے 'دہلی سلطنت' کا خاتمہ: تاریخ کے نئے خطوط؟خاص رپورٹدہلی یونیورسٹی نے اپنے ایم اے تاریخ (MA Hist...
14/08/2026

دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے 'دہلی سلطنت' کا خاتمہ: تاریخ کے نئے خطوط؟
خاص رپورٹ
دہلی یونیورسٹی نے اپنے ایم اے تاریخ (MA History) کے تیسرے سمسٹر کے نئے جاری کردہ نصاب سے 'دہلی سلطنت' پر دہائیوں سے پڑھائے جانے والے ایک مخصوص مضمون (پیپر) کو حذف کر دیا ہے۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کا معاملہ کافی بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔
کورس کا پس منظر اور اہمیت
یہ کورس گزشتہ چند دہائیوں سے یونیورسٹی کے نصابی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد قرونِ وسطیٰ کے شمالی ہند کی ریاستی تشکیل، اقتدار کے سیاسی و انتظامی ڈھانچوں، اور اس دور کی مذہبی و ثقافتی تاریخ کا گہرا تجزیہ فراہم کرنا تھا۔
دیگر مضامین بھی ختم
نصاب میں کی جانے والی یہ تبدیلی صرف دہلی سلطنت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قدیم اور قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان کا احاطہ کرنے والے چند دیگر اہم اور مخصوص مضامین کو بھی نصاب سے باہر کر دیا ہے۔
> نمایاں اعداد و شمار:
> شعبہ تاریخ (History Department) کی جانب سے کل 38 ڈی ایس ای (DSE) مضامین کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم 7 اگست کو نوٹیفائی کیے گئے حتمی نصاب میں صرف 16 مضامین کو ہی شامل رکھا گیا ہے۔
>
اس فیصلے کے بعد تعلیمی حلقوں اور مورخین کے درمیان نصاب کی ازسرِ نو ترتیب اور تاریخ نگاری پر اثرات کے حوالے سے ایک نیا بحث و مباحثہ چھڑ گیا ہے۔

13/08/2026
سلامت رہے میرا پاکستان! 🇵🇰یہ صرف ایک ملک نہیں، یہ ہماری پہچان ہے، ہمارا مان ہے، اور ہمارے وجود کا حصّہ ہے۔ یہ وہ مٹی ہے ...
13/08/2026

سلامت رہے میرا پاکستان! 🇵🇰
یہ صرف ایک ملک نہیں، یہ ہماری پہچان ہے، ہمارا مان ہے، اور ہمارے وجود کا حصّہ ہے۔ یہ وہ مٹی ہے جس میں ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی مہک بساتی ہے اور جس کی فضاؤں میں ہم نے آزادانہ سانس لینا سیکھا ہے۔
ہم نے اس وطن کی گلیوں میں بچپن گزارا، اس کی چھتوں پر چاند کو دیکھا، اور اس کے سائے تلے اپنے خوابوں کو پروان چڑھاتے دیکھا۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی کونہ دیکھ لو، جو سکون اپنے دیس کی ہواؤں میں ہے، وہ کہیں اور میسر ہی نہیں۔
ہماری خوشیاں، ہمارے دکھ، ہماری امیدیں اور ہماری دعا ئیں… سب اسی مٹی سے جڑی ہیں۔ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، یہ سرزمین ہمیشہ اپنا آغوش کھولے اپنے بچوں کی پناہ گاہ بنی رہتی ہے۔
> خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
> وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو!
>
اے میرے وطن! تُو سدا قائم و دائم رہے۔ تیرا پرچم یونہی بلندیوں پر لہراتا رہے اور تیرے رہنے والے ہمیشہ امن، محبت اور خوشحالی کے ساتھ مسکراتے رہیں۔
آمین! یا رب العالمین۔

Address

Awan Town
Lahore
5400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahbar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share