Wasima Nizam

Wasima Nizam speaker
freedom voice
hum rights
minority speaker

معصوم ننھی جانوں کا حساب کون دے گا؟میں، وسیمہ نظام، آج ایک ماں کی حیثیت سے بھی اور انسانی حقوق کی آواز بن کر بھی یہ الفا...
27/08/2026

معصوم ننھی جانوں کا حساب کون دے گا؟

میں، وسیمہ نظام، آج ایک ماں کی حیثیت سے بھی اور انسانی حقوق کی آواز بن کر بھی یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

اسلام آباد کے PIMS ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کا اس طرح ہم سے چھین لیا جانا صرف ایک حادثہ نہیں، یہ 14 خاندانوں کی پوری دنیا اجڑ جانے کا سانحہ ہے۔ وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی زندگی کو دیکھا بھی نہیں تھا، جن کے والدین نے ان کے لیے خواب سجائے تھے، جن ماؤں نے انہیں اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر مہینوں اپنی کوکھ میں محفوظ رکھا تھا—آج وہ مائیں اپنے بچوں کو گود میں لینے کے بجائے ان کے جنازے اٹھانے پر مجبور ہیں۔

میں ایک ماں ہوں، اس لیے شاید اس درد کو لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔
ایک ماں جس نے اپنے بچے کے لیے دعائیں کی ہوں، جو اس کی پہلی سانس، پہلی آواز اور پہلی مسکراہٹ کا انتظار کرتی رہی ہو، وہ اس وقت کیا محسوس کرتی ہوگی جب اسے بتایا جائے کہ اس کا بچہ اب اس دنیا میں نہیں رہا؟
یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔

میں ان تمام غم زدہ والدین سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتی ہوں۔
آپ کا دکھ صرف آپ کا دکھ نہیں، آج پورا پاکستان آپ کے ساتھ سوگوار ہونا چاہیے۔

لیکن میری آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ آج غصہ بھی ہے۔

ہسپتال وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کو حفاظت کے یقین کے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ اگر ایک ہسپتال میں بھی معصوم نومولود محفوظ نہیں، تو پھر ہم اپنے نظامِ صحت سے کیا امید رکھیں؟

میں کسی فرد کو بغیر تحقیقات کے مجرم قرار نہیں دے رہی، لیکن اگر تحقیقات میں انتظامی غفلت، حفاظتی انتظامات کی کمی، ڈیوٹی پر موجود عملے کی کوتاہی، ناقص نگرانی یا کسی بھی سطح پر مجرمانہ لاپروائی ثابت ہوتی ہے تو کسی بااثر شخص، افسر یا اہلکار کو معافی نہیں ملنی چاہیے۔

14 معصوم بچوں کی جانیں کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں۔ یہ 14 زندگیاں تھیں، 14 خاندان تھے، 14 ماؤں کی دعائیں تھیں، 14 باپوں کے خواب تھے۔

میں حکومتِ پاکستان، متعلقہ وزارتِ صحت اور تمام ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتی ہوں کہ:

اس سانحے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں۔
غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار ہر فرد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔
ہسپتال کے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، بجلی اور طبی عملے کی موجودگی سمیت تمام حفاظتی انتظامات کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کو مکمل معاونت اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ملک بھر کے ہسپتالوں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

ہمیں صرف افسوس اور تعزیت نہیں چاہیے، ہمیں جواب چاہیے۔
ہمیں صرف تحقیقات کا اعلان نہیں چاہیے، ہمیں انصاف چاہیے۔
اور ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں کسی ماں کو اپنے نومولود بچے کو ہسپتال میں داخل کرتے ہوئے یہ خوف نہ ہو کہ شاید وہ اسے دوبارہ زندہ نہ دیکھ سکے۔

آج ان 14 معصوم فرشتوں کے لیے میری آنکھیں اشک بار ہیں۔
ان کے والدین کے لیے میرا دل دعاگو ہے۔

اے مالک کے دو جہان خداوند یسوع المسیح! ان معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو یہ ناقابلِ بیان صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے، اور ہمیں ایسا معاشرہ اور ایسا نظام بنانے کی توفیق دے جہاں کسی معصوم کی جان غفلت کی نذر نہ ہو۔ آمین۔

میں وسیمہ نظام، انسانی حقوق کی آواز کے طور پر، اس سانحے پر خاموش نہیں رہوں گی۔
معصوم بچوں کی جان کا حساب ہونا چاہیے—اور انصاف ضرور ہونا چاہیے۔






شیخوپورہ کے علاقے ناصرت کالونی میں اخلاق مسیح کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے بے رحمانہ تشدد نے ایک بار پھر کئی سنجیدہ سو...
20/08/2026

شیخوپورہ کے علاقے ناصرت کالونی میں اخلاق مسیح کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے بے رحمانہ تشدد نے ایک بار پھر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اخلاق مسیح نے چند نوجوانوں کو لڑکیوں کو مبینہ طور پر چھیڑنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اگر ایک نوجوان ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی عزت و تحفظ کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور اس کے جواب میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو سوال صرف اخلاق مسیح کا نہیں—سوال پورے نظامِ انصاف کا ہے۔

ہم نے بڑے جوش و خروش سے اقلیتی ڈے منایا۔ تقاریر ہوئیں، دعوے کیے گئے، تصاویر بنیں، اقلیتوں کے حقوق کی بات ہوئی۔ لیکن میں ایم پی ایز، ایم این ایز اور بالخصوص اقلیتی وزیر رمیش اروڑا سے پوچھنا چاہتی ہوں:

کیا اقلیتی ڈے منانے سے اقلیتیں محفوظ ہو گئی ہیں؟
کیا تقریروں سے ہماری بچیاں محفوظ ہو گئی ہیں؟
کیا ایک مسیحی نوجوان کو اپنی اور دوسروں کی عزت کے لیے آواز اٹھانے کی سزا تشدد کی صورت میں دی جائے گی؟

اگر یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہیں، تو پھر قانون کی بالادستی اور ریاست کی رٹ کے دعوے کس کام کے؟

میں مطالبہ کرتی ہوں کہ اخلاق مسیح پر ہونے والے مبینہ تشدد کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ قانونی نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور متاثرہ نوجوان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

ہم کسی بھی مذہب، برادری یا گروہ کے خلاف نہیں؛ ہم ظلم کے خلاف ہیں۔
ہم قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے خلاف ہیں۔
اور ہم اس سوچ کے خلاف ہیں کہ کمزور، غریب یا اقلیتی شہری کو آسان ہدف سمجھ لیا جائے۔

رمیش اروڑا صاحب! اقلیتی ڈے پر تقریر کرنا آسان ہے، اقلیتوں کو تحفظ دینا اصل امتحان ہے۔

ایم پی ایز، ایم این ایز اور متعلقہ حکام سے میرا واضح سوال ہے:

اخلاق مسیح کے ساتھ مبینہ تشدد کا ذمہ دار کون ہے؟
کارروائی کب ہوگی؟
اور ہماری بیٹیوں اور بہنوں کے تحفظ کے لیے ریاست کب عملی طور پر میدان میں اترے گی؟

ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
ہم سوال کریں گے۔
ہم انصاف کا مطالبہ کریں گے۔
اور جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوتا، ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اقلیتی ڈے صرف کیلنڈر پر نہیں، اقلیتوں کے محفوظ مستقبل میں نظر آنا چاہیے!

— وسیمہ نظام

14 اگست مبارک... لیکن کس کے لیے؟میرا نام وسیمہ نظام ہے، اور آج پاکستان کے یومِ آزادی پر دلِ دکھ کے ساتھ یہ سوال پوچھنے پ...
14/08/2026

14 اگست مبارک... لیکن کس کے لیے؟
میرا نام وسیمہ نظام ہے، اور آج پاکستان کے یومِ آزادی پر دلِ دکھ کے ساتھ یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوں: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
آج جب پورا ملک آزادی کا جشن منا رہا ہے، میں اپنی مسیحی برادری، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور بالخصوص ان بے بس مسیحی بچیوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں جنہیں زبردستی مذہب تبدیل کروا کر کم عمری میں شادی کے بندھن میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
کیا جوزف کالونی کے گھروں کو راکھ بنانے والے مجرموں کو ان کے کیے کی سزا مل گئی؟
کیا کوٹ رادھا کشن کے بھٹے میں شمع اور شہزاد کو زندہ جلانے والے اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے؟
کیا جڑانوالہ میں 26 گرجا گھروں اور مقدس بائبل کو آگ لگانے والے درندوں کے ہاتھ قانون نے پکڑے؟
کیا نظیر مسیح کو اینٹیں مار کر شہید کرنے والوں سے حساب لیا گیا؟
کیا ایک سینیٹری ورکر، نعمان مسیح کو 'چوڑا' کہہ کر اس کی تذلیل کرنے والوں کی زبانوں پر کوئی لگام ڈالی گئی؟
اگر ان تمام سوالوں کا جواب "نہِیں" ہے، تو پھر ہم مسیحی کس بات کی آزادی کا جشن منائیں؟
ہم تو اس زمین پر پہلے ہی آزاد تھے، لیکن آج اپنے ہی وطن میں غلام بنا دیے گئے ہیں۔ جب تک ہماری بیٹیوں، ہماری عبادگاہوں اور ہماری جان و مال کو تحفظ نہیں ملتا، یہ آزادی ہمارے لیے محض ایک تلخ مذاق ہے۔

وسیمہ نظام کا سخت احتجاجی بیانمیں، وسیمہ نظام، پاکستان میں انسانی حقوق، بالخصوص مسیحی برادری اور مسیحی بچیوں کے حقوق کے ...
12/08/2026

وسیمہ نظام کا سخت احتجاجی بیان

میں، وسیمہ نظام، پاکستان میں انسانی حقوق، بالخصوص مسیحی برادری اور مسیحی بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایک کارکن کی حیثیت سے، ٹاؤن شپ تھانے میں پیش آنے والے دو کم عمر/نوجوان خواتین کی مبینہ ہلاکت کے واقعے پر شدید غم، غصے اور تشویش کا اظہار کرتی ہوں۔

اطلاعات کے مطابق دو نوجوان لڑکیاں، جن میں ایک کی عمر تقریباً 19 سال اور دوسری کی تقریباً 21 سال بتائی جا رہی ہے، پولیس کے پاس موجود تھیں۔ بعد ازاں ان کے اہلِ خانہ کو ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔ اگر یہ تمام تفصیلات درست ہیں تو یہ معاملہ محض ایک معمول کا پولیس کیس نہیں بلکہ انتہائی سنگین انسانی حقوق کا سوال ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات مبینہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق سامنے آنے والے دعوے ہیں، جن کے مطابق دونوں نوجوان خواتین کی موت بیک وقت ہارٹ اٹیک سے ہوئی اور جسم پر تشدد کے آثار نہیں پائے گئے۔ اگر ایسا ہی ہے تو عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ 19 اور 21 سال کی دو نوجوان خواتین ایک ہی وقت میں ہارٹ اٹیک سے کیسے جاں بحق ہوئیں؟ اس سوال کا جواب محض ایک رپورٹ سے نہیں بلکہ شفاف، آزاد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات سے ملنا چاہیے۔

ابتدائی طور پر اگر ان خواتین پر کسی قسم کے نشے کے استعمال کا الزام لگایا گیا تھا، تو پوسٹ مارٹم اور ٹاکسیکولوجی رپورٹ میں اس کے واضح شواہد کہاں ہیں؟ اگر نشے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو پھر یہ الزام کس بنیاد پر لگایا گیا؟

میں کسی فرد کو بغیر ثبوت قاتل قرار نہیں دے رہی، لیکن میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ اگر پولیس کی تحویل یا موجودگی میں دو نوجوان خواتین کی موت ہوئی ہے تو پولیس ہی اس معاملے کی آخری اور واحد تفتیش کار نہیں ہو سکتی۔

ہمیں ایک آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات چاہیے۔ سی سی ڈی، فرانزک ماہرین اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈ، تھانے کا ریکارڈ، ڈیوٹی رجسٹر، حراست/موجودگی کا تمام ریکارڈ، فرانزک شواہد اور پوسٹ مارٹم کے ساتھ ٹاکسیکولوجی رپورٹس عوام اور متاثرہ خاندان کے سامنے لائی جائیں۔

اور میں یہ سوال بھی پوری شدت سے اٹھاتی ہوں:

کیا قانون صرف عام شہریوں کے لیے ہے؟

اگر کسی عام شہری پر کسی انسان کی موت میں ملوث ہونے کا شبہ ہو تو ریاستی ادارے پوری طاقت سے حرکت میں آتے ہیں۔ تو پھر اگر کسی واقعے میں پولیس اہلکاروں کا نام یا کردار سامنے آ رہا ہو، کیا ان کے لیے کوئی الگ قانون ہے؟
کیا سی سی ڈی اپنے ہی محکمے کے اہلکاروں کے خلاف بھی وہی معیار، وہی قانون اور وہی احتساب لاگو کرے گی جو ایک عام شہری کے خلاف کیا جاتا ہے؟

ہمیں "پیٹی بھائی" بچانے کی نہیں، انصاف کرنے کی پولیس چاہیے۔

میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ مسیحی برادری کی بچیوں اور خواتین کے حقوق کسی بھی صورت کم تر نہیں۔ پاکستان کا آئین ہر شہری کو جان، عزت، آزادی اور انصاف کا حق دیتا ہے۔ مذہب، برادری یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کسی انسان کے بنیادی حقوق پامال نہیں کیے جا سکتے۔

میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ اس واقعے کی آزادانہ جوڈیشل/غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اگر پوسٹ مارٹم یا کسی اور رپورٹ پر سوالات ہیں تو اس کا آزاد فرانزک جائزہ لیا جائے، اور اگر کسی اہلکار یا کسی دوسرے شخص کا جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

دو نوجوان زندگیاں خاموشی میں دفن نہیں ہونی چاہئیں۔

ہم سوال پوچھیں گے۔
ہم ثبوت مانگیں گے۔
ہم آزاد تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔
اور جب تک حقیقت سامنے نہیں آتی، ہم انصاف کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

مسیحی ہوں یا مسلمان، عورت ہو یا مرد—انسانی جان کی قیمت برابر ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

— وسیمہ نظام
انسانی حقوق کی کارکن اور مسیحی برادری کے حقوق کی آواز

دو مسلمان بچیوں کی پراسرار موت — آخر ان کے ساتھ ہوا کیا؟میں وسیمہ نظام ہوں، اور میں ہمیشہ پاکستان میں ظلم، تشدد، خواتین ...
10/08/2026

دو مسلمان بچیوں کی پراسرار موت — آخر ان کے ساتھ ہوا کیا؟

میں وسیمہ نظام ہوں، اور میں ہمیشہ پاکستان میں ظلم، تشدد، خواتین اور بچوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہوں اور آئندہ بھی اٹھاتی رہوں گی۔

آج میں انتہائی دکھ، غصے اور تشویش کے ساتھ ٹاؤن شپ تھانے کی حدود میں دو مسلمان بچیوں کی مبینہ پراسرار ہلاکت کے معاملے پر سوال اٹھا رہی ہوں۔

اطلاعات کے مطابق یہ دونوں بچیاں محنت کرکے اپنے گھروں کا گزر بسر کرنے میں اپنے خاندان کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ مبینہ طور پر پولیس انہیں تھانے لے کر گئی، اور اس کے بعد دونوں کی پراسرار طور پر ہلاکت ہوگئی۔ اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ انہوں نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تھی۔

میرا سوال ہے: آخر حقیقت کیا ہے؟

اگر بچیاں پولیس کی تحویل میں تھیں تو:

انہیں تھانے کیوں لے جایا گیا؟

کس بنیاد اور کس قانونی اختیار کے تحت انہیں تھانے لایا گیا؟

تھانے میں ان کے ساتھ کیا ہوا؟

وہ کس کی تحویل میں تھیں؟

ان کی موت کب اور کیسے ہوئی؟

اگر نشہ آور چیز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کا فرانزک ثبوت کہاں ہے؟

کیا ان کا شفاف اور غیر جانب دار پوسٹ مارٹم ہوا؟

کیا ان کے خون اور دیگر نمونے آزاد فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے؟

تھانے کی CCTV فوٹیج کہاں ہے؟

اس پورے معاملے کا ریکارڈ اور روزنامچہ عوام اور اہلِ خانہ کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟

اور سب سے اہم سوال:

اگر یہ دونوں بچیاں پولیس کی تحویل میں جانے کے بعد ہلاک ہوئیں تو اس واقعے کی مکمل اور غیر جانب دار تحقیقات کیوں نہیں ہو رہی؟

میں کسی شخص کو بغیر ثبوت مجرم قرار نہیں دے رہی، لیکن سوال پوچھنا ہمارا حق ہے اور جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

محترمہ مریم نواز صاحبہ!

آپ نے کہا ہے کہ خواتین اور بچے آپ کی ریڈ لائن ہیں۔

تو میری آپ سے اپیل ہے:

براہِ کرم ان دو بچیوں کے معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

اگر واقعی خواتین اور بچے ریڈ لائن ہیں تو پھر ان دو بچیوں کی موت کی حقیقت بھی سامنے آنی چاہیے۔

آئی جی پنجاب صاحب!

میرا آپ سے بھی سوال ہے:

کیا آپ نے اس واقعے کا نوٹس لیا؟

اگر لیا ہے تو تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں؟

اور اگر ابھی تک نوٹس نہیں لیا گیا تو کیوں؟

میری حکومت پنجاب اور متعلقہ پولیس حکام سے پُرزور اپیل ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ایسی آزاد اور غیر جانب دار ٹیم سے کروائی جائیں جس پر متاثرہ خاندان اور عوام اعتماد کر سکیں۔

خدارا ان دو بچیوں کی آواز بنیں۔

وہ کسی طاقتور خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھیں، لیکن وہ بھی اس ملک کی بیٹیاں تھیں۔

ان کا حق تھا کہ وہ زندہ رہتیں، محفوظ رہتیں اور عزت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جاتیں۔

ہم کسی کے خلاف ذاتی انتقام نہیں چاہتے۔
ہم کسی بے گناہ کو مجرم قرار نہیں دینا چاہتے۔
ہم صرف سچ چاہتے ہیں۔
ہم صرف شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔
اور اگر کسی کی بددیانتی یا مجرمانہ غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی چاہتے ہیں۔

مریم نواز صاحبہ، اگر خواتین اور بچے واقعی آپ کی ریڈ لائن ہیں تو براہِ کرم ان دو بچیوں کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔

آخر ان کے ساتھ ہوا کیا؟

یہ سوال صرف ان کے خاندان کا نہیں، ہم سب کا ہے۔

خاموشی نہیں، جواب چاہیے۔
قیاس نہیں، فرانزک ثبوت چاہیے۔
پردہ پوشی نہیں، شفاف تحقیقات چاہیے۔
اور اگر جرم ہوا ہے تو انصاف چاہیے۔










Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wasima Nizam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share