27/08/2026
معصوم ننھی جانوں کا حساب کون دے گا؟
میں، وسیمہ نظام، آج ایک ماں کی حیثیت سے بھی اور انسانی حقوق کی آواز بن کر بھی یہ الفاظ لکھ رہی ہوں تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔
اسلام آباد کے PIMS ہسپتال میں 14 نومولود بچوں کا اس طرح ہم سے چھین لیا جانا صرف ایک حادثہ نہیں، یہ 14 خاندانوں کی پوری دنیا اجڑ جانے کا سانحہ ہے۔ وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی زندگی کو دیکھا بھی نہیں تھا، جن کے والدین نے ان کے لیے خواب سجائے تھے، جن ماؤں نے انہیں اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر مہینوں اپنی کوکھ میں محفوظ رکھا تھا—آج وہ مائیں اپنے بچوں کو گود میں لینے کے بجائے ان کے جنازے اٹھانے پر مجبور ہیں۔
میں ایک ماں ہوں، اس لیے شاید اس درد کو لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں۔
ایک ماں جس نے اپنے بچے کے لیے دعائیں کی ہوں، جو اس کی پہلی سانس، پہلی آواز اور پہلی مسکراہٹ کا انتظار کرتی رہی ہو، وہ اس وقت کیا محسوس کرتی ہوگی جب اسے بتایا جائے کہ اس کا بچہ اب اس دنیا میں نہیں رہا؟
یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔
میں ان تمام غم زدہ والدین سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتی ہوں۔
آپ کا دکھ صرف آپ کا دکھ نہیں، آج پورا پاکستان آپ کے ساتھ سوگوار ہونا چاہیے۔
لیکن میری آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ آج غصہ بھی ہے۔
ہسپتال وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے پیاروں کو حفاظت کے یقین کے ساتھ لے کر جاتا ہے۔ اگر ایک ہسپتال میں بھی معصوم نومولود محفوظ نہیں، تو پھر ہم اپنے نظامِ صحت سے کیا امید رکھیں؟
میں کسی فرد کو بغیر تحقیقات کے مجرم قرار نہیں دے رہی، لیکن اگر تحقیقات میں انتظامی غفلت، حفاظتی انتظامات کی کمی، ڈیوٹی پر موجود عملے کی کوتاہی، ناقص نگرانی یا کسی بھی سطح پر مجرمانہ لاپروائی ثابت ہوتی ہے تو کسی بااثر شخص، افسر یا اہلکار کو معافی نہیں ملنی چاہیے۔
14 معصوم بچوں کی جانیں کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں۔ یہ 14 زندگیاں تھیں، 14 خاندان تھے، 14 ماؤں کی دعائیں تھیں، 14 باپوں کے خواب تھے۔
میں حکومتِ پاکستان، متعلقہ وزارتِ صحت اور تمام ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتی ہوں کہ:
اس سانحے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں۔
غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار ہر فرد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔
ہسپتال کے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، بجلی اور طبی عملے کی موجودگی سمیت تمام حفاظتی انتظامات کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کو مکمل معاونت اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ملک بھر کے ہسپتالوں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
ہمیں صرف افسوس اور تعزیت نہیں چاہیے، ہمیں جواب چاہیے۔
ہمیں صرف تحقیقات کا اعلان نہیں چاہیے، ہمیں انصاف چاہیے۔
اور ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں کسی ماں کو اپنے نومولود بچے کو ہسپتال میں داخل کرتے ہوئے یہ خوف نہ ہو کہ شاید وہ اسے دوبارہ زندہ نہ دیکھ سکے۔
آج ان 14 معصوم فرشتوں کے لیے میری آنکھیں اشک بار ہیں۔
ان کے والدین کے لیے میرا دل دعاگو ہے۔
اے مالک کے دو جہان خداوند یسوع المسیح! ان معصوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ دے، ان کے والدین کو یہ ناقابلِ بیان صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے، اور ہمیں ایسا معاشرہ اور ایسا نظام بنانے کی توفیق دے جہاں کسی معصوم کی جان غفلت کی نذر نہ ہو۔ آمین۔
میں وسیمہ نظام، انسانی حقوق کی آواز کے طور پر، اس سانحے پر خاموش نہیں رہوں گی۔
معصوم بچوں کی جان کا حساب ہونا چاہیے—اور انصاف ضرور ہونا چاہیے۔