22/08/2026
کتاب کا مفصل تعارف: واشنگٹن سے بیجنگ تک:دی گریٹ گیم کا خاتمہ
تصنیف: احمد خان اچکزئی
اشاعت: بک ورس پبلیکیشنز
موضوع
بین الاقوامی تزویراتی بساط، جغرافیائی سیاست، ا پاک-افغان قبائلی تاریخ
عالمی سیاست کا وہ رخ جو عام نظروں سے اوجھل ہےانیسویں صدی کی شروعات میں جب سلطنتِ برطانیہ اور زاری روس نے وسطی ایشیا کے صحراؤں اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر تسلط کے لیے اپنے مہرے آگے بڑھائے، تو تاریخ نے اسے 'دی گریٹ گیم' کا نام دیا۔ یہ صرف دو سلطنتوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ زمین کے تزویراتی ترین خطے (Strategic Zone) پر معاشی اور عسکری اجارہ داری قائم کرنے کا ایک ایسا خونی کھیل تھا جس نے خطے کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔احمد خان اچکزئی کی یہ معرکہ آرا تصنیف قاری کو صرف ماضی کی تاریخ نہیں سکھاتی، بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ 'گریٹ گیم' کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کا سورج غروب ہوا، تو امریکہ نے ایک نئے کھلاڑی کے طور پر اس بساط کی کمان سنبھالی۔ جرمنی، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہوا یہ کھیل ایک بار پھر اسی خطے میں لوٹ آیا ہے، جہاں آج تاریخ کا سب سے بڑا تزویراتی معرکہ اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مرکزی محور: پاک-افغان قبائلی معاملات اور بارود کا کھیلاس کتاب کا سب سے طاقتور اور منفرد پہلو پاک-افغان سرحد، بلوچستان اور وسطی ایشیا کے پیچیدہ قبائلی ڈھانچے کا تفصیلی تجزیہ ہے۔ مصنف نے انتہائی گہرائی میں جا کر ان پسِ پردہ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں اکثر عالمی میڈیا چھپا جاتا ہے:قبائلی نفسیات کا تزویراتی استعمال: عالمی طاقتوں (بالخصوص امریکہ اور مغرب) نے اس خطے کے قبائل کی جنگجوئی، مذہبی اور ثقافتی حساسیت، اور صدیوں پرانی روایات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور انہیں اپنے سیاسی فوائد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔بارود کے ڈھیر کا منصوبہ: کتاب مستند دستاویزات اور قبائلی شواہد کے ساتھ یہ واضح کرتی ہے کہ پاک-افغان سرحدی پٹی کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرنا کوئی حادثہ یا مقامی جنگ نہیں تھی۔ یہ ایک سوچی سمجھی عالمی بساط کا حصہ تھا تاکہ اس پورے زون کو غیر مستحکم رکھ کر بڑی طاقتوں کے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔مقامی خلفشار اور عالمی مہرے: ڈورنڈ لائن کے دونوں اطراف آباد قبائل کو کس طرح مختلف ادوار میں 'پراکسی وار' (Proxy War) کے لیے مہروں کے طور پر استعمال کیا گیا، اور اس کھیل نے مقامی معیشت، ثقافت اور امن کو کتنے گہرے زخم دیے، اس کی تفصیلات روح کانپادینے والی ہیں۔
جدید تناظر: چین کا ابھار اور تبت و سنکیانگ کا محاذکتاب کا آخری حصہ موجودہ دور کے سب سے بڑے جغرافیائی تنازع یعنی "پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور چین کے ابھار" کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ آج اس گریٹ گیم کے حتمی خاتمے کی راہ میں صرف چین ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر کھڑا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تزویراتی ڈاکٹرائن اب یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی لہروں کو چین کے حساس ترین علاقوں، بالخصوص سنکیانگ اور تبت تک منتقل کیا جائے۔ چین کی ستتر کروڑ سے زائد صنعتی افرادی قوت کو معاشی اور اندرونی سیکیورٹی کے معاملات میں الجھا کر بیجنگ کو عالمی معاشی نظام پر حاوی ہونے سے روکنے کے لیے تبت اور منگولیا کے کارڈز کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
آپ کو یہ کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟ (Key Highlights)تاریخی تسلسل: انیسویں صدی کے برطانوی سامراج سے لے کر اکیسویں صدی کے امریکی و چینی معاشی معرکے تک کے تانے بانے سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔قبائلی جغرافیے کا سچ: پاک-افغان سرحد کے آر پار رہنے والے قبائل کی قربانیوں اور ان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ۔مستند شواہد: بین الاقوامی امور کے ماہرین، تاریخی دستاویزات اور زمینی شواہد پر مبنی پُر مغز تحریر۔مستقبل کی پیشگوئی: سی پیک، وسطی ایشیا کے وسائل اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک گہرا تزویراتی نقطہ نظر۔جغرافیائی سیاست، بین الاقوامی تعلقات (IR) اور تاریخ کے طالب علموں، صحافیوں، محققین اور ہر اس پاکستانی کے لیے یہ کتاب پڑھنا فرض ہے جو دنیا کے بدلتے ہوئے نقشے کو سمجھنا چاہتا ہے۔
رابطہ نمبر 03094144911
قیمت:3990
آزادی سیل 330٪ڈسکاؤنٹ