BookVerse Publications

BookVerse Publications BookVerse Publication – Empowering readers, students & book lovers through quality publishing. Based

اسلام آباد :-غبیزئی قوم کے سربراہ احمد خان اچکزئی نے الجزیرہ ٹی وی کے پاکستان کے نمائندے حمید خان اور کمال حیدر کے ساتھ ...
07/09/2026

اسلام آباد :-
غبیزئی قوم کے سربراہ احمد خان اچکزئی نے الجزیرہ ٹی وی کے پاکستان کے نمائندے حمید خان اور کمال حیدر کے ساتھ ملاقات کی
اور انہیں "واشنگٹن سے بیجنگ تک" اور گلستان کے حالات اور واقعات پر لکھی گئی حاجی ولی محمد خان غبیزئی کی کتاب "پشتونوں کی عدالت" کا عطیہ پیش کیا۔

01/09/2026

میں کیوں نہیں ٹوٹا؟
03094144911

25/08/2026

ٹاپ ٹریڈنگ کتاب۔
متبادل بیانیہ
خریدنے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کیجیے 03094144911

کتاب کا مفصل تعارف: واشنگٹن سے بیجنگ تک:دی گریٹ گیم کا خاتمہتصنیف: احمد خان اچکزئیاشاعت: بک ورس پبلیکیشنز موضوع بین الاق...
22/08/2026

کتاب کا مفصل تعارف: واشنگٹن سے بیجنگ تک:دی گریٹ گیم کا خاتمہ
تصنیف: احمد خان اچکزئی
اشاعت: بک ورس پبلیکیشنز
موضوع
بین الاقوامی تزویراتی بساط، جغرافیائی سیاست، ا پاک-افغان قبائلی تاریخ
عالمی سیاست کا وہ رخ جو عام نظروں سے اوجھل ہےانیسویں صدی کی شروعات میں جب سلطنتِ برطانیہ اور زاری روس نے وسطی ایشیا کے صحراؤں اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر تسلط کے لیے اپنے مہرے آگے بڑھائے، تو تاریخ نے اسے 'دی گریٹ گیم' کا نام دیا۔ یہ صرف دو سلطنتوں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ زمین کے تزویراتی ترین خطے (Strategic Zone) پر معاشی اور عسکری اجارہ داری قائم کرنے کا ایک ایسا خونی کھیل تھا جس نے خطے کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔احمد خان اچکزئی کی یہ معرکہ آرا تصنیف قاری کو صرف ماضی کی تاریخ نہیں سکھاتی، بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ 'گریٹ گیم' کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کا سورج غروب ہوا، تو امریکہ نے ایک نئے کھلاڑی کے طور پر اس بساط کی کمان سنبھالی۔ جرمنی، جاپان اور کوریا سے ہوتا ہوا یہ کھیل ایک بار پھر اسی خطے میں لوٹ آیا ہے، جہاں آج تاریخ کا سب سے بڑا تزویراتی معرکہ اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مرکزی محور: پاک-افغان قبائلی معاملات اور بارود کا کھیلاس کتاب کا سب سے طاقتور اور منفرد پہلو پاک-افغان سرحد، بلوچستان اور وسطی ایشیا کے پیچیدہ قبائلی ڈھانچے کا تفصیلی تجزیہ ہے۔ مصنف نے انتہائی گہرائی میں جا کر ان پسِ پردہ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں اکثر عالمی میڈیا چھپا جاتا ہے:قبائلی نفسیات کا تزویراتی استعمال: عالمی طاقتوں (بالخصوص امریکہ اور مغرب) نے اس خطے کے قبائل کی جنگجوئی، مذہبی اور ثقافتی حساسیت، اور صدیوں پرانی روایات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور انہیں اپنے سیاسی فوائد کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا۔بارود کے ڈھیر کا منصوبہ: کتاب مستند دستاویزات اور قبائلی شواہد کے ساتھ یہ واضح کرتی ہے کہ پاک-افغان سرحدی پٹی کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کرنا کوئی حادثہ یا مقامی جنگ نہیں تھی۔ یہ ایک سوچی سمجھی عالمی بساط کا حصہ تھا تاکہ اس پورے زون کو غیر مستحکم رکھ کر بڑی طاقتوں کے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔مقامی خلفشار اور عالمی مہرے: ڈورنڈ لائن کے دونوں اطراف آباد قبائل کو کس طرح مختلف ادوار میں 'پراکسی وار' (Proxy War) کے لیے مہروں کے طور پر استعمال کیا گیا، اور اس کھیل نے مقامی معیشت، ثقافت اور امن کو کتنے گہرے زخم دیے، اس کی تفصیلات روح کانپادینے والی ہیں۔
جدید تناظر: چین کا ابھار اور تبت و سنکیانگ کا محاذکتاب کا آخری حصہ موجودہ دور کے سب سے بڑے جغرافیائی تنازع یعنی "پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور چین کے ابھار" کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ آج اس گریٹ گیم کے حتمی خاتمے کی راہ میں صرف چین ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر کھڑا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تزویراتی ڈاکٹرائن اب یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی لہروں کو چین کے حساس ترین علاقوں، بالخصوص سنکیانگ اور تبت تک منتقل کیا جائے۔ چین کی ستتر کروڑ سے زائد صنعتی افرادی قوت کو معاشی اور اندرونی سیکیورٹی کے معاملات میں الجھا کر بیجنگ کو عالمی معاشی نظام پر حاوی ہونے سے روکنے کے لیے تبت اور منگولیا کے کارڈز کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
آپ کو یہ کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟ (Key Highlights)تاریخی تسلسل: انیسویں صدی کے برطانوی سامراج سے لے کر اکیسویں صدی کے امریکی و چینی معاشی معرکے تک کے تانے بانے سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔قبائلی جغرافیے کا سچ: پاک-افغان سرحد کے آر پار رہنے والے قبائل کی قربانیوں اور ان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ۔مستند شواہد: بین الاقوامی امور کے ماہرین، تاریخی دستاویزات اور زمینی شواہد پر مبنی پُر مغز تحریر۔مستقبل کی پیشگوئی: سی پیک، وسطی ایشیا کے وسائل اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک گہرا تزویراتی نقطہ نظر۔جغرافیائی سیاست، بین الاقوامی تعلقات (IR) اور تاریخ کے طالب علموں، صحافیوں، محققین اور ہر اس پاکستانی کے لیے یہ کتاب پڑھنا فرض ہے جو دنیا کے بدلتے ہوئے نقشے کو سمجھنا چاہتا ہے۔
رابطہ نمبر 03094144911
قیمت:3990
آزادی سیل 330٪ڈسکاؤنٹ

’’متبادل بیانیہ‘‘ مولانا خانزیب کی ایک شاہکار کتاب ہے۔ اس کتاب کا مسودہ مولانا صاحب نے اپنی زندگی ہی میں تیار کر لیا تھا...
22/08/2026

’’متبادل بیانیہ‘‘ مولانا خانزیب کی ایک شاہکار کتاب ہے۔ اس کتاب کا مسودہ مولانا صاحب نے اپنی زندگی ہی میں تیار کر لیا تھا، مگر افسوس کہ کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

کتاب کا ہر باب نہایت دل آویز اور فکر انگیز ہے۔ دراصل اس کتاب کا زیادہ تر حصہ وہ کالم ہیں جو مختلف اوقات میں مولانا صاحب نے شہباز اخبار میں شائع کئے تھے جنہیں بعد ازاں مرتب کرکے اس کتاب میں بھی شامل کی ہے ۔

مولانا خانزیب شہید کا اندازِ تحریر محض معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور اپنے اردگرد کے حالات کو ایک مختلف زاویۂ نظر سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ شاید اسی لیے ’’متبادل بیانیہ‘‘ محض کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، تاریخ اور موجودہ حالات پر ایک سنجیدہ فکری مکالمہ محسوس ہوتی ہے۔

ابھی کتاب کے ابتدائی ابواب ہی تک پہنچا ہوں، لیکن ابتدائی مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب دیر تک ذہن میں رہنے والی تحریروں میں سے ہے۔

مولانا خانزیب دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی تحریریں آج بھی ہمارے ساتھ مکالمہ کر رہی ہیں۔
#متبادل
#بیانیہ



#مولاناخانزېب

21/08/2026

کوئ ایسا اہل دل ہو کہ فسانہء محبت
۔۔۔۔۔

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب پر لکھی گئی کتاب ’’اقتدار کے پار‘‘ پر ایک دوست نے تنقیدی نگاہ ڈالی اور اپنے طویل تاثرا...
16/08/2026

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب پر لکھی گئی کتاب ’’اقتدار کے پار‘‘ پر ایک دوست نے تنقیدی نگاہ ڈالی اور اپنے طویل تاثرات قلم بند کیے۔ اعجاز میر بھائی نے ان تاثرات پر اپنا تبصرہ تحریر کرکے اسے اپنی پوسٹ کا حصہ بنایا،انہوں نے بندہ ناچیز سے بھی اصرار فرمایا کہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔

سو، ان کے خلوص بھرے اصرار پر چند الفاظ لکھ ڈالے،ان کی وال سے کاپی کیا،
ملاحظہ کریں ۔

ابنِ المُقَفَّع کا قول ہے:

«مَن صَنَّفَ فَقَدِ اسْتَهْدَفَ»

یعنی: جس شخص نے کتاب تصنیف کی، اس نے اپنے آپ کو تنقید کا ہدف بنا لیا،گویا اپنے آپ کو نقد و نظر کے لیے پیش کر دیا۔

پشتو میں بھی ایک مقولہ ہے:
«تماش ګیر ده نخي منز اولی»

یعنی تماشائی بن کر کھڑے رہنا آسان ہے، مگر میدان میں اتر کر کوئی کام کرنا آسان نہیں۔

کسی بڑی شخصیت پر قلم اٹھانا بجائے خود ایک دشوار مرحلہ ہے، اور پھر ایسی شخصیت جس کی تقریباً پچاس سالہ سیاسی زندگی نے تاریخ کے مختلف نشیب و فراز دیکھے ہوں، اس کی صرف سیاسی زندگی کا احاطہ کرنا بھی کارے دارد۔ اس کے لیے محض جذبات نہیں،گہرا مطالعہ، وسیع مشاہدہ،تحقیق اور غیر معمولی وسعتِ نظر درکار ہوتی ہے۔

امام الہند ابو الکلام آزاد کی یاد میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ تقریر کے لیے معروف عالم،ادیب اور دانش ور پروفیسر مولانا سید سعید احمد اکبر آبادی کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز بڑے معنی خیز جملے سے کیا فرمایا:

“ابوالکلام آزاد پر بات کرنے کے لیے ایک اور ابوالکلام آزاد چاہیے، جبکہ میں ابوالکلام نہیں ہوں۔”

یہ بات کہنے والے خود بھی اپنے عہد کی ایک بڑی علمی و فکری شخصیت تھے، مگر اکبر آبادی صاحب کو معلوم تھا کہ کسی غیر معمولی شخصیت کو چند الفاظ میں سمیٹ دینا کتنا مشکل کام ہے۔

میری گزارش کا مقصد بھی یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب جیسی شخصیت کی زندگی،فکر، سیاست اور نصف صدی پر محیط سیاسی سفر کا احاطہ کرنا اور پھر اسے جامع انداز میں قلم بند کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔یہ ایک ایسے شخص کا کام ہے جو نہ صرف اس طویل سیاسی سفر کے مختلف مراحل سے واقف ہو، بلکہ اس کے پس منظر، تغیرات،نشیب و فراز اور اس کے اندر کارفرما عوامل کو بھی سمجھتا ہو۔

یہاں ایک اور اہم بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سوانح عمری اور کسی شخصیت کی زندگی کے خاص گوشوں کو وا کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔زیرِ نظر کتاب کوئی مکمل سوانح عمری نہیں، جو مولانا فضل الرحمن صاحب کی زندگی کے ہر ہر جزئیے اور تمام واقعات کا احاطہ کرنے کا دعویٰ کرے۔خود کتاب کا عنوان اس کی نوعیت کو واضح کرتا ہے:

“اقتدار کے پار”

یعنی اس کتاب میں مولانا صاحب کی زندگی کے بعض خاص گوشوں، سیاسی سفر کے بعض اہم پہلوؤں اور ان کے کردار کے مخصوص ابعاد کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

اس لیے کتاب کو اسی دائرۂ کار میں رکھ کر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ایک اور بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ دونوں مصنفین کا جمعیت سے ایسا کوئی نظریاتی تعلق نہیں جس پر عقیدت کا پرتو پڑتا ہو،اور نہ ہی کوئی ایسی تنظیمی وابستگی ہے جنہیں تنظیمی نزاکتوں باریکیوں کا مکمل ادراک ہو۔ اس کے برعکس،دونوں آزاد فکر،صاحبِ مطالعہ انٹلیکچولز ہیں، جنہوں نے اپنی فکری آزادی اور اپنے مطالعے کی بنیاد پر ایک کاوش کی ہے۔
باقی رہی مولانا فضل الرحمن صاحب کی پوری زندگی کا احاطہ کرنے کی بات، تو یہ محض دو افراد کا کام نہیں۔اس کے لیے ایک پورا ادارہ چاہیے،ایک باقاعدہ سیکریٹریٹ چاہیے، دستاویزات کا ایک وسیع ذخیرہ چاہیے اور سب سے بڑھ کر مناسب وقت چاہیے۔ نصف صدی پر پھیلی ہوئی سیاسی زندگی کے ایک ایک گوشے،ایک ایک مرحلے اور ایک ایک واقعے کو تحقیق کے ساتھ محفوظ کرنا چند صفحات یا چند ابواب کا کام نہیں۔اس کے لئے دس جلد بھی شاید کم پڑ جائے،

تاہم، اس کاوش کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ دونوں مصنفین نے ایک ایسا دروازہ کھولا ہے جس سے مولانا فضل الرحمن صاحب کے عقیدت مند، ناقدین،محققین اور سیاسی تاریخ کے طلبہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی فکری فضا پیدا کر دی ہے جہاں مولانا صاحب کی شخصیت اور ان کی طویل سیاسی زندگی پر مزید لکھنے،تحقیق کرنے اور مختلف زاویوں سے گفتگو کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

اور شاید کسی بڑی شخصیت پر لکھی گئی کتاب کی ایک بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ حرفِ آخر بننے کے بجائے مزید حرف لکھنے کی دعوت دے۔

مصنفین سے معزرت کےساتھ "اقتدار کے پار" سے ایک جھلک شئیر کررہاہوں جس کا مقصد اپنے کارکنوں کو کتاب پڑھنے اور دینی و آئینی ...
15/08/2026

مصنفین سے معزرت کےساتھ "اقتدار کے پار" سے ایک جھلک شئیر کررہاہوں جس کا مقصد اپنے کارکنوں کو کتاب پڑھنے اور دینی و آئینی اصولوں کےساتھ سیاست سے جڑے رہنےکا سبق مل سکیں ۔

مفتی محمود نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالتے ہی بعض
ایسے اقدامات کیے جن سے ان کی ترجیحات واضح ہو گئیں، ان کی توجہ محض انتظامی امور تک محدود نہ تھی بلکہ وہ معاشرے کی اخلاقی اور تعلیمی اصلاح کو بھی حکومت کی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اسی تناظر میں صوبے میں شراب نوشی، جوئے اور بعض دیگر سماجی برائیوں کے خلاف اقدامات کیے گئے، جبکہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور دینی تعلیم کے فروغ کے لیے بھی مختلف منصوبے شروع کیے گئے۔
تاہم مفتی محمود کی وزارت کا اصل امتیاز ان فیصلوں میں نہیں تھا جو انہوں نے کیے، بلکہ اس طرزِ حکمرانی میں تھا جسے انہوں نے اختیار کیا۔ ان کے نزدیک حکومت کا مطلب مراعات حاصل کرنا نہیں بلکہ جواب دہ ہونا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عوامی عہدہ ذاتی آسائش کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی امانت ہے۔
ان کی دیانت کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے جاتے ہیں، لیکن ان واقعات کی اصل اہمیت ان کے اخلاقی پیغام میں ہے۔ وہ اس تصور کے قائل تھے کہ جو قانون عوام کے لیے بنایا جائے، حکمران کو سب سے پہلے خود اس کا پابند ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک حکمرانی کی اخلاقی بنیاد اس وقت قائم ہو سکتی ہے جب حکمران اپنی ذات کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔

مفتی محمود کی حکومت کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ وہ قانون سازی اور انتظامی فیصلوں کو دینی اور آئینی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے خواہاں تھے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے علماء اور ماہرینِ قانون پر مشتمل ایک مشاورت کا نظام قائم کیا تاکہ حکومتی پالیسیوں کا جائزہ علمی بنیادوں پر لیا جا سکے۔
لیکن سیاسی تاریخ ہمیشہ اصولوں کے مطابق نہیں چلتی۔ جلد ہی مرکز اور صوبے کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور ہوئی اور ایسے اقدامات سامنے آئے جنہیں مفتی محمود نے جمہوری اصولوں اور سیاسی معاہدات کے منافی سمجھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک سیاست دان اور ایک صاحبِ اصول انسان کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ایک عام سیاست دان اقتدار بچانے کے لیے سمجھوتوں کا راستہ اختیار کرتا ہے، حالات کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا ہے اور بعض اوقات اپنے بنیادی موقف سے بھی دستبردار ہو جاتا ہے۔ لیکن مفتی محمود نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔

جب انہیں محسوس ہوا کہ ان اصولوں کو مجروح کیا جا رہا ہے جن کی بنیاد پر حکومت قائم ہوئی تھی، تو انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ سیاسی اعتبار سے آسان نہ تھا۔ اقتدار، اختیار اور اثر و رسوخ کو ترک کرنا ہر سیاست دان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن ان کے نزدیک منصب کی بقا سے زیادہ اہم اصولوں کی بقا تھی۔
بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اقتدار میں برقرار رکھنے کی کوششیں بھی کی گئیں، مگر انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرنے سے انکار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مسئلے کی اصل وجہ برقرار رہے تو محض منصب بچانے کے لیے واپس جانا درست نہیں ہو گا۔
اس استعفے نے ان کی سیاسی زندگی کو ایک منفرد مقام عطا کیا۔ عام طور پر سیاست دان اقتدار حاصل کرنے پر مبارک باد وصول کرتے ہیں، لیکن مفتی محمود کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ انہیں اقتدار چھوڑنے پر بھی مبارک بادیں موصول ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام ان کے فیصلے کو ایک سیاسی چال نہیں بلکہ اصولی موقف سمجھتے تھے۔
مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تربیت پر اس واقعے کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے اپنے والد کی زندگی میں یہ مثال دیکھی کہ سیاست صرف اقتدار کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات اقتدار کو چھوڑ دینا بھی سیاست کا سب سے بڑا اخلاقی فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی سبق بعد کی دہائیوں میں ان کی سیاسی حکمتِ عملی اور جمہوری جدوجہد میں مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتا ہے۔
مفتی محمود کی وزارتِ اعلیٰ کا دورانیہ اگرچہ طویل نہ تھا، لیکن اس نے ایک اہم سوال کا جواب ضرور دیا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ مذہبی قیادت صرف تنقید اور احتجاج ہی نہیں کر سکتی بلکہ حکومت بھی چلا سکتی ہے، اور اگر ضرورت پیش آئے تو اقتدار کو اصولوں پر قربان بھی کر سکتی ہے۔
لیکن وہ سیاسی اور اخلاقی وراثت تھی جو مولانا فضل الرحمن تک منتقل ہوئی۔ تاہم زندگی کا اگلا مرحلہ ان کے لیے اس سے کہیں زیادہ کٹھن ثابت ہونے والا تھا۔ کیونکہ جلد ہی وہ وقت آنے والا تھا جب انہیں صرف اپنے والد کی رہنمائی سے محروم نہیں ہونا تھا بلکہ ایک عظیم سیاسی اور علمی وراثت کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانا تھا۔

اقتدار کے پار — مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست، حکمت اور مزاحمت کا مطالعہزیرِ نظر کتاب ’’اقتدار کے پار‘‘ محض قائدِ جمعیت مو...
15/08/2026

اقتدار کے پار — مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست، حکمت اور مزاحمت کا مطالعہ

زیرِ نظر کتاب ’’اقتدار کے پار‘‘ محض قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی زندگی کا تذکرہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معاصر سیاست کے ایک اہم اور پیچیدہ کردار کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی ایک فکری کوشش ہے۔

رشید یوسفزئی اور اسد امین نے مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت، سیاسی فکر، پارلیمانی جدوجہد، آئینی کردار، سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی سیاست کو اپنے مخصوص علمی و فکری زاویۂ نگاہ سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اس پہلو سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مصنفین کا تعلق جمعیت کی تنظیمی صفوں سے نہیں؛ چنانچہ کتاب کو محض عقیدت یا تنظیمی وابستگی کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ایک آزادانہ سیاسی و فکری مطالعے کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کو سمجھنے کے لیے محض یہ دیکھنا کافی نہیں کہ انہوں نے کب اقتدار حاصل کیا یا کب اقتدار سے باہر رہے۔ ان کی اصل سیاسی کہانی اس سے کہیں وسیع ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے سیاسی مسافر ہیں جس نے آمریت، جمہوریت، سیاسی اتحادوں، انتخابی بحرانوں، آئینی کشمکش، عالمی حالات اور ملکی سیاست کے کئی اتار چڑھاؤ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور ان سب میں اپنا سیاسی کردار برقرار رکھا۔

’’اقتدار کے پار‘‘ کا بنیادی فکری پہلو بھی یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کو صرف منصب اور اقتدار کے پیمانے سے نہیں، بلکہ حکمت، مزاحمت، مذاکرات، سیاسی تدبر اور اصولی مؤقف کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔

کتاب کے مطالعے سے یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ مولانا کی سیاسی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے طویل سیاسی سفر کے مختلف ادوار، ان کے سیاسی فیصلوں، جمہوری جدوجہد، پارلیمانی کردار، مذہبی و سیاسی فکر اور ملکی سیاست میں ان کے اثرات کو یکجا کرکے دیکھنا ضروری ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں جو ایک سیاسی شخصیت کو محض ایک فرد نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک پورے سیاسی عہد کے مطالعے کا موضوع بنا دیتے ہیں۔

یقیناً کسی بھی کتاب کی طرح ’’اقتدار کے پار‘‘ سے اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہے۔ بعض تاریخی واقعات، سیاسی ادوار اور اہم واقعات پر مزید مستند حوالہ جات، دستاویزی شواہد اور تفصیلی تحقیق کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے۔ لیکن اختلافِ رائے ہی تو سنجیدہ مطالعے کو جنم دیتا ہے۔ ایک اچھی کتاب وہی ہوتی ہے جو قاری کو صرف معلومات نہ دے بلکہ اسے سوچنے، سوال اٹھانے اور اپنی رائے قائم کرنے پر بھی مجبور کرے۔

میرے نزدیک ’’اقتدار کے پار‘‘ کی سب سے بڑی اہمیت یہی ہے کہ یہ مولانا فضل الرحمٰن کو صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاست کے ایک اہم کردار کے طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

یہ کتاب سیاسی کارکنوں، طلبہ، بالخصوص پولیٹیکل سائنس کے طلبہ، محققین اور پاکستان کی معاصر سیاسی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ قارئین کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔

کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کو سمجھنا صرف ایک شخصیت کو سمجھنا نہیں؛ بلکہ پاکستان کی سیاست کے کئی اہم ادوار، سیاسی رویوں، طاقت کے مراکز، جمہوری جدوجہد اور مزاحمت کی تاریخ کو سمجھنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

اقتدار کے ایوانوں سے آگے بھی سیاست کی ایک دنیا ہے—اور شاید اسی دنیا کو سمجھنے کا نام ’’اقتدار کے پار‘‘ ہے۔

تبصرہ:از مفتی فضل غفور صاحب اقتدار کے پار: ایک شخصیت، ایک عہد اور سیاست کو سمجھنے کی ابتدائی مگر قابلِ قدر کوشش:کسی زندہ...
15/08/2026

تبصرہ:از مفتی فضل غفور صاحب
اقتدار کے پار: ایک شخصیت، ایک عہد اور سیاست کو سمجھنے کی ابتدائی مگر قابلِ قدر کوشش:

کسی زندہ، متحرک اور مسلسل موضوعِ بحث رہنے والی سیاسی شخصیت پر لکھنا نسبتاً مشکل کام ہے۔ بالخصوص ایسی شخصیت جس کے بارے میں معاشرہ پہلے ہی محبت اور مخالفت کے واضح دائروں میں تقسیم ہو، اس پر قلم اٹھانے والے کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ عقیدت کو تحقیق پر اور مخالفت کو انصاف پر غالب نہ آنے دے۔ اگر عقیدت قلم کو اپنی گرفت میں لے لے تو سوانح مدح نامہ بن جاتی ہے، اور اگر مخالفت غالب آ جائے تو تجزیہ فردِ جرم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ان کے بارے میں ہمارے ہاں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا، مگر اس میں ایک بڑا حصہ یا تو سیاسی وابستگی کے زیرِ اثر ہے یا اس پروپیگنڈے کا نتیجہ جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سیاسی کشمکش کے ساتھ ساتھ تشکیل پاتا رہا۔ رشید یوسفزئی اور محمد امین اسد کی کتاب ’’اقتدار کے پار: حکمت، سیاست، مزاحمت‘‘ اسی شور میں مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت، سیاست اور طویل سیاسی سفر کو ایک نسبتاً مربوط صورت میں عام قاری کے سامنے رکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

میں نے اس کتاب کو پڑھا ہے اور اسی مطالعے کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مصنفین نے ایک مشکل اور وسیع موضوع کو سمیٹنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے بعض مقامات پر مجھے محسوس ہوا کہ ایک آدھ واقعے کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے، بعض جگہ معمولی تصحیح کی گنجائش موجود ہے، اور چند اہم مقامات پر اگر مزید مضبوط اور دستاویزی مواد شامل کر دیا جائے تو استدلال میں مزید وزن پیدا ہوسکتا ہے۔ کسی پہلی 330 صفحات پر مشتمل کتاب میں 30 غلطیاں بھی اگر ہوں تو ایسی گنجائش کا رہ جانا غیر معمولی بات نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مصنف اپنی تحریر کو حرفِ آخر نہ سمجھے، تنقید سننے کا حوصلہ رکھے اور اگلے ایڈیشن میں قابلِ قبول اصلاحات کو جگہ دے۔ میری مصنف سے ہونے والی گفتگو سے مجھے یہی تاثر ملا کہ وہ کتاب کی کمزوریوں سے انکار کرنے کے بجائے قارئین کی نشان دہی کو آئندہ ایڈیشن کی بہتری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ’’اقتدار کے پار‘‘ کسی پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ نہیں ہے اور نہ ہی مصنفین نے اسے اس حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اسے اسی معیار پر پرکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ بنیادی طور پر یہ عام پڑھے لکھے قاری کے لیے لکھی گئی سیاسی اور اہم سوانحی پہلوؤں پر کتاب ہے، خصوصاً اس قاری کے لیے جو مولانا فضل الرحمٰن کو روزمرہ سیاسی نعروں، سوشل میڈیا کی مختصر ویڈیوز، مخالفانہ تراشوں اور موافقانہ بیانات سے ہٹ کر ایک نسبتاً وسیع تناظر میں سمجھنا چاہتا ہے۔ ہمارے موجودہ عہد میں کسی شخصیت کے متعلق رائے بنانے کا بڑا ذریعہ چند سیکنڈ کی ویڈیو، ایک جملے کا کلپ یا سیاسی مخالف کا بنایا ہوا بیانیہ بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ایک کتاب قاری کو اسکرین کی عجلت سے نکال کر چند سو صفحات کے سنجیدہ مطالعے تک لے آتی ہے تو میرے نزدیک یہ بذاتِ خود ایک اہم کامیابی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست پر رائے قائم کرنا آسان ہے، لیکن ان کی سیاست کو سمجھنا نسبتاً مشکل ہے۔ ان کی زندگی میں مدرسہ بھی ہے، مذہبی روایت بھی، پارلیمان بھی، انتخابی سیاست بھی، اتحاد بھی، اختلاف بھی، مفاہمت بھی اور مزاحمت بھی۔ کبھی وہ حکومت کا حصہ دکھائی دیتے ہیں اور کبھی اسی نظام کے خلاف سڑک پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ کبھی ان کے ناقدین انہیں حد سے زیادہ مصلحت پسند کہتے ہیں اور کبھی وہی سیاسی قوتیں کسی بڑے قومی بحران میں ان کی مذاکراتی صلاحیت کی محتاج دکھائی دیتی ہیں۔ چنانچہ ان کی چار سے زیادہ دہائیوں پر پھیلی سیاست کو کسی ایک واقعے، ایک اتحاد، ایک حکومت یا ایک الزام کے پیمانے سے ناپنا تاریخی انصاف نہیں ہوگا۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ مصنفین نے مختلف ادوار کو ایک دوسرے سے جوڑ کر مولانا کی سیاسی شخصیت کے تسلسل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

کتاب میں مفتی محمود کے علمی و سیاسی ورثے سے لے کر مولانا فضل الرحمٰن کی جماعتی قیادت، پارلیمانی سیاست، مذہبی جماعتوں کے باہمی تعلقات، متحدہ مجلس عمل، جماعت اسلامی کے ساتھ قربت و اختلاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی تعاون، عمران خان کے ساتھ طویل اور شدید کشمکش، مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات، جمہوری تحریکوں، اتحادوں اور بدلتے ہوئے قومی حالات تک متعدد پہلو زیرِ بحث آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنے وسیع موضوع کو ایک کتاب میں سمیٹتے ہوئے ہر واقعے کی وہ تفصیل ممکن نہیں جو کسی مخصوص موضوع پر خالص تحقیقی مقالے میں دی جا سکتی ہے۔ اس لیے کتاب کو اس کے اپنے مقصد، دائرۂ کار اور مخاطب قاری کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

مصنف سے گفتگو کے دوران حوالہ جات کے بارے میں بھی بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب کے لیے تیار کیے گئے حوالہ جات اور کتابیات کا مواد تقریباً پینتیس صفحات پر مشتمل تھا، لیکن موجودہ ایڈیشن میں اسے مکمل صورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ کتاب کے صفحات اور پیداواری لاگت میں اضافہ تھا، جس کا بالآخر بوجھ عام خریدار پر پڑتا، جبکہ مصنفین ابتدا ہی سے کتاب کو عام قاری کی دسترس میں رکھنا چاہتے تھے۔ اس فیصلے سے اختلاف کی گنجائش یقیناً موجود ہے، اور میری رائے میں آئندہ ایڈیشن میں کم از کم بنیادی مآخذ اور ضروری حوالہ جاتی نظام ضرور شامل ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے کتاب کی علمی افادیت اور قابلِ تصدیق حیثیت میں اضافہ ہوگا۔

مصنفین کے سامنے ایک دوسرا مقصد بھی تھا، اور وہ موجودہ نسل کو اسکرین سے کتاب کی طرف واپس لانا تھا۔ یہ مقصد بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے لیکن آج کے ڈیجیٹل عہد میں شاید کتاب لکھنے سے بھی زیادہ مشکل کام کتاب پڑھوانا ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی مباحث اب اکثر چند جملوں، پوسٹوں، کلپس اور فوری ردعمل تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس ماحول میں اگر بالخصوص نوجوان قاری کسی سیاسی شخصیت کے بارے میں چند سو صفحات پڑھنے پر آمادہ ہو جائے تو یہ مطالعے کی روایت کے لیے خوش آئند بات ہے۔ مصنف کے مطابق کتاب کا پہلا ایڈیشن مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور دوسرے ایڈیشن کی تیاری جاری ہے۔ یہ پذیرائی کم از کم اس اعتبار سے اہم ہے کہ کتاب نے قارئین میں موضوع کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش پیدا کی ہے۔

مصنف نے یہ بھی واضح کیا کہ پہلے ایڈیشن کے بعد قارئین کی طرف سے جن مقامات پر بھی غلطیوں ، پروف یا واقعاتی تفصیلات کے حوالے سے قابلِ قبول نشان دہی سامنے لائی ہے، انہیں دوسرے ایڈیشن میں درست کرنے کا ارادہ ہے۔ میرے نزدیک یہی علمی رویہ ہونا چاہیے۔ کوئی مصنف، بالخصوص ایسی کتاب کا مصنف جو سینکڑوں واقعات، شخصیات، تاریخوں اور سیاسی ادوار کو محیط ہو، اپنی پہلی کاوش کو کامل اور آخری نہیں کہہ سکتا۔ کتابیں بھی علمی سفر کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان کا دوسرا ایڈیشن پہلے سے بہتر اور تیسرا دوسرے سے زیادہ پختہ ہونا چاہیے۔ تنقید اگر دیانت دارانہ ہو تو مصنف کے لیے زحمت نہیں بلکہ سرمایہ بنتی ہے۔

اس کتاب کے مصنفین میں محمد امین اسد کا ذکر میرے لیے ایک اضافی خوشی کا باعث ہے۔ وہ میرے ہم ضلع ہیں، اور اس نسبت سے ان کی علمی اور قلمی پیش رفت میرے لیے ذاتی مسرت کا سبب بھی ہے۔ لیکن محض ہم ضلع ہونا کسی تحریر کے علمی مقام کی دلیل نہیں بن سکتا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امین اسد کی تحریر اور گفتگو میں ایک ایسی فکری پختگی، اعتدال، وسعتِ نظر اور جامعیت دکھائی دیتی ہے جو مسلسل مطالعے، مشاہدے اور عملی زندگی کے تجربات سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ سیاسی وابستگی کے باوجود معاملے کے دوسرے رخ کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شخصیت کے دفاع میں اس حد تک آگے نہیں جاتے کہ سوال کی گنجائش ختم ہو جائے، اور تنقید کرتے ہوئے بھی کسی شخص کی پوری زندگی کو ایک الزام، ایک غلطی یا ایک سیاسی واقعے کے حوالے کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔ ہمارے موجودہ سیاسی ماحول میں یہی اعتدال شاید سب سے زیادہ نایاب چیز ہے۔

امین اسد کی تحریر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ واقعے کو تنہا نہیں دیکھتے بلکہ اس کے پس منظر، اسباب اور نتائج کو باہم جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سیاست صرف افراد کے درمیان پسند و ناپسند کا کھیل نہیں بلکہ حالات، اداروں، جماعتی مجبوریوں، نظریاتی ترجیحات اور طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا مجموعہ ہے۔ یہی چیز کسی سیاسی تحریر کو محض اخباری بیان سے اٹھا کر سنجیدہ تجزیے کے قریب لے جاتی ہے۔ البتہ جہاں کسی واقعے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہوں، وہاں آئندہ ایڈیشن میں زیادہ مضبوط حوالہ، متبادل روایت اور بنیادی ماخذ شامل کرنے سے کتاب یقیناً مزید مستحکم ہوگی۔

رشید یوسفزئی اور امین اسد نے مولانا فضل الرحمٰن کی صرف کامیابیوں کو موضوع نہیں بنایا بلکہ ان اعتراضات، تنازعات اور سیاسی فیصلوں کو بھی جگہ دی ہے جن پر ان کے مخالفین سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ یہی طرزِ عمل کتاب کو محض عقیدت نامہ بننے سے بچاتا ہے۔ کسی سیاسی رہنما کی خدمت یہ نہیں کہ اس کے گرد تقدس کا ایسا حصار کھڑا کر دیا جائے جس کے اندر سوال داخل نہ ہوسکے، اور انصاف یہ بھی نہیں کہ اس کی پوری زندگی کو چند سیاسی نعروں، الزامات یا لطیفوں میں سمیٹ دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دونوں انتہائیں موجود ہیں۔ ایک حلقہ ان کے تقریباً ہر سیاسی فیصلے کا دفاع ضروری سمجھتا ہے اور دوسرا ان کے ہر اقدام کے پیچھے صرف اقتدار تلاش کرتا ہے۔ حقیقت عموماً ان دونوں کے درمیان کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ ’’اقتدار کے پار‘‘ اسی پیچیدگی کو سمجھنے اور عام قاری کے سامنے رکھنے کی ایک ابتدائی کوشش ہے۔

میرے نزدیک ’’اقتدار کے پار‘‘ کو پڑھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ اسے نہ مولانا فضل الرحمٰن کے حق میں لکھی گئی وکالت سمجھا جائے، نہ ان کے مخالفین کے جواب میں تیار کردہ فردِ دفاع، اور نہ ہی اسے کسی یونیورسٹی کا تحقیقی مقالہ سمجھ کر اس سے وہ تقاضے کیے جائیں جو ایک پی ایچ ڈی تھیسس سے کیے جاتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر عام قاری کے لیے لکھی گئی ایک سیاسی و محدود سوانحی کاوش ہے جس کا مقصد ایک ایسی شخصیت کو نسبتاً جامع انداز میں متعارف کرانا ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں موجود ہے لیکن جس کے متعلق عام آدمی کی معلومات کا بڑا حصہ سیاسی پروپیگنڈے، انتخابی نعروں اور سوشل میڈیا کے مختصر مواد سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر یہ کتاب قاری کو اس سطح سے اٹھا کر مطالعے، سوال اور تحقیق کی طرف لے جاتی ہے تو میرے نزدیک اس کا بنیادی مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔

’’اقتدار کے پار‘‘ بالآخر صرف مولانا فضل الرحمٰن کی زندگی کا بیان نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کے ایک طویل عہد کو ایک اہم سیاسی شخصیت کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش ہے۔ اس آئینے میں مذہب اور سیاست کا تعلق بھی دکھائی دیتا ہے، جمہوریت اور طاقت کے مراکز کی کشمکش بھی، اتحادوں کی ضرورت بھی اور ان کے تضادات بھی، اقتدار کی کشش بھی اور اقتدار سے باہر رہ کر مزاحمت بھی۔ کتاب کامل نہیں، اور خود مصنفین بھی اسے حرفِ آخر قرار نہیں دیتے۔ لیکن کسی کتاب کی اہمیت ہمیشہ اس کے کامل ہونے میں نہیں ہوتی؛ بعض اوقات اس کی اہمیت اس سوال میں ہوتی ہے جو وہ اٹھاتی ہے، اس بحث میں ہوتی ہے جو وہ شروع کرتی ہے، اور اس قاری میں ہوتی ہے جسے وہ دوبارہ کتاب کی طرف لے آتی ہے۔

میں رشید یوسفزئی اور بالخصوص اپنے ہم ضلع محمد امین اسد کو اس ابتدائی مگر قابلِ قدر علمی و قلمی کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ پہلے ایڈیشن کی پذیرائی یقیناً ان کے لیے خوشی کا باعث ہوگی، مگر اس سے زیادہ اہم ذمہ داری اب دوسرے ایڈیشن کو بہتر، زیادہ مستند، زیادہ مربوط اور ممکن حد تک اغلاط سے پاک بنانے کی ہے۔ قارئین کی طرف سے آنے والی دیانت دارانہ نشان دہیوں کو قبول کرنا اور انہیں اگلے ایڈیشن میں درست کرنا ہی علمی دیانت کی علامت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دونوں مصنفین کے قلم کو مزید پختگی، وسعت، اعتدال اور تاثیر عطا فرمائے، انہیں تحقیق میں دیانت، اختلاف میں انصاف اور اظہار میں توازن نصیب کرے، اور ’’اقتدار کے پار‘‘ کو اہلِ علم، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں اور پاکستان کی معاصر سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے خواہش مند عام قارئین کے لیے مفید مطالعہ بنائے۔
آپ کا بھائی
فضل غفور۔۔۔۔۔

Address

Office No 1 2nd Floor Alhamad Plaza Ghazni Street Urdu Bazar Lahore
Lahore
54090

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BookVerse Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category