03/08/2026
ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان: ایک خاموش معاشی طوفان اور بقا کا چیلنج
تحریر: سید علی جبران شاہ (صحافی و تجزیہ کار،کالمسٹ)
📩 [email protected] | 📞 03077349643
گزشتہ چند برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ موسموں کا مزاج بدل چکا ہے۔ کبھی شدید گرمی کی لہریں، کبھی غیر متوقع سیلاب، اور کبھی قحط سالی، یہ سب اتفاق نہیں، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) کے وہ اثرات ہیں جن کا ہم اب براہِ راست نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان، جو دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ماحولیات اب صرف ایک "قدرتی مسئلہ" نہیں، بلکہ ایک "معاشی اور قومی سلامتی کا بحران" بن چکا ہے۔
زرعی معیشت اور خطرے کی گھنٹی
پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے، اور زراعت کا دارومدار پانی اور موسم پر۔ ہمارے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، جس سے پہلے سیلاب کا خطرہ بڑھتا ہے اور بعد میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے پاکستان کی معیشت کو جو نقصان پہنچایا، اس کے اثرات سے ہم آج بھی نہیں نکل پائے۔ زرعی پیداوار میں کمی، غذائی اجناس کی درآمد میں اضافہ اور دیہی آبادی کی نقل مکانی—یہ سب ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاشی نتائج ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر ہم نے اپنی زراعت کو "موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ" (Climate-Resilient Agriculture) نہ بنایا، تو ہماری جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہر سال قدرتی آفات کی نذر ہوتا رہے گا۔
بڑھتے ہوئے شہری مسائل اور 'ہیٹ ویوز'
کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہر آج "ہیٹ آئی لینڈز" (Heat Islands) بن چکے ہیں۔ کنکریٹ کے جنگلات، درختوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی ٹریفک نے درجہ حرارت میں جس قدر اضافہ کیا ہے، اس سے مزدور طبقے کی پیداواری صلاحیت (Productivity) بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایک مزدور جو شدید گرمی میں کام نہیں کر سکتا، اس کا مطلب ہے کہ ملکی پیداوار میں کمی اور صحت کے اخراجات میں اضافہ۔ یہ ایک ایسا "خاموش ٹیکس" ہے جو غریب عوام اپنی صحت اور وقت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
عالمی سیاست اور 'کلائمیٹ فنانس'
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر بھگت اسے رہا ہے۔ عالمی فورمز (COP26, COP27 وغیرہ) پر جو وعدے کیے گئے، ان پر عملدرآمد نہ ہونا ایک بڑی ناکامی ہے۔ پاکستان کو اب ایک جارحانہ سفارتکاری (Climate Diplomacy) کی ضرورت ہے۔ ہمیں عالمی دنیا سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ "لاس اینڈ ڈیمیج" (Loss and Damage) فنڈز کو فوری جاری کریں تاکہ ہم اپنی تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔
پائیدار حل کی طرف پیش قدمی
ماحولیاتی تبدیلی کے حل کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
واٹر مینجمنٹ: ہمیں پانی کے ذخائر (ڈیمز) بنانے ہوں گے تاکہ سیلاب کے پانی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے زراعت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
شمسی توانائی کی طرف منتقلی: کوئلے اور تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کے بجائے شمسی توانائی (Solar Energy) کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ نہ صرف سستا ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
شجرکاری مہم کا تسلسل: صرف درخت لگانا کافی نہیں، ان کی بقا کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے شہروں میں "اربن فارسٹری" (Urban Forestry) کا ماڈل اپنانا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کا استعمال: جدید سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے موسم کی پیش گوئی اور فصلوں کی نگرانی کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ کسان بروقت فیصلے کر سکیں۔
سماجی شعور اور ریاستی ذمہ داری
ماحولیات صرف حکومت کا مسئلہ نہیں، یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں ماحول دوستی کا کلچر نہیں آئے گا، ہم صرف نعروں تک محدود رہیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ صنعتوں کے لیے ایسے قوانین سخت کرے جن سے آلودگی میں کمی آئے۔ جو کمپنیاں ماحولیاتی معیارات کی خلاف ورزی کریں، ان پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔
اختتامیہ
ماحولیاتی تبدیلی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو سو سال بعد آئے گا؛ یہ ہمارے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی معاشی منصوبہ بندی میں "گرین اکانومی" (Green Economy) کو شامل نہ کیا، تو خدانخواستہ ہمارے پاس آنے والی نسلوں کو دینے کے لیے نہ پانی ہوگا، نہ زرخیز زمین اور نہ ہی ایک رہنے کے قابل زمین ۔
یہ وقت سنجیدگی کا ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کو "کاربن سے پاک" اور "موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والی" (Climate Resilient) معیشت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، زمین کا تحفظ ہی معیشت کا تحفظ ہے۔ اگر ہم نے زمین کی بات نہ سنی، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔