17/05/2026
یہ تصویر واقعی طاقت کے توازن اور وقت کے بدلتے ہوئے دھارے کی ایک بولتی ہوئی کہانی ہے۔ 45 سال پہلے جو چین معاشی اور عالمی سفارت کاری میں کہیں پیچھے تھا، وہ آج دنیا کی ایک سپر پاور بن کر کھڑا ہے۔
اس تصویر اور اس گہرے بدلاؤ پر ایک طنزیہ اور گہرائی لیے ہوئے تحریر حاضر ہے:
جب جھکنا اور اٹھنا بدل گیا: 45 سال کی ایک داستان
سچ کہتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، لیکن وقت اتنی جلدی اور اتنی بے رحمی سے بدلے گا، یہ شاید واشنگٹن کے بڑے بڑے تھنک ٹینکس نے بھی نہیں سوچا تھا۔
بائیں طرف 1979 کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر ہے، جہاں بیجنگ کے نمائندے واشنگٹن میں مہمان تھے، ہنس کر آداب بجا لا رہے تھے، اور امریکی صدر جمی کارٹر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ یوں کھڑے تھے جیسے دنیا کا سارا رعب اور دبدبہ صرف انہی کے کوٹ کی جیب میں ہے۔ اس دور میں لگتا تھا کہ دنیا کا نقشہ سپر پاور کی مرضی کے بغیر ہل بھی نہیں سکتا۔
پھر وقت کا پہیہ گھوما۔ چین نے باتوں کے بجائے فیکٹریوں کے پہیے گھمائے، ٹیکنالوجی پر راج کیا، اور چپ چاپ دنیا کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا۔
اور پھر دائیں طرف والی رنگین تصویر سامنے آتی ہے، جو کسی طنزیہ فلم کے کلائمیکس جیسی ہے۔ منظر وہی ہے—ایک امریکی اور ایک چینی رہنما—لیکن کردار بدل چکے ہیں۔ اب چینی صدر شی جن پنگ اپنی جگہ پر بالکل سیدھے، پراعتماد اور سکون سے کھڑے ہیں، جبکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا دعویٰ کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کچھ زیادہ ہی آگے جھک کر مصافحہ کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے 45 سال پہلے کا "قرض" سود سمیت واپس لوٹایا جا رہا ہو۔
حاصلِ کلام: > کل تک جو بیجنگ سے واشنگٹن صرف دنیا کی سیاست سیکھنے آتے تھے، آج وہ واشنگٹن کو یہ سکھا رہے ہیں کہ جب معیشت مضبوط ہو، تو قد خود بخود بڑا ہو جاتا ہے اور دوسروں کو ہاتھ ملانے کے لیے جھکنا ہی پڑتا ہے۔ یہ تصویر سیاستدانوں کے دعووں کی نہیں، بلکہ سستے لیبر سے لے کر گلوبل سپلائی چین پر قبضے تک کے 45 سالہ سفر کی سب سے بڑی طنزیہ سچائی ہے!