Meme Mafia

Meme Mafia یہ پیج نہیں, ہنسی کا اسپتال ہے,.اداس آئے ھو
ہنستے جاؤ گے 😂 👌 شیدے میاں 👌

06/07/2026

صبح بخیر۔۔

جب گھر کا سب سے چھوٹا بچہ بادشاہ بن جائے۔گھر کا سب سے چھوٹا بچہ ویسے تو عام دنوں میں بھی کسی لاٹ پادشاہ سے کم نہیں ہوتا،...
05/07/2026

جب گھر کا سب سے چھوٹا بچہ بادشاہ بن جائے۔

گھر کا سب سے چھوٹا بچہ ویسے تو عام دنوں میں بھی کسی لاٹ پادشاہ سے کم نہیں ہوتا، لیکن جب اسے باقاعدہ "گھر کا راجہ" بنا دیا جائے تو پھر جو دھمال مچتا ہے، اس کا اندازہ صرف وہی گھر والے لگا سکتے ہیں جنہوں نے یہ عذاب ہنستے ہنستے جھیلا ہو۔
​اتوار کا دن تھا اور چوہدری صابر کے گھر میں ایک انوکھا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چھوٹے بیٹے پپو (جو محلے بھر کی شرارتوں کا مرکز تھا) نے صبح اٹھتے ہی رونا شروع کر دیا کہ گھر میں میری کوئی عزت نہیں ہے، سب مجھے ہی دکان پر دوڑاتے ہیں۔ ابوجی کو اس پر ترس آ گیا اور انہوں نے شاہی فرمان جاری کر دیا کہ چلو بھئی، آج کے پورے دن کے لیے پپو اس گھر کا "بادشاہ" ہے اور سب اس کی رعایا ہیں۔
​مرحلہ نمبر ۱: شاہی ناشتہ اور لنگڑی لنگی
پپو نے بادشاہ بنتے ہی پہلا حکم صادر کیا: "شاہی کچن میں آج دال روٹی یا انڈا پراٹھا نہیں بنے گا، بلکہ بادشاہ سلامت کے لیے چاکلیٹ پیزا اور آم کا شیک لایا جائے!"
صابر میاں جو خود سستی کے موڈ میں صوفے پر لیٹے تھے، انہیں بادشاہ کے حکم پر اٹھنا پڑا۔ پپو نے صابر میاں کی طرف دیکھا اور بولا: "وزیرِ باامکان صابر میاں! آپ کی لنگی ہمیں پسند نہیں آئی، یہ شاہی دربار کی توہین ہے۔ جائیں اور فورا تھری پیس سوٹ پہن کر ہمارے سامنے حاضر ہوں!" صابر میاں گرمی میں سوٹ پہن کر ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے پیزا لینے بازار بھاگے۔
​مرحلہ نمبر ۲: دربارِ عام اور انوکھے ٹیکس
دوپہر کو بادشاہ سلامت نے ڈرائنگ روم میں دربار سجایا۔ صوفے پر تین تکیے رکھ کر انہوں نے اپنا تخت بنایا اور ہاتھ میں بیگم صاحبہ کا بیلن بطور "شاہی عصا" تھام لیا۔
ابوجی نے جیسے ہی دربار میں قدم رکھا، پپو نے بیلن لہرایا اور بولا: "بزرگ رعایا! آپ نے کل رات ہماری اجازت کے بغیر نو بجے ٹی وی بند کیوں کیا تھا؟ آپ پر پانچ روپے کا شاہی ٹیکس لگتا ہے، فورا خزانے میں جمع کروائیں۔" ابوجی نے سر پکڑ لیا لیکن شاہی قانون کے آگے مجبور ہو کر جیب سے پانچ کا سکہ نکال کر پپو کی گلک میں ڈالا۔
​مرحلہ نمبر ۳: شیدے کی گرفتاری اور شاہی سزا
شام کو جب شیدا صابر میاں سے ملنے گھر آیا تو پپو نے اسے دیکھتے ہی نعرہ لگایا: "غدارِ اعظم آ گیا! فوجیو، اسے گرفتار کر لو!" شیدا حیرت سے منہ تکنے لگا۔ پپو نے حکم دیا: "شیدے نے پچھلے ہفتے ہماری کرکٹ کی گیند گم کی تھی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ یہ پورے ایک گھنٹے تک صابر چاچو کے موبائل کا ہاٹ سپاٹ آن رکھے گا اور ہمیں کارٹون دیکھنے کی اجازت ہوگی۔" شیدے نے روتے دھوتے اپنا انٹرنیٹ پیکیج بادشاہ کے نام وقف کر دیا۔
​اختتام: شاہی تخت کا تختہ
رات کے نو بجے تک پپو کا ظلم و ستم عروج پر پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے صابر میاں کو حکم دیا کہ وہ گھوڑا بنیں تاکہ بادشاہ سلامت ان کی پیٹھ پر بیٹھ کر صحن کی سیر کریں۔ صابر میاں جیسے ہی گھوڑا بنے، پپو ان کی پیٹھ پر اچھل کر چڑھے۔ اسی دوران پپو کا پاؤں صابر میاں کی عینک سے ٹکرایا اور عینک فرش پر جا گری۔
​عینک کا ٹوٹنا تھا کہ صابر میاں کے اندر کا مظلوم باپ جاگ اٹھا اور بادشاہت کا سحر ایک سیکنڈ میں ٹوٹ گیا۔ صابر میاں نے فورا بیگم سے بیلن چھینا، پپو کو پیٹھ سے اتارا اور بولے: "ابے اوے ملوک راجے! تیری بادشاہت کا وقت ختم ہوا۔ اب شروع ہوتا ہے ہمارا مارشل لاء!"
​ابوجی اور شیدے نے فورا صابر میاں کا ساتھ دیا اور بولے: "ہاں بھئی، اب صابر میاں کا قانون چلے گا۔" پپو نے جب دیکھا کہ پوری رعایا اب باغی ہو چکی ہے اور بیلن صابر میاں کے ہاتھ میں ہے، تو انہوں نے فورا اپنا شاہی تاج (جو سسر صاحب کی پرانی ٹوپی تھی) اتارا اور ننگے پاؤں بستر کی طرف بھاگے اور چادر اوڑھ کر ایسے سوئے کہ صبح تک ان کی آواز بھی نہ نکلی۔
​اگلے دن جب پپو نے دوبارہ رونا شروع کیا تو صابر میاں نے فورا دکان کی پرچی ان کے ہاتھ میں تھمائی اور بولے: "لو چلو راجہ صاحب، اب شاہی دکان سے جا کر دو کلو چینی لے کر آؤ ورنہ شاہی مکے تیار ہیں۔ یہ سن کر پورا گھر ہنسی سے گونج اٹھا۔🤣🤣

─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────

🤣جب سسرال والے اچانک پہنچ جائیں 🤣اتوار کا دن تھا اور چوہدری صابر اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ سستی کی معراج پر تھے. وہ پ...
05/07/2026

🤣جب سسرال والے اچانک پہنچ جائیں 🤣

اتوار کا دن تھا اور چوہدری صابر اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ سستی کی معراج پر تھے. وہ پرانی بنیان اور لنگی پہنے صوفے پر اس طرح لیٹے تھے جیسے محلے کی سب سے بھاری بھینس تالاب میں بیٹھی ہو. ٹی وی پر میچ چل رہا تھا اور صابر میاں کے ایک ہاتھ میں چپس کا پیکٹ تھا اور دوسرا ہاتھ پیٹ پر خارش کرنے میں مصروف تھا. گھر کے باقی حصے کا حال بھی کسی کباڑ خانے سے کم نہیں تھا، ہر طرف بچوں کے کھلونے، موزے اور تکیے بکھرے پڑے تھے.
​اچانک باہر گلی میں ایک گاڑی آ کر رکی اور اس کے فورا بعد صابر میاں کے گھر کے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی.
​صابر میاں کی بیگم نے کچن سے جھانک کر دیکھا اور بولیں کہ ارے چوہدری صاحب ذرا دیکھنا کون آیا ہے. صابر میاں نے کڑھتے ہوئے صوفے سے پیر نیچے اتارے اور جیسے ہی دروازہ کھولا، ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی. سامنے ان کے سسر، ساس، دو سالے اور ایک عدد سالی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ مسکراتے ہوئے کھڑے تھے.
​سسر صاحب نے صابر میاں کی لنگی اور بنیان کا جائزہ لیا اور بولے کہ داماد جی، بس لاہور جا رہے تھے تو سوچا راستے میں آپ سے بھی ملتے چلیں، سرپرائز کیسا لگا.
​صابر میاں کے حلق میں تھوک خشک ہو گیا. انہوں نے زبردستی ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور بولے کہ واہ ابا جی واہ، آپ نے تو دل خوش کر دیا، اندر آئیے اندر آئیے.
​اندر سسرال والوں کے قدم رکھتے ہی پورے گھر میں ایک ایمرجنسی نافذ ہو گئی. بیگم نے جیسے ہی اپنی امی کو دیکھا، وہ کچن سے دوڑتی ہوئی آئیں اور صابر میاں کو گھورتے ہوئے کونے میں لے گئیں. بیگم نے سرگوشی میں پٹاخے چھوڑنے شروع کیے کہ چوہدری صاحب، گھر میں نہ تو چائے کی پتی ہے، نہ دودھ ہے اور نہ ہی مہمانوں کے آگے رکھنے کے لیے کوئی بسکٹ. اب عزت آپ کے ہاتھ میں ہے، جلدی سے کچھ کریں ورنہ میری امی پورے خاندان میں میری ناک کٹوا دیں گی.
​صابر میاں نے فورا چستی کا مظاہرہ کیا اور شیدے اور پپو کو فون گھمایا. صابر میاں نے روتے ہوئے کہا کہ یارو، سسرال والے اچانک چھاپہ مار چکے ہیں اور گھر میں چوہے چنے چبا رہے ہیں، خدا کے لیے بازار سے دیسی گھی کا قورمہ، نان اور اچھے والے بسکٹ لے کر فورا پہنچو.
​پپو نے موقع پاتے ہی چٹکی لی اور بولا کہ چوہدری صاحب، عید پر آپ نے ہمیں دال روٹی کا مشورہ دیا تھا، آج سسرال کے سامنے دال روٹی رکھ دیں، وہ بھی روحانی غذا سمجھ کر کھا لیں گے. صابر میاں نے منتیں کیں تو وہ دونوں سامان لینے بھاگے.
​ادھر ڈرائنگ روم میں صابر میاں سسر صاحب کے غصے والے سوالات کا سامنا کر رہے تھے. سسر صاحب نے صابر میاں کی ٹوٹی ہوئی عینک کی طرف دیکھا اور بولے کہ داماد جی، سنا ہے آج کل آپ کی نظر کچھ زیادہ ہی کمزور ہو گئی ہے، کہیں لنگی کی جگہ بیگم کا دوپٹہ نہ باندھ لیا کریں. سالے الگ سے صوفے پر اچھل کود کر رہے تھے اور صابر میاں کا موبائل ہاٹ سپاٹ آن کرنے کی فرمائشیں کر رہے تھے.
​پورے ایک گھنٹے کے بعد، جب صابر میاں کی ساس نے تین بار اپنے گلے کو صاف کر کے چائے نہ ملنے کا سگنل دیا، تو باہر موٹر سائیکل کی آواز آئی. شیدے اور پپو نے عقبی دروازے سے سامان کچن میں پہنچایا.
​بیگم نے جلدی سے ٹرے سجائی اور چوہدری صابر فورا چائے اور بسکٹ لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے. جلدی میں صابر میاں کا پاؤں فرش پر بکھرے ایک کھلونے سے ٹکرایا، ان کا توازن بگڑا اور وہ اڑتے ہوئے سیدھے سسر صاحب کی گود میں جا گرے. چائے کی پیالی سسر صاحب کے نئے کڑکتے ہوئے کرتے پر الٹ گئی اور بسکٹ سالے کے منہ پر جا لگے.
​ڈرائنگ روم میں ایک منٹ کے لیے موت کا سا سناٹا چھا گیا. سسر صاحب کا چہرہ چائے کی گرمی اور غصے سے لال ہو چکا تھا. انہوں نے صابر میاں کو خود سے دور دھکیلا اور کھڑے ہو کر بولے کہ داماد جی، ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ ہمارا استقبال چائے کی بارش سے کریں گے. ہمیں لاہور کے لیے دیر ہو رہی ہے، اب ہم چلتے ہیں.
​صابر میاں نے ملوک ملوک سے چہرے کے ساتھ کہا کہ ابا جی، قورمہ اور نان بس ریڈی تھے، کھا کر جائیے گا. لیکن سسرال والے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر گاڑی کی طرف بھاگ چکے تھے.
​جب گاڑی گلی سے غائب ہو گئی، تو بیگم نے بیلن ہاتھ میں اٹھایا اور صابر میاں کی طرف دیکھ کر بولیں کہ چوہدری صاحب، آج آپ نے جو میری عزت کا فالودہ بنایا ہے، اس کی سزا یہ ہے کہ یہ سارا قورمہ اور نان اب آپ اکیلے کھائیں گے اور اگلے ایک ہفتے تک کچن میں قدم بھی نہیں رکھیں گے.
​صابر میاں نے حسرت بھری نگاہوں سے قورمے کی دیگچی کو دیکھا اور بولے کہ چلو، سسرال والوں کے اچانک آنے کا ایک فائدہ تو ہوا، اگلے سات دن تک مجھے کچن کے کاموں سے تو سستی مل گئی. یہ سن کر پپو اور شیدے نے زور دار قہقہہ لگایا اور پورا گھر ہنسی سے گونج اٹھا.🤣🤣

─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────








🤣مہمان جو جانے کا نام ہی نہ لے🤣شیدا میاں۔۔۔🖊محلے میں تپتی دوپہر کا وقت تھا جب صابر میاں کے گھر کے دروازے پر زور زور سے د...
05/07/2026

🤣مہمان جو جانے کا نام ہی نہ لے🤣

شیدا میاں۔۔۔🖊

محلے میں تپتی دوپہر کا وقت تھا جب صابر میاں کے گھر کے دروازے پر زور زور سے دستخط ہوئے یعنی کسی نے کنڈی کھڑکائی۔ صابر میاں نے سستی سے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ان کے دور کے مٹکے ماموں یعنی ماموں غفور کھڑے تھے۔ ان کے دونوں ہاتھوں میں بڑے بڑے بیگ تھے اور چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو بتا رہی تھی کہ وہ یہاں طویل قیام کے ارادے سے آئے ہیں۔
​ماموں غفور نے اندر قدم رکھتے ہی صوفے پر ڈیرہ جما لیا اور بولے کہ صابر میاں بس تمہاری یاد تڑپا لائی۔ سوچا دو دن تمہارے پاس گزار لوں۔ صابر میاں نے شرافت کے مصلحت کے تحت مسکرا کر ان کا استقبال کیا۔
​دو دن گزر گئے پھر چار دن گزر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہفتہ گزر گیا لیکن ماموں غفور کے جانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ صبح دوپہر اور شام دیسی گھی کے پراٹھوں اور کڑھائی کی فرمائشیں کرتے اور دن بھر ٹی وی کے سامنے لیٹ کر صابر میاں کے موبائل کا ہاٹ سپاٹ استعمال کرتے رہتے۔ صابر میاں کا انٹرنیٹ پیکیج اور گھر کا راشن دونوں جواب دے رہے تھے۔
​ابوجی نے صابر میاں کو کونے میں بلایا اور سرگوشی کی کہ میاں صابر تمہارے یہ ماموں تو جانے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اب کوئی ایسا حربہ استعمال کرنا پڑے گا کہ یہ خود ہی اپنا بوریا بستر گول کر لیں۔
​اگلے دن صابر میاں اور ابوجی نے مل کر ایک شاندار پلان بنایا۔ رات کے کھانے پر جیسے ہی ماموں غفور نے بریانی کی پلیٹ سامنے رکھی تو صابر میاں نے اچانک ایک لمبی آہ بھری اور بولے کہ ماموں جی آپ کو ایک ضروری بات بتانی تھی۔ ہمارے اس گھر میں ایک عجیب سا مسئلہ ہے۔
​ماموں غفور نے بوٹی چباتے ہوئے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے بھئی۔
​ابوجی نے فورا بات سنبھالی اور بولے کہ غفور بھائی اصل میں رات کے ٹھیک تین بجے اس گھر کے ڈرائنگ روم میں ایک تکیہ خود بخود ہوا میں اڑنے لگتا ہے اور کچن سے برتن گرنے کی اوازیں آتی ہیں۔ پچھلے سال ایک مہمان یہاں رکے تھے تو صبح ان کا بستر صحن میں پڑا ہوا ملا تھا۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہاں کوئی سایہ ہے۔
​ماموں غفور نے زور دار قہقہہ لگایا اور بولے کہ ارے چوہدری صاحب میں ان چیزوں سے نہیں ڈرتا۔ میرے پاس وہ دل ہے جو شیر کا ہوتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں میں یہیں سوؤں گا۔
​صابر میاں کا پہلا تیر تو خالی گیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ رات کے ٹھیک تین بجے جب ماموں غفور گہری نیند کے خراٹے مار رہے تھے تو صابر میاں نے کچن میں جا کر اسٹیل کے دو پتیلے زور سے فرش پر گرائے۔ دھماکے کی آواز سے پورا گھر گونج اٹھا۔ ساتھ ہی ابوجی نے ڈرائنگ روم کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر ایک پرانی چادر کو لکڑی کی مدد سے ہوا میں لہرانا شروع کر دیا۔
​ماموں غفور کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے اندھیرے میں اڑتی ہوئی سفید چادر دیکھی اور کچن سے برتنوں کے گرنے کی خوفناک آوازیں سنیں۔ ان کا وہ شیر والا دل ایک سیکنڈ میں چوہا بن گیا۔
​وہ بستر سے ایسے اچھلے کہ ان کی عینک دور جا گری۔ ماموں غفور نے اپنے بیگ اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کی اور ننگے پاؤں دروازے کی طرف بھاگے۔ وہ چلاتے ہوئے گلی میں نکل گئے کہ بچاؤ اس گھر میں بھوت ہیں۔
​صابر میاں اور ابوجی نے جلدی سے لائٹ آن کی اور ماموں غفور کو گلی میں بھاگتے دیکھ کر اپنی ہنسی پر قابو پایا۔
​اگلی صبح ماموں غفور کا فون آیا کہ صابر میاں میں اپنے بیگ منگوانے کے لیے ایک قلی بھیج رہا ہوں اور اب میں اگلی بار تب ہی آؤں گا جب تم یہ گھر تبدیل کر لو گے۔ صابر میاں نے چستی سے جواب دیا کہ جی ماموں جی بالکل آپ کی حفاظت ہمارے لیے سب سے پہلے ہے۔ فون بند ہوتے ہی پورا گھر ہنسی کے فواروں سے گونج اٹھا اور صابر میاں نے سکھ کا سانس لے کر بیڈ پر لمبی تان لی۔🤣🤣

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────

─────••●◎●••─────دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔─────••●◎●••─────
05/07/2026

─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────

🤣   سستی کے علاج کی تلاش۔ 🤣شیدا میاں۔۔۔🍂چوہدری صابر کی سستی کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کے موبائل کا چارجر دو فٹ دور پڑا ہو...
05/07/2026

🤣 سستی کے علاج کی تلاش۔ 🤣

شیدا میاں۔۔۔🍂

چوہدری صابر کی سستی کا یہ عالم تھا کہ اگر ان کے موبائل کا چارجر دو فٹ دور پڑا ہوتا تو وہ موبائل بند ہونا پسند کرتے تھے لیکن اٹھ کر چارجر لگانا ان کے لیے دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔ ان کی اس کاہلی سے پورا گھر پریشان تھا اور بیگم تو روزانہ صبح ناشتے پر طعنوں کی توپیں داغتی تھیں۔
​ایک دن ابوجی نے صابر میاں کی یہ حالت دیکھی تو بولے کہ میاں صابر اب تمہاری اس سستی کا کوئی پکا علاج ڈھونڈنا پڑے گا۔ میں نے سنا ہے کہ ساتھ والے محلے میں ایک حکیم صاحب آئے ہیں جو سستی بھگانے کا سو فیصد کامیاب علاج کرتے ہیں۔
​صابر میاں نے صوفے پر لیٹے لیٹے ہی ایک گہری سانس لی اور بولے کہ اباجی علاج تو میں کروا لوں لیکن وہاں تک جانے کے لیے مجھے موٹر سائیکل سٹارٹ کرنی پڑے گی جو کہ اس وقت میرے بس کی بات نہیں ہے۔
​خیر اگلے دن ابوجی اور پپو انہیں زبردستی گھسیٹ کر حکیم صاحب کے مطب لے گئے۔ حکیم صاحب نے صابر میاں کی نبض دیکھی ان کا سست چہرہ دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے سر ہلایا۔ حکیم صاحب بولے کہ چوہدری صاحب بیماری بہت پرانی اور خطرناک ہے لیکن میرے پاس اس کا ایک مجرب نسخہ ہے۔
​حکیم صاحب نے اندر سے ایک چھوٹی سی چمکدار گولی نکالی اور صابر میاں کو دیتے ہوئے بولے کہ یہ سستی کی آخری دوا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے نگلنا نہیں ہے بلکہ اسے اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سونا ہے۔ یہ گولی رات بھر میں ایسی لہریں پیدا کرے گی کہ صبح آپ چیتے کی طرح چست اٹھیں گے۔
​صابر میاں گولی لے کر خوشی خوشی گھر لوٹ آئے۔ انہوں نے رات کو سونے سے پہلے وہ گولی خاص طور پر اپنے تکیے کے نیچے رکھی اور دل ہی دل میں سوچا کہ واہ اب کل سے میں بغیر محنت کے چست انسان بن جاؤں گا۔
​رات کے تین بجے اچانک صابر میاں کو اپنے بستر کے نیچے کچھ عجیب سی سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ انہوں نے نیند میں ہی ہاتھ مارا تو انہیں لگا کہ تکیے کے پاس کوئی ٹھنڈی اور مڑی تڑی چیز حرکت کر رہی ہے۔ صابر میاں کو فورا محلے میں پھیلنے والی سانپ کی افواہ یاد آ گئی اور ان کے دماغ میں دھماکہ ہوا۔
​وہ ایک ہی سیکنڈ میں سستی اور کاہلی بھول کر بستر سے چیتے کی طرح اچھلے اور دسویں منزل کے جمناسٹ کی طرح چھلانگ لگا کر کمرے سے باہر بھاگے۔ وہ صحن میں پہنچ کر زور زور سے چلانے لگے کہ بچاؤ دوڑو میرے بستر میں سانپ گھس آیا ہے۔
​ان کی چیخیں سن کر ابوجی لاٹھی لے کر دوڑے اور پپو نے فورا ٹارچ آن کر کے کمرے کا رخ کیا۔ جب سب نے کمرے میں جا کر تکیہ اٹھایا تو وہاں کوئی سانپ نہیں تھا بلکہ حکیم صاحب کی دی ہوئی گولی چوہوں کو اپنی طرف راغب کر چکی تھا اور ایک بڑا سا چوہا وہاں اچھل کود کر رہا تھا جس کی پونچھ صابر میاں کے ہاتھ سے ٹکرائی تھی۔
​ابوجی نے چوہے کو بھگایا اور زور سے ہنستے ہوئے بولے کہ صابر میاں حکیم صاحب کی گولی نے اپنا کام کر دکھایا۔ دیکھو جو بندہ پانی کا گلاس لینے نہیں اٹھتا تھا وہ آج ایک سیکنڈ میں صحن پار کر گیا۔
​اگلے دن صابر میاں نے حکیم صاحب کے پاس جا کر شکریہ ادا کیا تو حکیم صاحب مسکرا کر بولے کہ چوہدری صاحب وہ کوئی سستی کی دوا نہیں تھی بلکہ گندم کی خوشبودار میٹھی گولی تھی جو چوہوں کو بہت پسند ہے۔ سستی کا اصل علاج دوا میں نہیں بلکہ دماغ کے اس جھٹکے میں تھا جو آپ کو رات کو لگا۔ اب جب بھی سستی آئے بس اس چوہے کو یاد کر لیا کریں۔ یہ سن کر صابر میاں نے فورا چستی سے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا۔🤣🤣

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جب محلے میں سانپ کی خبر پھیلی اور آخر میں  رسی نکلی 🤣شیدا میاں محلے میں رات کے دس بجے کا وقت تھا اور ہر طرف گہری خاموشی ...
05/07/2026

جب محلے میں سانپ کی خبر پھیلی اور آخر میں رسی نکلی 🤣

شیدا میاں

محلے میں رات کے دس بجے کا وقت تھا اور ہر طرف گہری خاموشی تھی کہ اچانک گلی کے کونے سے چوہدری صابر کے چیخنے کی آواز آئی۔ وہ ہڑبڑا کر اپنے گھر سے باہر بھاگے اور زور زور سے چلانے لگے کہ دوڑو یارو بچاؤ میرے گھر میں ایک بہت بڑا اور زہریلا سانپ گھس آیا ہے۔
​ابوجی جو ابھی ابھی بستر پر لیٹے ہی تھے وہ صابر میاں کی آواز سن کر لاٹھی اٹھا کر باہر کی طرف بھاگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے محلے کے مرد جوان اور بچے اپنے اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے جھاڑو اور ٹارچیں لے کر صابر میاں کے صحن میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے چہرے پر خوف اور سنسنی کے تاثرات تھے۔
​صابر میاں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے سٹور روم کی طرف اشارہ کیا اور بولے کہ وہ دیکھو اندھیرے کونے میں پیپوں کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اور اس کا سائز کم از کم چھ فٹ ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اسے لہراتے ہوئے دیکھا ہے۔
​پپو اور شیدے نے فورا اپنی ٹارچیں آگے بڑھائیں اور روشنی سیدھی اس کونے پر ماری۔ روشنی پڑتے ہی وہاں ایک لمبی کالی اور مڑی تڑی چیز نظر آئی۔ سب کی سانسیں حلق میں اٹک گئیں اور ابوجی نے اپنی لاٹھی مضبوطی سے پکڑ لی کہ جیسے ہی سانپ باہر نکلے گا وہ اس پر وار کریں گے۔
​پورا ادھا گھنٹہ محلے کے بہادر جوان سٹور روم کے باہر پوزیشن سنبھالے کھڑے رہے لیکن وہ کالی چیز اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی۔ صابر میاں نے گھبرا کر کہا کہ لگتا ہے یہ بہت چالاک سانپ ہے اور ہمارے حملے کا انتظار کر رہا ہے۔
​آخر کار ابوجی نے ہمت دکھائی اور بولے کہ ایسے ڈر کر کھڑے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا میں آگے بڑھتا ہوں۔ ابوجی نے دلیری سے سٹور روم کے اندر قدم رکھا اور اپنی لاٹھی کا ایک زوردار وار اس کالی چیز پر کر دیا۔
​جیسے ہی لاٹھی اس چیز پر لگی تو وہاں سے کسی سانپ کی پھنکار کے بجائے ایک سوکھی ہوئی آواز آئی۔ پپو نے فورا آگے بڑھ کر ٹارچ کی روشنی بالکل قریب کی تو سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
​وہاں کوئی چھ فٹ کا زہریلا سانپ نہیں تھا بلکہ وہ بھینس کو باندھنے والی ایک پرانی کالی رسی تھی جو سردی کی وجہ سے اکڑ کر گول ملو ہو چکی تھی اور اندھیرے میں بالکل سانپ جیسی لگ رہی تھی۔
​یہ دیکھ کر شیدے نے صابر میاں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہنستے ہوئے بولا کہ چوہدری صاحب سانپ تو نہیں ملا لیکن آپ کی عینک کا نمبر ضرور بدلنے والا ہو گیا ہے۔
​ابوجی نے حسرت سے اپنی لاٹھی کو دیکھا اور صابر میاں سے بولے کہ میاں تمہاری اس رسی کے چکر میں میری آدھی رات کی نیند بھی ٹوٹ گئی اور میری کمر میں الگ سے درد شروع ہو گیا ہے۔ اب اگلی بار جب تمہارے گھر سانپ نکلے تو پہلے اس کا بائٹس چیک کر لینا پھر پورے محلے کو جگانا۔ یہ سن کر سب لوگ ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسی ہی مزاحیہ/طنزیہ/اصلاحی کہانیاں پڑھنے کے لیے میری پروفائل فالو کر لیں۔
اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہو تو کمنٹ ضرور کریں۔ اور پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کریں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جب ابو نے نیند میں نکاح پڑھا دیا 🤣اگلے دن گھر میں سب سے بڑے بھائی کا نکاح تھا اور ابوجی کو سب سے اہم ذمہ داری سونپی گئی ...
05/07/2026

جب ابو نے نیند میں نکاح پڑھا دیا 🤣

اگلے دن گھر میں سب سے بڑے بھائی کا نکاح تھا اور ابوجی کو سب سے اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی یعنی نکاح کے فارم مکمل کروانا اور قاضی صاحب کو وقت پر راضی کرنا۔ ابوجی صبح سے شام تک کبھی یونین کونسل کے چکر کاٹ رہے تھے تو کبھی قاضی صاحب کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر ان کی منتیں کر رہے تھے۔ گرمی اور بھاگ دوڑ کی وجہ سے ابوجی کا دماغ دہی بن چکا تھا اور ان کے کانوں میں صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا یعنی کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔
​شام کو جب ابوجی گھر لوٹے تو تھکن سے ان کا برا حال تھا۔ وہ کھانا کھائے بغیر ہی اپنے کمرے میں گئے اور بیڈ پر گرتے ہی گہری نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔
​رات کے دو بجے ابوجی گہری نیند میں تھے لیکن ان کا لاشعور ابھی بھی نکاح کے فارم ہی بھر رہا تھا۔ اچانک انہوں نے نیند میں ہی زور سے بولنا شروع کر دیا کہ دولہا میاں جلدی دستخط کرو قاضی صاحب جانے والے ہیں۔
​امی جو برابر میں سو رہی تھیں وہ ابوجی کی اس اچانک آواز سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ انہوں نے گھبرا کر ابوجی کو ہلایا اور بولیں کہ ارے چوہدری صاحب اٹھیں کیا ہو گیا ہے کون سے دستخط اور کہاں ہیں قاضی صاحب۔
​ابوجی نیند کے شدید غلبے میں تھے اور انہوں نے امی کی اس بات کو نکاح کی کارروائی سمجھ لیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیے کیے ہی غصے سے امی کا ہاتھ پکڑا اور بلند آواز میں بولے کہ لڑکے کے والد کی جگہ میں گواہی دیتا ہوں اور لڑکی کی رضامندی شامل ہے۔ بس اب مجھے بتاؤ کہ کیا تمہیں یہ نکاح قبول ہے۔
​امی حیرت اور پریشانی سے ابوجی کا منہ تکنے لگیں کہ یہ آدھی رات کو کیا ڈرامہ چل رہا ہے۔ امی نے دوبارہ ابوجی کو جھنجھوڑا اور بولیں کہ ہوش کریں میں آپ کی بیگم ہوں اور ہمارے نکاح کو پچیس سال ہو چکے ہیں۔
​لیکن ابوجی کا دماغ تو اس وقت قاضی موڈ پر تھا انہوں نے امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے نیند میں ہی اعلان کر دیا کہ گواہوں کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا جاتا ہے اور مجھے یہ نکاح قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔ تین بار قبول ہے کہنے کے بعد ابوجی نے ایک لمبی سانس لی اور دوبارہ خراٹے مارنے لگے۔
​امی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ بندہ نیند میں بھی اپنے ہی گھر میں دوبارہ نکاح پڑھا رہا ہے۔
​اگلی صبح جب سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے تو امی نے مسکراتے ہوئے ابوجی کے سامنے چائے کا کپ رکھا۔ امی نے سب بچوں کے سامنے ابوجی سے کہا کہ چوہدری صاحب رات کو آپ نے نیند میں مجھ سے دوبارہ نکاح کر لیا ہے اور تین بار قبول ہے بھی کہہ دیا ہے۔
​ابوجی نے حیرت سے چائے کا گھونٹ بھرا اور بولے کہ کیا واقعی میں نے ایسا کیا ہے۔
​امی نے فورا جواب دیا کہ ہاں بالکل اور شریعت کے مطابق اب یہ نیا نکاح مانا جائے گا اس لیے اب مجھے مہر کی رقم بھی دوبارہ چاہیے اور منہ دکھائی میں سونے کے جھمکے بھی ملنے چاہئیں۔
​یہ سنتے ہی ابوجی کے تو طوطے اڑ گئے اور ان کی رات والی ساری تھکن ایک سیکنڈ میں غائب ہو گئی۔ ابوجی نے فورا بچوں کی طرف دیکھا اور بولے کہ یارو اب کوئی جلدی سے اصلی والے قاضی صاحب کو فون ملاؤ اور پوچھو کہ نیند میں پڑھائے گئے نکاح پر کتنا جرمانہ یا مہر لگتا ہے ورنہ تمہاری امی تو مجھے اسی نکاح کے چکر میں کلو ملو کر دیں گی۔ یہ سن کر پورا گھر ہنسی سے گونج اٹھا۔

🤣

─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────


04/07/2026

ادھوری محبت، مکمل زندگی دو محبت کرنے والے حالات کی وجہ سے جدا ہو جاتے ہیں مگر برسوں بعد غیر متوقع طور پر دوبارہ ملتے ہیں

یاسر خان.

قسط نمبر 1 پہلی ملاقات

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں زمین کو چھو رہی تھیں۔ آسمان پر کالے بادلوں نے سورج کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ سڑک پر چلتے لوگ جلدی جلدی اپنی منزلوں کی طرف بڑھ رہے تھے، مگر شہر کے سب سے بڑے کالج کے دروازے پر غیر معمولی چہل پہل تھی۔ آج نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا۔

ہر طرف نئے چہروں کی رونق تھی۔ کچھ طلبہ پرجوش تھے، کچھ گھبرائے ہوئے، اور کچھ اپنے نئے دوست بنانے میں مصروف تھے۔

انہی چہروں کے ہجوم میں ایک لڑکی سفید اور آسمانی رنگ کے سادہ لباس میں آہستہ آہستہ کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں اور آنکھوں میں بے شمار خواب۔

اس کا نام عائشہ تھا۔

وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کے والد ایک سرکاری ملازم تھے اور والدہ گھریلو خاتون۔ عائشہ نے ہمیشہ اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ تعلیم ہی اس کے خوابوں کو حقیقت بنا سکتی ہے۔

دوسری طرف کالج کی پارکنگ میں ایک سیاہ گاڑی آ کر رکی۔

گاڑی سے ایک نوجوان اترا۔ لمبا قد، سنجیدہ چہرہ، سادہ مگر نفیس لباس، اور آنکھوں میں عجیب سی خاموشی۔

اس کا نام زین تھا۔

زین شہر کے معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا، مگر دولت کے باوجود اس کی زندگی میں ایک خلا تھا۔ اس نے ہمیشہ دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی، لیکن کبھی اپنے دل کی بات نہ سن سکا۔

وہ کلاس روم کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک سامنے سے آتی ہوئی عائشہ کسی سے ٹکرا گئی۔ اس کے ہاتھوں سے کتابیں زمین پر بکھر گئیں۔

اوہ... مجھے معاف کیجیے! عائشہ گھبرا کر بولی۔

زین فوراً جھکا اور کتابیں اٹھانے لگا۔

غلطی میری بھی تھی۔ میں نے سامنے نہیں دیکھا۔"

عائشہ نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔

چند لمحوں کے لیے جیسے وقت رک گیا۔

نہ کوئی مسکراہٹ، نہ کوئی لمبی بات... صرف خاموش نظریں، جن میں ایک انجان سا احساس تھا۔

شکریہ... عائشہ نے آہستہ سے کہا۔

کوئی بات نہیں۔

دونوں اپنی اپنی راہ چل پڑے، مگر دونوں کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی رہ گئی۔

---

پہلا لیکچر شروع ہوا۔

قسمت کا عجیب کھیل دیکھیے کہ عائشہ اور زین ایک ہی کلاس میں تھے۔

استاد نے اعلان کیا اس سمسٹر میں ہر طالب علم کو ایک پارٹنر کے ساتھ ریسرچ پروجیکٹ مکمل کرنا ہوگا۔"

طلبہ نے اپنے دوست چننا شروع کر دیے۔

چند لمحوں بعد استاد نے فہرست دیکھی۔

عائشہ... آپ کا پارٹنر زین ہوگا۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

عائشہ نے دل ہی دل میں سوچا،
کاش کسی اور کے ساتھ نام آتا

اور زین کے دل میں بھی یہی خیال آیا،
"یہ آغاز کیوں اتنا عجیب لگ رہا ہے؟

کلاس ختم ہونے کے بعد لائبریری میں پہلی بار دونوں نے ساتھ بیٹھ کر پروجیکٹ پر بات کی۔

شروع میں خاموشی چھائی رہی۔

آخرکار زین نے کہا،
"آپ کافی خاموش رہتی ہیں۔

عائشہ ہلکا سا مسکرائی۔

اور آپ شاید ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔

پہلی بار زین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

شاید...

یہ مختصر گفتگو دونوں کے درمیان اجنبیت کی دیوار میں پہلی دراڑ تھی۔

---

اسی دوران کالج کے ایک کونے سے دو لڑکے انہیں دیکھ رہے تھے۔

"یہ نیا لڑکا زین ہے نا؟"

"ہاں... اور لگتا ہے پہلی ہی ملاقات میں عائشہ کے ساتھ دوستی ہونے والی ہے۔"

"دیکھتے ہیں یہ دوستی کہاں تک جاتی ہے..."

انہیں معلوم نہ تھا کہ قسمت ان دونوں کے لیے صرف دوستی نہیں، بلکہ ایک ایسی محبت لکھ چکی ہے جو برسوں تک آزمائشوں سے گزرے گی۔

شام کو عائشہ گھر پہنچی تو والدہ نے پوچھا،
پہلا دن کیسا گزرا؟

عائشہ نے مختصر جواب دیا،
اچھا تھا...

مگر اس کے ذہن میں بار بار وہی منظر آ رہا تھا، جب کتابیں زمین پر گری تھیں اور ایک اجنبی نے خاموشی سے انہیں اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔

ادھر زین اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا بارش کو دیکھ رہا تھا۔

اسے حیرت تھی کہ ایک معمولی سی ملاقات اس کے ذہن پر اتنا گہرا اثر کیوں چھوڑ گئی۔

وہ خود سے بولا،
یہ صرف اتفاق تھا... یا شاید قسمت کی پہلی دستک؟"

بارش مسلسل برس رہی تھی۔

کسی کو خبر نہ تھی کہ یہی بارش ایک ایسی محبت کی شروعات کی گواہ بن رہی ہے جو کبھی مکمل نہ ہو سکے گی... مگر اس کی یاد دونوں کی پوری زندگی کا حصہ بن جائے گی۔

─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────

04/07/2026

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meme Mafia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share