05/07/2026
جب گھر کا سب سے چھوٹا بچہ بادشاہ بن جائے۔
گھر کا سب سے چھوٹا بچہ ویسے تو عام دنوں میں بھی کسی لاٹ پادشاہ سے کم نہیں ہوتا، لیکن جب اسے باقاعدہ "گھر کا راجہ" بنا دیا جائے تو پھر جو دھمال مچتا ہے، اس کا اندازہ صرف وہی گھر والے لگا سکتے ہیں جنہوں نے یہ عذاب ہنستے ہنستے جھیلا ہو۔
اتوار کا دن تھا اور چوہدری صابر کے گھر میں ایک انوکھا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چھوٹے بیٹے پپو (جو محلے بھر کی شرارتوں کا مرکز تھا) نے صبح اٹھتے ہی رونا شروع کر دیا کہ گھر میں میری کوئی عزت نہیں ہے، سب مجھے ہی دکان پر دوڑاتے ہیں۔ ابوجی کو اس پر ترس آ گیا اور انہوں نے شاہی فرمان جاری کر دیا کہ چلو بھئی، آج کے پورے دن کے لیے پپو اس گھر کا "بادشاہ" ہے اور سب اس کی رعایا ہیں۔
مرحلہ نمبر ۱: شاہی ناشتہ اور لنگڑی لنگی
پپو نے بادشاہ بنتے ہی پہلا حکم صادر کیا: "شاہی کچن میں آج دال روٹی یا انڈا پراٹھا نہیں بنے گا، بلکہ بادشاہ سلامت کے لیے چاکلیٹ پیزا اور آم کا شیک لایا جائے!"
صابر میاں جو خود سستی کے موڈ میں صوفے پر لیٹے تھے، انہیں بادشاہ کے حکم پر اٹھنا پڑا۔ پپو نے صابر میاں کی طرف دیکھا اور بولا: "وزیرِ باامکان صابر میاں! آپ کی لنگی ہمیں پسند نہیں آئی، یہ شاہی دربار کی توہین ہے۔ جائیں اور فورا تھری پیس سوٹ پہن کر ہمارے سامنے حاضر ہوں!" صابر میاں گرمی میں سوٹ پہن کر ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے پیزا لینے بازار بھاگے۔
مرحلہ نمبر ۲: دربارِ عام اور انوکھے ٹیکس
دوپہر کو بادشاہ سلامت نے ڈرائنگ روم میں دربار سجایا۔ صوفے پر تین تکیے رکھ کر انہوں نے اپنا تخت بنایا اور ہاتھ میں بیگم صاحبہ کا بیلن بطور "شاہی عصا" تھام لیا۔
ابوجی نے جیسے ہی دربار میں قدم رکھا، پپو نے بیلن لہرایا اور بولا: "بزرگ رعایا! آپ نے کل رات ہماری اجازت کے بغیر نو بجے ٹی وی بند کیوں کیا تھا؟ آپ پر پانچ روپے کا شاہی ٹیکس لگتا ہے، فورا خزانے میں جمع کروائیں۔" ابوجی نے سر پکڑ لیا لیکن شاہی قانون کے آگے مجبور ہو کر جیب سے پانچ کا سکہ نکال کر پپو کی گلک میں ڈالا۔
مرحلہ نمبر ۳: شیدے کی گرفتاری اور شاہی سزا
شام کو جب شیدا صابر میاں سے ملنے گھر آیا تو پپو نے اسے دیکھتے ہی نعرہ لگایا: "غدارِ اعظم آ گیا! فوجیو، اسے گرفتار کر لو!" شیدا حیرت سے منہ تکنے لگا۔ پپو نے حکم دیا: "شیدے نے پچھلے ہفتے ہماری کرکٹ کی گیند گم کی تھی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ یہ پورے ایک گھنٹے تک صابر چاچو کے موبائل کا ہاٹ سپاٹ آن رکھے گا اور ہمیں کارٹون دیکھنے کی اجازت ہوگی۔" شیدے نے روتے دھوتے اپنا انٹرنیٹ پیکیج بادشاہ کے نام وقف کر دیا۔
اختتام: شاہی تخت کا تختہ
رات کے نو بجے تک پپو کا ظلم و ستم عروج پر پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے صابر میاں کو حکم دیا کہ وہ گھوڑا بنیں تاکہ بادشاہ سلامت ان کی پیٹھ پر بیٹھ کر صحن کی سیر کریں۔ صابر میاں جیسے ہی گھوڑا بنے، پپو ان کی پیٹھ پر اچھل کر چڑھے۔ اسی دوران پپو کا پاؤں صابر میاں کی عینک سے ٹکرایا اور عینک فرش پر جا گری۔
عینک کا ٹوٹنا تھا کہ صابر میاں کے اندر کا مظلوم باپ جاگ اٹھا اور بادشاہت کا سحر ایک سیکنڈ میں ٹوٹ گیا۔ صابر میاں نے فورا بیگم سے بیلن چھینا، پپو کو پیٹھ سے اتارا اور بولے: "ابے اوے ملوک راجے! تیری بادشاہت کا وقت ختم ہوا۔ اب شروع ہوتا ہے ہمارا مارشل لاء!"
ابوجی اور شیدے نے فورا صابر میاں کا ساتھ دیا اور بولے: "ہاں بھئی، اب صابر میاں کا قانون چلے گا۔" پپو نے جب دیکھا کہ پوری رعایا اب باغی ہو چکی ہے اور بیلن صابر میاں کے ہاتھ میں ہے، تو انہوں نے فورا اپنا شاہی تاج (جو سسر صاحب کی پرانی ٹوپی تھی) اتارا اور ننگے پاؤں بستر کی طرف بھاگے اور چادر اوڑھ کر ایسے سوئے کہ صبح تک ان کی آواز بھی نہ نکلی۔
اگلے دن جب پپو نے دوبارہ رونا شروع کیا تو صابر میاں نے فورا دکان کی پرچی ان کے ہاتھ میں تھمائی اور بولے: "لو چلو راجہ صاحب، اب شاہی دکان سے جا کر دو کلو چینی لے کر آؤ ورنہ شاہی مکے تیار ہیں۔ یہ سن کر پورا گھر ہنسی سے گونج اٹھا۔🤣🤣
─────••●◎●••─────
دلچسپ، مزاحیہ اور اصلاحی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تو میری پروفائل فالو کریں۔
─────••●◎●••─────