Al Bayyinah

Al Bayyinah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Bayyinah, Digital creator, lahore, Lahore.

البینہ 99 (albayyinah99@) میں خوش آمدید۔ یہ پیج فضیلۃ الشیخ عبد الوھاب حفظہ اللہ کے مستند اسلامی بیانات، اصلاحی کلپس اور قرآن و سنت کی روشنی میں دین سیکھنے کے لیے ہمیں فالو کریں اور ہمارے چینل کو فالو
https://youtube.com/?si=O0HctXPabdcLkFNL

21/05/2026

بچوں کی شادی کا ایشو تھا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود رشتہ نہیں ہو رہا تھا ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کر چکے تھے ، ایک دن ان۔کے والد صاحب میری درسگاہ میں آئے مجھے کہا مفتی صاحب بچوں کی شادیاں نہیں ہو رہیں ان کی عمر دن بدن نکلتی جا رہی ہے ، اب پینتیس کے پیٹے میں پہنچ چکے ہیں ، ہماری نیندیں حرام ہو چکی ہیں
میں نے اسے پانی پلا کر حوصلہ دیا ، کہ اللہ کرم کرے گا مایوس نہیں ہونا ، پھر اسے سورہ اخلاص کا وظیفہ دیا جسے عشاء کے بعد اکیس مرتبہ ڈیلی پڑھنا تھا اکیس دن ،
مناسب رشتے کا تصور کر کے ،
گزشتہ دنوں کسی جگہ اچانک ملاقات ہوئی بڑا خوش تھا کہنے لگا کچھ رشتے بحمد اللہ اچھی جگہ ہو چکے ہیں کچھ باقی ہیں ،وہ بھی ہو جائیں گے ان شاءاللہ
مجھے حیرت تب ہوئی جب
اس نے کہا ،، تب سے آج دن تک اس وظیفہ کو نہیں چھوڑا ،

صبر کرنے کا بدلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیامت کے دن صبر کرنے والوں کو ارشاد ہوگااِنِّىۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَر...
19/05/2026

صبر کرنے کا بدلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیامت کے دن صبر کرنے والوں کو ارشاد ہوگا

اِنِّىۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏

ترجمہ: "آج کے دن میں نے ان کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا ہے کہ وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔"
یہ نہیں فرمایا کہ نماز کے بدلے
نا ہی یہ کہا کہ روزے کے بدلے
ناہی صدقہ خیرات کے بدلے
بلکہ انکے"صبر"کے بدلے

کیونکہ صبر وہ عبادت ہے کہ اسے آپ اس حال میں ادا کررہے ہوتے ہیں کہ آپ کا درد خون کی مانند بہہ رہا ہوتا ہے

04/05/2026

# # **وظائف کے اثرات اور کامیابی کی حقیقت: ایک خصوصی رہنمائی** ✨

اکثر احباب یہ سوال کرتے ہیں کہ "جب ہم کوئی وظیفہ پڑھتے ہیں تو کام کسی نہ کسی بہانے سے اچانک ہو جاتا ہے، کیا یہ وظیفے کا اثر ہے یا محض ایک اتفاق؟"

آج اس اہم نکتے پر چند حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کا ایمان بھی پختہ ہو اور عمل میں یکسوئی بھی پیدا ہو۔

# # # **1۔ مسبب الاسباب صرف اللہ کی ذات ہے** ☝️
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہر کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے والی ذات صرف **اللہ رب العزت** کی ہے۔ وظائف یا نقوش محض ایک "وسیلہ" اور "برکت" کا ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کو کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی "بہانہ" یا "سببی صورت" پیدا فرما دیتا ہے، کیونکہ وہ غیب سے اسباب بنانے پر قادر ہے۔

# # # **2۔ کامیابی کی پہلی نشانی** 🚩
اگر ایک عرصہ سے آپ کا کوئی کام رکا ہوا تھا اور وظیفہ شروع کرتے ہی حالات سازگار ہونے لگے یا کوئی راستہ نکل آیا، تو یہ اس عمل کی تاثیر اور برکات کی پہلی اور واضح نشانی ہے۔

# # # **3۔ عمل کی کامیابی کے لیے لازمی شرائط** ⚖️
روحانی عملیات میں کامیابی محض الفاظ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے چند حدود و قیود ہیں:

* **نماز کی پابندی:** جو شخص پانچ وقت کی نماز کی پابندی نہیں کرتا، اس کے عمل میں نورانیت پیدا نہیں ہو سکتی۔

* **طہارت اور صفائی:** روحانی مخلوق اور مؤکلین پاکیزگی اور خوشبو کو پسند کرتے ہیں۔ اس لیے جسم اور لباس کا صاف ہونا اشد ضروری ہے۔

# # # **4۔ اثر کیسے منتقل ہوتا ہے؟** ❤️
چاہے معاملہ پسند کی شادی کا ہو، ویزا کی رکاوٹ ہو، امتحان میں کامیابی ہو یا قرض سے نجات—اثر ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ خاص طور پر "حب" (محبت) کے اعمال میں جب پڑھنے والے کا دل اچانک بے چین ہونے لگے یا مطلوب کی یاد شدت سے آنے لگے، تو سمجھ لیں کہ اثر آگے منتقل ہو رہا ہے۔

# # # **5۔ اپنے وظیفے کا اثر چیک کرنے کا آسان طریقہ** 🔍
اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے پڑھے ہوئے وظیفے یا لکھے ہوئے نقش کا اثر ہو رہا ہے یا نہیں، تو یہ طریقہ آزمائیں:

* بالکل ریلکس ہو کر بیٹھ جائیں۔
* اول و آخر ایک ایک بار **درودِ ابراہیمی** پڑھیں۔
* آنکھیں بند کر کے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال پر رکھیں اور **21 بار "یا ودود"** پڑھیں۔

**نتیجہ:**
✅ اگر دل کو فوری سکون، ٹھنڈک یا اطمینان محسوس ہو، تو یہ علامت ہے کہ آپ کا عمل درست سمت میں جا رہا ہے اور اثر ہو رہا ہے۔

❌ اگر کوئی تبدیلی یا سکون محسوس نہ ہو، تو سمجھ لیں کہ عمل میں کہیں غلطی ہوئی ہے یا تاثیر پیدا نہیں ہوئی۔ ایسی صورت میں اپنے عمل پر غور کریں یا نئے سرے سے رہنمائی لیں۔

اللہ پاک ہم سب کے جائز مقاصد میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر قائم رکھے۔


یا رب، دلوں کی سختی کے شر سے ہمیں کافی ہو جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو ع...
03/05/2026

یا رب، دلوں کی سختی کے شر سے ہمیں کافی ہو جا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جو عاجزی اختیار نہ کرے اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو۔اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے نرم فرما اور انھیں رحم دل اور لطیف بنا جو تیرے بندوں پر سختی نہ کریں۔اے میرے رب! ہم سے سخت دلوں اور بےحس نفوس کو دور فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کر دے کہ جب تیرا ذکر کیا جائے تو ان کے دل جھک جائیں۔اے اللہ! ہمیں پاکیزہ دل اور سچی زبان عطا فرما اور ہر صاحب شر کے شر سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھ۔ اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت اور اپنی رضا پر ثابت قدم رکھ، اور ہمیں ہر ظاہر و باطن کے فتنوں سے محفوظ فرما۔آمین، اے تمام جہانوں کے رب۔

03/05/2026

ایک صاحب جمعہ کے بعد حاضر ہوئے اور حالات کا رونا رونے لگے جن سے نکلنے کیلئے مختلف اوراد و وظائف بھی بتائے جو ان کے صبح وشام کے معمولات میں شامل ہیں سننے کے بعد ان سے عرض کی کہ آپ کے سارے اوراد و وظائف صرف دفع مضرت والے ہیں جبکہ آپ کی ضرورت جلب منفعت کی بھی ہے سو اسے جلب منفعت کیلئے ایک وظیفہ دیا جو چالیس دن کا ہے
یا رحمن کل شیئ و راحمہ
یہ چالیس دن پڑھنا ہوتا ہے ڈیلی ایک۔ہزار
مرتبہ ،
اسے وظائف ادریسیہ میں سب سے طاقتور وظیفہ سمجھا جاتا ہے ،
بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر جانوروں کو سلام کرنے کی اجازت ہوتی تو صاحب وظیفہ سے سلام دعا کرتے
یہ تسخیر خلق کیلئے لاجواب ہے ،

نوٹ ۔
بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر اسے کچھ یوں لکھا دیکھا تھا
یا رحمن کل شیئ وارحمہ ،
یہ غلط ہے جبکہ صحیح
راحمہ ہے جو کہ مذکر اسم فاعل ہے ۔ اور ہ ضمیر ہے جو کل شیء کی طرف راجع ہے تقدیری عبارت یوں بن جائے گی
یا رحمان کل شیئ و راحم کل شیئ ۔
اے ہر چیز پر بہت زیادہ مہربان اور ہر چیز پر مہربان

03/05/2026

کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ آپ کے بچے اور آپ کا گھر ہر نظرِ بد حسد جادو اور اچانک آنے والی مصیبتوں سے اللّٰہ رب العزت کی حفاظت میں آجائیں؟
تو یہ مختصر مگر نہایت طاقتور روحانی حصار اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیں اور پھر اس کی برکتیں خود محسوس کریں

دن کا آغاز ہو یا رات کا سکون بھرا وقت، سب سے پہلے اپنے دل اور نیت کو صاف کریں اور مکمل توجہ کے ساتھ
ایک مرتبہ اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم پڑھیں تاکہ ہر قسم کے شیطانی وسوسوں اور منفی اثرات سے پناہ حاصل ہو جائے اور آپ کا دل اللّٰہ رب العزت کی طرف متوجہ ہو جائے
اس کے بعد ایک مرتبہ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم پڑھیں تاکہ ہر عمل اللّٰہ رب العزت کے بابرکت نام سے شروع ہو اور اس میں خیر و برکت شامل ہو جائے
پھر تین مرتبہ اعوذ بِکَلِماتِ اللّٰہِ التَّامَّات مِن شرِّ مَا خَلَق پڑھیں، یہ کلمات ایسے ہیں جو اللّٰہ رب العزت کی کامل پناہ میں لے آتے ہیں اور ہر نظر آنے والی اور نہ نظر آنے والی مخلوق کے شر سے حفاظت فراہم کرتے ہیں
اس کے بعد بسم اللّٰہ پڑھ کر تین مرتبہ سورۃ اخلاص کی تلاوت کریں، یہ سورت توحید کا خلاصہ ہے اور انسان کے ایمان کو مضبوط بنا کر اسے روحانی طاقت عطا کرتی ہے
پھر بسم اللٰہ کے ساتھ تین مرتبہ سورۃ فلق پڑھیں، یہ سورت خاص طور پر اندھیروں، حسد کرنے والوں اور پوشیدہ شر سے حفاظت کے لیے بہت مؤثر ہے
اس کے بعد بسم اللّٰہ پڑھ کر تین مرتبہ سورۃ الناس پڑھیں، یہ سورت دل اور دماغ کو ہر قسم کے وسوسوں خوف اور شیطانی اثرات سے محفوظ رکھتی ہے
پھر تین مرتبہ فَاللہُ خَیرٌ حَافِظًا وَّ ھُوَ اَرحَمُ الرَّاحِمِین پڑھیں، اس یقین کے ساتھ کہ اللّٰہ رب العزت ہی سب سے بہتر محافظ ہیں اور اسی کی رحمت ہر چیز پر غالب ہے
اس کے بعد تین مرتبہ وَ اَنَّ اللّٰہَ قَد اَحَاطَ بِکُلِّ شَیئٍ عِلمًا پڑھیں تاکہ دل میں یہ یقین راسخ ہو جائے کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے
آخر میں آیتہ الکرسی اور کوئی بھی درود شریف تین مرتبہ پڑھیں کیونکہ درود شریف دعا کی قبولیت کا ذریعہ بنتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے

اب اپنے ہاتھوں پر ہلکا سا دم کریں اور پورے جسم پر آہستہ آہستہ پھیر لیں، اس کے بعد اپنے بچوں، گھر والوں اور اگر ممکن ہو تو اپنے گھر کے ماحول پر بھی دم کریں تاکہ پورا گھر اللہ کی حفاظت میں آ جائے
اس عمل کو روزانہ اپنانے سے نہ صرف دل کو سکون ملتا ہے بلکہ انسان ایک مضبوط روحانی حصار میں آ جاتا ہے جہاں حسد، نظر بد اور منفی اثرات کا داخلہ مشکل ہو جاتا ہے
یہ عمل وقت کا محتاج نہیں، آپ اسے صبح، شام یا سونے سے پہلے کسی بھی وقت کر سکتے ہیں لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ کرنا اس کی تاثیر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے
یاد رکھیں کہ اصل طاقت آپ کے یقین، توجہ اور اللّٰہ رب العزت پر بھروسے میں ہے، جتنا مضبوط یقین ہوگا اتنی ہی زیادہ حفاظت اور سکون نصیب ہوگا
اپنے بچوں کو بھی یہ عمل سکھائیں تاکہ وہ بچپن سے ہی اللّٰہ رب العزت کی پناہ میں رہنے کی عادت اپنائیں اور زندگی بھر روحانی طور پر مضبوط رہیں
یہ ایک ایسا آسان عمل ہے جو چند منٹ لیتا ہے مگر اس کے فائدے دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہوتے ہیں

01/05/2026

** رزق کی فکر یا مقصدِ حیات کا شعور؟**

**محترم احباب!**

اس کائنات میں خوشی اور روشنی کی کوئی کمی نہیں، لیکن یہ ان کے حصے میں آتی ہے جو اسے تلاش کرتے ہیں۔ یہ یوں ہی نہیں ملتی، اس کے لیے طلب کا ہونا اور جستجو کرنا شرط ہے۔

اکثر مجالس میں جب میں لوگوں سے ان کی سب سے بڑی پریشانی کا پوچھتا ہوں، تو اکثریت کا جواب "معاش کی تنگی" یا "رزق کی فکر" ہوتا ہے۔ لیکن کیا واقعی یہ اتنی بڑی پریشانی ہے جتنا ہم نے اسے بنا لیا ہے؟

قرآنِ کریم (سورۃ الذاریات) میں اللہ پاک نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا:

"میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے" اور "بیشک اللہ ہی رزق دینے والا اور بڑی قوت والا ہے۔"

حدیثِ مبارکہ سے بھی ہمیں یہ یقین ملتا ہے کہ انسان کا رزق اس کے پیدا ہونے سے پہلے لکھ دیا جاتا ہے اور وہ انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اسے اس کی موت تلاش کرتی ہے۔ جب رزق اور قوت کی گارنٹی خود ربِ ذوالجلال نے دے دی، تو پھر یہ ٹینشن اور ذہنی دباؤ کیوں؟

اس کی دو ہی بنیادی وجوہات ہیں:

1. ہمارا اپنے خالق پر وہ توکل اور بھروسہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا۔
2. ہم نے اس اصل کام (عبادت اور مقصدِ تخلیق) کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جس کے لیے ہمیں بھیجا گیا تھا۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عبادت صرف چند مخصوص اعمال کا نام نہیں ہے۔ اگر نیت درست ہو، تو حلال رزق کے لیے کی جانے والی تگ و دو بھی عین عبادت اور اللہ کا راستہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے، یہاں ہر انسان کو ایک مخصوص "رول" ادا کرنا ہے تاکہ کائنات کا نظام چلتا رہے۔

میرا آپ لوگوں کی **ہیلنگ (Healing)** کرنا اور آپ کو ذہنی و روحانی سکون کی راہ دکھانا دراصل وہی "کام" ہے جس کی صلاحیت اور ذمہ داری اللہ پاک نے مجھے سونپی ہے۔ یہ میری پیشہ ورانہ خدمت ہے تاکہ وہ بیماریاں اور الجھنیں دور ہو سکیں جو آج کے مادی دور میں ناقابلِ حل محسوس ہوتی ہیں۔

اکثر لوگ "فیس" یا "ہدیہ" کے حوالے سے سوال کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ دراصل **انرجی ایکسچینج (Energy Exchange)** کا ایک عالمگیر اصول ہے۔ جب آپ کسی خدمت کا تبادلہ کرتے ہیں، تو یہ ذمہ داری اور سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ یہی رزق کا وہ وسیلہ بنتا ہے جو اس نظام کو متحرک رکھتا ہے اور بندہ مزید تندہی سے آپ کی خدمت پر معمور رکھتا ہے۔

اگر ہم یہ نکتہ سمجھ لیں کہ ہمارا کام صرف "بہترین عمل" کرنا ہے اور رزق کا وعدہ اللہ کا ہے، تو زندگی سے آدھی پریشانیاں، ناانصافیاں اور حرام کمائی کا تصور ہی ختم ہو جائے۔ مگر یہ فہم اور شعور "اہلِ دل" کی صحبت کے بغیر نہیں ملتا۔ بجھے ہوئے چراغ کو جب تک روشن چراغ کے قریب نہ لایا جائے، لو نہیں پکڑتی۔

سو، اپنے اندر کی خوشی کو تلاش کیجیے، وہ آپ کے بہت قریب ہے۔ جب آپ ایک بار روحانی حلاوت اور قلبی سکون کا ذائقہ چکھ لیں گے، تو زندگی کے بڑے سے بڑے حادثات اور پریشانیاں آپ کو محض ایک آزمائش محسوس ہوں گی جس میں آپ کے لیے سکون کا کوئی نہ کوئی پہلو چھپا ہوگا۔
بشکریہ اویس پراچہ صاحب

#توکل #ہیلنگ

آج پھر کچھ یوں ہوا اور پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ خطبہ جمعہ کیلئے جو تیاری یا ارادہ کر چکا ہوتا ہوں عین خطبے کے وقت ار...
01/05/2026

آج پھر کچھ یوں ہوا اور پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ خطبہ جمعہ کیلئے جو تیاری یا ارادہ کر چکا ہوتا ہوں عین خطبے کے وقت ارادہ تبدیل ہو جاتا ہے ،
قاری صاحب کو کہا کہ قرآن مجید کی سورہ قصص کی آیت نمبر 26 ان خیر من استأجرت القوی الامین پر نشان لگا کر رکھ دیں جب تقریر کے لیے قرآن مجید کھولا تو نظر اس سے سابقہ آیات پر ٹک گئی پھر اصل موضوع گیا اور نیا موضوع شروع ،
عرض کی قرآن مجید میں دو عورتوں کی ذہنی پختگی پر داد دی گئی ہے ایک ملکہ بلقیس ، اور دوسری مدین کی لڑکی ،
ایک نوجوان مصر سے روانہ ہوتا ہے جس کے ہاتھوں پر ایک شخص کا خون ہے قتل خطا کا ارتکاب کر کے مدائن کی راہ لیتا ہے چشمے پر دو لڑکیاں ایک کنارے کھڑی ہیں ،پوچھنے پر وہ کہتی ہیں ، لانسقی حتی یصدر الرعاء ،
یعنی مخلوط مجلس کے وہ خلاف ہیں یعنی کہ تین ہزار سال قبل مدین کی دو لڑکیوں کو جو بات سمجھ آ گئی تھی آج کے مسلمان کو سمجھ نہیں آ ئ، مخلوط تعلیم ، مخلوط محافل ، مخلوط مجالس ،
وغیرہ
ساتھ ہی گھر سے باہر کام کاج کرنے کا عذر بھی بتا دیا کہ ابونا شیخ کبیر ،
نوجوان پانی پلا کر سائے کے نیچے رب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر ،
رب جو بھلائی تو نے مجھے دینی ہے اس کی بڑی ہی ضرورت ہے ، روٹی ، کپڑا ، مکان اور اور ۔۔۔
ادھر بچیاں جلد گھر پہنچتی ہیں حضرت شعیب جلد آنے کی وجہ پوچھتے ہیں بچیاں سب بتا دیتی ہیں مشورہ ہوتا ہے کہ نوجوان کو پانی پلانے کی اجرت دینی چاہیے اگرچہ طے نہیں ہوئی تھی لیکن پیغمبر کسی کا احسان اپنے سر باقی نہیں رکھتے ، اسی لیے بدر کے بعد فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور وہ ان قیدیوں کے لیے سفارش کرتے تو میں رہا کر دیتا کیونکہ اس کے کچھ احسانات تھے شعب ابی طالب کے سماجی مقاطعہ ختم کرانے میں اور سفر طائف سے واپس آنے کے معاملے میں ، ۔
ایک بچی آتی ہے قرآن اس کے آنے کے انداز کو بھی بیان کرتا ہے اتنا خوبصورت انداز تھا اس کے چلنے کا ، تمشی علی استحیاء ، کہ اس کے انگ انگ سے حیاء ٹپک رہا تھا آ کر کہتی ہے آپ کو بابا بلا رہے ہیں لیجزیک اجر ما سقیت لنا ،
نوجوان حضرت شعیب کے گھر پہنچتے ہیں مصر کی ساری صورتحال سامنے رکھتے ہیں ، پیغمبر اسے لاتخف کہہ کر تسلی دیتے ہیں ، انبیاء و ملائکہ علیھم السلام کا یہی انداز رہا ہے کہ وہ تسلی دیتے ہیں پریشان حال لوگوں کو ،
انہیں ڈراتے اور خوفزدہ نہیں کرتے
قال یوسف ع ۔ لاتبتئس
قال الرسول ع ۔ لا تحزن ۔
قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ
حضرت موسی کی ماں سے کہا گیا تھا
وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي
مریم سے کہا گیا تھا
أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا
حضرت ابراہیم کے پاس آئے تو کہا
قَالُوا لَا تَخَفْ
انبیاء کے وارثوں کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ،
ورنہ بنی اسرائیل کے پریشان کرنے والے صوفی کا انجام یاد رکھنا چاہیے پھر یوں ہی سو کا عدد پورا کرنے والے کر لیا کرتے ہیں 😏

لڑکی کی تیسری بات جسے قرآن ابدی اصول بنا کر پیش کرتا ہے
بابا جی انہیں مزدور رکھ لیں کیونکہ بہترین مزدور میں دو خوبیاں ہونی چاہئیں
قوی ہو تو یعنی طاقتور اور کام کا سلیقہ جانتا ہو
اور دوسرا امین ہو ،
بچی کو یہ دونوں تجربے مختصر وقت میں ہو گئے تھے کہ بڑا پتھر اور بڑا سا مشکیزہ نوجوان نے اکیلے کھینچ لیا تھا اور اس کی نظر میں موجود حیا کا بھی تجربہ ہو گیا تھا کہ نظر اٹھا کر نہیں دیکھا اور باتیں کرنے کیلئے بہانے نہیں ڈھونڈے ،
پھر حضرت شعیب اس نوجوان کو آفر دیتے ہیں
انی ارید ان انکحک کے ساتھ اور ساتھ ہی ایک شرط بھی ،
کہ آٹھ سال کام۔کرنا ہو گا ،یہ لازمی ہے دو سال اختیاری ہیں ،
معلوم تاریخ کا یہ واحد نوجوان ہے جس نے نیک طینت ، پاکباز اور باحیا عورت کے حصول کے لیے دس سال خدمت کی ،
حدیث میں ایسے ہی نہیں کہا گیا فاظفر بذات الدین تربت یداک ،

29/04/2026

Abdul Manan Gujjar
وہ کتابیں جنہیں صرف پڑھنا نہیں… برداشت کرنا پڑتا ہے…
کچھ لوگ انہیں علم سمجھ کر کھولتے ہیں… مگر بند کرتے وقت وہ پہلے جیسے نہیں رہتے…
عملیات کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہیں جو صدیوں سے چھپائے گئے… کیونکہ ہر راز ہر انسان کے لیے نہیں ہوتا…
اگر آپ نے کبھی شمس المعارف الکبری یا اس جیسی کتابوں کا نام سنا ہے… تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے…
لیکن یاد رکھیں… یہ صرف معلومات نہیں… ایک ایسی دنیا کا دروازہ ہے جہاں داخل ہونا آسان… مگر واپس آنا مشکل بھی ہو سکتا ہے…

عملیات کی دنیا صدیوں پرانی ہے… یہ وہ علم ہے جو عام کتابوں کی طرح نہیں پڑھا جاتا بلکہ اس کے ہر لفظ کے پیچھے ایک نظام، ایک طاقت اور ایک ذمہ داری چھپی ہوتی ہے۔ تاریخ میں کچھ ایسی کتابیں لکھی گئیں جنہوں نے اس علم کو محفوظ بھی کیا اور ساتھ ہی اسے راز بھی رکھا۔ ان کتابوں کو سمجھنا آسان نہیں، کیونکہ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ اشاروں، رموز اور پوشیدہ اصولوں کا مجموعہ ہیں۔
سب سے زیادہ معروف اور متنازع کتابوں میں شمس المعارف الکبری کا نام سرفہرست آتا ہے۔ اس کے مصنف امام احمد البونی کو علمِ حروف اور اسماء الحسنیٰ کے اسرار میں مہارت حاصل تھی۔ اس کتاب کو عملیات کی دنیا میں ایک بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں حروفِ ابجد، اسماء، اور مخصوص نقش و طلسم کے ذریعے روحانی اثرات پیدا کرنے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ بہت سے اہلِ علم کے مطابق اس کتاب کا اصل مقصد اللہ کے اسماء کے ذریعے روحانی ترقی حاصل کرنا ہے، لیکن وقت کے ساتھ کچھ لوگوں نے اسے غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو ہمیشہ احتیاط کے ساتھ پڑھنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔
شمس المعارف کے اندر مختلف ابواب ہیں جن میں اسماء کے خواص، اعداد کا نظام، اور روحانی ترتیب شامل ہے۔ ہر باب ایک الگ علم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض ابواب میں حروف کے درمیان تعلق بیان کیا گیا ہے، جبکہ کچھ حصوں میں مخصوص ترتیب کے ساتھ ذکر یا نقش بنانے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کو سمجھنے کے لیے عربی زبان، علمِ اعداد، اور روحانی اصولوں کی گہری سمجھ ضروری ہے۔
دوسری اہم کتاب منبع اصول الحکمہ ہے، جو بھی امام بونی سے منسوب کی جاتی ہے۔ یہ کتاب شمس المعارف کی نسبت زیادہ منظم انداز میں لکھی گئی ہے۔ اس میں عملیات کے بنیادی اصول، روحانی ریاضت کے طریقے، اور ذہنی و قلبی یکسوئی حاصل کرنے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا خاص پہلو یہ ہے کہ یہ صرف عملیات نہیں بلکہ روحانی تربیت پر بھی زور دیتی ہے۔
اسی طرح جفر امام علی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ یہ علمِ جفر سے متعلق روایات کا مجموعہ ہے جو حضرت علی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ علمِ جفر میں حروف، اعداد اور الفاظ کے ذریعے پوشیدہ معانی نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس علم کو سمجھنے کے لیے نہ صرف دینی علم بلکہ ریاضی اور لسانیات کی سمجھ بھی ضروری ہوتی ہے۔
ایک اور مشہور کتاب روحانی خزائن ہے، جس میں مختلف روحانی موضوعات، وظائف، اور عملیات کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب نسبتاً آسان زبان میں لکھی گئی ہے اور عام قاری کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہے۔ اس میں روحانی ترقی، ذکر و اذکار، اور اصلاحِ نفس پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔
اسی طرح طلسمات عارفین میں طلسمات اور نقوش کے ذریعے اثرات پیدا کرنے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں مختلف اشکال، علامات، اور ان کے استعمال کا طریقہ درج ہے۔ یہ کتاب زیادہ تر ان لوگوں کے لیے ہے جو نقش و طلسم کے علم میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایک اور اہم حوالہ کنز الاسرار ہے۔ اس کتاب میں مختلف روحانی اعمال، دعائیں، اور ان کے اثرات بیان کیے گئے ہیں۔ اس کا انداز نسبتاً سادہ ہے، لیکن اس میں بیان کردہ اصول گہرے ہیں۔ اس کتاب کا مقصد روحانی حفاظت، سکون اور ذہنی استحکام حاصل کرنا بتایا جاتا ہے۔
اسی سلسلے میں بحر الفوائد کا بھی ذکر ملتا ہے، جس میں مختلف روحانی فوائد اور اذکار کے اثرات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب زیادہ تر وظائف اور ان کے نتائج پر مرکوز ہے، اور اس میں عملی زندگی میں روحانیت کو شامل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
ان تمام کتابوں میں ایک مشترک بات یہ ہے کہ یہ صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ ایک نظام پیش کرتی ہیں۔ یہ نظام انسان کے ذہن، دل اور روح کو ایک خاص ترتیب میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں کو صرف پڑھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کے پس منظر، زبان، اور اصولوں کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ ان کتابوں کے مختلف نسخے سامنے آئے ہیں، جن میں کچھ اصل کے قریب ہیں اور کچھ میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس لیے مستند نسخہ تلاش کرنا بھی ایک چیلنج ہوتا ہے۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل علم ہمیشہ استاد کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، کتاب صرف ایک ذریعہ ہوتی ہے۔
ان کتابوں کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ ایک سنجیدہ علمی میدان ہے۔ اس میں جلد بازی یا سطحی سمجھ نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی اس علم کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے صبر، تحقیق، اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مختصراً، عملیات کی کتابیں ایک وسیع اور پیچیدہ دنیا کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان میں تاریخ، مذہب، زبان، اور روحانیت سب شامل ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہر علم کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور اصل کامیابی اسی میں ہے کہ علم کو صحیح طریقے سے سمجھا اور استعمال کیا جائے۔


#عملیات
#روحانیت












29/04/2026

جعلی عاملین سے ورد و وظائف لینے کے نقصانات!

عالمِ غیب اور اس مادی دنیا کے درمیان ایک انتہائی باریک، پراسرار اور حساس پردہ حائل ہے، اور مخفی علوم دراصل اسی پردے کے پار جھانکنے اور کائنات کی اس ان دیکھی توانائی کو سمجھنے کا نام ہے۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر شے کی نمائش عام ہو چکی ہے، روحانیات اور علمِ عملیات جیسے انتہائی پوشیدہ اور کٹھن علوم بھی سوشل میڈیا کی سستی شہرت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایک طالب علم یا محقق کی حیثیت سے جب ہم اس رجحان کا گہرا نفسیاتی اور روحانی مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ دیکھ کر حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ بے شمار افراد، جنہوں نے کبھی کسی کامل استاد کی قربت میں بیٹھ کر اپنے نفس کو نہیں مارا، اور نہ ہی کسی عمل یا طلسم کی ریاضت و زکوٰۃ ادا کر کے ان نادیدہ قوتوں سے کوئی عہد لیا ہے، وہ قدیم عاملین کی کتب سے اوراق چرا کر اپنے نام سے منظرِ عام پر لا رہے ہیں۔ یہ محض ایک علمی سرقہ (چوری) نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی اور روحانی نظام کے ساتھ ایک خوفناک کھلواڑ ہے جس کے نتائج انسان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ بھیانک ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ نوسرباز اور جعلی عاملین، معصوم اور پریشان حال عوام کو ان بھاری بھرکم عملیات کے کرنے کی "اجازت" بھی بانٹ رہے ہوتے ہیں، جب کہ وہ خود اس علم کی الف بے اور اس کی ہلاکت خیز طبعیات (Physics of the Occult) سے یکسر ناواقف ہوتے ہیں۔
​روحانی سائنس اور عملیات کی دنیا میں "اجازت" محض ایک رسمی لفظ یا زبانی منظوری کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل ایک انتہائی طاقتور "روحانی حصار" اور فریکوئنسی (Frequency) کی منتقلی کا عمل ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ جیسے کسی انتہائی پیچیدہ اور جان لیوا نباتاتی زہر (Botanical Toxin) کو دوا میں بدلنے کے لیے ایک ماہرِ علم السموم کو اس کی مقدار اور اثرات کا قطعی علم ہوتا ہے، اور ایک عام آدمی کے لیے وہی پودا موت کا پروانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح، الفاظ، آیات اور طلسمات کی اپنی ایک پوشیدہ حرارت اور طاقت ہوتی ہے۔ جب ایک کامل عامل، جس نے برسوں کی چلہ کشی اور ریاضت کے بعد کسی عمل کی زکوٰۃ ادا کی ہوتی ہے، کسی کو وہ عمل پڑھنے کی اجازت دیتا ہے، تو وہ دراصل اپنے روحانی وجود، اپنی ریاضت کی طاقت اور اس عمل کے موکلات کے ساتھ اپنے تعلق کا ایک نامرئی تار اس شخص کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ یہ اجازت ایک حفاظتی ڈھال بن جاتی ہے جو اس نئے پڑھنے والے کو ان الفاظ کی شدت اور ماروائی مخلوقات کے جلال سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص بغیر کسی مستند اجازت کے، محض انٹرنیٹ یا کسی کتاب سے دیکھ کر ان مخصوص کلمات کو دہراتا ہے، تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر ایک ایسی کائناتی مشینری کو چالو کر دیتا ہے جسے کنٹرول کرنے کا طریقہ وہ نہیں جانتا، اور یہیں سے تباہی کا آغاز ہوتا ہے۔
​اس تمام عمل میں موکلات، جنات اور شیاطین کا کردار انتہائی کلیدی اور سائنسی نوعیت کا ہے۔ مخفی علوم کے ماہرین کے مطابق، ہر نوری عمل، طلسم یا اسمِ اعظم کے ساتھ کچھ مخصوص کائناتی توانائیاں اور نگران فرشتے منسلک ہوتے ہیں جنہیں موکلات کہا جاتا ہے۔ جب کوئی نااہل شخص بلامقصد اور بغیر کسی روحانی نسبت کے ان الفاظ کا ورد کرتا ہے، تو یہ نوری موکلات اس شخص کی روحانی گندگی، کمزوری اور استاد کی مہر (Seal) نہ ہونے کی وجہ سے جلال میں آ جاتے ہیں۔ وہ مدد کرنے کے بجائے اس شخص سے دور ہو جاتے ہیں یا اس کے لیے روحانی تنگی کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری جانب، چونکہ الفاظ کی رگڑ سے ایک روحانی توانائی یا پورٹل (Portal) کھل چکا ہوتا ہے اور پڑھنے والے کے گرد کوئی حفاظتی حصار نہیں ہوتا، لہٰذا نچلی سطح کی مخلوقات، یعنی سفلی جنات اور شیاطین اس کھلے دروازے سے اس شخص کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کے دماغ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسے پراسرار آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں، خوفناک خواب آتے ہیں، اور اس کی نفسیات مکمل طور پر بکھر کر رہ جاتی ہے۔ اسی کیفیت کا انتہائی درجہ "رجعت" کہلاتا ہے۔ رجعت کا مطلب ہے عمل کا پلٹ جانا؛ یعنی جو توانائی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پیدا کی گئی تھی، وہ رہنمائی نہ ملنے کے سبب خود پڑھنے والے کے وجود، اس کے گھر، اس کی عقل اور اس کے رزق پر ایک تباہ کن بم کی طرح گرتی ہے۔
​اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص، جو خود روحانیت سے کورا ہے مگر کسی پرانے، صاحبِ کمال عامل کا عمل چرا کر اسے اپنے نام سے منسوب کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی اجازت دیتا ہے، اس کے ساتھ ماروائی دنیا کس طرح پیش آتی ہے؟ مخفی کائنات کا عدل ہماری انسانی عدالتوں سے بہت مختلف اور بے حد ظالم ہے۔ جب کوئی شخص کسی مستند اور قدیم عمل کو اس کے اصل مالک کی اجازت کے بغیر چوری کرتا ہے، تو وہ دراصل اس عمل پر بٹھائے گئے ان قدیم موکلات اور محافظ جنات کی نظر میں آ جاتا ہے جو صدیوں سے اس مخصوص ترتیب کے نگہبان ہوتے ہیں۔ یہ ماروائی محافظ اس روحانی چور کو کبھی معاف نہیں کرتے۔ دوسری اور سب سے خوفناک سزا اسے "روحانی قرض" (Karmic Backlash) کی صورت میں ملتی ہے۔ جب وہ اپنی دی گئی جھوٹی اجازت کے ذریعے درجنوں یا سینکڑوں افراد کو وہ عمل کرنے پر لگاتا ہے، اور وہ ناواقف لوگ رجعت، پاگل پن، جسمانی بیماریوں اور کاروباری تباہی کا شکار ہوتے ہیں، تو ان تمام افراد کی تباہی، آہوں اور مصائب کا براہِ راست روحانی بوجھ اور تاریک توانائی اس جعلی عامل کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔
​یہی وجہ ہے کہ اگر آپ ایسے روحانی چوروں کی نجی زندگیوں کا گہرا تجزیہ کریں، تو آپ کو ان کے ہاں ایک عجیب سی ویرانی، نحوست اور پراسراریت نظر آئے گی۔ شیاطین ان کے گھروں کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔ بظاہر وہ سوشل میڈیا پر ہردلعزیز نظر آتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر وہ لاعلاج نفسیاتی و جسمانی بیماریوں، اولاد کی نافرمانیوں، اچانک ہونے والی اموات اور ایک مسلسل نامعلوم خوف کے شکنجے میں جکڑے ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جس آگ کو انہوں نے محض چند لائیکس اور جھوٹی واہ واہ کے لیے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا تھا، اس نے خاموشی سے ان کی اپنی نسلوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ ماسٹرز کی سطح کے طلباء اور محققین کے لیے اس میں یہ گہرا سبق پوشیدہ ہے کہ علمِ روحانیت، شارٹ کٹ، کاپی پیسٹ یا سکرین کی چمک دمک کا محتاج نہیں؛ یہ تو راتوں کی تاریکیوں میں اپنے نفس کی قربانی، برسوں کی خون رلانے والی ریاضت اور کسی مرشدِ کامل کی سچی نگاہِ التفات کا متقاضی ہے۔ اس پراسرار راستے پر بغیر کسی چراغِ رہنمائی کے قدم رکھنا، تاریک اور اتھاہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے، جہاں موت سے بھی زیادہ بھیانک انجام، یعنی روحانی غرقابی، انسان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
غلام نبی قادری ✍🏻❤️

Address

Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 19:00 - 22:00
Thursday 19:00 - 22:00
Saturday 19:00 - 22:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Bayyinah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share