Muhammad Ayyaz Khan

Muhammad Ayyaz Khan اگر تعلق رکھنا ہے "تو جھگڑا کس بات کا؟" ٬ اگر تعلق نہیں رکھنا "تو جھگڑا کس بات کا ؟"
(وَاصف علی وَاصف)

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں نااہل اور ناکارہ ہیں  انہیں صرف اپنے اپنے مفادات سے غرض ہے اور ملکی و عوامی مفادات سے کوئی...
21/09/2026

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں نااہل اور ناکارہ ہیں انہیں صرف اپنے اپنے مفادات سے غرض ہے اور ملکی و عوامی مفادات سے کوئی سَروکار نہیں ۔اسٹیبلمنٹ اور سیاسی پارٹیوں نے ہر دور میں ایک منصوبے کے تحت ملکی تباہی و بربادی میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔سیاسی پارٹیوں کا اپنے آپ کو جمہوری پارٹیاں کہنا انتہائی شرمناک ہے ۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے عوام کو لولی پوپ دینے کے لیے مختلف بیانیے بنائے ہووے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے نکلنا نہیں چاہتی اور نہ ہی سیاستدان چاہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست سے نکلے کیونکہ ان کے ایک دوسرے سے مفادات جڑے ہووے ہیں صرف عوام کو بیوقوف بنایا ہوا ہے ۔


"مملکت خداداد کو چاہے 200 صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے جب تک مُلک میں رول آف لاء نہیں ہوگا مُلک ترقی نہیں کرے گا ۔
11/09/2026

"مملکت خداداد کو چاہے 200 صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے جب تک مُلک میں رول آف لاء نہیں ہوگا مُلک ترقی نہیں کرے گا ۔

15/08/2026



" انمول عرف پنکی گزری تھانے میں درج منشیات کے تین مقدمات سے بری"کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جنوبی نے انمول عر...
13/08/2026

" انمول عرف پنکی گزری تھانے میں درج منشیات کے تین مقدمات سے بری"

کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جنوبی نے انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے بری کر دیا ۔ انمول عرف پنکی کیخلاف 2020 اس کے بعد 2021 اور 2022 میں مقدمات درج ہووے ۔2021 میں درج ہونے والے مقدمے میں دو ملزمان گرفتار ہووے جن میں علی اور فہمیدہ شامل تھے جن کو عدالت نے 2024 میں بری کردیا تھا ۔آج 13 اگست 2026 کو عدالت میں انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں انمول عرف پنکی کی طرف سے انعم کوثر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں ۔ انمول عرف پنکی کی وکیل نے عدالت میں کہا کہ شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر انمول عرف پنکی پر مقدمات درج ہووے جبکہ شریک ملزمان بری ہوچکے ہیں لہذا قانونی طور پر شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی اور پراسیکیوشن کی طرف سے کیس ثابت نہیں ہو سکا ۔عدالت نے پراسیکیوشن اور انعم کوثر ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد انمول عرف پنکی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہووے تینوں مقدمات سے بری کردیا ۔


"  سرکاری دفاتر میں عوام کو دی جانے والی سب سے بڑی ازیت"ہمارے پیارے ملک پاکستان کے دفاتر میں موجود نیچے تصویروں میں نظر ...
10/08/2026

" سرکاری دفاتر میں عوام کو دی جانے والی سب سے بڑی ازیت"

ہمارے پیارے ملک پاکستان کے دفاتر میں موجود نیچے تصویروں میں نظر آنے والے کاؤنٹرز عوام کے لیے سب سے بڑا دردِسر ہیں ۔عوام اس طرح کے کاؤنٹرز سے شدید پریشان ہوتے ہیں اور ایک بڑی ازیت سے گزرتے ہیں ۔ دفاتر کے اندر اور باہر سائلین کا رش ہوتا ہے شور کی وجہ سے دفتری عملے کو کاؤنٹر کے باہر کھڑے شخص کی بات سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی باہر کھڑے شخص کو دفتری عملے کی بات سمجھ آتی ہے ۔ زیادہ افسوس اِس بات پر ہوتا ہے کہ کاؤنٹرز پر موجود جگہ جو آواز سننے اور سنانے کے لیے ہوتی ہے وہ ایک ایسے اینگل پر ہوتی ہے کہ بزرگ ہو یا جوان،مرد ہو یا عورت وہ بغیر سر جھکائے اپنے کام کو تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے ۔ حکومتی اِدارے عوام کے مسائل کم حل کرتے ہیں اور جھکنے کی ٹرینگ زیادہ دیتے ہیں ۔حکومت سے التماس ہے کہ دفاتر میں موجود اِس طرح کے کاؤنٹرز پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ عوام اپنی بات دفتری عملے تک آسان اور باعزت طریقے سے پہنچا سکےـ


" سیاستدانوں کا مملکتِ خداداد پاکستان پر ظلم"دنیا کے تمام ممالک کے سیاستدانوں نے اپنے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا ہے ۔ ...
07/08/2026

" سیاستدانوں کا مملکتِ خداداد پاکستان پر ظلم"

دنیا کے تمام ممالک کے سیاستدانوں نے اپنے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا ہے ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے سیاستدانوں نے آمریت کو مضبوط کیا ہے ۔پاکستان کی سیاسی پارٹیاں صرف نام کی جمہوری پارٹیاں ہیں اِن کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں یہ ڈکٹیٹرز کی متعین کردہ حدود میں رہنے کی عادی ہوچکی ہیں کیونکہ اِنہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات پر زاتی مفادات کو ترجیح دی ہے ۔
سیاسی پارٹیوں کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے کمنٹ سیکشن میں بتائیں ۔

"پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی منافقت"پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت پر تنقید صرف اُس وقت کر...
07/08/2026

"پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی منافقت"

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت پر تنقید صرف اُس وقت کرتی ہیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ "ن" جو اپنے آپ کو جمہوری پارٹی کہتی ہے آج حکومت میں ہے اور اپنے "ووٹ کو عزت دو" والے بیانیے سے مکمل دستبردار ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی جو حکومتی اتحادی پارٹی ہے اور اپنے آپ کو جمہوریت کی علمبردار کہتی ہے وہ بھی اِس وقت جمہوریت کے تمام اصولوں سے مکمل طور پر دستبردار ہے اور دِیگر جتنی بھی حکومتی پارٹیاں ہیں ان کا اِس وقت اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت پر کوئی اصولی مؤقف نہیں کیونکہ سب کو معلوم ہے یہ پارٹیاں اِس وقت اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے حکومت میں ہیں تو اعتراض کیسے کریں۔جیسے ہی اِن پارٹیوں کی حکومت ختم ہوگی ہم دیکھیں گے کہ اِن تمام پارٹیوں کو جمہوریت کے تمام اصول یاد آ جائے گے اور مسلم لیگ "ن" کا (ووٹ کو عزت دو) والا بیانیہ دوبارہ سے زندہ ہو جائے گا - پاکستان تحریک انصاف جب حکومت میں آئی تو سب کو معلوم تھا کہ یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے حکومت میں آئی ہے اُس وقت پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کو گناہ کبیرہ سمجھتی تھی لیکن جیسے ہی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو پی ٹی آئی نے جو بیانیے بنائے وہ سب ہمارے سامنے ہیں اگر مستقبل میں کبھی پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ہم دیکھیں گے کہ پی ٹی آئی اپنے تمام بیانیوں سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ یہ صرف ایک جماعت کا نہیں یہ پاکستان کی تمام چھوٹی اور بڑی پارٹیوں کا المیہ ہے کہ انہیں جمہوریت صرف اپوزیشن میں رہتے ہووے یاد آتی ہے ۔ یہ وہ ڈرامہ ہے جو پاکستان کے عوام لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے دیکھ رہے ہیں ۔ ہر سیاسی پارٹی کو دوسری پارٹی سے خطرہ ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی پارٹی کو کچلنے کے لیے دوسری سیاسی پارٹیوں کو استعمال کرتی ہے اور سیاستدان اپنی حریف پارٹی کو کچلنے کے لیے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے پاؤں میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔اگر سیاسی پارٹیاں واقعی قومی مفاد کیلئے سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو ختم کرنا چاہتی ہیں تو تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک میز پر آنا ہوگا منافقانہ طرزِ سیاست ختم کرنا ہوگا تمام اختلافات بھلانے ہونگے اور مکمل اتفاقِ رائے رائے پیدا کرکے سخت قانون سازی کے زریعے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کو ختم کرنا ہوگا سیاستدان یہ سب کچھ کر سکتے ہیں
اور سیاستدانوں نے ہی کرنا ہے اس کے سواہ کوئی حل نہیں ۔


#سیاست

13/06/2026

بجٹ میں کِسان کو دیے جانے والا ریلیف
#زراعت
#پنجاب
#بجٹ

" پاکستان کی تباہی میں سیاستدانوں کا کردار"عام طور پر سیاست کی دو اقسام ہیں ۔1=ملکی یا عوامی مفادات کی سیاست 2= پارٹی یا...
05/06/2026

" پاکستان کی تباہی میں سیاستدانوں کا کردار"

عام طور پر سیاست کی دو اقسام ہیں ۔

1=ملکی یا عوامی مفادات کی سیاست
2= پارٹی یا زاتی مفادات کی سیاست

عوامی مفادات کی سیاست میں صرف اور صرف عوامی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے ۔پارٹی یا زاتی مفادات کی سیاست میں سیاستدان زاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک کے سیاستدانوں نے ہمیشہ زاتی مفادات کو ترجیح دی ہے ۔عوام سیاستدانوں کو ووٹ دیتی ہے تاکہ بہتر سے بہتر قانون سازی ہو اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مضبوط پالیسیز بن سکیں ۔سیاستدان الیکشن کے بعد پارلمینٹ میں پہنچتے ہی عوامی مسائل کے حل پر بحث کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔حکومتی نمائندے اپوزیشن کو دبانے پر لگ جاتے ہیں اور اپوزیشن بجائے عملی اور عوامی سیاست کے شور شرابے اور افراتفری کو اپنا بنیادی مقصد سمجھ لیتی ہے ۔
اسٹیبلشمنٹ حکومتی پارٹیوں کو ڈائریکشن دیتی ہے اب آپ نے یہ کرنا اور یہ نہیں کرنا ۔حکومتی پارٹیاں اوکے سر کی رپورٹ دیتی ہیں اس وقت انہیں سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بلکل نظر نہیں آتی جیسے ہی اسٹیبلشمنٹ حکومت کو چلتا کرتی ہے تو حکومتی پارٹیوں میں جمہوریت جاگ جاتی اور اپوزیشن پارٹیوں کا جمہوریت کا کیڑا مر جاتا ہے اور اقتدار انہیں سونپ دیا جاتا ہے بس پھر الیکشن، دھاندلی، سیاست دان حکومت اور اپوزیشن میں تقسیم اور وہی پرانہ شور شرابہ۔عوام کا سوال یہ ہے سیاستدان ہر دور میں اسٹبلشمنٹ پر الزام تو لگاتے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کو سخت گیر اور متفقہ قانون سازی کے زریعے ختم کیوں نہیں کرتے ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ سیاست دان عوامی مفادات پر زاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے سہولتکار بھی ہر دور میں سیاست دان ہی رہے ہیں ۔جس پارٹی کی بھی حکومت آئی ہے اس نے اداروں کی سیاست میں مداخلت کو کم کرنے کے بجائے مزید توسیع دی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں مداخلت کے لیے خود سیاستدانوں نے مضبوط کیا ہے ۔اگر سیاست دان ملک کے لیے مخلص ہوتے تو اسٹیبلشمنٹ کی جرات ہی نہ ہوتی کہ وہ سیاست میں مداخلت کرے اور من مرضی کی قانون سازی کروائے ۔سیاسی پارٹیاں جس طرح ایک ایک کر کے زلیل وخوار ہوئی ہیں یہی سیاسی پارٹیاں اپنے اندر آپسی اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کر کے ایک دفعہ ہی اکھٹی قربانی دے دیں تو سیاست میں بیرونی مداخلت بھی ختم ہو جائے اور سیاست دان ملک کے لیے بہترین اور آزادانہ فیصلے کر سکیں گے ۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کرنا کیونکہ سیاستدانوں کی ترجیحات میں ملکی و عوامی مفادات شامل ہی نہیں بس عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے ۔ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی پارٹیوں میں جب تک قومی اور مخلصانہ اتحاد پیدا نہیں ہوگا تو ملک درست سمت میں نہیں جا سکتا اور یہ سیاستدانوں نے کرنا نہیں یہی اصل تباہی ہے ۔
#سیاست

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ayyaz Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share