10/04/2026
فیصل آباد ڈویژن کی پھولن دیوی : اللہ کسی کو حسن دے تو اسے حسن کو قیامت بنانے کی توفیق نہ دے ۔۔۔۔ ایک حسینہ نے سابقہ و موجودہ 2 شوہروں اور تین آشناؤں کو ساتھ ملا کر شہر کا مشہور ڈاکٹر اٖغ۔وا کروا لیا ، 3 کروڑ تاوان مانگا ، 58 لاکھ وصول بھی کر لیا مگر پکڑی کیسے گئی ؟ گرفتاری کے بعد شرمناک کرتوت سامنے آگئے ۔۔کچھ عرصہ قبل فیصل آباد کے علاقہ ڈجکوٹ میں پیش آیا واقعہ ۔۔۔۔ فاخرہ کو عام خواتین کی نسبت پیسوں کی کچھ زیادہ ہی ضرورت رہتی تھی ۔ اس لیے وہ غیر مردوں سے واٹس ایپ پر گپ شپ کرتی تھی ۔ لیکن 1000 دو ہزار یا پانچ دس ہزار سے کچھ نہیں بنتا تھا ۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ فاخرہ کا ایک سابقہ شوہر تھا جس سے اسکے دو بیٹے تھے ، بعد میں فاخرہ نے ایک اور شادی کر لی یہ شادی بھی واٹس ایپ پر دوستی کا نتیجہ تھی ۔ سابقہ و موجودہ شوہروں کے علاوہ فاخرہ نے 3 عدد دیگر نوجوانوں کے ساتھ بھی تعلق رکھا ہوا تھا ۔ ان حالات میں ایک روز فاخرہ کی طبیعت خراب ہوئی تو وہ ایک کلینک میں چیک اپ کروانے گئی ڈاکٹر اسے دیکھ کر اس پر لٹو ہو گیا ، اور فون نمبر مانگا اسکے بعد فاخرہ کے تعلقات والی لسٹ میں ڈاکٹر صاحب بھی آگئے ، ڈاکٹر صاحب نے کچھ ہی دنوں میں فاخرہ کو بہت سا پیسہ کھلا دیا تو فاخرہ کے شیطانی دماغ میں ایک پلان آگیا اس نے سابقہ و موجود شوہر اپنے تین آشناؤں کے سامنے پلان رکھا کہ میرے ہاتھ ایک موٹا مرغا لگا ہے بڑا مال ہاتھ آئے گا ڈاکٹر کو اغ۔وا کرتے ہیں اور 3 کروڑ تاوان لیتے ہیں سب کے دکھ درد دور ہو جائیں گے ، پلان کے تحت سب نے ایک روز ڈاکٹر کو اس وقت اغ۔وا کر لیا جب وہ صبح گھر سے واک کے لیے نکلا ، فاخرہ بھی اغ۔وا کار ٹیم میں شامل تھی بلکہ اسے لیڈ کررہی تھی اور کیری ڈبہ کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی تاکہ کوئی شک نہ کرے ، ڈجکوٹ سے ڈاکٹر کو اغ۔وا کرکے یہ لوگ گوجرہ لے گئے ایک ہفتہ وہاں رکھا مگر 3 کروڑ نہ ملے بلکہ 58 لاکھ کی ڈیل ہوئی ، ڈاکٹر صاحب نے کسی طرح پیسے منگوائے اور انکے حوالے کیے تو ڈاکٹر صاحب کو رہا کردیا گیا ۔۔۔، رہائی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پولیس سے رابطہ کیا پولیس نے مختلف فون نمبرز ، فاخرہ کے کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر ذرائع سے معلومات اکٹھی کرکے ریڈ شروع کیے تو ایک ایک کرکے قربانی کے تمام بکرے پکڑے گئے فاخرہ کو سب سے پہلے گرفتار کر لیا گیا ۔۔۔۔۔گرفتاری کے بعد فاخرہ اور اسکے گیینگ ارکان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے یہ سب پیسے کے لیے کیا ہے اور دوسرا فاخرہ نے فرمائش کی تو ہم ٹال نہ سکے ، فاخرہ نے اپنے انہی ٹیم ممرز کے ساتھ رجانہ میں بھی ایک بندے کو واٹس ایپ پر پھنسا کر اسے اغ۔وا کرنے اور 50 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کا اعتراف کیا ، جب پوچھا گیا کہ ان دو وارداتوں سے حاصل ہونے والے پیسے کا آپ نے کیا کیا تو فاخرہ نے جواب دیا کرنا کیا تھا ، جیسے آئے ویسے ہی خرچ ہو گئے پتہ ہی نہیں چلا ، ہم بندے بھی زیادہ تھے ایک دو ہوتے تو پیسے زیادہ دن کام آتے ۔۔۔۔۔۔ان دونوں کیسوں کے چالان مرتب کرکے میڈم فاخرہ اور اسکے ساتھی ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔۔ قوی امکان ہے کہ ابھی ان کا کیس چل رہا ہو گا ۔۔۔۔