awaz اردو زبان میں تاریخی اصلاحی آور دینی واقعات کے لیۓ ہمار

24/02/2026
24/02/2026

ایک خوفناک مستقبل ھمارے انتظار میں ہے۔!

انسانوں کو شاید اپنی نسل ختم کرنے کی بہت جلدی ہے۔ ابھی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اتنے چھوٹے ڈرون ایک انچ یا اس کچھ زیادہ چھوٹا بڑا ہوگا۔ دو سے تین گرام تک بارود لیجانے کی صلاحیت اور سیدھا اس بندے انسان یا ٹارگٹ کے سر پر لگتا ہے جسکو مارنا ہے۔ چھوٹے سے سوراخوں دروازوں کھڑکیوں کے اندر گھس سکتا ہے۔ کسی چیز سے ٹکرا جائے تو مزید تیز ہوجاتا ہے۔ ویڈیو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید انسان کو اپنی انسانی نسل ختم کرنے کی بہت زیادہ جلدی ہے۔

انسان ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ جیبوں، کمروں اور چھتوں کے نیچے لڑی جا سکتی ہے۔ بغیر کسی انسانی نقصان کے میلوں دور دشمن موبائل یا لیپ ٹاپ سے کنٹرول کرتا ہوا۔ مائیکرو ڈرونز کی ٹیکنالوجی، جو کبھی سائنسی فلموں کا حصہ لگتی تھی، آج حقیقت بن چکی ہے۔ چند انچ کے یہ خودکار آلات کیمرے، چہرہ شناسی (Facial Recognition) اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہو کر مخصوص ہدف تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کم قیمت، آسانی سے دستیاب پرزوں اور اوپن سورس سافٹ ویئر کی بدولت ایسے ہتھیار غیر ریاستی عناصر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ جب ایک چھوٹا سا ڈرون کھڑکی کے سوراخ سے گزر کر کسی مخصوص فرد کو نشانہ بنا سکتا ہو تو سیکیورٹی کی روایتی تعریف بے معنی ہو جاتی ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں پہلے ہی خودکار ہتھیاروں پر کام کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر United Nations میں مہلک خودکار ہتھیاروں (Lethal Autonomous Weapons) پر باقاعدہ بحث جاری ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ مشینیں انسان کی مداخلت کے بغیر زندگی اور موت کے فیصلے کرنے لگیں گی۔ ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام غلط شناخت کرے یا ہیک ہو جائے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی عسکری ٹیکنالوجی پہلے کنٹرول سے باہر ہوئی، پھر اس پر قوانین بنے — مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ ہتھیار بڑے بموں کی طرح شور نہیں مچاتے؛ یہ خاموشی سے آتے ہیں، چہرہ پہچانتے ہیں اور وار کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسے آلات بڑے پیمانے پر تیار ہونے لگیں تو تصور کیجیے ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر سیاسی اختلاف، ہر ذاتی دشمنی اور ہر انتہا پسند سوچ کو ایک خودکار قاتل میسر ہو۔ انسان نے اپنی سہولت کے لیے ٹیکنالوجی بنائی تھی، مگر اب وہی ٹیکنالوجی انسان کو غیر محفوظ ترین مخلوق بنا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مستقبل کتنا خوفناک ہو سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے روکنے کے لیے بروقت اخلاقی اور قانونی حدود قائم کر پائیں گے، یا واقعی ہم اپنی ہی نسل کے خاتمے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔

10/01/2026

ایرا ن کے حا لا ت

05/01/2026

PTA TAX....
پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی
اسلام آباد(اوصاف نیوز)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد جدید سمارٹ فونز خریدنے سے محروم ہے جبکہ اس صورتحال پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون اب محض لگژری نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، ایسے میں درآمدی موبائل فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن واپسی پر اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہو گا،اس کے نتیجے میں 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھاری ٹیکسوں کے باعث اس وقت پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا بلکہ حکومت کو طویل المدت بنیادوں پر ریونیو میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے گی، اگر سفارشات کو منظور کر لیا گیا تو آنے والے برس میں پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں۔




02/01/2026

دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والا ایک ملازم سالانہ بنیاد پر تقریباً دو لاکھ ستر ہزار روپے (270,000) انکم ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ ٹیکس ایڈوانس بنیاد پر براہِ راست تنخواہ سے کٹوتی کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے، جس میں کسی قسم کی بچت یا انکار کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہوتی۔

مزید برآں، تنخواہ دار طبقہ صرف انکم ٹیکس تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسے متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، جن میں سیلز ٹیکس (18 فیصد)، پیٹرولیم لیوی (تقریباً 100 روپے فی لیٹر)، بجلی اور گیس کے بلوں پر بھاری ٹیکسز، نیز موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں۔

یوں ایک محتاط اندازے کے مطابق، ایک تنخواہ دار ملازم اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 35 تا 40 فیصد مختلف براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کو ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، تاجر طبقہ، بڑے زمیندار اور غیر رسمی یا غیر دستاویزی شعبے نسبتاً نہ ہونے کے برابر ٹیکس ادا کرتے ہیں، جو پاکستان کے ٹیکس نظام میں عدم مساوات اور ناانصافی کو نمایاں کرتا ہے۔

24/12/2025
*شہید اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان: قربانی بے مثال، مگر اہلِ خانہ کے ساتھ ناانصافی نے دل دہلا دیا،  گھر کو دانستہ طور پر توڑ...
24/12/2025

*شہید اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان: قربانی بے مثال، مگر اہلِ خانہ کے ساتھ ناانصافی نے دل دہلا دیا، گھر کو دانستہ طور پر توڑ دیا*

کمشنر میر انشاہ، شاہ ولی خان،02 دسمبر 2025 کو بنوں میں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کو سول انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے لیے ایک سنگین اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ شہید افسر ایک دیانتدار، باصلاحیت اور فرض شناس افسر کے طور پر جانے جاتے تھے، جنہوں نے مشکل حالات میں بھی عوامی خدمت کو مقدم رکھا۔ وہ اپنے پیچھے ایک بیوہ اور تقریباً تین سالہ کمسن بیٹا چھوڑ گئے، جسے بولنے میں تاخیر کے باعث طبی توجہ درکار ہے۔

شہید کے اہلِ خانہ کے پاس کسی بھی دوسرے ضلعے میں اپنی ذاتی رہائش موجود نہیں۔ سرکاری سہولت کی عدم فراہمی کی صورت میں انہیں جنوبی وزیرستان کے ایک نہایت دور افتادہ گاؤں غواہ خواہ، تحصیل وانا، منتقل ہونا پڑتا، جو کمسن بچے کی تعلیم، پرورش اور مجموعی مستقبل کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا۔اس کے علاوہ شُہداء پیکج کے تحت شہید افسر کے اہلِ خانہ قانونی طور پر سرکاری رہائش کے حقدار ہیں ۔

اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان کی باقاعدہ درخواست پر، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان نے انسانی بنیادوں پر شہید افسر کے اہلِ خانہ کے لیے ایک سرکاری کوارٹر کی الاٹمنٹ کا عمل شروع کیا۔ تاہم مذکورہ کوارٹر تحصیلدار حویلیاں، جناب شکیل خان، کے قبضے میں پایا گیا، حالانکہ ان کا تبادلہ تقریباً ایک سال قبل ڈیرہ اسماعیل خان سے ہو چکا تھا اور وہ اس عرصے سے ایبٹ آباد میں تعینات تھے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحصیلدار حویلیاں، جناب شکیل، نہ تو اپنی تنخواہ سے ہاؤس رینٹ ادا کر رہے تھے اور نہ ہی ان کا اپنا خاندان مذکورہ سرکاری کوارٹر میں مقیم تھا، بلکہ یہ کوارٹر ان کے سسرال کے افراد کے زیرِ استعمال تھا، جو قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ چونکہ جناب شکیل اس سرکاری کوارٹر پر غیرقانونی طور پر قابض تھے، اس لیے قواعد کے مطابق ان کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی، تاکہ شہید افسر کے اہلِ خانہ کو رہائش فراہم کی جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ ڈیرہ اسماعیل خان نے انتہائی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں رضاکارانہ طور پر سرکاری کوارٹر خالی کرنے کے لیے مناسب وقت دیا، تاہم انہوں نے عدالتی کارروائی کے ذریعے معاملے کو طول دیا۔ بعد ازاں معزز عدالت نے کیس کے میرٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عبوری حکمِ امتناع خارج کر دیا، جس کے نتیجے میں ضلعی انتظامیہ نے کوارٹر خالی کرانے کا حکم جاری کیا ۔

تاہم جب شہید کے اہلِ خانہ کو کوارٹر حوالے کرنے سے قبل اس کا معائنہ کیا گیا تو انتظامیہ پر ایک گہرا صدمہ طاری ہو گیا۔ یہ منظر انتہائی تکلیف دہ تھا کہ وہ گھر، جو ایک شہید افسر کی بیوہ اور کمسن بچے کے لیے آخری سہارا بننا تھا، دانستہ طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔ کچن اور واش رومز کے واش بیسن اکھاڑ لیے گئے، کموڈ توڑ دیے گئے، کیبنٹس برباد کر دی گئیں، لائٹس اور وائرنگ نکال لی گئی، حتیٰ کہ چھت پر نصب پانی کی ٹینکی تک ہٹا دی گئی۔ اس دلخراش اور سوچی سمجھی تخریب کاری کے نتیجے میں کوارٹر رہائش کے قابل نہیں رہا ۔ گھر کو دانستہ طور پر شکیل خان کے کہنے پر توڑا گیا اور شہید کے اہلِ خانہ انتہائی دکھ سے دوچار کیا۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف شہید کے خاندان کے ساتھ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والی ناانصافی ہے بلکہ ایک ذمہ دار سرکاری افسر سے ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامیہ کے مطابق سرکاری املاک کو دانستہ نقصان پہنچانا اور ایک شہید کی بیوہ اور معصوم بچے کو عین آخری لمحے چھت سے محروم کرنا نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ قانونی طور پر بھی ایک ناقابلِ معافی فعل ہے، جس کی ہر سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

شاہ ولی خان کی عظیم قربانی ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گی، مگر اس واقعے نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف ایک بہادر افسر ریاست کی خاطر اپنی جان قربان کر دیتا ہے، اور دوسری طرف اس کے بے سہارا اہلِ خانہ کو ناانصافی، بدسلوکی اور بے رحمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام اور سرکاری حلقوں میں اس بات کی پُرزور امید بلکہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس دل دہلا دینے والی ناانصافی پر، بالخصوص شکیل خان، تحصیلدار حویلیاں، کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہداء کے اہلِ خانہ کے وقار کو مجروح ہونے سے بچایا جا سکے اور آئندہ کوئی سرکاری افسر ایسی بے حسی کی جرات نہ کر سکے۔

حاجی مجتبٰی میرانشاہ ۔

اسلامی تاریخ میں سلطان نورالدین محمود زنگیؒ (511ھ–569ھ / 1118–1174ء) کا نام عدل، زہد، شجاعت اور امت کی خیرخواہی کے حوالے...
04/12/2025

اسلامی تاریخ میں سلطان نورالدین محمود زنگیؒ (511ھ–569ھ / 1118–1174ء) کا نام عدل، زہد، شجاعت اور امت کی خیرخواہی کے حوالے سے ہمیشہ روشن رہے گا۔ وہ نہ صرف صلیبیوں کے خلاف جہاد کے قائد تھے بلکہ مسلمانوں کے درمیان حقیقی سیاسی، عسکری اور معاشرتی اتحاد کے مضبوط ستون بھی تھے۔
یہ واقعہ تقریباً 560ھ کے اواخر یا 561 ہجری کے آغاز کا ہے، جب حجاز میں شدید قحط پڑا اور مصر و شام میں فتوحات کے بعد مالِ غنیمت وافر تھا۔
عید الاضحٰی سے چالیس دن پہلے:
عید الاضحٰی سے چالیس روز قبل، سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے صلیبیوں پر ایک کامیاب حملہ کیا، اور اس میں پورے تیس ہزار (30,000) بکریوں اور دنبوں کا بڑا ریوڑ بطور مالِ غنیمت حاصل ہوا۔
یہ مال اُن کے لیے کوئی فخر یا ذاتی دولت نہ تھا۔ بلکہ وہ اسے غریبوں، مسافروں، مجاہدین اور حرمین کے محتاجوں میں تقسیم کرنے کو اللہ کا حق سمجھتے تھے۔
پہلا خط، قاضیِ دمشق کو:
سلطان نورالدینؒ نے فوراً قاضیِ دمشق کو پیغام بھیجا:
“ان جانوروں کو وصول کریں اور اہلِ شام میں تقسیم کر دیں۔”
قاضی نے جواب دیا:
"اہلِ دمشق کے پاس مال وافر مقدار میں موجود ہے۔ بلکہ ہم آپ کو مزید دس ہزار (10,000) بھیجتے ہیں۔"
یوں تعداد بڑھ کر چالیس ہزار (40,000) تک جا پہنچی۔
یہ اس دور کی علامت تھی:
مسلمان ایک جگہ سے ملنے والی نعمت دوسری جگہ بھیجنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
دوسرا خط، قاضیِ مصر کو:
سلطان نورالدینؒ نے وہی پیغام قاضیِ مصر کو بھی پہنچایا۔ مصر اُس زمانے میں فاطمی خلافت سے سنی ایوبی دور کی طرف منتقل ہو رہا تھا، اور سلطان نورالدین زنگیؒ ہی نے بعد میں صلاح الدین ایوبیؒ کو مصر بھیجا تھا۔
قاضیِ مصر نے جواب دیا:
"مصر میں جانور زیادہ ہیں، ہم آپ کو تیس ہزار (30,000) مزید جانور دیتے ہیں، اور ساتھ غلہ، گیہوں، جو اور کپڑے بھی بھیجتے ہیں۔"
اب جانوروں کی کل تعداد ستر ہزار (70,000) ہو گئی۔ دوستو یہ وہی مصر تھا جو آئندہ چند برس بعد صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں پوری صلیبی طاقت کو توڑنے میں مرکزی کردار بننے والا تھا۔
تیسرا خط ،حجاز کے علماء کو:
تیسرا خط سلطان نورالدین نے حجاز (مکہ و مدینہ) کے علماء کو بھیجا، وہ خط جو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔
علماء نے جواب لکھا:
"جو کچھ بھیج سکتے ہو، سب بھیجو…یہاں لوگ بھوک سے ہلاکت کے قریب ہیں،
بارش رک گئی ہے، اناج ختم ہو چکا ہے، اور فقر سب پر غالب آ گیا ہے۔"
یہ وہ دور ہے جب حجاز میں بارہا شدید قحط پڑتا تھا۔ محفوظ ذخائر نہ تھے، نہ آبادی زیادہ تھی، نہ معاشی وسائل۔
جب سلطان نورالدین زنگیؒ نے یہ درد بھرا پیغام پڑھا تو فوراً حکم دیا:
"سب کچھ حجاز بھیج دو… اور میری طرف سے مزید خرچ بھی شامل کر دو۔"
پھر:
ستر ہزار جانور،غلے کے بڑے بڑے ذخائر، کپڑے، خوراک، پرانا خشک کیا ہوا لحم (لحمِ مقدد)، حجّاجِ کرام کے لیے راشن سب کچھ مکہ اور مدینہ بھیج دیا گیا۔
اہلِ حجاز سیر ہو گئے، فقراء حجّاج کو کھانا ملا، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ذخیرہ بھرا گیا، اور قحط کے مہینے آسانی سے گزرے۔
صرف یہ ہی نہیں…
اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کبھی حجاز میں قحط آتا، تو صومالیہ، اریتیریا، اور مسلمان افریقی ساحلوں سے جہاز بھاری بھرکم سامان لیکر حرمین کی طرف آتے تھے۔
یہ جہاز:غلہ، کھجوریں جو، کپڑے، بکریاں اور بھیڑیں لے کر بلا معاوضہ پہنچتے تھے۔ نہ پاسپورٹ، نہ ویزا، نہ قومیت صرف امتِ واحدہ کا تصور!
یہ سب کچھ سلطان نورالدین زنگیؒ سے بہت پہلے بھی ہوتا رہا، اور ان کے بعد بھی خلافتِ عثمانیہ نے یہی سلسلہ جاری رکھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
آج امت قومیتوں میں بٹی ہوئی ہے، ملک سرحدوں میں قید، دلوں سے وہ الفت اور بھائی چارہ رخصت ہو چکا ہے، حالانکہ اللہ نے فرمایا:
{إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ}
(الأنبیاء: 92)
"یہ تمہاری اُمت ایک ہی اُمت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔"
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین!

04/12/2025

Address

Lakki Marwat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to awaz:

Share