awaz اردو زبان میں تاریخی اصلاحی آور دینی واقعات کے لیۓ ہمار

کاپی پوسٹ ۔۔۔۔ہارون آباد-طلحہ نعیم قتل!حوا کی بیٹی قاتلہ کیسے بنی؟نازوں میں پَلی حَوا کی بیٹی کی نذاکت اک قاتلہ کے روپ م...
28/04/2026

کاپی پوسٹ ۔۔۔۔
ہارون آباد-طلحہ نعیم قتل!

حوا کی بیٹی قاتلہ کیسے بنی؟

نازوں میں پَلی حَوا کی بیٹی کی نذاکت اک قاتلہ کے روپ میں کیسے بدل گئی؟
سب سوالوں کے تصدیق شدہ اور جامع جواب پروفیسر ڈاکٹر شفا عروج چوہدری کی اس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں:

حوا کی بیٹی (قاتلہ) پوسٹ گریجوئیشن کی طالبہ ہیں، جو بدقسمتی سے طلحہ نعیم (مقتول) کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے connect تھیں، طلحہ نعیم نے بنت حوا کو سہانی زندگی کے سپنے دکھائے اور محبت کرنے کا کھیل کھیلا، محبت کے اس کھیل میں بنت حوا (قاتلہ-جو ابھی زیر زندان ہے) سے مقتول طلحہ نعیم نے بہت ساری ذاتی تصاویر، ویڈیوز یہ کہہ کر حاصل کیں کہ کل کو ہماری شادی ہو جانی ہے۔۔۔۔وقت گزرتا گیا، بعد ازاں مقتول طلحہ نعیم بنت حوا (قاتلہ) سے مزید تصاویر (نازیبا تصاویر) کے لیے اصرار کرنے لگا، بنت حوا کے مزید تصاویر دینے کے انکار پر طلحہ نعیم نے بلیک میلنگ شروع کر دی اور تصاویر کو سوشل پر میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دینے لگا، منت ترلے کرنے پر بھی جب بات نا بنی تو بنت حوا اک طرح سے ذہنی مریضہ بن چکی تھی، مقتول طلحہ نعیم آئے دن مزید تصاویر اور نازیبہ ویڈیوز کا اصرار کرنے لگا اور بلیک میلنگ انتہا کو پہنچ گئی، ایسے میں بنت حوا کے پاس دو راستے تھے یا تو خاموشی سے مذید تصاویر اور ویڈیوز دیتی رہتی یا پھر اس وہشیت کے خلاف کھڑی ہوتی۔

ہماری ریاست بنت حوا کو ایسا ماحول فراہم نہیں کرتی جہاں وہ بلاجھجھک اپنی آہ و زاری اور بے بسی بتا سکے، زیر زندان مقتولہ اگر لب کھولتی تو ریاست اور معاشرہ اسے مجرم بنا دیتا اور وہ باقی کی زندگی سسکیوں میں گزارتی۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے مقتولہ بنت حوا کے پاس دوسرا راستہ وہی تھا جو اس نے 21 اپریل پروز منگل کی شام کو اپنایا، سر پر کفن باندھ کر نکلی، وہ نازک ہاتھ جو مہندی کے رنگ میں رنگے جانے تھے انہی ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کرنے والے کو اس دنیا سے رخصت کر دیا۔ بنت حوا کو اپنا انجام پتہ تھا مگر وہ عزت کے ساتھ کھیلنے والے کو زندہ نہیں چھوڑ سکتی تھی کیونکہ اور زندہ چھوڑ دیتی تو مقتول طلحہ نعیم اور بھی حوا کی بیٹیوں کے ساتھ کھیلتا اور کھیلتے چلا جاتا۔ طلحہ کی قاتلہ نے اک مثال قائم کی ہے کہ عزت کے ساتھ کھیلنے والوں کو موقع پر ہی سزائے موت دی جائے، اور باقی لڑکیوں کو یہ بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر محبت کے روپ میں دندناتے دریندوں سے خود کو بچا کر رکھیں کیونکہ یہ محبت کرنے والے نہیں بلکہ آپ کے جسم کے بھوکے ہیں۔ بحثیت عورت اور ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں طلحہ نعیم کی قاتلہ کو سلیوٹ پیش کرتی ہوں اور حلقہ اقتدار سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں معاملے کی نوعیت کو سمجھیں، یہ قتل سیلف ڈفینس میں کیا گیا ہے اور قاتلہ بنت حوا مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہے۔

پوسٹ کو زیادہ سے شئیر کریں تا کہ ہارون آباد کے باشندوں کو تصدیق شدہ اور جامع معلومات مل سکے۔

آپکی خیر خواہ و دعا گوہ

پروفیسر ڈاکٹر شفا عروج چوہدری آرائیں
ہارون آباد

30/03/2026

9th 10 th Examination
عنوان: بنوں تعلیمی بورڈ میں "سفارشی راج" – طلبہ پریشان، بااثر اساتذہ کی موجیں!
بنوں تعلیمی بورڈ کی انتظامیہ نے انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔
ایک طرف معصوم طلبہ کو ان کے گھروں سے میلوں دور امتحانی مراکز میں دھکیل دیا گیا ہے، تو دوسری طرف بااثر اساتذہ کا ایک مخصوص گروہ ہر بار اپنے اثر و رسوخ اور تعلقات کی بنیاد پر من پسند اسکولوں میں ڈیوٹیاں لگوا لیتا ہے۔
افسوسناک حقائق:
مستقل قابض گروہ
کچھ اساتذہ نے بورڈ میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر لی ہیں کہ ہر سال وہی چہرے اپنے محلے کے اسکولوں میں "نگران" بن کر نظر آتے ہیں۔ کیا بورڈ کے پاس اساتذہ کا کوئی منصفانہ روٹیشن سسٹم (Rotation System) نہیں ہے؟
اقربا پروری کی انتہا: طلبہ دور دراز کے ہالوں میں خوار ہو رہے ہیں جبکہ یہ سفارشی اساتذہ اپنے گھر کے پاس آرام دہ ڈیوٹیاں کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ امتحانی شفافیت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سفری اور ذہنی مشکلات:
دور دراز مراکز کی وجہ سے طلبہ کو سواریوں کے مسائل اور وقت کے ضیاع کا سامنا ہے، جبکہ بورڈ انتظامیہ صرف "خاص لوگوں" کو نوازنے میں مصروف ہے۔
ہم حکامِ بالا (محکمہ تعلیم اور اینٹی کرپشن) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
ان اساتذہ کی فہرست نکالی جائے جو پچھلے کئی سالوں سے مسلسل ایک ہی مخصوص علاقوں یا اپنے گھر کے قریب ڈیوٹیاں لے رہے ہیں۔
ایسے تمام اساتذہ کی ڈیوٹیاں فوری طور پر تبدیل کر کے انہیں دور دراز علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ میرٹ کا بول بالا ہو۔
کمپیوٹرائزڈ رینڈم الاٹمنٹ سسٹم (Random Allotment) نافذ کیا جائے تاکہ اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو۔
تعلیم دشمن پالیسیاں بند کرو! بچوں کے مستقبل سے کھیلنا بند کرو!
all education

24/02/2026
24/02/2026

ایک خوفناک مستقبل ھمارے انتظار میں ہے۔!

انسانوں کو شاید اپنی نسل ختم کرنے کی بہت جلدی ہے۔ ابھی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اتنے چھوٹے ڈرون ایک انچ یا اس کچھ زیادہ چھوٹا بڑا ہوگا۔ دو سے تین گرام تک بارود لیجانے کی صلاحیت اور سیدھا اس بندے انسان یا ٹارگٹ کے سر پر لگتا ہے جسکو مارنا ہے۔ چھوٹے سے سوراخوں دروازوں کھڑکیوں کے اندر گھس سکتا ہے۔ کسی چیز سے ٹکرا جائے تو مزید تیز ہوجاتا ہے۔ ویڈیو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید انسان کو اپنی انسانی نسل ختم کرنے کی بہت زیادہ جلدی ہے۔

انسان ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ جیبوں، کمروں اور چھتوں کے نیچے لڑی جا سکتی ہے۔ بغیر کسی انسانی نقصان کے میلوں دور دشمن موبائل یا لیپ ٹاپ سے کنٹرول کرتا ہوا۔ مائیکرو ڈرونز کی ٹیکنالوجی، جو کبھی سائنسی فلموں کا حصہ لگتی تھی، آج حقیقت بن چکی ہے۔ چند انچ کے یہ خودکار آلات کیمرے، چہرہ شناسی (Facial Recognition) اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہو کر مخصوص ہدف تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کم قیمت، آسانی سے دستیاب پرزوں اور اوپن سورس سافٹ ویئر کی بدولت ایسے ہتھیار غیر ریاستی عناصر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ جب ایک چھوٹا سا ڈرون کھڑکی کے سوراخ سے گزر کر کسی مخصوص فرد کو نشانہ بنا سکتا ہو تو سیکیورٹی کی روایتی تعریف بے معنی ہو جاتی ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں پہلے ہی خودکار ہتھیاروں پر کام کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر United Nations میں مہلک خودکار ہتھیاروں (Lethal Autonomous Weapons) پر باقاعدہ بحث جاری ہے، کیونکہ خدشہ ہے کہ مشینیں انسان کی مداخلت کے بغیر زندگی اور موت کے فیصلے کرنے لگیں گی۔ ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام غلط شناخت کرے یا ہیک ہو جائے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی عسکری ٹیکنالوجی پہلے کنٹرول سے باہر ہوئی، پھر اس پر قوانین بنے — مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ ہتھیار بڑے بموں کی طرح شور نہیں مچاتے؛ یہ خاموشی سے آتے ہیں، چہرہ پہچانتے ہیں اور وار کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسے آلات بڑے پیمانے پر تیار ہونے لگیں تو تصور کیجیے ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر سیاسی اختلاف، ہر ذاتی دشمنی اور ہر انتہا پسند سوچ کو ایک خودکار قاتل میسر ہو۔ انسان نے اپنی سہولت کے لیے ٹیکنالوجی بنائی تھی، مگر اب وہی ٹیکنالوجی انسان کو غیر محفوظ ترین مخلوق بنا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مستقبل کتنا خوفناک ہو سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے روکنے کے لیے بروقت اخلاقی اور قانونی حدود قائم کر پائیں گے، یا واقعی ہم اپنی ہی نسل کے خاتمے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔

10/01/2026

ایرا ن کے حا لا ت

05/01/2026

PTA TAX....
پی ٹی اے نے درآمد کردہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی
اسلام آباد(اوصاف نیوز)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کر دی ۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام کی ایک بڑی تعداد جدید سمارٹ فونز خریدنے سے محروم ہے جبکہ اس صورتحال پر عوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے حکومت کو سفارشات ارسال کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ موبائل فون اب محض لگژری نہیں رہے بلکہ تعلیم، کاروبار، ڈیجیٹل بینکنگ اور آن لائن روزگار کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، ایسے میں درآمدی موبائل فونز پر بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز نے عام صارف کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی وطن واپسی پر اپنے استعمال کے لیے موبائل فون لانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، زیادہ ٹیکسوں کے باعث ایئرپورٹس پر فون رجسٹریشن ایک مہنگا مرحلہ بن چکا ہے، جس پر اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے بارہا شکایات موصول ہوئی ہیں۔

اگر ٹیکسوں میں مناسب کمی کی جائے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل فونز کی قانونی درآمد میں بھی اضافہ ہو گا،اس کے نتیجے میں 2026 میں پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بھاری ٹیکسوں کے باعث اس وقت پاکستان میں موبائل فونز کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے سمگلنگ اور غیر قانونی فونز کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا بلکہ حکومت کو طویل المدت بنیادوں پر ریونیو میں بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔

پی ٹی اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ یا 2026 کی پالیسی میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے گی، اگر سفارشات کو منظور کر لیا گیا تو آنے والے برس میں پاکستانی صارفین جدید موبائل فونز کم قیمت پر خریدنے کے قابل ہو سکیں۔




Address

Lakki Marwat

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to awaz:

Shortcuts

Share