28/04/2026
کاپی پوسٹ ۔۔۔۔
ہارون آباد-طلحہ نعیم قتل!
حوا کی بیٹی قاتلہ کیسے بنی؟
نازوں میں پَلی حَوا کی بیٹی کی نذاکت اک قاتلہ کے روپ میں کیسے بدل گئی؟
سب سوالوں کے تصدیق شدہ اور جامع جواب پروفیسر ڈاکٹر شفا عروج چوہدری کی اس تحریر میں ملاحظہ فرمائیں:
حوا کی بیٹی (قاتلہ) پوسٹ گریجوئیشن کی طالبہ ہیں، جو بدقسمتی سے طلحہ نعیم (مقتول) کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے connect تھیں، طلحہ نعیم نے بنت حوا کو سہانی زندگی کے سپنے دکھائے اور محبت کرنے کا کھیل کھیلا، محبت کے اس کھیل میں بنت حوا (قاتلہ-جو ابھی زیر زندان ہے) سے مقتول طلحہ نعیم نے بہت ساری ذاتی تصاویر، ویڈیوز یہ کہہ کر حاصل کیں کہ کل کو ہماری شادی ہو جانی ہے۔۔۔۔وقت گزرتا گیا، بعد ازاں مقتول طلحہ نعیم بنت حوا (قاتلہ) سے مزید تصاویر (نازیبا تصاویر) کے لیے اصرار کرنے لگا، بنت حوا کے مزید تصاویر دینے کے انکار پر طلحہ نعیم نے بلیک میلنگ شروع کر دی اور تصاویر کو سوشل پر میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکیاں دینے لگا، منت ترلے کرنے پر بھی جب بات نا بنی تو بنت حوا اک طرح سے ذہنی مریضہ بن چکی تھی، مقتول طلحہ نعیم آئے دن مزید تصاویر اور نازیبہ ویڈیوز کا اصرار کرنے لگا اور بلیک میلنگ انتہا کو پہنچ گئی، ایسے میں بنت حوا کے پاس دو راستے تھے یا تو خاموشی سے مذید تصاویر اور ویڈیوز دیتی رہتی یا پھر اس وہشیت کے خلاف کھڑی ہوتی۔
ہماری ریاست بنت حوا کو ایسا ماحول فراہم نہیں کرتی جہاں وہ بلاجھجھک اپنی آہ و زاری اور بے بسی بتا سکے، زیر زندان مقتولہ اگر لب کھولتی تو ریاست اور معاشرہ اسے مجرم بنا دیتا اور وہ باقی کی زندگی سسکیوں میں گزارتی۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے مقتولہ بنت حوا کے پاس دوسرا راستہ وہی تھا جو اس نے 21 اپریل پروز منگل کی شام کو اپنایا، سر پر کفن باندھ کر نکلی، وہ نازک ہاتھ جو مہندی کے رنگ میں رنگے جانے تھے انہی ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کرنے والے کو اس دنیا سے رخصت کر دیا۔ بنت حوا کو اپنا انجام پتہ تھا مگر وہ عزت کے ساتھ کھیلنے والے کو زندہ نہیں چھوڑ سکتی تھی کیونکہ اور زندہ چھوڑ دیتی تو مقتول طلحہ نعیم اور بھی حوا کی بیٹیوں کے ساتھ کھیلتا اور کھیلتے چلا جاتا۔ طلحہ کی قاتلہ نے اک مثال قائم کی ہے کہ عزت کے ساتھ کھیلنے والوں کو موقع پر ہی سزائے موت دی جائے، اور باقی لڑکیوں کو یہ بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر محبت کے روپ میں دندناتے دریندوں سے خود کو بچا کر رکھیں کیونکہ یہ محبت کرنے والے نہیں بلکہ آپ کے جسم کے بھوکے ہیں۔ بحثیت عورت اور ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں طلحہ نعیم کی قاتلہ کو سلیوٹ پیش کرتی ہوں اور حلقہ اقتدار سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں معاملے کی نوعیت کو سمجھیں، یہ قتل سیلف ڈفینس میں کیا گیا ہے اور قاتلہ بنت حوا مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہے۔
پوسٹ کو زیادہ سے شئیر کریں تا کہ ہارون آباد کے باشندوں کو تصدیق شدہ اور جامع معلومات مل سکے۔
آپکی خیر خواہ و دعا گوہ
پروفیسر ڈاکٹر شفا عروج چوہدری آرائیں
ہارون آباد