21/09/2026
# دیسی گورے — پاکستان کی ایک نایاب نسل
کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں گوروں کی ایک انتہائی نایاب اور منفرد نسل پائی جاتی ہے، جسے عام طور پر **"دیسی گورے"** کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عظیم مخلوق ہے جو رنگت، لباس، زبان یا رہن سہن میں تو مکمل دیسی ہوتی ہے، لیکن دل، دماغ اور پسند ناپسند کے معاملے میں خود کو یورپ کا باشندہ سمجھتی ہے۔
تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب برصغیر سے انگریز واپس گئے تو جاتے جاتے بہت سی چیزیں چھوڑ گئے۔ ریلوے، عمارتیں، انگریزی زبان اور کچھ روایات تو سب کو معلوم ہیں، مگر ایک ایسی "باقیات" بھی تھی جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں کم ہی ملتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں آج ہم محبت سے **دیسی گورے** کہتے ہیں۔
دیسی گورے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی پاکستان سے ذرا فاصلے پر رہنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں دیسی کھانا بھی پسند ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی پوچھ لے کہ "آپ کو کیا پسند ہے؟" تو جواب آتا ہے:
**"یار، مجھے تو ویسٹرن فوڈ پسند ہے۔"**
حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب نہاری کی پلیٹ صاف کر چکے ہوتے ہیں۔
دیسی گوروں کو انگریزی بولنے کا بھی خاص شوق ہوتا ہے۔ اگر گھر میں چار افراد بیٹھے ہوں اور سب اردو سمجھتے ہوں، تب بھی گفتگو کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے:
**"Actually, you know what I mean..."**
اور سامنے بیٹھا ہوا شخص دل ہی دل میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ بھائی، بات کیا کرنی ہے؟ اردو میں کر لو، ہم سب اپنے ہی لوگ ہیں۔
ان کی ایک اور خاص علامت لباس ہے۔ عام پاکستانی کپڑے پہن کر بھی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انداز ایسا ہو جیسے ابھی لندن کے کسی کیفے سے نکل کر آئے ہوں۔ کبھی جینز کے ساتھ عینک، کبھی گرمی میں جیکٹ، اور کبھی ایسی ٹوپی جس کا پاکستان کی آب و ہوا سے کوئی تعلق نہیں۔
دیسی گورے صرف لباس اور زبان تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کا ایک خاص نظریہ بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی چیز باہر کی ہو تو وہ "کلاس" ہوتی ہے، اور اگر وہی چیز پاکستان میں بن رہی ہو تو فوراً سوال اٹھتا ہے:
**"یہ لوکل ہے؟"**
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بیرونِ ملک کوئی پاکستانی چیز مشہور ہو جائے تو یہی دیسی گورا فوراً فخر سے کہتا ہے:
**"یہ ہماری کلچر کی چیز ہے!"**
یہ نسل سوشل میڈیا پر بھی خاصی فعال پائی جاتی ہے۔ ان کی پوسٹس میں اکثر بیرونِ ملک کے مناظر، کافی کے کپ، انگریزی اقوال اور ایسی تصاویر شامل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر بندہ سوچتا ہے کہ شاید یہ صاحب پاکستان میں صرف عارضی قیام کے لیے آئے ہوئے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا مستقل پتہ پاکستان ہی ہوتا ہے۔
دیسی گوروں کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کی ہر چیز پر تنقید کر سکتے ہیں، مگر اگر کوئی باہر والا پاکستان کے بارے میں ایک لفظ کہہ دے تو فوراً ان کا حب الوطنی والا بٹن آن ہو جاتا ہے:
**"او بھائی! پاکستان کے بارے میں ایسے نہیں بولنا!"**
یہ منظر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اندر کہیں نہ کہیں اصلی دیسی ابھی بھی زندہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دیسی گورے پاکستان کی ایک دلچسپ سماجی "نسل" ہیں۔ ان میں تھوڑا سا دیسی پن، تھوڑا سا مغربی انداز، کچھ انگریزی، کچھ اردو اور بہت سارا تضاد پایا جاتا ہے۔
شاید یہی پاکستان کی خوبصورتی ہے کہ یہاں ہر قسم کے لوگ مل جاتے ہیں۔ کوئی مکمل دیسی ہے، کوئی مکمل مغربی، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر اپنی الگ ہی دنیا بنائے ہوئے ہیں۔
اور یہی ہیں ہمارے **نایاب "دیسی گورے"** —
جو جسم سے پاکستانی، زبان سے انگریز، کھانے میں دیسی، انداز میں مغربی اور دل کے کسی کونے میں پھر بھی پورے پاکستانی ہوتے ہیں۔
**تحریر: ایڈمن پیج تلہ شریف ✍️**
*"بات کڑوی ہو تو برا نہ مانیں، کبھی کبھی آئینہ بھی سچ بول دیتا ہے!"*