Naseem-Ul- Quran Islamic Center Lalamusa Pakistan

Naseem-Ul- Quran Islamic Center Lalamusa Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naseem-Ul- Quran Islamic Center Lalamusa Pakistan, Naseem UL Quran Islamic Center, Lala Musa.

20/11/2025
حضرت عبد اللہ بن حجافه ؓایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے ملکِ روم کی جانب ایک لشکر بھیجا،([11])دورانِ جنگ آپ رض...
20/11/2025

حضرت عبد اللہ بن حجافه ؓ
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے ملکِ روم کی جانب ایک لشکر بھیجا،([11])دورانِ جنگ آپ رضی اللہُ عنہ نے ایک رومی کمانڈر کو قتل کردیا پھر اسی کے گھوڑے پر سوار ہوکر میدانِ جنگ میں تھے کہ آپ کا سامنا ایک اور رومی کمانڈر سے ہوا تو اس نے اپنے مقتول ساتھی کا گھوڑا پہچان لیا
یہ دیکھ کر وہ آپ کی طرف لپکا وہ پہاڑ کی طرح سخت جان تھا اس نے آپ کو اپنے آپ سے چمٹالیا اور کھینچتا ہوا اپنے لشکر میں لے گیاوہاں آپ کو زنجیروں سے باندھ دیا گیا([12]) اور مار مار کر بےہوش کردیا گیا پھر قیدی بنا کرقسطنطنیہ میں بادشاہ کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ یہ محمد عربی کے ساتھی ہیں۔([13]) بادشاہ نے آپ کو تکالیف دینے کا حکم دیا آپ نے ان تکالیف پر صبر کیااس کے بعد آپ کو ایک کمرے میں بند کردیا اور سامنے شراب اور سُؤر کا گوشت ڈال دیا تین دن گزر گئے لیکن آپ نے اس میں سے نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ سپاہیوں نے بادشاہ کو خبر دی تو بادشاہ نے کہا: اسے وہاں سے نکال لو ورنہ وہ وہیں مرجائے گا۔([14])
دوسری طرف حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے آپ کی رہائی کےلئے شاہِ روم کے نام ایک خط لکھا، بادشاہ نے خط پڑھا (تو اسے آپ کی اہمیت اور قدرو منزلت کا اندازہ ہوا ) پھر آپ کو دربار میں طلب کیا، آپ فرماتے ہیں: میں وہاں پہنچا تو بادشاہ کے سر پر تاج تھا اور چاروں طرف سپاہی تھے میں اس کے سامنے کھڑا ہوگیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: قریش قبیلہ کا ایک مسلمان ہوں، پوچھا: تمہارا تعلق تمہارے نبی کے گھر سے ہے؟ میں نے کہا: نہیں،
بادشاہ بولا: تم ہمارے دین پر آجاؤ میں اپنے کسی کمانڈر کی بیٹی سے تمہاری شادی کروادوں گا،میں نے کہا: خدا کی قسم! میں دینِ اسلام کوکبھی بھی نہیں چھوڑوں گا، اس نے کہا: ہمارا دین قبول کرلو میں تمہیں بہت سارا مال، لونڈی غلام اور ہیرے دوں گا۔ پھر کچھ جواہرات منگوائے اور کہا: میرے دین میں آجاؤ یہ سب تمہیں مل جائیں گے، میں نے کہا: نہیں، اگر تم مجھے اپنی اور اپنی قوم کی جائیداد بلکہ اپنی ملکیت کی ہر ہر چیز بھی دوگے توبھی دینِ اسلام نہیں چھوڑوں گا۔
اس نے کہا: میں تمہیں بری موت ماروں گا، میں نے کہا: تم میرے ٹکڑے کر دویا مجھے آگ میں جلادو میں اپنا دین نہیں چھوڑوں گا، یہ سُن کر بادشاہ غصے میں آ گیا([15]) اور کہنے لگا: اب میں تمہیں قتل کردوں گا، میں نے کہا: تم یہی کرسکتے ہو۔ پھر آپ کو تختہ پر چڑھا دیا گیا تو بادشاہ نے (آہستہ سے) تیر انداز سے کہا: تیر بدن کے قریب پھینکنا (تیر انداز نے تیر جسم کے قریب پھینکے لیکن آپ بالکل بھی خوف زدہ نہ ہوئے) بادشاہ نے پھر عیسائی بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے انکار کردیا آخر کار آپ کو تختہ سے نیچے اتار لیا گیا۔([16])
ایک روایت کے مطابق بادشاہ نے تانبے کی گائے منگوائی اور اس میں تیل بھر کر جوش دینے کا حکم دیا،پھر (جب تیل کھولنے لگا تو ) بادشاہ نے ایک مسلمان قیدی کو بلایا اور اسے عیسائی بننے کاکہا لیکن اس مسلمان نے بھی انکار کردیایہ دیکھ کر بادشاہ نے اسے گائے میں ڈلوا دیا فوراً ہی (گوشت پوست سب جل گیا اور) ہڈیاں ظاہر ہوگئیں۔ بادشاہ نے آپ سے پھر کہا: عیسائی بن جاؤ ورنہ میں تمہیں بھی اس گائے میں پھینک دوں گا۔ آپ نے کہا: میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا؟ بادشاہ نےآپ کو گائے میں ڈالنے کا حکم دے دیا،
سپاہیوں نے آپ کو پکڑا (اور گائے کے قریب لائے) تو آپ رونے لگے،سپاہی کہنے لگے: بس! گھبرا گئے اور رورہے ہو، بادشاہ نے کہا: انہیں گائے سے پیچھے کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے کہا: میں گائے میں ڈالے جانےکے خوف اور ڈر سے نہیں رویا، میں تواس وجہ سے رویا ہوں کہ میرے پاس یہی ایک جان ہے جو ابھی راہِ خدا میں جسم سے جدا ہوجائے گی میں تو اس بات کو پسند کررہا تھا کہ ہر بال کےبدلےایک ایک جان ہوتی پھر تم مجھ پر غلبہ پالیتے اور ہر جان کے ساتھ یہی سلوک کرتے۔ آپ کی یہ بات سُن کر بادشاہ حیرت زدہ ہوگیا اور آپ کو آزاد کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہوگئی لہٰذا کہنےلگا:تم میرا ماتھا چوم لو میں تمہیں آزاد کردوں گا، آپ نے منع کردیا، بادشاہ نے کہا:
نصرانی ہوجاؤ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کردوں گا اور اپنی آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا، آپ نے اب بھی انکار کیا، آخرکار وہ کہنے لگا: میری پیشانی چوم لو، میں تمہارے ساتھ 80 مسلمان قیدیوں کو آزاد کردوں گا، آپ نےکہا: ہاں! یہ کرسکتا ہوں، پھرآپ نے اس کے ماتھے کو چوم لیا، بادشاہ نےاپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کے ساتھ 80مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیا۔([17])
بعض روایتوں میں 100 کا اور بعض میں 300 قیدیوں کا ذکر ہے اور ساتھ میں آپ کو 30 ہزار دینار، 30 خادم اور 30 خادمائیں تحفہ میں بھی دیں۔ آپ آزاد ہونے والے مسلمانوں کو لےکر بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہو ئے اور پوری تفصیل کہہ سنائی، حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ حضرت اِبنِ حُذافہ کا ماتھا چومے اور میں سب سے پہلے اِبنِ حُذَافَہ کا ماتھا چوموں گا، یہ کہہ فاروقِ اعظم نے آپ کا ماتھا چوم لیا([18]) یہ دیکھ کر دیگر مسلمان بھی کھڑے ہوکر آپ کے سر کو چومنے لگے۔([19])(بعد میں) بعض لوگ آپ سے مزاح کیا کرتے کہ آپ نے ایک کافر کا ماتھا چوما ہے، تو آپ یوں فرما دیتے کہ اس ایک چومنے کے بدلےاللہ نے 80 مسلمانوں کو آزادی دلوائی ہے۔([20])
اللہ اللہ! رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت پانے والے صحابۂ کرام کا ایمان کیسا مضبوط ہوا کرتا تھا کہ مال و زَر، جائیداد، سلطنت اور حسین عورتوں سے نکاح کی پیشکش بھی ہوتی تو ایمان کے مقابلے میں کسی پیشکش کو قبول نہ کرتے اور ایمان پر ثابت قدم رہتے
۔ اللہ کریم ! صحابہ کے ایمان کے صدقے ہمارے ایمان کو بھی مضبوط فرمائے، اٰمین۔

21/10/2025

دعا ۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
لائک کمنٹ اور شیئر کرنا نا بھولیں ۔
شکریہ

🕌زیر تعمیر جامع مسجد و مدرسہ ۔مَنْ بَنٰیِﷲِ مَسْجِدًا بَنَی اﷲُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ.الحدیث جس نے اللّٰہ کی رضا ک...
30/09/2025

🕌زیر تعمیر جامع مسجد و مدرسہ ۔
مَنْ بَنٰیِﷲِ مَسْجِدًا بَنَی اﷲُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ.الحدیث
جس نے اللّٰہ کی رضا کیلئے مسجد بنائی یا حصہ لیا اللّٰہ اسکے لئے جنت میں ایک محل بنا دے گا ۔

السَّلامُ عَلَيْكُم
وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ.
دعوت نامہ ۔
معزز و مکرم ۔
جناب مخیر حضرات صاحبان ۔
ہم اللّٰہ رب العزت کے فضل و کرم سے گاؤں چھتہ لالہ موسٰی میں ایک جامع مسجد اور اسکے ساتھ ایک بہترین دینی ادارہ 2 کنال جگہ پر بنانے کا منصوبہ شروع کر رھے ہیں ۔ جس کی ہمارے علاقہ میں اشد ضرورت ھے ۔
برائے کرم آپ اس علمی و دینی منصوبے کی تعمیر میں اپنے فوت شدگان خصوصی طور پر اپنے والدین کی روح کے ایصال ثواب کی نیت سے پیسے دینے کی بجائے آپ اینٹ سیمنٹ سریا اور بجری حسب توفیق لیکر دیں ۔
ھم آپکے تعاون کے منتظر رہیں گے ۔
شکریہ۔ ..........................................
۔👇🏻
📲رابطہ کمیٹی۔
چوہدری خادم حسین جٹ چھتہ ۔
03404199184
چوہدری ناظم حسین جٹ چھتہ کویت ۔+96597959616
چوہدری عمران حسین جٹ چھتہ ۔
03026386882
علامہ قاری عبدالمنان نوری نقشبندی۔
03445810920

آیتُ الکرسی کے فضائل:            اس آیت کو آیتُ الکرسی کہتے ہیں ، احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں بیان کی گئی ہیں ،ان میں س...
29/09/2025

آیتُ الکرسی کے فضائل:

اس آیت کو آیتُ الکرسی کہتے ہیں ، احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے 4 فضائل درج ذیل ہیں :

(1)…آیتُ الکرسی قرآنِ مجید کی سب سے عظیم آیت ہے۔

(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل سورۃ الکہف وآیۃ الکرسی، ص۴۰۵، الحدیث: ۲۵۸(۸۱۰))

(2)…جوسوتے وقت آیتُ الکرسی پڑھے تو صبح تک اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا اور شیطان ا س کے قریب نہ آسکے گا۔

(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرۃ، ۳ / ۴۰۵، الحدیث: ۵۰۱۰)

(3،4)…نمازوں کے بعد آیتُ الکرسی پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے۔

رات کو سوتے وقت پڑھنے پر اپنے اور پڑوسیوں کے گھروں کی حفاظت کی بشارت ہے۔

(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۵۸، الحدیث: ۲۳۹۵)

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـٴُـوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ

عیدِ میلاد النبيﷺاب عیدِ میلاد کا مخالف منکر مانیں یا نہیں کیونکہ جو حق کا طلبگار ہو وہ ایک ہی دلیل سے مان جائے گا لیکن ...
23/08/2025

عیدِ میلاد النبيﷺ

اب عیدِ میلاد کا مخالف منکر مانیں یا نہیں کیونکہ جو حق کا طلبگار ہو وہ ایک ہی دلیل سے مان جائے گا لیکن جو جہالت کا طلب گار ہو اس کو ہزار دلیلیں دے دیں کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔

صحابہ سے ذکر نبی یعنی میلاد النبی کے منکروں کو جواب

ربیع الاول کا چاند نظر آتا ہے مسلمانان عالم کے قلوب خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں ایسے پربہار موسم میں غیر مقلدین اعتراضات سے بھرپور پمفلٹ تقسیم کرتے ہیں جنہیں پڑھ کر سادہ لوح مسلمان پریشان ہوجاتے ہیں لہذا آپ کی خدمت میں میلاد پاک پر کئے جانے والے اعتراضات کے قرآن حدیث اور علمائے اسلام کے فرامین کی روشنی میں جوابات پیش کرتے ہیں ۔جو سب کی سمجھ میں تو آ جائیں گے لیکن منافق کے نہیں۔۔۔

لغت میں میلاد کے معنی۔۔۔👉
"نور اللغات" میں لفظ میلاد مولود مولد کہ یہ معنی درج کئے گئے ہیں۔۔۔
👈 میلاد…) پیدا ہونے کا زمانہ پیدائش کا وقت جس میں پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کا بیان کیا جائے۔۔۔
وہ کتاب جس میں پیغمبر ﷺ کی ولادت کا حال بیان کیا جاتا ہے۔۔۔میلاد کہلایا جاتا ہے۔۔۔

قرآن مجید سے میلاد النبیﷺ منانے کا ثبوت ۔۔۔

القرآن۔۔۔)
"اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو"
(سورة والضحیٰ :11)

معلوم ہوا کہ اپنے رب تعالیٰ کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو کائنات کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت حضور ﷺ ہیں لہذا ہمیں نعمت عظمیٰ سرور کائنات ﷺ کا خوب چرچا کرتے ہوئے ان کی آمد کی خوب خوشیاں منانی چاہئے۔۔۔
قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔۔۔

"تم فرماؤ ﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے"
(سورة یونس:58)
اس آیت میں رب کریم کا واضح ارشاد ہے کہ میرے فضل و رحمت کے حصول پر خوشی منائیں۔۔۔
جب رحمت پر خوشی منانے کا حکم ہے تو رحمتہ للعالمین ﷺ کی آمد پر کس قدر خوشی منانی چاہئے۔۔۔

احادیث سے میلاد النبی منانے کا ثبوت۔۔۔
اپنی ولادت کی خوشی تو خود نبی کریم ﷺ نے منائی تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں۔۔۔

حدیث ۔۔۔1) ۔۔۔👇
حضرت ابو قتادہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی گئی یارسول ﷲﷺ آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی...
(مسلم جلد1، ص7)

حدیث ۔۔۔ 2) ۔۔۔👇
ابولہب کو جب اپنے بھائی حضرت عبدﷲ رضی ﷲ عنہ کے یہاں بیٹے کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کرکے آزاد کردیا۔۔۔ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی ﷲ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا گیا کیا گزری؟؟؟
ابولہب نے جواب دیا
مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی، ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے اپنے بھتیجے محمد ﷺ کی ولادت کی خوشی میں ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا۔۔۔
(بخاری:5101، ص912)

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
میلاد شریف کرنے والوں کے لئے اس میں سند ہے جو شب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا۔۔۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو حضرتﷺ کے لئے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبت و خوشی سے بھرپور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے۔۔۔
لیکن افسوس منکرین کو سمجھ نہیں آئے گی۔۔۔
(مدارج النبوت جلد2 ص26)

جشن میلاد کو عید کہنے کی وجہ۔۔۔👉
امام ابو القاسم راغب اصفہانی علیہ الرحمہ عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید" اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے شریعت میں لفظ ’’عید‘‘ یوم الفطر اور یوم النحر کے لئے خاص نہیں ہے۔۔۔ عید کا دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہیں اس لئے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو اس دن کے لئے عید کا لفظ مستعمل ہو گیا ہے۔۔۔

امام قسطلانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "مواہب الدنیہ" کے ص75 پر فرماتے ہیں کہ
ﷲ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے حضرت ﷺ کی ولادت کے مبارک مہینہ "ربیع الاول" کی راتوں کو ’’عیدین‘‘ اختیار کیا ہے تاکہ اس کایہ "عید" اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لاعلاج بیماری آپ کے مولد شریف کے سبب ہے۔۔۔ بعض نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’’عید‘‘ اس دن کو کہتے ہیں جس دن عید کی نماز پڑھی جائے یہ نادانی ہے حالانکہ عید میلاد النبی بمعنی حضورﷺ کی ولادت کی خوشی ہے۔۔۔

صحابہ کرام علیہم رضوان کا میلاد منانا۔۔۔👉
میلاد کے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی محافل منعقد کر کے میلاد کا تذکرہ کرنا ہے،خ چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس طرح میلاد منایا۔۔۔

حدیث ۔۔۔ 1) ۔۔۔👇
حضرت حسان بن ثابت رضی ﷲ عنہ سرکار ﷺ کی تعریف میں فخریہ "نعتیہ" اشعار پڑھتے سرکار کریم ﷺ حضرت حسان رضی ﷲ عنہ کے لئے فرماتے ﷲ تعالیٰ روح القدس "حضرت جبرائیل علیہ السلام" کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے۔۔۔(بخاری جلد1 ص 65)

*حدیث ۔۔۔ 2) ۔۔۔👇
حضرت درداء رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ میں سرکار ﷺ کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی ﷲ عنہ کے گھر گیا وہ اپنی اولاد کو حضور ﷺ کی ولادت کے واقعات سکھلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آج کا دن ہے سید عالم ﷺ نے اس وقت فرمایا ﷲ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے رحمت کا دروازہ کھول دیا اور سب فرشتے تم لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کررہے ہیں۔۔۔ جو شخص تمہاری طرح واقعہ میلاد بیان کرے اس کو نجات ملے گی۔۔۔ منکرین اب کیا کہتے ہیں۔
(رضیہ التنویر فی مولد سراج المنیر) غیر مقلد 👉

یہ کہنا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مروجہ میلاد منانا ثابت نہیں ہے ایسا کہنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے سالانہ اجتماعات حج کے علاوہ کئے کبھی ختم بخاری کے اجتماعات کئے کبھی قرآن و حدیث کانفرنس کا انعقاد کیا کبھی بڑے بڑے میناروں والی مسجدیں بنوائیں کبھی شاندار قرآن مجید شائع کئے قرآن مجید کا دوسری زبان میں ترجمہ و تفسیر لکھی کبھی آزادی کے جلوس نکالے کبھی مخصوص دیوبندی اور اہلحدیث فرقے کے نام سے تبلیغ کی کبھی تھانوی میرٹھی محمدی اور سلفی اپنے نام کے ساتھ لکھا ان تمام کاموں کو انجام دیتے وقت یہ خیال نہیں آتا کہ یہ تمام کام صحابہ کرام رضون ﷲ علیہم اجمعین نے نہیں کئے؟؟؟
صرف اور
صرف میلاد النبیﷺ منانے کے متعلق یہ سوال اٹھاتے ہو کیا یہ میلاد سے عداوت کی دلیل نہیں؟؟؟

شب ولادت شب قدر سے افضل ہے۔۔۔
شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
سرور کونین ﷺ کی ولادت کی شب یقینا شب قدر سے زیادہ افضل ہے کیونکہ شب ولادت آپ ﷺ کی ولادت کی شب ہے اور شب قدر آپ ﷺ کو عطا کی ہوئی شب ہے۔۔۔
(ماثبت من السنہ، ص84)

جھنڈے و پرچم لگانے کا ثبوت۔۔۔
شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب "ماثبت من السنہ" میں لکھتے ہیں کہ
حضرت آمنہ رضی ﷲ عنہا نے فرمایا کہ "شب ولادت" میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا۔۔۔
(ماثبت من السنہ ص75)
(سیرت حلبیہ جلد1 ص100)

شب ولادت کھڑے ہوکر سلام پڑھنا۔۔۔
حضرت امام سبکی علیہ الرحمہ کی محفل میں کسی نے یہ شعر پڑھا
’’بے شک عزت و شرف والے لوگ سرکار اعظم ﷺ کا ذکر سن کر کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘
یہ سن کر امام سبکی علیہ الرحمہ اور تمام علماء و مشائخ کھڑے ہوگئے۔۔۔ اس وقت بہت سرور اور سکون حاصل ہوا
(سیرت حلبیہ جلد1 ص80)

برصغیر کے معروف محدث اور گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں محفل میلاد میں کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں میرا یہ عمل شاندار ہے
(اخبار الاخیار ص624)

حدیث ۔۔۔ 2) ۔۔۔👇
حضرت اوس بن اوس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فضیلت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا۔۔۔
(ابو داؤد 1047 ص159)
الحمدﷲ
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام، شہداء اور صالحین اپنی قبور میں جسم و جسمانیت کے ساتھ حیات ہیں۔۔۔
جب حضورﷺ حیات ہیں تو پھر سوگ اور غم کیسا؟؟؟
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔۔۔
ہم اہلسنت یوم وفات نہیں بلکہ یوم ولادت کی خوشی مناتے ہیں۔۔۔
لفظ ’’میلاد النبیﷺ‘‘ محدثین کا عطا کردہ ہے۔۔۔
نبی کریم ﷺ کی ولادت مبارک کے احوال کے اظہار و برکات کے سلسلہ میں لفظ میلاد کا اولین استعمال جامع ترمذی میں ہے۔۔۔ جامع ترمذی صحاح ستہ میں سے ہے اس میں ایک باب بعنوان ’’ماجاء فی میلاد النبیﷺ‘‘ ہے۔۔۔

صاحب مشکوٰۃ نے مشکوٰۃ شریف میں باب باندھا اور اس باب کا نام’’میلاد النبیﷺ‘‘ رکھا۔۔۔الحمداللہ

سعودی عرب کا موجودہ اسلامی کلینڈر آپ ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
اس کلینڈر میں ربیع الاول کے مہینے کی جگہ ’’میلادی‘‘ لکھا ہوا ہے یعنی یہ میلاد کامہینہ ہے۔۔۔

پوری دنیا کے تعلیمی نصاب کو دیکھ لیں تمام نصاب میں اسلامیات کے باب میں ’’عید میلاد النبیﷺ‘‘ کے نام سے باب ملے گا بارہ وفات کے نام سے نہیں ملے گا۔۔۔
کیا مروجہ میلاد النبی ﷺ ایک ظالم اور عیاش بادشاہ کی ایجاد ہے؟؟؟

عید میلاد النبی ﷺ سے عداوت رکھنے والے ایک من گھڑت بات یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ میلاد کی ابتداء عیاش اور ظالم بادشاہ مظفر الدین نے کی۔۔۔
حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں مظفر الدین شاہ اربل عیاش نہ تھا بلکہ عادل تھا دیوبندیوں اور غیر مقلدین اہلحدیث کے معتبر مورخ ابن کثیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ
شاہ اربل مظفر الدین بن زین الدین ربیع الاول میں میلاد شریف مناتا اور عظیم الشان جشن برپا کرتا تھا۔۔۔
وہ ایک نڈر، جانباز، عاقل، عالم اور عادل بادشاہ تھے۔۔۔
ﷲ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور انہیں بلند درجہ عطا فرمائے۔۔۔

شیخ ابو الخطاب بن دحیہ نے ان کے لئے میلاد شریف کی ایک کتاب تصنیف کی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ رکھا تو انہوں نے شیخ کو ایک ہزار دینار پیش کیا۔۔۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک حکمرانی کی اور سات سو تیس ہجری میں جب وہ عکا شہر میں فرنگیوں کے گرد حصار ڈالے ہوئے تھے ان کا انتقال ہوگیا۔۔۔ وہ اچھی سیرت و خصلت کے حامل تھے۔۔۔
(البدایہ والنہایہ جلد3، ص136)

سبط ابن جوزی نے ”مرأۃ الزمان“ میں ذکر کیا ہے کہ شاہ اربل کے یہاں میلاد شریف میں بڑے بڑے علماء صوفیاء شرکت کرتے تھے۔۔۔
(الحاوی للفتاویٰ جلد1 ص190)

میلاد کا انکار کرنے والے اپنے علم کو ذرا وسیع کریں تاکہ انہیں ذلیل نہ ہونا پڑے۔۔۔

میلاد النبی ﷺ کے متعلق علمائے اسلام کے اقوال و افعال

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد المعروف امام قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔۔۔
حضورﷺ کے پیدائش کے مہینے میں اہل اسلام ہمیشہ سے محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں اور خوشی کے ساتھ کھانے پکاتے رہے اور دعوت طعام کرتے رہے ہیں اور ان راتوں میں انواع و اقسام کی خیرات کرتے رہے اور سرور ظاہر کرتے چلے آئے ہیں۔۔۔(مواہب اللدنیہ جلد1، ص 27)

حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے والد شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں ’’میرے والد نے مجھے خبر دی کہ میں عید میلاد النبیﷺ کے روز کھانا پکوایا کرتا تھا۔۔۔
ایک سال تنگ دست تھا کہ میرے پاس کچھ نہ تھا مگر صرف بھنے ہوئے چنے تھے میں نے وہی چنے تقسیم کر دیئے۔۔۔ رات کو سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا اور کیا دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ کے سامنے وہی چنے رکھے ہیں اور آپ خوش ہیں۔۔۔
(درثمین ص 😎

حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ اور ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا معمول تھا کہ بارہ ربیع الاول کو ان کے ہاں لوگ جمع ہوتے آپ ﷺ کا ذکر ولادت فرماتے پھر کھانا اور مٹھائی تقسیم کرتے۔۔۔
(الدر المنظم ص 89)
__

حضرت سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما – جلیل القدر  صحابی، مظلومِ مکہ، شہیدِ صفینحضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ وہ خوش...
02/08/2025

حضرت سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما – جلیل القدر صحابی، مظلومِ مکہ، شہیدِ صفین
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب ہستی ہیں جو قدیم الاسلام، یعنی ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔
آپ اور آپ کے والدین نے اسلام کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ مکہ کے مشرکین نے آپ کو اذیتیں دیں، آگ میں جھونکا، تاکہ دینِ حق سے پھر جائیں — مگر وہ کیا جانیں کہ عمارؓ صرف جسم سے نہیں، دل سے بھی مؤمن تھے۔
جب آپ کو زندہ آگ میں ڈالا گیا تو حضور نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"اے آگ! عمار پر اسی طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا، جیسے ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی

آگ فوراً ٹھنڈی ہو گئی — کیونکہ عمارؓ نبی ﷺ کے خاص تھے، اور اللہ کے مقرب

نبی کریم ﷺ نے آپ کا لقب رکھا:

"طَیِّبٌ مُطَیَّب"
یعنی "خود بھی پاک، اور دوسروں کو پاک کرنے والے

آپ تمام غزوات میں شریک رہے، بدر کے میدان سے صفین کے معرکے تک، ہر محاذ پر حق کی آواز بنے رہے۔

بالآخر 7 صفر 37 ہجری کو جنگ صفین کے دوران مولائے کائنات امیرالمؤمنین اولین ولآخرین وصی و اخی مصطفیٰ مولاعلی ابن ابی طالب علیہم السلام کی فوج میں شریک ہو کر شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔
آپ کی عمر اُس وقت 93 سال تھی۔

آپ کا مزارِ مبارک شام کے شہر رقہ (الرَّقَّہ) میں موجود ہے، جو آج بھی حق پرستی کا خاموش گواہ ہے۔

عمارؓ کا نام آتے ہی ہمیں یاد آتا ہے:

"عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا"
صحیح بخاری، صحیح مسلم
الحمد اللّه
اور ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم سیدنا عمارؓ کو ماننے والے ہیں،

🌑 ابو لہب اور ام جمیل کا واقعہ (تفصیل + حوالہ)📖 قرآن مجید کا اعلان (سورہ المسد):> تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ۝١مَ...
11/06/2025

🌑 ابو لہب اور ام جمیل کا واقعہ (تفصیل + حوالہ)

📖 قرآن مجید کا اعلان (سورہ المسد):

> تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ۝١
مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ۝٢
سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ۝٣
وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ۝٤
فِى جِيدِهَا حَبْلٌۭ مِّن مَّسَدٍۢ۝٥

ترجمہ:
"ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا۔
اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئے۔
وہ جلد ہی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
اور اس کی بیوی بھی — جو ایندھن ڈھونے والی تھی۔
اس کی گردن میں کھجور کے ریشے کی رسی ہوگی۔"

(سورۃ المسد، آیات 1-5)

👤 ابو لہب کون تھا؟

اصل نام: عبد العزی بن عبدالمطلب

رسول اللہ ﷺ کا سگا چچا تھا

مگر اس نے اسلام اور نبی ﷺ سے شدید دشمنی کی

وہ ہر جگہ حضور ﷺ کی مخالفت کرتا، لوگوں کو آپ ﷺ سے دور کرتا، طعنے دیتا، اور ہنسی اُڑاتا۔

🧨 ایک واقعہ:

جب نبی کریم ﷺ نے کوہِ صفا پر قریش کو جمع کر کے پہلی بار دعوتِ توحید دی —
تو سب خاموش تھے، دلوں پر اثر ہو رہا تھا،
تب ابو لہب چلا اُٹھا:

> "تبًّا لک یا محمد! ألهذا جمعتنا؟"
“تیرا ناس ہو اے محمد! کیا اسی لیے تُو نے ہمیں بلایا؟”

(صحیح بخاری، حدیث 4770)

اسی لمحے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورہ المسد نازل ہوئی — ابو لہب کی ہمیشہ کے لیے بربادی لکھ دی گئی۔

🧕 ام جمیل کا کردار:

نام: أروى بنت حرب

ابوسفیان کی بہن (یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی)

قرآن نے اسے کہا: "حمالۃ الحطب" —
یعنی “لکڑیاں ڈھونے والی”
🪵 تشریح

1. ظاہری معنی: وہ جھاڑیاں جمع کر کے نبی ﷺ کے راستے میں پھینکتی تاکہ تکلیف دیں۔

2. باطنی معنی: وہ فتنہ، چغلی، سازش اور نفرت کی آگ بھڑکاتی، اور اسی آگ کا ایندھن خود بن گئی۔

اس کا حال بھی ابو لہب جیسا ہی ہوا —
قیامت میں اس کی گردن میں کھجور کے ریشوں کی رسی ہوگی، جس سے وہ جہنم میں گھسیٹی جائے گی۔

🌟 عبرت:

ابو لہب اور ام جمیل، دونوں رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے،
مگر نسب نہیں — ایمان بچاتا ہے۔

قرآن نے یہ واقعہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا، تاکہ ہم جانیں:

> دشمنی اگر اللہ کے نبی ﷺ سے ہو —
تو رشتہ، مال، شہرت — کچھ کام نہیں آتا۔

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ عظمت اور شان والے ہیں اللہ اُن سے راضی ہے اور ...
22/05/2025

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ عظمت اور شان والے ہیں اللہ اُن سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے بے شمار فضائل ارشاد فرمائے ہیں اور ان سے محبت اور عقیدت کی تاکید فرمائی ہے اس لیے امت مسلمہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے ورنہ ایمان کے رخصت ہونے کا اندیشہ ہے۔ صحابہ کرام سے محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور محبت کا تقاضا ہے کہ اُن کی تعلیمات کو عام کیا جائے۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی رسول ہیں آپ کا تعلق قبیلہ بنو خزرج کے خاندان نجار سے تھا جن سے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھالی رشتہ بنتا ہے۔ آپ کے قبول اسلام کا واقعہ بھی عجیب ہے اس زمانے میں مدینہ کے مختلف قبائل میں باہم آویزش تھی۔ آپ اپنے ساتھی ذکوان کے ساتھ مکہ میں اپنے ایک سردار دوست عتبہ بن ربیعہ کے ہاں امداد کے طالب ہوکر گئے وہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کا ذکر سنا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کو اسلام کا پیغام سمجھایا اور قرآن کریم کی تلاوت سنائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مؤثر دعوت سے اسلام ان کے دل میں گھر کر گیا۔ وہ اسلام قبول کرکے واپس مدینہ لوٹے اور خاموشی سے اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کیا اسی کے نتیجہ میں 6 افراد پر مشتمل ایک وفد نےحج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ ثانیہ میں بھی شامل تھے اور بنونجّار کے سردارکے طور پر ان کو خدمت کی سعادت ملی۔ گو اس زمانہ میں ان کی عمر کم تھی لیکن سردارانہ فہم و فراست اللہ تعالیٰ نے بہت عطا کی تھی۔ آپ سچے عاشق رسول تھے مخیّر لوگوں میں ان کا شمار تھا۔ اپنے قبیلے کے رئیس اور سردار بھی تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو نئی جگہ آباد کاری کی کئی ضروریات سامنے تھیں۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حسب ضرورت وہ تحفہ پیش کیا جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےگھر میں بہت عمدہ خوبصورت قسم کا پلنگ تھا جس کے پائے ہاتھی دانت کے بنے ہوئے تھے اور جو حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے بطور تحفہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری پر جب مسلمانوں کےلئے مسجد کے قیام کی ضرورت پیدا ہوئی تو وہ احاطہ جو سہل اور سہیل کا تھا وہاں مسجد نبوی تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے یہ مخلصانہ پیشکش کی کہ ان دونوں بچوں کو میں راضی کرلوں گا یہ زمین مسجد کےلئے قبول کر لی جائے اور اس کے عوض انہوں نے بنی بیاضہ والا اپنا باغ پیش کردیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر سے پہلے ہی بیمار ہو کر وفات پاگئے ان کو ایسی بیماری لاحق ہوگئی جس سے چہرہ اور جسم سرخ ہوجاتا تھا ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق اس بیماری کا علاج داغنے سے کیا جاتا تھا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینے ہجرت کے بعد حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ وفات پانے والے پہلے فرد تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں مسلمانوں کے لئے نیا ماحول تھا اور یہود کی دشمنی الگ تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر لاحق تھی کہ اس وفا شعار صحابی کی بیماری یا موت دشمن کی خوشی کا موجب نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے ان کے گھر تشریف لے گئے ان کی بیماری کا حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی تقدیرالہٰی کا مسئلہ کھول کر بیان کردیا اور فرمایا کہ اسعد اس بیماری سے جانبر نہیں ہو سکیں گے اور یہود طعنہ زنی کریں گے کہ دیکھو یہ کیسا نبی ہے جو اپنے وفا شعار ساتھی کو بھی نا بچا سکا۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ تو میں اپنے بارے میں بھی کوئی قدرت اور اختیار رکھتا ہوں نہ کسی دوسرے کیلئے مجھے کوئی طاقت حاصل ہے۔ تقدیر معلوم ہو جانے پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج اور تدبیر نہیں چھوڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ سے بالآخر داغنے کا علاج کیا گیا مگر تقدیر الہٰی غالب آئی اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اسی بیماری سے فوت ہوگئے۔ اس موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال محبت اور تعلق کا اظہار فرمایا ان کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے غسل دینے میں شریک ہوئے۔ انہیں تین چادروں کا کفن پہنایا اورخود نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے خوش قسمت صحابی تھے جو جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جنازہ کے ساتھ آگے آگے چلتے ہوئے جنت البقیع تک گئے اور یوں ایک اعزاز کے ساتھ اپنے وفا شعار ساتھی کی تدفین فرمائی۔

Address

Naseem UL Quran Islamic Center
Lala Musa
50200

Telephone

+923013882298

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naseem-Ul- Quran Islamic Center Lalamusa Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share