Top Of The List

Top Of The List Top of the List is platform which provide you to very interesting Videos, Articles, stories, news et

04/07/2025

ایک شخص جسے لوگ ٹڈا کہتے تھے۔ اپنی بیوی کو لیکر اپنے مقامی گاوں سے نکل کر دوسرے گاوں میں سیٹل ہوگیا۔ فیصلہ کیا اس نئے گاوں میں نئی شناخت پیدا کروں گا اب لوگ مجھے ٹڈا نہیں پیر صاحب کہیں گے۔ بیگم نے پوچھا وہ کیسے؟ جواب دیا اس گاوں کے چوہدری کی بہن کے پاس ایک قیمتی ہار ہے بس تم وہ ہار کسی طرح چرا کر لے آو۔ پھر دیکھتی جائو۔
بیگم نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہار کمال مہارت سے چرایا، اور لاکر ٹڈے کو دے دیا۔ دوسری جانب گاٗوں میں ہنگامہ ہوگیا ہار کی چوری کی خبر جنگل میں درختوں کی طرح پھیل گئی۔ ٹڈے نے اپنی بیوی کو کہاں جاو جاکر چوہدری کی بہن کو بتا آئو کہ میرا خاوند بہت بڑا بزرگ ہے لوگوں کی گمشدہ چیزیں برآمد کرتا ہے۔ اس بات پر چوہدری اپنے گھرانے اور گاوں والوں کو ساتھ لیکر ٹڈے کے ہاں حاضر ہوگیا اور پیر صاحب سے کہا جی بتائے ہمارا ہار کہاں ہوسکتا ہے۔ ٹڈے نے راتوں رات ہار چوہدری کے گھر کی چھت پر پھینک دیا تھا، بتایا آپ کا ہار کسی نوکرانی نے چرایا تھا جس نے بعد میں خوفزدہ ہوکر آپ کی چھت پر پھینک دیا، جاکر اٹھا لو وہاں سے۔ ہار ملنے کے بعد اس ابتدائی کرامت پر سارا گاوں پیر صاحب کا مرید ہوگیا،مگر چوہدری جو اندھوں میں کانا راجہ تھا اسے پیر صاحب کھٹکنے لگا، گاوں والوں کو سمجھایا ، کہ یہ شخص مجھے فراڈ معلوم ہوتا ہے ۔ مگر گائوں والے انکار کرتے رہے چوہدری نے پیر صاحب کو ایک اور آزمائش میں ڈالا مگر خوش قسمتی سے وہ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوا۔ لوگوں نے چوہدری کو سمجھایا کہ اب بس کرو بزرگوں پر شک نہیں کیا جاتا، چوہدری پریشان ہوگیا، اور عہد کرلیا جو بھی ہو میں اس پیر کا بھانڈا پھوڑ کے ہی چھوڑں گا، آخر ایک دن چوہدری نے اعلان کیا کل کھلے میدان تمام گاوں کے لوگ اکٹھے ہونگے اگر پیر صاحب نے بتا دیا کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے تو میں سب کے سامنے اس کے ہاتھ پر بیعت ہوجاونگا.
سب لوگ پیر سمیت میدان میں پہنچ گئے چوہدری گھر سے نکلا تو سوچتا رہا ہاتھ میں کیا پکڑا جائے؟ اچانک اس کی نظر ایک ٹڈے پر پڑ گئی اس نے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ پھدک گیا ، پھر ہاتھ بڑھایا پھر پھدک گیا ، تیسری دفعہ میں پکڑا گیا۔ چوہدری مجمعے میں پہنچا اور سوال کیابتاو ” میری مٹی میں بند ہے کیا” اس سے پہلے کہ پیر صاحب جواب دیتا کہ ” ناز پان مصالحہ”۔
ایک گہری سوچ میں پڑ گیا اسے اپنی شامت نظر آئی، دو بار تو جیسے تیسے بچ گیا تھا مگر اس بار بچنا ناممکن تھا لہذا مایوسی میں آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے کہا۔ ہائے رے ٹڈے پہلی چھلانگ میں تو بچ گیا تھا، دوسری چھلانگ میں بھی بچ گیا مگر اب تیسری دفعہ تم گرفت میں اگئے۔ یہ سنتے ہی چوہدری ٹڈا المعروف پیر صاحب کے پاوں سے لپٹ گیا دھاڑے مار مار کر معافیاں مانگی، کہا کوئی مانے نہ مانے میں مانتا ہوں کہ تم پیر و مرشد ہو

کمہار اور بادشاہ ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپ...
02/07/2025

کمہار اور بادشاہ
ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا،
سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا، اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا ایک گدھا اور بس! سو اس نے اعلان کر دیاکہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔
بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو بند کر دیا، کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔ اس نے کہا بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!!
فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے، بس پھر کیا تھا،
سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا، اس نے جواب دیا ہاں، فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو د’رے مارے جائیں،اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔
اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا اچھا یہ بتاو فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا، اس نے کہا کہ ہاں پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو د’رے مارے جائیں، پھر مار پڑنا شروع ہوگئی۔ غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔
صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔
جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی، لوگوں نے پوچھا بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں، تو اس نے جواب دیا، او بھائیوں پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے۔
کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے.

ایک دن ایک بیوی کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے خاموشی سے ایک ترکیب سوچی۔ شام کو بڑے س...
01/07/2025

ایک دن ایک بیوی کو پتہ چلا کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نے خاموشی سے ایک ترکیب سوچی۔ شام کو بڑے سلیقے سے کھانے کا اہتمام کیا اور چار ابلے ہوئے انڈے لے کر انہیں مختلف رنگوں میں رنگا، اور شوہر کے سامنے رکھ دیے۔

شوہر نے حیرت سے رنگین انڈوں کو دیکھا، پھر بیوی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ بیوی نے نرمی سے کہا:
"کھا کر بتائیں، ان رنگین انڈوں کا ذائقہ کیسا لگا؟"

شوہر نے تین انڈے کھا لیے اور بولا:
"سب کا ذائقہ تو ایک جیسا ہے، بس رنگ ہی الگ ہیں، تو پھر ان رنگوں کا فائدہ؟"

بیوی مسکرائی اور بولی:
"بس سرتاج! عورتیں بھی ان انڈوں کی طرح ہوتی ہیں، سب کا اصل ایک جیسا ہوتا ہے، بس رنگ روپ میں فرق ہوتا ہے۔"

شوہر نے چوتھا انڈہ بھی کھایا، تسلی سے ڈکار لی، اور ہنستے ہوئے بولا:
"تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو، مگر کیا کریں... جب تک سارے انڈے نہ چکھ لیں، دل مطمئن نہیں ہوتا!"

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎قاضی کا ایک عجیب و دلچسپ فیصلہ           ایک ریاست میں ایک بوڑھے شخص ...
29/06/2025

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

قاضی کا ایک عجیب و دلچسپ فیصلہ

ایک ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو روٹی چوری کرتے پکڑا گیا ، علاقے کے کچھ لوگ اسے پکڑ کر وقت کے قاضی (جج) کے پاس لے گئے،
قاضی نے بوڑھے بابا سےکافی سوالات کئے۔لیکن بابا نے کوئی جواب نہیں دیا ،
بالآخر قاضی نے فیصلہ یوں سنایا۔
بابا جی روٹی چوری کرنے کے جرم میں ایک درہم ( روپیہ۔ ڈالر ) تندور کے مالک کو بطور جرمانہ ادا کرے گا ۔ یہ سنتے ہی لوگوں نے فاتحانہ نعرے لگانے شروع کئے ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ ٹھہرو ابھی فیصلہ کی دوسری قسط باقی ہے ،
سب لوگ سمجھے کہ اب شاید بابا کو قید کی سزا بھی ہوگی ۔ لیکن قاضی کے فیصلہ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
قاضی نے گرجدار آواز میں فیصلہ سنایا کہ جتنے لوگ بابا جی کو پکڑ کر لائے ہیں وہ سب اور جو لوگ بابا جی کے گھر کے آس پاس تین گلیوں میں رہتے ہیں وہ سب ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو پچاس درہم باباجی کو بطور جرمانہ ادا کریں گے۔
لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو قاضی نے جواب دیا ۔ نہ بابا کی عمر چوری کی ہے نہ بابا پیشہ ور چور لگتے ہیں کیونکہ اگر چور ہوتے تو اپنی صفائی اچھے انداز سے پیش کرتے جیساکہ چوروں کا دستور ہے۔
بابا جی کو بھوک نے چوری تک پہنچایا ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب بابا کے پڑوسی ہیں۔ جنہوں نے کبھی بابا کی خبر نہ لی اس لئے بابا ایک روٹی کے چور ہیں جبکہ بابا جی کا پورا محلہ انسانیت کا چور ہے ۔
جو سزا میں نے سنائی ہے حقیقت میں تمہارا فریضہ تھاجو تم ادا نہ کرسکے اسلئے اسکو جرم کانام دیا گیا۔
قاضی کے فیصلہ نے بابا جی کے آنکھوں سے آنسو نکال دئے۔ جبکہ تماش بینوں کی گردن جھکا دی۔

دنیا نے غلامی کے طریقے بدل دیے ہیں،زنجیریں اب لوہے کی نہیں،تنخواہوں، کرایوں اور قرضوں کی ہیں۔وہ تمہیں اتنا کچھ ضرور دیتے...
29/06/2025

دنیا نے غلامی کے طریقے بدل دیے ہیں،
زنجیریں اب لوہے کی نہیں،
تنخواہوں، کرایوں اور قرضوں کی ہیں۔

وہ تمہیں اتنا کچھ ضرور دیتے ہیں
کہ تم بھوکے نہ مرو،
مگر اتنا کبھی نہیں دیتے
کہ تم آزاد ہو کر جینا شروع کر دو۔

تم ہر صبح اٹھتے ہو،
دفتر جاتے ہو،
تنخواہ کے وعدے پر دن بھر اپنا وقت، اپنی توانائی،
اپنے خواب، اپنی جوانی
قسطوں میں گروی رکھ دیتے ہو۔

اور شام کو؟
تم بس اتنا پاتے ہو
کہ اگلی صبح دوبارہ کام پر جا سکو۔
یہ زندگی نہیں —
یہ بقا ہے،
اور بقا آزادی نہیں ہوتی۔

✍️__چارلس بوکوسکی

ایک جاپانی سیاح بھارت کے شہر امر تسر میں تھا . ایک روز گھومتے ہوے اپنے ہوٹل کا راستہ بھول گیا .قریب دو کانسٹیبل کھڑے تھے...
29/06/2025

ایک جاپانی سیاح بھارت کے شہر امر تسر میں تھا . ایک روز گھومتے ہوے اپنے ہوٹل کا راستہ بھول گیا .
قریب دو کانسٹیبل کھڑے تھے . سیاح نے انگریزی زبان میں ان سے اپنے ہوٹل کا راستہ پوچھا ، سپاہی کچھ نہ سمجھے . انھوں نے معذرت کی کہ وہ انگریزی نہیں جانتے . سیاح نے اپنا سوال فرانسیسی میں دہرایا سپاہیوں نے معذرت کی کہ وہ یہ زبان بھی نہیں جانتے
چنانچہ سیاح نے اپنا سوال جاپانی ، چینی اور روسی زبان میں بھی دہرایا لیکن کانسٹیبل ہر بار منہ لٹکا کر رہ گیے. اور سیاح مایوس ہو کر آگے بڑھ گیا
اسکے جانے کے بعد ایک کانسٹیبل دوسرے سے بولا " مہتا جی ہمیں بھی کوئی غیر ملکی زبان سیکھ لینی چاہیے تا کہ ہم سیاحوں کی مدد کر سکیں "
کوئی فائدہ نہیں رنجیت سنگھ جی . دوسرا کانسٹیبل سنجیدگی سے بولا " تم نے دیکھا نہیں یہ سیاح کتنی زبانیں جانتا تھا مگر ایک بھی اسکے کام نہیں آئی...!
😀😀😀

29/06/2025

*ہیلمٹ نہ پہننے پر جرمانہ2000 روپے*
*غلط جگہ پارکنگ پر جرمانہ 2000 روپے*
*ممنوعہ جگہ کی طرف گاڑی کے داخلے پر جرمانہ 500 روپے*
*بائیک پر تین افراد بٹھانے پرجرمانہ 2000 روپے*
*پلاسٹک کے ہیلمٹ پہننے پر جرمانہ 5000 روپے*
*ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی پر جرمانہ 1000 روپے*
*ون وے پر جرمانہ 2000 روپے*
*بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر جرمانہ 2000 روپے*

~*اب دوسرا پہلو دیکھیئے*
*سڑک پر بے شمار گڑھے کھڈے ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*گلیوں میں سیوریج کاپانی ، بارش کا پانی زمہ دار کوئی نہیں*
*مین ہولز کے ڈھکن نہیں روزانہ ایکسیڈینٹ زمہ دار کوئی نہیں *
*سرکاری ہسپتالوں میں دوایاں نہیں زمہ دار کوئی نہیں*
*ناکارہ سگنل لائٹس ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک کی کھدائی کے بعد اسکی مرمت نہیں ہوتی ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک پر سیاسی فلیکسز اور بینرز لگوائے جاتے ہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*فٹ پاتھ پر بےشمار تجاوزات ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑک پر ابلتی کچرا کنڈیاں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
*سڑکوں پررات کے اوقات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں ۔ کوئی ذمہ دار نہیں*
ایسا لگتا ہے کہ عوام صرف مجرم ہیں اور جرمانے ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں
انتظامیہ اور حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔
ان پر کوئی قواعد و ضوابط لاگو نہیں ۔
وہ مسائل کے حل کے لیے کبھی ذمہ دار نہیں ۔
کیا انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیئے؟
*شہری فرائض ادا کریں*
*شہری تکلیف کا سامنا کریں*
*شہری ٹیکس ادا کریں*
*شہری حکومت کا خزانہ بھریں*
اور حکومت ہمارے ٹیکسوں سے عیاشیاں کرے
*حالات تبدیل ہونے چاہئیں*
یہ سب ممکن ہوگا عوام میں بیداری پیدا کرنے سے ۔
اس پیغام کو پھیلائیں ۔
شعور پیدا کریں ۔

نیم حکیم خطرہِ جان۔۔۔🤪🤣😬پہلوان کی ٹانگ نیلی ہو گئی ۔ حکیم کے پاس گیا۔ اس نے معائنہ کر کے بتایا کہ زہر پھیل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ...
28/06/2025

نیم حکیم خطرہِ جان۔۔۔🤪🤣😬

پہلوان کی ٹانگ نیلی ہو گئی ۔ حکیم کے پاس گیا۔ اس نے معائنہ کر کے بتایا کہ زہر پھیل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ٹانگ کاٹنی پڑے گی“۔

تین دن بعد پہلوان کی دوسری ٹانگ بھی نیلی ہو گئی ۔ دوبارہ حکیم کے پاس گیا ۔

اس نے کہا۔ ” یہ بھی کاٹنی پڑے گی“۔ اس طرح اس کی دنوں ٹانگیں کاٹ کے پلاسٹک کی لگا دیں۔

چند دن بعد پلاسٹک کی ٹانگیں بھی نیلی ہو گئیں ۔ وہ دوبارہ حکیم کے پاس پہنچا۔ اس نے بغور معائنہ کیا اور کہا۔

اب " سمجھ آئی ۔ ۔ ۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تمہاری دھوتی کا رنگ اتر رہا ہے ۔ "۔

31/05/2025

*مچھر کا بچہ پہلی دفعہ اڑا*
*جب واپس آیا تو دوسرے مچھروں نے پوچھا:*

*کیسی رہی پرواز،،،، مچھر کا بچہ بولا بہت اچھی*

*جہاں گیا وہاں لوگ میرے لیے تالیاں بجا رہے تھے👏👏👏👏*

🙁🙁🙁🙁🙁😁😁😁😂😂😂

10/10/2024

انصافین💕💞❣️

14/04/2024

ایاک نعبد وایاک نستعین 💞
اگر بلوچستان میں یہ حال ہے تو خیبر اور پنجاب میں تو اس سے بھی بڑا سونامی آئے💖 انشاء اللہ۔

Address

Lalian
35470

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Top Of The List posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share