Discover Sindh

Discover Sindh آگاھي، معلومات، خبرون ۽ اپڊيٽس

لاڙڪاڻو: سڀاڻي بلاول ڀٽو زرداري سنڌ سولر ھائوسنگ سسٽم پروجيڪٽ جي ٻئي مرحلي جو افتتاح ڪندو
14/04/2026

لاڙڪاڻو: سڀاڻي بلاول ڀٽو زرداري سنڌ سولر ھائوسنگ سسٽم پروجيڪٽ جي ٻئي مرحلي جو افتتاح ڪندو

14/04/2026

اهم خبر
ايران آمريڪا امن ڳالهين جو ٻيو دور خميس تي ٿيڻ جو امڪان, پاڪستان ٻيهر اسلام آباد ۾ ڳالهيون ڪرڻ لاءِ پيشڪيش ڪري ڇڏي

روہڑی ریلوے اسٹیشن کے قریب سکھر ایکسپریس کی بوگی پٹری سے اتر گئی، جس کے باعث اپ ٹریک بند ہوگیا
14/04/2026

روہڑی ریلوے اسٹیشن کے قریب سکھر ایکسپریس کی بوگی پٹری سے اتر گئی، جس کے باعث اپ ٹریک بند ہوگیا

وفاقي حڪومت جو وڏو اعلان.. وفاقي حڪومت مصنوعي ذهانت ۾ 1 ارب ڊالر جي سيڙپڪاري جي منصوبي تي عمل شروع ڪرڻ جو فيصلو ڪيو آهي....
14/04/2026

وفاقي حڪومت جو وڏو اعلان.. وفاقي حڪومت مصنوعي ذهانت ۾ 1 ارب ڊالر جي سيڙپڪاري جي منصوبي تي عمل شروع ڪرڻ جو فيصلو ڪيو آهي.

ذريعن موجب، 2030 تائين مرحلن ۾ 1 ارب ڊالر جي سيڙپڪاري ڪئي ويندي. منصوبي جو مقصد جديد مصنوعي ذهانت سسٽم تائين سستي رسائي فراهم ڪرڻ آهي. آئي ٽي وزارت مصنوعي ذهانت لاءِ بنيادي انفراسٽرڪچر ڊولپمينٽ پلان شروع ڪندي. مصنوعي ذهانت جو انفراسٽرڪچر پلان اگنيٽ نيشنل ٽيڪنالاجي فنڊ ذريعي شروع ڪيو ويندو. مصنوعي ذهانت جي ترقي لاءِ جديد ڪمپيوٽنگ پاور ۽ GPUs فراهم ڪيا ويندا.

ذريعن جو چوڻ آهي ته سرڪاري ۽ خانگي شعبن کي ڪمپيوٽنگ پاور ۽ گرافڪس پروسيسنگ يونٽ فراهم ڪيا ويندا، مصنوعي ذهانت جي تحقيق ۽ ترقي لاءِ صنعتن کي وسيلا فراهم ڪيا ويندا، GPUs جي فراهمي مصنوعي ذهانت، ڊيٽا تجزيي ۽ مشين لرننگ ۾ مدد ڪندي، پاڪستاني حڪومت جي هن قدم سان ملڪ جي عالمي ٽيڪنالاجي ۽ مقابلي واري پوزيشن کي وڌيڪ مضبوط ڪيو ويندو، پاڪستان ۾ مصنوعي ذهانت ۾ سيڙپڪاري ڪاروبار ۽ محققن کي فائدو ڏيندي، ۽ مصنوعي ذهانت ۾ سيڙپڪاري پاڪستان ۾ نئين ٽيڪنالاجي لاءِ رستو هموار ڪندي.

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی جانب نہیں جائیں ...
13/04/2026

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی جانب نہیں جائیں گے اور وہ اس بات کا ادراک کر چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔
رپورٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم از کم ایک فریق کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر ایران میں جاری صورتحال سیز فائر کے ذریعے ختم ہوتی ہے تو اس میں سب سے زیادہ سیاسی نقصان امریکی صدر ٹرمپ کا ہوگا۔
جریدے کے مطابق ایران کے خلاف اس تنازع نے امریکی طاقت کے استعمال کے حوالے سے ٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر سکتی ہے، اور’’سنہری دور‘‘ کے دعووں کے بعد اس کے سیاسی اثرات ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ کے تین بڑے اہداف مشرق وسطیٰ کو محفوظ بنانا، ایرانی حکومت کی تبدیلی اور ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنازیادہ تر پورے نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس بھی پسپائی کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کی قیادت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور توانائی و نقل و حمل کے نظام کی تباہی نے ملک کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے، تاہم اسے یہ بھی اندازہ ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی جوہری خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجودہے جو کئی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
Disclaimer:
This report is based on available media information and may change over time. It is for informational purposes only.

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے ایک ضروری تحریرحقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میںآج کل پاکستان میں ایک عجیب لہر چل رہی ...
13/04/2026

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے ایک ضروری تحریر
حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں

آج کل پاکستان میں ایک عجیب لہر چل رہی ہے۔ لوگ دیوانوں کی طرح ایرانی ریال خرید رہے ہیں۔
ان کی سوچ یہ ہے کہ ابھی ایک کروڑ ایرانی ریال دس سے بارہ ہزار پاکستانی روپے میں مل رہا ہے، اگر کل کو ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے تو ان کے دس ہزار روپے ایک کروڑ روپے بن جائیں گے۔ یہ خواب بہت خوبصورت ہے لیکن کیا یہ حقیقت بن سکتا ہے؟
آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔

آج کی تاریخ میں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً پانچ ہزار پانچ سو چالیس ایرانی ریال کے برابر ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں ایک ایرانی ریال کی قیمت صرف صفر اعشاریہ صفر صفر صفر دو ایک پاکستانی روپے ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے ہیں تو بین الاقوامی شرح تبادلہ کے مطابق ان کی اصل قیمت صرف دو ہزار ایک سو روپے ہے۔ پاکستان کی مقامی منڈی میں یہی ایک کروڑ ریال دس سے بارہ ہزار میں فروخت ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ خریدتے وقت ہی بین الاقوامی شرح سے پانچ گنا زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے کیا ہونا چاہیے؟
اس کے لیے ایرانی ریال کو اپنی موجودہ قیمت سے پانچ ہزار پانچ سو چالیس گنا بڑھنا ہوگا۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی کرنسی کے ساتھ اتنی بڑی قدر میں اضافہ کبھی نہیں ہوا۔ کویتی دینار دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے اور ایک کویتی دینار تقریباً نو سو پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اگر ایران کویت جیسا بھی بن جائے جو کہ خود ایک خیالی بات ہے تو بھی ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ایران کی معیشت اس وقت کس حال میں ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے۔ سنہ انیس سو اناسی کے انقلاب کے وقت ایک امریکی ڈالر ستر ایرانی ریال کے برابر تھا۔ آج سنہ دو ہزار چھبیس میں ایک ڈالر پندرہ لاکھ سے سترہ لاکھ ریال تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایرانی ریال نے پچھلے پینتالیس سالوں میں اپنی قیمت کا بیس ہزار گنا کھو دیا ہے۔ مارچ دو ہزار پچیس میں ایرانی ریال دنیا کی سب سے کم قیمت کرنسی بن گئی جب شرح ایک ڈالر کے مقابلے میں دس لاکھ ریال سے تجاوز کر گئی۔ صرف سنہ دو ہزار پچیس میں ریال نے اپنی پینتالیس فیصد قیمت کھو دی۔

ایران کی مہنگائی اس وقت چوالیس اعشاریہ چھ فیصد سالانہ ہے جبکہ خوراک کی مہنگائی اٹھاون فیصد سے اوپر ہے۔ پھلوں کی قیمتیں پچھترفیصد بڑھ چکی ہیں اور روٹی اور اناج کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ ایران کی ستاون فیصد آبادی غذائی کمی کا شکار ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ایران کی معیشت سنہ دو ہزار پچیس میں ایک اعشاریہ سات فیصد اور سنہ دو ہزار چھبیس میں مزید دو اعشاریہ آٹھ فیصد سکڑے گی۔ بائیس سے پچاس فیصد ایرانی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں ری ڈینامینیشن کی جو سب سے بڑی غلط فہمی کی وجہ ہے۔ ایران نے منصوبہ بنایا ہے کہ ریال سے چار صفر ہٹا کر نئی کرنسی متعارف کرائی جائے جس میں ایک نئی اکائی دس ہزار پرانے ریال کے برابر ہوگی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صفر ہٹانے سے کرنسی مضبوط ہو جائے گی لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ ری ڈینامینیشن صرف ایک حسابی تبدیلی ہے۔ یہ نہ مہنگائی کم کرتی ہے، نہ بجٹ خسارہ، نہ کرنسی کی اصل خریداری طاقت میں کوئی فرق آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ پرانے ریال ہیں اور چار صفر ہٹا دیے جائیں تو آپ کے پاس صرف ایک ہزار نئی اکائیاں ہوں گی اور ان کی قیمت بالکل وہی رہے گی جو پہلے تھی۔ آپ کے ایک کروڑ ریال ایک کروڑ نئی اکائیاں نہیں بنیں گے۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات میں ایران اپنی بات منوا لے اور جنگ جیت جائے تو کیا کرنسی اوپر نہیں جائے گی؟
یہ سوال بالکل درست ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ریال کسی حد تک اوپر جائے گا لیکن کتنا؟
اس کے لیے تاریخ دیکھتے ہیں۔ سنہ دو ہزار پندرہ میں ایران نے اپنا سب سے بڑا سفارتی معاہدہ کیا جسے جے سی پی او اے کہتے ہیں۔ اس وقت ایران کی معیشت آج سے بہت بہتر تھی اور پابندیاں ہٹنے کے بعد ریال میں صرف بیس سے پچیس فیصد بہتری آئی تھی۔ آج صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

اسلام آباد میں ابھی جو مذاکرات ہو رہے ہیں ان میں ایران کی دس نکاتی تجویز میں منجمد اثاثوں کی واپسی، تمام پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حق، یورینیم افزودگی کا حق اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی پندرہ نکاتی تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی اور آبنائے ہرمز کھولنا شامل ہے۔ دونوں فریقوں میں سنگین اختلافات ہیں۔ جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار مارے جا چکے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور تین ہزار سے زائد ایرانی شہری جان سے گئے ہیں۔

فرض کریں سب سے بہتر صورتحال پیش آئے، تمام پابندیاں اٹھ جائیں، منجمد اثاثے واپس ملیں اور تیل کی برآمدات معمول پر آ جائیں تو بھی بہترین صورت میں ریال شاید دو سے تین گنا بہتر ہو یعنی ایک ڈالر کی قیمت پندرہ لاکھ سے گر کر پانچ سے سات لاکھ ریال ہو جائے۔ اس صورت میں آپ کے ایک کروڑ ریال کی قیمت بین الاقوامی منڈی میں دو ہزار سے بڑھ کر چار سے چھ ہزار روپے بنے گی۔ اور اگر ناممکن حد تک خوابوں کی دنیا میں ریال سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح پر واپس آ جائے تو بھی آپ کے ایک کروڑ ریال صرف بارہ سے پندرہ ہزار روپے کے ہوں گے جو تقریباً وہی رقم ہے جو آپ نے ادا کی تھی۔ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے تو ریال کو سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح سے بھی اٹھائیس ہزار گنا مزید بڑھنا ہوگا جو ہر طرح سے ناممکن ہے۔

یہ کہانی بالکل نئی نہیں ہے۔ یہی کہانی عراقی دینار کے ساتھ بیس سال پہلے ہوئی تھی۔ سنہ دو ہزار تین کے بعد لوگوں نے سستا عراقی دینار اس امید پر خریدا کہ ایک دن اس کی قیمت اس کی پرانی سطح یعنی تین ڈالر فی دینار پر واپس آ جائے گی۔ بیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور ایک بھی پیشگوئی سچ نہیں ہوئی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے بار بار خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی ری ویلیوایشن معاشی طور پر ناممکن ہے۔ ہارورڈ اور لندن سکول آف اکنامکس کے ماہرین نے اسے مالیاتی فریب اور شکار کرنے والا جال قرار دیا ہے۔ امریکی عدالتوں نے عراقی دینار بیچنے والوں کو دھوکہ دہی کے جرم میں سزائیں دی ہیں۔ ایرانی ریال کے ساتھ بھی بالکل یہی ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب سچ ہے تو پاکستان میں اتنے لوگ کیوں خرید رہے ہیں؟ اس کی دو الگ الگ وجوہات ہیں اور لوگوں نے دونوں کو ملا دیا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے راستے تجارت آسان بنا دی ہے۔ مارچ سے جون تک ایک عارضی چھوٹ دی گئی ہے جس سے ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کو برآمدات ہو سکتی ہیں۔ اس وجہ سے کراچی اور لاہور کے تاجروں کو تجارت کے لیے ریال چاہیے اور اصل طلب بڑھی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ایرانی تیل آسانی سے دستیاب ہے اور ایران اپنے تیل کی ادائیگی اپنی کرنسی میں مانگ رہا ہے۔ یہ حقیقی تجارتی طلب ہے اور اس سے ریال کی مقامی قیمت بڑھی ہے۔

دوسری وجہ خالص قیاس آرائی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ریال ڈھائی ہزار روپے میں ملتا تھا اور اب دس ہزار روپے میں بک رہا ہے یعنی مقامی منڈی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اضافہ صرف پاکستان کی مقامی منڈی میں ہوا ہے جہاں سرحدی تجارت اور غیر رسمی لین دین کی وجہ سے ایک مصنوعی پریمیم بن گیا ہے۔ عالمی منڈی میں ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ پاکستان ٹوڈے نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ریال ڈالر اور یورو کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے لیکن پاکستانی تاجروں کو اچانک زیادہ ریال چاہیے تو کراچی اور لاہور میں اس کی مقامی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پابندیاں، بینکنگ روابط کی کمی اور غیر رسمی تصفیے کے نظام ایسے مقامی پریمیم پیدا کرتے ہیں جو بین الاقوامی شرح تبادلہ کی سکرینوں پر نظر نہیں آتے۔

اب آخری بات واضح طور پر سمجھ لیں۔ اگر آپ ایرانی ریال سرحدی تجارت کے لیے خرید رہے ہیں تو یہ ایک حقیقی تجارتی ضرورت ہے اور اس میں سمجھداری ہے۔ اگر آپ مختصر مدت کی قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو تو دو تین گنا فائدہ ہو سکتا ہے تو یہ خطرناک ہے لیکن اس میں منطق ہے بشرطیکہ آپ نقصان برداشت کر سکیں۔ لیکن اگر آپ یہ سوچ کر خرید رہے ہیں کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے گا اور آپ کے دس ہزار ایک کروڑ بن جائیں گے تو یہ بالکل ناممکن ہے۔ ریاضی اس کی اجازت نہیں دیتی، معاشیات اس کی اجازت نہیں دیتی اور تاریخ میں کسی کرنسی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عراقی دینار میں بیس سال پہلے پیسے لگانے والے آج تک انتظار کر رہے ہیں۔

اپنی محنت کی کمائی کسی خواب کی بنیاد پر مت لگائیں۔ اگر سرمایہ کاری کرنی ہے تو سونا، چاندی یا زمین جیسے حقیقی اثاثوں میں کریں جن کی قیمت پوری دنیا میں تسلیم شدہ

هرمز لنگهه مان گزرندڙ هر جهاز کي نئين ڪنٽرول نظام تحت ٽول ڏيڻو پوندو: ايران
12/04/2026

هرمز لنگهه مان گزرندڙ هر جهاز کي نئين ڪنٽرول نظام تحت ٽول ڏيڻو پوندو: ايران

پاڪستان ايران ذريعي وچ ايشيا کي ڳنڍيندڙ هڪ نئون واپاري راهداري شروع ڪيو آهي، جنهن جو مقصد علائقائي واپار کي وڌائڻ آهي. ا...
12/04/2026

پاڪستان ايران ذريعي وچ ايشيا کي ڳنڍيندڙ هڪ نئون واپاري راهداري شروع ڪيو آهي، جنهن جو مقصد علائقائي واپار کي وڌائڻ آهي. اميد آهي ته اهو رستو ٽرانسپورٽ جو وقت گهٽائيندو ۽ برآمد جي ڪارڪردگي کي بهتر بڻائيندو. آفيسرن جو چوڻ آهي ته اهو پاڪستان جي واپاري رابطي کي مضبوط ڪندو.

ماهرن جو خيال آهي ته راهداري نئين مارڪيٽن کي کولي سگهي ٿي ۽ برآمد جا موقعا وڌائي سگهي ٿي. اهو علائقائي اقتصادي انضمام ۾ هڪ اهم قدم آهي.

ايراني ڳالهين واري وفد جي سربراهه قاليباف جو چوڻ آهي ته آمريڪا کي پهريان اهو فيصلو ڪرڻ گهرجي ته اهي اسان جو اعتماد حاصل ...
12/04/2026

ايراني ڳالهين واري وفد جي سربراهه قاليباف جو چوڻ آهي ته آمريڪا کي پهريان اهو فيصلو ڪرڻ گهرجي ته اهي اسان جو اعتماد حاصل ڪري سگهن ٿا يا نه.

ڳالهين دوران، ايراني وفد ۾ منهنجي ساٿين مختلف تجويزون پيش ڪيون، جڏهن ته، مخالف ڌر ڳالهين جي هن دور دوران ايراني وفد جو اعتماد حاصل ڪرڻ ۾ ناڪام ٿي.

هو چوي ٿو ته آمريڪا اسان جي منطق ۽ اصولن کي سمجهي چڪو آهي، هاڻي اهو انهن تي منحصر آهي ته اهي اسان جو اعتماد حاصل ڪري سگهن ٿا يا نه.

قاليباف چوي ٿو ته هو ايراني قوم جي حقن جي دفاع لاءِ سفارتڪاري سان گڏوگڏ فوجي جدوجهد تي به يقين رکي ٿو. هو چوي ٿو ته هو چاليهه ڏينهن جي جنگ دوران ايراني قوم جي دفاع ۾ حاصل ڪيل ڪاميابين کان هڪ لمحي لاءِ به پوئتي نه هٽندو.

هن ڳالهين جي عمل کي آسان بڻائڻ ۾ اهم ڪردار ادا ڪرڻ تي پاڪستان جو شڪريو ادا ڪيو.

پي ايس ايل 11 جي شروعات: سنڌ جي قديم ثقافت کي مان ڏيڻ لاءِ سنڌي ٽوپي ۽ اجرڪ گرائونڊ تي رکي وئيوائيس آف انڊس ثقافتي ڊيسڪ:...
12/04/2026

پي ايس ايل 11 جي شروعات: سنڌ جي قديم ثقافت کي مان ڏيڻ لاءِ سنڌي ٽوپي ۽ اجرڪ گرائونڊ تي رکي وئي

وائيس آف انڊس ثقافتي ڊيسڪ: پاڪستان سپر ليگ جي يارنهين ايڊيشن PSL 11 جي موقعي تي سنڌ جي هزارين سال قديم ثقافت کي هڪ منفرد ۽ شاندار طريقي سان مان ڏنو ويو آهي.

وائيس آف انڊس جي رپورٽ موجب، ڪراچي جي گرائونڊ تي ميچ دوران سنڌ جو فخر سڏبي ويندڙ سنڌي ٽوپي ۽ اجرڪ کي هڪ خوبصورت شيشي جي باڪس ۾ محفوظ ڪري ميدان جي وچ ۾ رکيو ويو آهي. هن قديم ثقافتي رنگ کي "سنڌ جو تاج" Sindh jo Taaj) جو نالو ڏئي راند جي شائقين ۽ عالمي دنيا اڳيان سنڌ جي مڃتا ڪرائي وئي آهي. سوشل ميڊيا تي هن منظر کي سنڌ جي تهذيب ۽ تاريخي ورثي جي هڪ وڏي فتح قرار ڏنو پيو وڃي، جنهن سان نوجوان نسل ۾ پنهنجي ثقافت لاءِ وڌيڪ لڳاءُ پيدا ٿيندو. 🛡️🚩

سيڪيورٽي سببن جي ڪري ڳالهين ڪندڙ وفدن جي حرڪتن کي ڳجهو رکڻ جو امڪان آهي، پر اسلام آباد جي صورتحال کان واقف هڪ ذريعن ٻڌاي...
11/04/2026

سيڪيورٽي سببن جي ڪري ڳالهين ڪندڙ وفدن جي حرڪتن کي ڳجهو رکڻ جو امڪان آهي، پر اسلام آباد جي صورتحال کان واقف هڪ ذريعن ٻڌايو ته موجوده اميد اها آهي ته ڳالهين جو هي مرحلو ٻن ڏينهن تائين هلندو.

11/04/2026

رڳو 12 رپين جي گهٽتائي کي عوام رد ڪري ڇڏيو عوام جو مطالبو آهي ته مهانگائي جي هن دور ۾ گهٽ ۾ گهٽ 150 رپيا في ليٽر گهٽتائي ٿيڻ گهرجي

Address

Larkana

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Discover Sindh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share