13/07/2023
کا #ساحل عدیم کو جواب
(مکمل ویڈیو ملاحظہ فرمائیں)
کچھ دن پہلے محترم ساحل عدیم صاحب نے عادت سے مجبور ہو کر ہمارے ہاں عمومی راویتی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے منفی بات کا پرچار کیا جوکہ ہمارے ہاں ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اوراس اصول پر عمل پیرا ساحل عدیم صاحب آ جا کر مولوی کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور اس کے ناکردہ گناہوں کو بھی تخلیق کر کے اپنی منفی اور مشکوک سوچ کا پرچار کرتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے آج کا نوجوان مولوی کے پاس نہیں جاتا اور نہ مولوی کے پاس مسائل کا حل موجود ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا ہم کہیں نویں کے سائنس ٹیچر سے Quantum simulation of fundamental particles and forces کا طریقہ بتائیں جوکہ PhD Nuclear Physics کا حصہ ہے۔ جیسے سب سائنس ٹیچرز کا علم برابر نہیں ایسے ہی سب مولویوں کی مخصوص علوم میں مہارت اور approach کا فرق ہے۔ اس لیے سب کو ایک ہی بات سے رگڑ کر مکمل فتویٰ لگا دینا یہ مولوی تو ہیں ہی فارغ ۔۔۔ بالکل واہیات بات ہے۔
جبکہ درحقیقت جتنا آج کا نوجوان مولوی کے پاس آتا ہے اتنا کسی موٹیویشنل سپیکر کے پاس بھی نہیں جاتا۔۔
آج کے نوجوان کو مولوی جتنے بہتر، منظم اور جدید طریقہ سے مسائل کے حل اور اس کے علم، کاروبار اور ہنر گویا دین و دنیا کے ہر معاملے کی رہنمائی کر رہا ہے اتنے کسی اور فلیڈ کے لوگ نہیں کر رہے۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے اتنا سب واضح ہونے کے باوجود خود کو فلسفہ کے استاذ کہنے والے ساحل عدیم اتنی چھوٹی باتیں کرتے ہیں۔ کیا انہیں مذہبی قدیمی اور جدید اسلامی تنظیمیں نظر نہیں آتیں ؟ کیا وہ ان علماء کو نہیں جانتے جن کے آن لائن سیشنز پر پیسہ خرچ کر کے نوجوان لیکچر لیتے ہیں۔ کیا انہیں Street Dawah اور 5 سٹار، 7 سٹار ہوٹلوں میں مولویوں کو سنتے بڑے اجتماعات کا نہیں پتا۔۔۔۔؟
انہیں الحاد اور LGBTQ کے خلاف علماء کی جدو جہد اور ان کے اثرات اور نوجوانوں کا لبیک کہنا نہیں پتا ؟
سب پتا ہے لیکن منجن ایسے نہیں بکتا، منفی بات ہی بکتی ہے ان کے مطابق ہم مسلمان بہت بُرے ہیں خصوصاً پاکستانی سب سے بُرے ہیں دنیا میں اور کہی برائی نہیں پائی جاتی ہم ہی مسائل کی جڑ ہیں ہم ہی پیچھے رہ گئے ہیں اسی لیے ہم عوام کو یہ دکھا کر صرف بے چارگی، افسوس اور غصہ ہی سکھایا جاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے ساحل عدیم صاحب سمیت ایسے سب سپیکرز کو سن کر مایوس ہونے کی بجائے خاص علم اور حل کے ساتھ علماء سے جڑے رہنا چاہیے جن کی دین کے لیے قربانیاں ہیں ان کاوقت اور پیسہ دین کے لیے لگا انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں اور ہمیں اللہ اور رسول کا راستہ دکھایا۔۔۔ اللہ علماء کی جہود کو قبول فرمائے آمین اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے عمل کے ساتھ اپنی و ملک کی کامیابی و کامرانی کی دعا کرتے رہیں۔
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
تحریر _حسن ظہیر بھٹی