18/04/2026
بالآخر سسرالی اپنے داماد کے حق میں بول پڑے کچھ دیر قبل خبر دیکھی کہ مشہور زمانہ اور سب سے زیادہ پڑہے جانے والے اسرائیلی اخبار “دی یروشلم پوسٹ” نے عمران خان کے حق میں ٹویٹ کی ہے۔ یقین نہ آیا کہ اتنا کھل کر یہ کیسے اس کے حق میں بول سکتے ہیں ؟
یہ صرف ایک ٹویٹ نہیں بلکہ اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک پورا کالم عمران نیازی کے حق میں لکھا ہوا ہے۔
گزشتہ کل کے یروشلم پوسٹ کے کالم کے چند اقتباسات کا اردو ترجمہ پڑھیں:
▪️ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آخر وہ سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے معاملے پر ، جو اس وقت قید میں ہیں، خاموش کیوں ہیں؟ خان بیمار ہیں، بیٹوں سے ملاقات کا انکار کیا جا رہا ہے، وہ پاکستان کی ایک جیل میں بند ہیں کیونکہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے ذریعے اپنا بین الاقوامی امیج بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
▪️پاکستان کو اب ایک واضح امتحان کا سامنا ہے۔ عمران خان کو متنازعہ حالات میں پکڑے رکھنے سے سیاسی تقسیم مزید گہرے ہونے اور ملک کے جمہوری تانے بانے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
▪️ عمران خان کی مسلسل قید کو امن و امان کے سیدھے سادے معاملے کے طور پر دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ، یہ سیاسی انتقام کے پریشان کن نشانات کی علامت ہے – جس کے نتیجہ میں نہ صرف پاکستان کے جمہوری اداروں کو بلکہ اس کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
کالم ختم
================
یہاں سوال یہ ہیکہ کیا عمران خان پہلے وزیر اعظم یا سیاسی شخصیت ہیں جنہیں پابندِ سلاسل کیا گیا ہے ؟ ان سے پہلے بھی لوگ جیلوں میں رہے کیا اس وقت اسرائیل کچھ بولا ؟ ذوالفقار علی بھٹو، آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، مفتی محمود رح، شاہد خاقان عباسی، جاوید ہاشمی، غرضیکہ ہر بڑا نام جیل میں رہا۔حتیٰ کے کچھ لوگ تو اسرائیل کے لاڈلے عمران خان کے دور حکومت میں بھی ناحق قید کیے گئے لیکن آج تک کسی یہودی اخبار نے ان سیاسی قیدیوں کے حق آواز نہیں اٹھائی۔
کیا تب جمہوریت خطرے میں نہیں تھی ؟
کیا تب ظلم نہیں ہو رہا تھا ؟
کیا تب ٹرمپ یا امریکی حکمرانوں کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ؟
کیا یہ سب جیلوں میں بیمار نہیں ہوئے ؟ ان کے بچے نہیں تھے ؟
ایک ایسے وقت میں جب دنیا پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پیش رفت کو تسلیم کر رہی ہے، گولڈ سمتھ کی سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے یروشلم پوسٹ اچانک سامنے آتا ہے اور کھلے الفاظ میں عمران خان کے حق میں صرف ایک پوسٹ نہیں بلکہ پورا کالم لکھ مارتا ہے۔ قانون کا سامنا کرنے والے ایک سزا یافتہ فرد کی وکالت شروع کر دیتا ہے۔ عین اس وقت پر یہ سب کہنا محض ایک اتفاق نہیں، یہ ایک ایجنڈا ہے۔ کون کس کا بندہ ہے کس کی تاریں کہاں جڑی ہیں اب پہلے سے کہیں زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔
سلام ہے مولوی فضل الرحمان تیری بصیت کو
سلام ہے حکیم سعید شہید رح تیری فراست کو
سلام ہے ڈاکٹر اسرار احمد رح تیری مردم شناسی کو
کہ آج سے دہائیوں قبل اس شخص کی اصلیت کو پہچانے اور امت مسلمہ کو پیشگی آگاہ کیا۔
Khan’s detention has coincided with broader crackdowns on his party, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI).