29/12/2025
Share krian🙏🙏🙏
سال 1992 کی بات ہے۔
منڈی بہاؤ الدین کے گاؤں چک شیر محمد کے چھوٹے سے ٹرین اسٹیشن پر چھ سات سالہ بچہ محمد سلیم ٹرین سے اترا اور اپنوں سے بچھڑ گیا۔
چند روز تک گاؤں والوں نے لاوارث گھومتا پھرتا دیکھ کر اسے گاوں والوں نے روکا اور پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا گم شدہ بچہ ہے۔
گاؤں کے ایک نیک دل انسان نے اپنے گھر ٹھہرایا اور محمد سلیم کے ورثاء کی تلاش شروع کی۔ اعلانات کروائے اخبارات میں اشتہار چلوائے جو آج تک محفوظ ہیں۔ہر طرح سے کوشش کی لیکن ورثاء کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
جنہوں نے اپنے پاس ٹھہرایا تھا ا لنہوں نے اپنا بیٹا بناکر رکھا،اور آج تک انکے پاس موجود ہے۔اب محمد سلیم بڑا ہوچکا ہے۔
ہمارا کام دیکھ کر ہم سے انکا رابطہ کیا ہے اور اپنوں کو ڈھونڈا چاہتے ہیں۔
اس وقت جو تفصیلات انکو یاد تھیں کچھ اس طرح سے بتائیں:
نام محمد سلیم،والد کا نام منیر، والدہ کا نام زاہدہ۔
ایک بھائی تھا جسکا نام محمد آصف اور بہن کا نام ثمینہ تھا۔
علاقے کا نام دروغہ والا/دروگہ والا کچھ اس طرح سے یاد ہے۔
گھر میں پنجابی بولتے تھے۔گھر ذاتی تھا۔
گھر کے قریب اینٹوں کا بھٹہ تھا والد اس بٹھے میں یا تو کام کرتے تھے یا مالک تھے یہ معلوم نہیں۔
بٹھے کے قریب ایک نہر بھی تھی۔
اسکے علاوہ انکو کچھ یاد نہیں۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ محمد سلیم کو اپنوں سے ملانے میں ہماری مدد کریں،اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں،آپکا ایک شئیر کسی گھرانے کو انکا لخت جگر لوٹانے کا باعث بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
29 Dec 2025
Waliullah Maroof
fans