07/01/2026
عمیری نام کا یہ نوجوان ایک غیر محرم عورت کے ساتھ ناپاک حرکات پر مبنی ویڈیو کی وجہ سے وائرل ہوا اور سوشل میڈیا ایک بار پھر سے تماشہ بن گیا۔ میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا، مگر جس بے حیائی کو لوگ آزادی، جس گناہ کو ذاتی معاملہ اور جس تباہی کو “کسی کا پرائیویٹ مسئلہ” کہہ کر جائز ثابت کرنے پر تلُے ہیں، ایسے میں خاموشی جرم ہے۔ مسئلہ صرف عمیری نہیں، مسئلہ وہ گندی اور نیچ ذہنیت ہے جو شادی شدہ گھروں کے سکون کو روند کر وقتی لذت کے حصول کو حق اور جائز سمجھتی ہے، اور بے حد افسوسعمیری نام کا یہ نوجوان ایک غیر محرم عورت کے ساتھ ناپاک حرکات پر مبنی ویڈیو کی وجہ سے وائرل ہوا اور سوشل میڈیا ایک بار پھر سے تماشہ بن گیا۔ میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا، مگر جس بے حیائی کو لوگ آزادی، جس گناہ کو ذاتی معاملہ اور جس تباہی کو “کسی کا پرائیویٹ مسئلہ” کہہ کر جائز ثابت کرنے پر تلُے ہیں، ایسے میں خاموشی جرم ہے۔ مسئلہ صرف عمیری نہیں، مسئلہ وہ گندی اور نیچ ذہنیت ہے جو شادی شدہ گھروں کے سکون کو روند کر وقتی لذت کے حصول کو حق اور جائز سمجھتی ہے،
یہ بات کڑوی ضرور ہے مگر سچ ہے کہ حرام تعلقات کبھی سچی محبتیں اور پکے رشتے نہیں ہوتے، وہ تو صرف سفلی خواہشات ، حرص و ہوس کے شرمناک کھیل اور خود غرضی کے ذلت ورسوائی سے بھرپور گڑھے ہوتے ہیں۔ ایسی راہوں پر چلنے والی عورت سب سے پہلے اپنی عزت گنواتی ہے ، اپنا تحفظ ختم کرتی ہے اور اپنا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے نیلام کر ڈالتی ہے، اور دوسری جانب مرد اپنی غیرت و حمیت، احساس ذمہ داری اور اعتبار و بھروسہ کھو بیٹھتا ہے۔ جو شوہر بیوی بچوں کے لیے دن رات محنت کرتا ہے،
، جو بیوی شوہر کے نام پر اپنا مان، وقت اور جوانی قربان کرتی ہے، ان سب کے حقوق کو چند لمحوں کی لذت کے بدلے پامال کرنا محض گناہ نہیں، بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ ان راستوں کا انجام گھروں کا ٹوٹنا ، اعتماد کا ختم ہونا اور سکون و راحت کا اذیت و کرب میں بدل جانا ہوا کرتا ہے ، اور بعض اوقات تو بات قتل و غارتگری تک جا پہنچتی ہے ، ہر وقت خوف، رسوائیاں اور زندگی بھر کا پچھتاوا الگ۔