07/11/2025
خان آف سچاں ، سرن ویلی، حق نواز خان ایڈوکیٹ 1946ء میں ضلع مانسہرہ کے حسین گاؤں سچاں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم خان محمد عمر خان، علاقے کے نہایت بااثر زمیندار اور خان عظیم اللہ خان کے صاحبزادے تھے۔ خان محمد عمر خان نے اپنی سخاوت، مہمان نوازی اور عوام دوستی کے باعث علاقے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ درویش صفت، ملنسار اور عاجز طبیعت کے مالک تھے۔ علاقائی تنازعات اور عوامی مسائل اکثر اُن کے حجرے میں حل کیے جاتے تھے۔ غرباء اور مستحقین کے ساتھ اُن کی شفقت و فیاضی کی بے شمار مثالیں زبانِ زدِ عام ہیں، اسی وجہ سے لوگ انہیں محبت سے “سخی عمر خان” کہا کرتے تھے۔ حق نواز خان نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سچان سے حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 ایبٹ آباد اور پھر گورنمنٹ ڈگری کالج ایبٹ آباد سے جغرافیہ اور تاریخ میں بی اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے پشاور لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ ممتاز عالم دین مولانا غلام غوث ہزاروی، جو خان محمد عمر خان کے نہایت قریبی دوست تھے، نے حق نواز خان کو سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کی ترغیب دی۔ صرف 24 برس کی عمر میں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر پہلا انتخاب لڑا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ ان کے مدمقابل اُس دور کے بڑے اور بااثر سیاسی رہنما تھے جن میں خان اَگرور (سابق وزیر وجیہ الزمان خان کے والد فخرالزمان خان)، سابق وزیر ایاز خان بٹگرام کے والد حاجی ملنگ خان، سابق صوبائی وزیر بابر نسیم خان کے والد خان آف گڑھی حبیب اللّه نسیم خان، محمد نواز خان بٹل اور کرنل یار محمد خان شامل تھے۔ اتنے نامور سیاسی شخصیات کے مقابلے میں ایک نوجوان کا کامیاب ہونا عوامی اعتماد اور اُن کے والد کے نیک نام ہونے کی واضح دلیل تھی۔حق نواز خان نے مختلف ادوار میں کئی اہم وزارتوں پر خدمات انجام دیں، جن میں وزارتِ صحت، قانون و پارلیمانی امور، سوشل ویلفیئر، پاپولیشن ویلفیئر، بلدیات، جیل خانہ جات، تعلیم، خوراک، پرائس کنٹرول اور ہاؤسنگ و فزیکل پلاننگ شامل ہیں۔ وہ وزرائے اعلیٰ مولانا مفتی محمود، حیات محمد خان شیرپاؤ، اقبال خان جادون، سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور، ارباب جہانگیر، جنرل فضل الحق، پیر صابر شاہ اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی کابینہ میں شامل رہے۔ آپ نے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت بے شمار ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے، جن میں حیات آباد ٹاؤن شپ پشاور، غازی کوٹ ٹاؤن شپ مانسہرہ، کانجو ٹاؤن شپ سوات، ایبٹ آباد ٹاؤن شپ، ڈسٹرکٹ ہسپتال مانسہرہ (موجودہ کنگ عبداللہ ہسپتال)، رورل ہیلتھ سینٹر سچاں ، نواز آباد اسپتال، چھتر ہسپتال، بی ایچ یو چوکی اور ہائر سیکنڈری اسکول نواز آباد جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بجلی، پانی، سڑکوں، پلوں، آب نوشی کی اسکیموں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی بے شمار منصوبے مکمل کیے۔ متعدد بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے، اور عوامی فلاح و بہبود کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ آپ ایک مرتبہ ضلع کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے، جبکہ آپ کے بھائی مرحوم فیاض عمر خان نے بھی ضلع کونسل کے رکن کی حیثیت سے علاقے کی خدمت کی۔ حقنواز خان نے 2017ء میں 47 سالہ کامیاب سیاسی سفر کو باوقار انداز میں اختتام پذیر کیا۔ آج اُن کے صاحبزادے عمر نواز خان سیاست میں عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ خاندان اپنی شرافت، دیانت، خدمتِ خلق اور سیاسی وقار کے باعث نہ صرف مانسہرہ بلکہ پورے ہزارہ ڈویژن میں ایک معتبر اور قابلِ فخر مقام رکھتا ہے۔ بلا شبہ، سواتی قبیلے کے لیے یہ خاندان عزت، وقار اور فخر کی علامت ہے۔