30/09/2025
ابیٹ آباد ۔۔
غیر قانونی قبضہ، سلیکشن بورڈ میں تاخیر اور ایڈہاک الاؤنس کی عدم ادائیگی کے خلاف فیکلٹی کا احتجاج
ایبٹ آباد (سٹاف رپورٹر)
ایسوسی ایشن آف اکیڈمک اسٹاف (ASA) سی یو آئی ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ایک بڑے احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا جو فیکلٹی بلاکس سے شروع ہو کر ایڈمنسٹریشن بلاک تک پہنچا۔ احتجاج میں فیکلٹی اراکین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔
صدر ASA ایبٹ آباد جناب نعمان خان ترین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ساجد قمر کا ریکٹر آفس پر قبضہ غیر قانونی ہے کیونکہ وہ اب ڈین نہیں رہے اور اس حیثیت میں اس عہدے پر بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی قبضے کے باعث ادارے میں سنگین انتظامی مسائل جنم لے رہے ہیں اور اہم معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
مرکزی کونسل ASA سی یو آئی کے صدر ڈاکٹر مظہر علی نے بھی خطاب میں ریکٹر آفس کے غیر قانونی قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مستقل ریکٹر تعینات کیا جائے تاکہ ادارے کو بحران سے نکالا جا سکے۔
مقررین نے کہا کہ ریکٹر آفس پر قبضے کے باعث سلیکشن بورڈز غیر ضروری تاخیر کا شکار ہیں، جس سے اساتذہ کی ترقی اور جاب سیکیورٹی متاثر ہو رہی ہے۔ فیکلٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایڈہاک الاؤنس فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں اساتذہ شدید مالی دباؤ میں ہیں۔
احتجاج کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ پروفیسر ڈاکٹر شاہد خٹک، ڈائریکٹر ایبٹ آباد کیمپس کی توسیع سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے کیونکہ کسی بھی فرد کو ایکٹنگ چارج چھ ماہ سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔
فیکلٹی نمائندگان نے واضح کیا کہ اساتذہ اپنے قانونی اور ادارہ جاتی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔