MaanLo Tv

MaanLo Tv Subscribe And Follow My YouTube Channel

09/03/2026

ایران پر بڑا حملہ،30سے زائد تیل کے ذخائر تباہ، امریکا اور اسرائیل آمنے سامنے آگئ

ایران میں تیل کے ذخائر پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں تقریباً 30 آئل ڈپو کو نشانہ بنایا، جبکہ اس سے قبل امریکا کو حملوں کی جو تفصیلات بتائی گئی تھیں، ان میں اتنے بڑے پیمانے کا ذکر نہیں تھا۔ اس صورتحال پر واشنگٹن نے اسرائیلی حکام کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔امریکی عہدیداروں کے مطابق تیل کے ذخائر پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات بین الاقوامی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان مقامات کو فوجی ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا اور مختلف علاقوں میں عسکری سرگرمیوں کے لیے وہاں سے تیل کی فراہمی کی جاتی تھی۔

‏عمران خان اور ویون رچرڈز میں کیا فرق ہے ؟  ‏1988 میں ویوین رچرڈز کا بالی وڈ اداکارہ نینا گپتا سے معاشقہ چلا اور 1989 می...
25/02/2026

‏عمران خان اور ویون رچرڈز میں کیا فرق ہے ؟
‏1988 میں ویوین رچرڈز کا بالی وڈ اداکارہ نینا گپتا سے معاشقہ چلا اور 1989 میں نینا گپتا نے شادی کے بغیر ویوین رچرڈز کی بیٹی مسابا کو جنم دیا
‏نینا گپتا نے بیٹی کو جنم دینے کے بعد ویوین کو کال کی اور پوچھا تم دنیا کرکٹ میں عظیم مانے جاتے ہو تمھارا بہت بڑا نام ہے تمھارا کیرئیر ہے تم شادی شدہ ہو، اگر اس بچی کی ولدیت کے خانے میں تمھارا نام لکھتی ہوں تو تم بدنام ہو جاو گے تمھاری شادی شدہ زندگی بھی ختم ہو سکتی ہے اگر تم چاہو تو میں اس بچی کو بےنام رہنے دیتی ہوں
‏ویوین رچرڈز نے جواب دیا وہ عظمت کیا واقعی عظمت ہو گی کہ دنیا کہ کسی کونے میں میری بیٹی بےنام پلے، اور مجھے بزدل کے طور پر یاد رکھے ایک مرد اگر معاشقے کی ہمت رکھتا ہے تو اپنے افعال کی زمےداری لینے کی بھی ہمت رکھے ،
‏چنانچہ نینا گپتا نے ولدیت کے خانے میں مسابا گپتا فادر نیم ویوین رچرڈز لکھا اور یہ برتھ سرٹیفکیٹ عالمی اخبارات میں شائع ہو گیا، میڈیا میں ویوین کا بہت نام اچھلا لیکن ویوین رچرڈز نے ماتھے پر شکن لائے بغیر سرے عام قبول کیا کہ ہاں مسابا میری بیٹی ہے

‏مسابا نینا گپتا کے پاس پلی نینا گپتا نے آگے شادی کر لی مسابا چھٹیوں میں ویوین رچرڈز سے ملنے جاتی اور وہ مسابا سے ملنے بھارت آتا
‏نینا گپتا کہتی ہیں ویون رچرڈز دل کا کالا نا تھا-

‏عمران خان اور سیتا وائٹ کی ملاقات 1987 میں ہوئی اس وقت عمران خان ٹیم میں سٹرگلنگ کھلاڑی تھے جن کا کرکٹ میں اس وقت تک کوئی خاص نام نا تھا ۔ عمران خان کا سیتا وائٹ سے تعلق تقریباً چھ سال تک جاری رہا۔ اس معاشقے کو ایک مضبوط تعلق بنانے کے لیے دونوں نے 1991 میں بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ایک سال بعد جون 1992 میں سیتا وائٹ نے عمران خان کی بیٹی ٹیرین جیڈ وائٹ (Tyrian Jade White) کو لاس اینجلس کے سیڈرز سینیائی میڈیکل سینٹر میں جنم دیا

‏اس بچی کی پیدائش سے دو ماہ قبل شومئ قسمت ایک ناکام کھلاڑی جو سیتا وائیٹ کا محبوب بھی تھا اس پر قسمت مہربان ہوئی اور وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا اور پھر 25 مارچ 1992 کا ورلڈکپ بھی جیت گیا

‏سیتا وائیٹ نے جب جون میں اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد عمران خان سے اپنی بیٹی کو اپنانے، اسے اپنا نام دینے کی درخواست کی تو عمران خان نے اپنے کیریئر کا حوالہ دیتے، خود کو عظیم کرکٹر بتاتے اور دو ماہ قبل 25 مارچ 1992 کے ورلڈکپ جیتنے کا حوالہ دیتے ہوے عوامی سطح پر ٹیرین کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
‏سیتا وائیٹ تمام تر ثبوتوں کے ساتھ عدالت جا پہنچی سیتا وائٹ نے بیٹی کو باپ کا نام دلوانے کے لیے اپنی تمام تر توانائی جھونک دی اور طویل قانونی جنگ لڑی بالآخر 1997 میں لاس اینجلس کی عدالت نے فیصلہ دیا کہ عمران خان ہی ٹیرین کے والد ہیں۔لیکن عمران خان نے پھر بھی اسے عوامی سطح پر قبول نا کیا
‏( کیونکہ وہ دل کا کالا تھا)
‏تاہم سیتا وائٹ کی موت کے بعد ٹیریان اج عمران خان کے بچوں کے ساتھ اس کی سابقہ بیوی کے پاس رہتی ہے لیکن والد کے نام کے بغیر...
‏copied

17/01/2026

ان حضرت کے بارے کوئی ذکر نہیں کرتا آو آج کریں۔ملا لطفی سلطان محمد فاتح کے محض کاتب نہیں بلکہ ایک ایسے "منہ پھٹ دوست" تھے...
16/01/2026

ان حضرت کے بارے کوئی ذکر نہیں کرتا آو آج کریں۔

ملا لطفی سلطان محمد فاتح کے محض کاتب نہیں بلکہ ایک ایسے "منہ پھٹ دوست" تھے جو کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی اسی نڈر اور بے باک شخصیت کی وجہ سے لوگ انہیں "دیوانہ لطفی" کہتے تھے۔ عثمانی آرکائیوز میں وہ واحد شخص ہیں جو سلطان کی بات کاٹ کر آگے سے بول پڑتے تھے اور شاہی آداب کے بجائے برابری سے بات کرتے تھے۔ وہ محل میں اس طرح بے فکری سے گھومتے تھے جیسے وہ ان کا اپنا "سرائے" ہو، اور دربار میں بھی کسی اجازت کے بغیر جب چاہتے چلے جاتے تھے۔ ان کی جرات کا یہ عالم تھا کہ جب سلطان نے ایک جنگ کا ارادہ کیا، تو انہوں نے اس کی مخالفت کی اور لڑنے سے صاف انکار کر دیا۔
ان کی ظرافت کا یہ حال تھا کہ ایک بار جب دربار کے کچھ مغرور علماء نے سلطان سے ان کی شکایت کی، تو ملا لطفی نے مسکرا کر جواب دیا: "سلطان تو مجھ سے اس لیے محبت کرتے ہیں کیونکہ میں ان کا دماغ روشن کرتا ہوں، اور آپ لوگوں سے اس لیے ملتے ہیں تاکہ انہیں اپنی عقل کی قیمت کا اندازہ ہو سکے!

ایک عثمانی باورچی جس نے یورپ کی فوجوں کو شکست دے دی!سترہویں صدی عیسوی میں، جب خلافتِ عثمانیہ اپنی تاریخ کے سب سے نازک دو...
13/01/2026

ایک عثمانی باورچی جس نے یورپ کی فوجوں کو شکست دے دی!
سترہویں صدی عیسوی میں، جب خلافتِ عثمانیہ اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہی تھی، محل کے اندر فتنوں نے سر اٹھا لیا، فوج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی اور یورپ کے دشمن ہر طرف سے حملے کی تیاری میں تھے۔
1648ء میں سلطان ابراہیم اوّل کے قتل کے بعد ان کا کمسن بیٹا سلطان محمد چہارم تخت پر بیٹھا۔ اس دور کو تاریخ میں “عہدِ حرم” کہا جاتا ہے، جب سلطانہ مائیں اور خواجہ سرا حکومتی فیصلے کرتے تھے، سلاطین کو معزول و مقرر کرتے تھے، سلطان کے نام پر فرمان جاری کیے جاتے تھے، جبکہ ریاست کے خزانے بے دردی سے لوٹے جا رہے تھے۔
اسی انتشار کے عالم میں سلطانہ خدیجہ تورخان (والدۂ سلطان محمد چہارم) ایک ایسے مضبوط اور دیانت دار شخص کی تلاش میں تھیں جو سلطنت کو ٹوٹنے سے بچا سکے۔
ان کے مشیر قاسم پاشا نے انہیں ایک بزرگ اور غیر مشہور مگر تجربہ کار شخص محمد پاشا کوپرولو کا نام تجویز کیا۔
کوپرولو پاشا کون تھے؟
کوپرولو پاشا ایک البانوی خاندان میں پیدا ہوئے جو اصل میں عیسائی تھا مگر بعد میں اسلام قبول کر چکا تھا۔ وہ کوپرو (Köprü) نامی قصبے میں آباد ہوئے جس کی نسبت سے انہیں “کوپرولو” کہا جانے لگا۔
انہوں نے نوجوانی میں محل میں قدم رکھا اور کئی سال تک باورچی کے طور پر خدمات انجام دیں، بعد ازاں عثمانی فوج میں شامل ہوئے اور سپاہیوں (فرسانِ دولت) کی صفوں میں ترقی کرتے ہوئے ایک بڑے سپہ سالار بن گئے۔
سنہ1067ھ / بمطابق 1656ء میں، 77 برس کی عمر میں انہیں سلطنت کا صدرِ اعظم مقرر کیا گیا۔ ان کے ساتھ ہی عہدِ حرم کا عملی خاتمہ ہوا اور عثمانی ریاست کو نئی زندگی ملی۔
اصلاحات اور فتوحات:
کوپرولو پاشا نے اقتدار سنبھالتے ہی بدعنوان عناصر کے خلاف سخت مہم شروع کی۔ جب بعض ینی چری اور سپاہی دستے ان کے خلاف بغاوت پر اتر آئے تو انہوں نے بلا نرمی انہیں کچل دیا اور فوج میں نظم و ضبط بحال کیا۔
اس وقت سلطنت بندقیہ (وینس) کے ساتھ جنگ میں تھی۔ بندقیہ نے آبنائے داردانیل کا محاصرہ کر کے عثمانی رسد روک دی تھی، جس سے مہنگائی بڑھی اور حالات خراب ہو گئے۔ کوپرولو پاشا نے عثمانی بحریہ کو دوبارہ منظم کیا، بندقیہ پر حملہ کیا، انہیں شکست دی، بحری ناکہ بندی توڑی اور داردانیل کو دوبارہ کھول دیا۔
بعد ازاں ٹرانسلوانیا کے امیر نے بغاوت کی تو کوپرولو نے اسے پے در پے معرکوں میں شکست دی۔
پھر افلاق (والاکیا) کے حکمران نے مسلمانوں کا (ق-ت-ل) عام شروع کیا، تو کوپرولو خود لشکر لے کر روانہ ہوئے اور یاسی کے قریب اس کی فوج کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
جب روس نے عثمانی زیرِ نگیں یوکرین میں پیش قدمی کی کوشش کی، تو کوپرولو نے ایک بڑا لشکر روانہ کیا۔ دونوں فوجیں دریائے کونتوپ کے کنارے ٹکرائیں، جہاں روسی فوج کو زبردست شکست ہوئی، ان کا سالار مارا گیا، 120 ہزار فوجی مارے ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنے۔ قفقاز کے دفاع کے لیے بعد میں ایک عظیم قلعہ “سدّ الاسلام” تعمیر کیا گیا۔
کوپرولو پاشا نے جرمنی اور آسٹریا کی سمت بھی لشکر روانہ کیے، وہاں بھی خونریز معرکوں میں کامیابیاں حاصل کیں، اور جزیرہ کریٹ کے بڑے حصے جمہوریۂ بندقیہ سے چھین لیے۔
وفات اور وراثت:
1072ھ / بمطابق1661ء میں کوپرولو پاشا کا انتقال ہوا۔ انہوں نے ایک مضبوط، باوقار اور مستحکم سلطنت چھوڑی اور ایک ایسا خاندان قائم کیا جس نے ان کے بعد بھی سلطنت کی قیادت سنبھالی۔ ان کے بیٹے فاضل احمد پاشا بعد میں صدرِ اعظم بنے۔
کوپرولو پاشا تاریخ میں وہ باورچی ہیں جنہوں نے اپنی عقل، ایمان اور قیادت سے سلطنتِ عثمانیہ کو زوال سے بچایا اور یورپ کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دیی تحریر: ذیشان نواز

07/11/2024
24/03/2024

Shayan Nawaz First Vlog | Child Walking | یہ میرا نیا پیج ہے۔
برائے مہربانی فالو کریں۔



16/12/2023

Address

Mansehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MaanLo Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category