ABAD Pakistan

ABAD Pakistan ABAD Pakistan is a digital media outlet initiated by journalists to spotlight SDGs & promote youth empowerment.
(12)

our platform provides valuable information while welcoming contributions (Urdu & English) from everyone who wishes to write for us.

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور (IRCRA ) اور پی پی اے ایف کے اشتراک سے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک روزہ کانفرنس اختت...
21/07/2026

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور (IRCRA ) اور پی پی اے ایف کے اشتراک سے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک روزہ کانفرنس اختتام پذیر !

گورنر فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔

گورنر ہاؤس پشاور میں معرکہ حق سے عالمی ثالثی ، سفارتکاری اور معاشی مواقع تک” کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

جس میں سیاسی و مذہبی رہنماؤں سمیت تھنک ٹینک اور دفاعی ماہرین کی شرکت و اظہار خیال کیا ۔ سابق کور کمانڈر اور صدر اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جنرل ر ماجد احسان ، سابق وفاقی وزیر قانون و رہنما پاکستان مسلم لیگ ن ،بیرسٹر ظفراللہ خان ، سابق مشیر اطلاعات کے پی و رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف ، سابق سینیٹر ستارہ ایاز سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل پارلیمنٹری کانگریس ، پروگرام ایکسپرٹ پی پی ایف جناب خرم شہزاد ، انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ اسرار مدنی ، چرچ آف پاکستان کے بشپ سرفراز ہمفری ، بشری علی ، اور دیگر نے شرکت کی۔

کانفرنس سے مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان نے جنوبی ایشیا کی دفاعی و سیاسی پوزیشن تبدیل کی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات صرف پاکستانی قیادت نے کرائے ۔جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ناممکن تھا۔ خصوصا ایسے موقع پر جب دنیا کی ٹریلین ڈالرز اکانومی تباہی کے دھانے پر تھی پاکستان نے عالمی معیشت کو سہارا دیا ۔

شرکا نے کہا پاکستان نے دنیا کو امن کا پیغام دیکر عالمی سطح پر ہندوستانی پروپیگنڈہ بے نقاب کیا ، اب داخلی اور مقامی بیانیہ بھی تبدیل کرنے کا وقت ہے ۔

میڈیا ، سول سوسائٹی ، تھنک ٹینکس ، مذہبی سیاسی جماعتیں ، عسکری قیادت کو متفق ہوکر عالمی چیلنجز کو ایڈریس کرنا ہوگا ۔ جو کہ داخلی یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پاکستان علاقائی پوزیشن سے نکل کر عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے لہذا اب پاکستان کو بیانیہ بھی عالمی ہونا چاہیے ۔

کانفرنس کے شرکا نے امریکہ اور ایران سے پاکستان کی جنگ بندی کی اپیل کی تائید کرتے ہوئے متفقہ قرار داد پیش کیا ۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے لئے آخری کامیاب کوشش ہے۔ لہذا فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کرکے مذاکرات کی میز پر آجائیں ۔

مذاکرات کے تعطل کو ختم کرکے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کو آگے بڑھایا جائے ۔

کانفرنس شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معرکہ حق کی عظیم الشان فتح اور ایران امریکہ امن مذاکرات کے بعد ہمیں معاشی مواقع تلاش کرنے ہونگے ۔

کانفرنس کے شرکاء نے معرکہ حق کے دوران پاکستانی عوام ، سیاسی و مذہبی و سماجی تنظیموں اور میڈیا نے جس طرح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کردار کو سراہا ۔

کانفرنس شرکا نے متفقہ قرادار میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی مذاکراتی ٹیم خصوصا وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور وزیرداخلہ محسن نقوی کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر خراج تحسین پیش کیا ۔

کانفرنس کے شرکاء نے ملک کے تمام صوبوں اس طرح کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔
مہمان خصوصی گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کانفرنس میں شرکت کرنےوالے مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین انٹرنیشنل ریسرچ کونسل اور پی پی اے ایف کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ایسے اہم وقت میں ملک بھر میں ایسے مکالموں اور کانفرنسز کا آغاز کرکے پاکستان عالمی امن اور ترقی کے کردار کو آگے بڑھایا ۔ گورنر کنڈی نے کہا کہ ایسے مجالس کو واشنگٹن ، بیجنگ ، برسلز، جینوا ، ویانا، ماسکو اور لندن میں بھی ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کا بیانیہ ہر عالمی فورم پر جائے ۔
انہوں نے کے پی میں ٹورازم ، منرلز ، اور معاشی سرگرمیوں کیلئے معاشی سفارکاری پر زور دیا ۔

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس اسلا...
09/07/2026

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی، ملاقات میں آئی آر سی آر اے کی پروگرام منیجر بشری علی بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان کی عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری، حالیہ مذاکراتی عمل کی کامیابیوں اور ان کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی کانفرنس کے انعقاد پر مشاورت کی گئی۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ جلد ہی گورنر ہاؤس پشاور میں اس حوالے سے ایک اہم کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں سفارتکاری، خارجہ امور اور قومی تشخص سے متعلق ممتاز شخصیات اور ماہرین شرکت کریں گے۔

ملاقات میں عالمی فورمز پر پاکستان کے مثبت اور مؤثر سفارتی کردار، قومی تشخص کو مزید اجاگر کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مستقبل میں مشترکہ کاوشوں اور مختلف اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ذمہ دارانہ سفارتکاری اور مؤثر مذاکرات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا مثبت تشخص مضبوط کیا ہے، جسے مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس حوالہ سے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی علمی اور فکری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو قومی بیانیے اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں۔

22واں روبوٹکس انجینئرنگ مقابلہ نسٹ میں اختتام پذیر247 ٹیموں کے پراجیکٹس پیش کئے گئےنسٹ کے کالج آف الیکٹریکل اینڈ میکینکل...
29/06/2026

22واں روبوٹکس انجینئرنگ مقابلہ نسٹ میں اختتام پذیر
247 ٹیموں کے پراجیکٹس پیش کئے گئے

نسٹ کے کالج آف الیکٹریکل اینڈ میکینکل انجینئیرنگ میں منعقد ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا قومی روبوٹکس مقابلہ نیشنل انجینئرنگ روبوٹکس کانٹیسٹ اختتام پذیر ہوگیا، جس میں ملک بھر کے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور نجی اداروں کی 247 ٹیموں نے مختلف کیٹیگریز میں اپنی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عتیق احمد، ڈائریکٹر جنرل ای ایم ای، پاک فوج، نے کامیاب ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے اور جیتنے والوں کے لیے انعامی رقم دوگنی کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انجینئرنگ روبوٹکس کانٹیسٹ نوجوانوں میں تخلیقی سوچ، اختراع، تکنیکی مہارت اور مسائل کے حل کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ان کے بقول مقابلے میں شریک نوجوانوں کی صلاحیتیں پاکستان کے تکنیکی مستقبل کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔

نسٹ کے زیرانتظام ای ایم ای کالج کے شعبہ مکٹرونکس انجینئرنگ کی جانب سے منعقد ہونے والے اس مقابلے میں 9 مختلف شعبوں میں مقابلے ہوئے، جن میں مقامی روبوٹکس، ماڈیولر روبوٹکس، جنگی روبوٹس، فضائی چیلنجز اور دیگر کیٹیگریز شامل تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے کمانڈنٹ انجینئر عشیر محمود خان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران NERC ملک میں روبوٹکس اور انجینئرنگ کے شعبے کا معتبر ترین مقابلہ بن چکا ہے اور ہر سال شریک ٹیموں کی تکنیکی مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شعبہ مکٹرونکس انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹر حامد جبار نے تقریب کے اختتام پر شرکاء، منتظمین، رضاکاروں، اسپانسرز اور شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے اس سال کا مقابلہ کامیابی سے منعقد ہوا۔

2003ء میں شروع ہونے والا نیشنل انجینئرنگ روبوٹکس کانٹیسٹ آج ملک کے سب سے بڑے اور باوقار روبوٹکس مقابلے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس سال بھی مختلف مقابلوں کے علاوہ بہترین انجینئرنگ ڈیزائن اور ٹیم اسپرٹ کے خصوصی اعزازات دیے گئے، جبکہ مرحوم بریگیڈیئر ڈاکٹر اختر نواز ملک کی خدمات کے اعتراف میں اختر نواز ٹیم اسپرٹ ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔

نسٹ کا ماحول دوست توانائی پر انحصار کی جانب بڑا اقدام3.5 میگا واٹ شمسی توانائی کی تنصیب کا آغازاسلام آباد، 23 جون : نیشن...
23/06/2026

نسٹ کا ماحول دوست توانائی پر انحصار کی جانب بڑا اقدام
3.5 میگا واٹ شمسی توانائی کی تنصیب کا آغاز

اسلام آباد، 23 جون : نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے اپنے ایچ-12 کیمپس میں 3.5 میگاواٹ شمسی توانائی نظام نصب کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔

منصوبے کے تحت جامعہ میں جدید سولر پی وی سسٹم نصب کیا جائے گا، جس سے روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم ہونے کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک شفاف اور مسابقتی عمل سے گذرتے ہوئے نسٹ اور فاونڈیشن انرجی پرائیویٹ لِمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے۔

نسٹ انتظامیہ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 3.5 میگاواٹ کا یہ منصوبہ جامعہ کی توانائی ضروریات کو ماحول دوست ذرائع سے پورا کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور ادارے کو مرحلہ وار مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے ہدف کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے اس موقع پر کہا کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار اور عملی حل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب نسٹ مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق جامعات کی ذمہ داری صرف علم کی تخلیق تک محدود نہیں بلکہ انہیں پائیدار ترقی اور ذمہ دارانہ وسائل کے استعمال میں عملی مثال بھی قائم کرنی چاہیے۔

اس اقدام کی منصوبہ بندی اور تکنیکی رہنمائی میں نسٹ کے یو ایس-پاک مرکز برائے اعلی علومِ توانائی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں یہ سرمایہ کاری نہ صرف ماحولیاتی تحفظ بلکہ جدت پر مبنی ترقی اور پاکستان کے بدلتے ہوئے توانائی منظرنامے سے ہم آہنگی کی عکاس ہے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں نسٹ اور فاؤنڈیشن سولر انرجی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (COMSATS University Islamabad) کے شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام سالانہ "تھیسس شو 2026"...
21/06/2026

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (COMSATS University Islamabad) کے شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کے زیر اہتمام سالانہ "تھیسس شو 2026" (Thesis Show '26) کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کا باضابطہ افتتاح مہمانِ خصوصی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن ملک روبینہ اعوان نے کیا۔ اس نمائش میں بی ڈیزائن (B.Design) اور بی فائن آرٹس (B.Fine Arts) کے گریجویٹ ہونے والے طلباء و طالبات کے منفرد اور جدید ترین فن پاروں کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک روبینہ اعوان نے طلباء کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہا اور ان کے کام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قرار دیا۔ انہوں نے اساتذہ کی انتھک محنت، لگن اور بہترین رہنمائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی بدولت ہی طلباء اپنے چھپے ہوئے ہنر کو اتنے شاندار انداز میں دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ملک روبینہ اعوان نے طلباء کو مستقبل کے حوالے سے مفید اور قیمتی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اس تخلیقی کام کو صرف اکیڈمک حد تک محدود نہ رکھیں، بلکہ مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فن کو تجارتی اور ڈیجیٹل دنیا میں متعارف کروائیں تاکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں اور ملک کا نام روشن کریں۔

ملک روبینہ اعوان نے کہا کہ بطور فوکل پرسن پرائم منسٹر یوتھ پروگرام وہ بذات خود تعلیم کے معاملے کو بہت اہمیت دیتی ہیں اور اس حوالے سے ان کی خدمات ہمہ وقت دستیاب رہیں گی۔

یہ نمائش کامسیٹس آرٹ گیلری (جنید زیدی لائبریری بیسمنٹ) میں منعقد کی گئی، جہاں 16 سے 18 جون تک صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک شائقینِ آرٹ اور عام عوام کا تانتا بندھا رہا۔ نمائش میں یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور آرٹ کے دلدادہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔

Hazara: A Region Caught Between Identity, Disaster, and DevelopmentNestled in the northern reaches of Khyber Pakhtunkhwa...
16/06/2026

Hazara: A Region Caught Between Identity, Disaster, and Development

Nestled in the northern reaches of Khyber Pakhtunkhwa, the Hazara Division, comprising districts such as Abbottabad, Mansehra, Haripur, Battagram, Torghar, and Kohistan, has long occupied a distinctive place in Pakistan's political and geographic landscape. Known for its scenic valleys, gateway towns to the north, and a population that is ethnically and linguistically distinct from the Pashtun majority province it belongs to, Hazara today finds itself at the centre of several pressing debates: the long running demand for a separate province, the aftermath of devastating floods, and the broader question of development and connectivity in one of Pakistan's most strategically located regions.

The Separate Province Demand

Perhaps the most enduring political issue associated with Hazara is the demand for a province of its own. The roots of this movement stretch back decades, but it gained significant momentum after the 2010 renaming of the North West Frontier Province to Khyber Pakhtunkhwa under the 18th Constitutional Amendment. Many residents of Hazara felt that the new name privileged Pashtun identity while overlooking the region's Hindko speaking majority and its distinct cultural character. Protests in Abbottabad turned violent, with reports of multiple deaths during clashes between demonstrators and police, an episode that remains a painful reference point in local political memory.

Since then, the Hazara Province Movement has periodically resurfaced, often gaining traction whenever discussions about new provinces elsewhere in Pakistan, such as proposals for a Saraiki or Bahawalpur province, re enter the national conversation. Advocates argue that a separate province would allow for more equitable resource distribution, closer governance, and faster development for a region they describe as historically underserved despite its proximity to the federal capital and its contribution to tourism revenue. They frame the demand as administrative rather than ethnic, pointing to resolutions reportedly passed by the Khyber Pakhtunkhwa Assembly in support of the idea.

On the other side, opponents, including segments of Pashtun nationalist politics, argue that further fragmenting provinces along ethnic or linguistic lines could set a precarious precedent for a country already managing multiple regional sensitivities, and that new provinces should, if anything, be created on purely administrative grounds rather than identity based ones. The debate resurfaced again more recently when proposals to rename Khyber Pakhtunkhwa altogether drew renewed objections from Hazara Movement leaders, who used the moment to reassert their long standing demand. The issue remains unresolved, and any constitutional change would require broad political consensus that has so far proven elusive.

Why It Matters to Hazarewals

For many Hazarewals, the demand for a province is less about redrawing maps and more about recognition and representation. MNA Sardar Muhammad Yusuf, one of the movement's prominent voices, has repeatedly framed the campaign as rooted in governance rather than ethnicity, telling reporters that the call for a new province stems purely from the community's need for better administration and a fairer share of resources. Other leaders have pointed to a deeper sense of historical grievance: longtime Hazara politician Javed Iqbal has argued that the region's multi ethnic and multilingual character, where Hindko, Pashto, Kohistani, and other languages are all spoken, is itself a reason Hazara should not be subsumed under a single linguistic or ethnic banner.

Veteran leader Sardar Hyder Zaman Baba has described the underlying grievances as too deep rooted to be resolved through statements alone, reflecting a view widely shared among Hazarewals that decades of limited representation in provincial bureaucracy, education, and employment have left the region feeling sidelined despite its proximity to Islamabad and its contribution to tourism and trade. Community leaders also frequently invoke Hazara's role in the movement for Pakistan's independence, arguing that a population they describe as having been instrumental in the country's founding deserves a political identity that reflects its history rather than one defined primarily around Pashtun nationalism. Taken together, these statements illustrate why, for many in the region, the province issue is tied closely to questions of dignity, opportunity, and a sense of belonging within the federation.

The Shadow of the 2025 Floods

Compounding the political debate is the very real, ongoing challenge of disaster recovery. The 2025 monsoon season brought some of the most severe flooding Pakistan has experienced in years, with Khyber Pakhtunkhwa among the hardest hit provinces. Mountainous districts in and around Hazara, particularly Kohistan and Battagram, saw flash floods and landslides that destroyed roads, bridges, homes, and agricultural land. Nationally, the floods damaged or destroyed hundreds of bridges and thousands of kilometres of roads, displaced millions of people, and left a recovery bill that will stretch into 2026 and beyond.

For Hazara, much of which sits along the Karakoram Highway corridor connecting the rest of Pakistan to Gilgit Baltistan and China, damaged infrastructure has more than local consequences. Blocked roads cut off communities from healthcare, education, and markets, while also disrupting the broader north to south trade and tourism route. Reconstruction efforts have focused on slope stabilisation, improved drainage, and more flood resilient construction, but experts warn that with monsoon rains expected to intensify due to climate change, this is unlikely to be a one time fix. Local communities are left navigating both the immediate damage and the longer term question of how to build infrastructure resilient enough for a changing climate.

Development, Tourism, and Governance

Beyond the headline political and disaster related issues, residents of Hazara continue to raise more everyday concerns: the pace of development relative to other parts of the province, the state of healthcare and education facilities in remote districts like Kohistan and Torghar, and the management of tourism in popular destinations such as Nathia Gali, Thandiani, and the lakes of the Kaghan Valley. Tourism remains a major economic driver for the region, but unplanned construction, waste management problems, and seasonal overcrowding have become recurring concerns for both locals and visitors.

Governance questions also intersect with the provincial political situation more broadly. Khyber Pakhtunkhwa itself experienced a period of political uncertainty in late 2025 surrounding a leadership transition at the chief minister's office, adding another layer of administrative flux that affects how quickly issues in divisions like Hazara are addressed at the provincial level.

A related and frequently raised concern is access to jobs and career opportunities. Because Khyber Pakhtunkhwa's provincial government is headquartered in Peshawar, the bulk of senior civil service postings, provincial boards, public sector corporations, and major teaching hospitals are based there or in nearby Hayatabad, with most advertised vacancies for departments such as the Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission, the Bank of Khyber, and large provincial hospitals concentrated in the capital. For many young Hazarewals, this means that climbing the ranks of provincial administration, healthcare, or public sector management often requires relocating hundreds of kilometres away, even though the bulk of the population and several major institutions, including Hazara University in Mansehra, are based within the division itself. Community members and local commentators have long argued that this concentration of opportunity in Peshawar reinforces the broader sense that Hazara's economic and administrative weight does not match its share of jobs, postings, and investment, feeding directly into the wider argument that a separate provincial capital and administrative structure would bring decision making, recruitment, and development spending closer to home.

Looking Ahead

Hazara's current challenges illustrate how identity politics, climate vulnerability, and development needs can become deeply intertwined. The demand for a separate province continues to resonate with many residents who feel their region's needs are not adequately represented within Khyber Pakhtunkhwa's existing political structure, while the 2025 floods have underscored just how exposed the region's infrastructure is to extreme weather. Whatever direction the provincial debate takes, the immediate priorities for many in Hazara remain practical ones: rebuilding damaged roads and bridges, strengthening disaster preparedness, and ensuring that development reaches the more remote corners of a region whose mountains, while scenic, can also be unforgiving.

Writer , Ahmad ali

ایچ ای سی کا ڈگری ویریفکیشن نظام: طلبہ کے لیے سہولت یا ایک نیا امتحان؟پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ جامعات سے ڈگریاں حا...
16/06/2026

ایچ ای سی کا ڈگری ویریفکیشن نظام: طلبہ کے لیے سہولت یا ایک نیا امتحان؟
پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ جامعات سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ یہ ڈگریاں برسوں کی محنت، وقت اور بھاری تعلیمی اخراجات کے بعد ملتی ہیں۔ لیکن تعلیم مکمل ہونے کے بعد بہت سے نوجوان ایک ایسے مرحلے سے گزرتے ہیں جو اکثر ان کے لیے پریشانی اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے۔

ایچ ای سی ڈگری ویریفکیشن
سوال یہ ہے کہ اگر ایک یونیورسٹی HEC کے منظور شدہ نظام کے تحت ڈگری جاری کرتی ہے تو پھر بعد میں اسی ڈگری کی تصدیق کے لیے طلبہ سے دوبارہ فیس کیوں وصول کی جاتی ہے؟ اور اگر تمام ریکارڈ پہلے ہی موجود ہے تو ویریفکیشن میں ہفتوں اور بعض اوقات مہینوں کی تاخیر کیوں ہوتی ہے؟

بہت سے طلبہ کا تجربہ یہ ہے کہ درخواست جمع کروانے اور فیس ادا کرنے کے بعد انہیں کسی واضح ٹائم لائن سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔ جب وہ آن لائن شکایات درج کرواتے ہیں یا ہیلپ لائن پر رابطہ کرتے ہیں تو اکثر انہیں یہی جواب ملتا ہے کہ "جب ویریفکیشن مکمل ہو جائے گی تو آپ کو اطلاع دے دی جائے گی۔"

یہ طرزِ عمل جدید عوامی خدمات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ دنیا بھر میں مؤثر ادارے درخواست گزاروں کو کیس کی صورتحال، متوقع تکمیل کے وقت اور تاخیر کی وجوہات سے باخبر رکھتے ہیں۔ مگر یہاں اکثر طلبہ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔

اس تاخیر کے اثرات صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہتے۔ ملازمتوں کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں، بیرونِ ملک داخلوں کی ڈیڈ لائنز گزر جاتی ہیں، اسکالرشپس متاثر ہوتی ہیں اور نوجوانوں کے کیریئر پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں جب مختلف سرکاری اور نجی ادارے فوری تصدیقی نظام چلا رہے ہیں تو HEC کے پاس بھی ایسا نظام ہونا چاہیے جو چند دنوں میں نتائج فراہم کر سکے۔ اگر کسی طالب علم سے فیس وصول کی جا رہی ہے تو اس کے بدلے بروقت سروس، شفاف ٹریکنگ اور واضح جوابدہی بھی فراہم کی جانی چاہیے۔

HEC کو چاہیے کہ ویریفکیشن کے عمل کو مکمل طور پر خودکار بنائے، ہر درخواست کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرے، شکایات کے مؤثر ازالے کا نظام متعارف کروائے اور طلبہ کو بار بار غیر ضروری انتظار سے بچائے۔

پاکستان کے نوجوان پہلے ہی بے شمار تعلیمی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اور ریگولیٹری اتھارٹیز ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں، نہ کہ مزید رکاوٹیں کھڑی کریں۔

تحریر ، طیب عمر ، اسلام آباد

پاکستان میں البینیزم (Albinism) کا شکار افراد شدید گرمی، کینسر کے خطرات اور معاشرتی امتیاز کی زد میں؛ اقوامِ متحدہ نے ہو...
11/06/2026

پاکستان میں البینیزم (Albinism) کا شکار افراد شدید گرمی، کینسر کے خطرات اور معاشرتی امتیاز کی زد میں؛ اقوامِ متحدہ نے ہوشربا حقائق جاری کر دیے

اسلام آباد، 11 جون 2026 اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی آزاد ماہر برائے البینیزم (سورج مکھی مائل یا برص جیسی جینیاتی حالت)، ملوکا این میتی ڈرمنڈ (Muluka-Anne Miti-Drummond) نے پاکستان کے اپنے 9 روزہ دورے کے اختتام پر ابتدائی مشاہدات جاری کر دیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کی دعوت پر یہ دورہ 3 سے 12 جون 2026 تک کیا گیا، جو کہ گزشتہ 15 برسوں میں اقوامِ متحدہ کے کسی خصوصی طریقہ کار (Special Procedures) کے مینڈیٹ ہولڈر کا پاکستان کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران یو این ماہر نے اسلام آباد، کراچی، دادو، گاؤں جان محمد باہوٹو، لاہور اور ساہیوال میں وفاقی و صوبائی حکام، سول سوسائٹی اور البینیزم کا شکار افراد سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں البینیزم (Albinism) کے شکار افراد کو شدید گرمی، جلد کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات، بینائی کی کمزوری، اسکولوں اور ملازمتوں میں امتیازی سلوک اور شدید سماجی رویوں کا سامنا ہے، جبکہ حکومتی سطح پر درست اعداد و شمار کی عدم موجودگی کے باعث یہ برادری پالیسی سازی میں نظر انداز ہو رہی ہے۔

البینیزم کیا ہے اور پاکستان میں اس کی صورتحال کیا ہے ؟
البینیزم ایک نایاب، غیر متعدی اور جینیاتی طور پر منتقل ہونے والی کیفیت ہے جس میں جسم میں 'میلانین' (Melanin) نامی پگمنٹ کی کمی ہوتی ہے، جو بال، جلد اور آنکھوں کی رنگت کا سبب بنتا ہے۔ میلانین نہ ہونے کے باعث یہ افراد جلد کے کینسر کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی بینائی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان میں البینیزم کی درست شرح نامعلوم ہے کیونکہ قومی مردم شماری یا حکومتی اداروں کے پاس اس کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ پاکستان البینیزم سوسائٹی (PAS) کے تخمینوں کے مطابق ملک میں تقریباً 30,000 افراد البینیزم کا شکار ہیں۔ تاہم، یو این ماہر کا ماننا ہے کہ یہ تعداد حقیقت سے بہت کم ہے، کیونکہ پاکستان میں کزن میرجز (خاندانی شادیاں) عام ہیں، جس سے جینیاتی اثرات منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کی تحقیق کے مطابق پنجاب میں البینیزم کی خطرناک اقسام جیسے چیڈیاک-ہیگاشی سنڈروم (Chediak-Higashi Syndrome) اور ہرمینسی-پوڈلاک سنڈروم (Hermansky-Pudlak Syndrome) بھی پائی گئی ہیں، جو جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں افغان مہاجرین کی برادری میں بھی ہرمینسی-پوڈلاک سنڈروم کا کم از کم ایک کیس دستاویزی شکل میں سامنے آیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت: بقا کی جنگ
پاکستان موسمیاتی آفات کی زد میں ہے، اور البینیزم کے شکار افراد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کے کچھ حصوں بالخصوص صوبہ سندھ میں درجہ حرارت 52 سے 55 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ جاتا ہے، جہاں شدید ترین یو وی انڈیکس (UV Index) البینیزم کے شکار افراد کے لیے سن برن اور جلد کے کینسر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

رپورٹ میں ضلع دادو کی مثال دی گئی ہے جہاں البینیزم کی سب سے بڑی آبادی رپورٹ ہوئی ہے۔ دادو کے نواحی گاؤں جان محمد باہوٹو میں کل 50 رہائشیوں میں سے 10 افراد البینیزم کا شکار ہیں، جن میں ایک ایسا خاندان بھی شامل ہے جس کے 6 بچے البینیزم کے ساتھ پیدا ہوئے۔ اسی طرح جیکب آباد (جہاں شدید گرمی اور سیکیورٹی ایڈوائزری کے باعث یو این ماہر کا دورہ منسوخ کرنا پڑا) کے بارے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں 810 لوگوں کی آبادی میں سے 40 افراد البینیزم کا شکار ہیں، اور ان میں سے 65 فیصد کی عمریں 16 سال سے کم ہیں۔

سندھ کے ان اضلاع میں ہیٹ ویوز کا تباہ کن سلسلہ جاری ہے اور جلد کے کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب اور شدید گرمی کے باعث دادو کے بڑی تعداد میں البینیزم کے شکار افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر کراچی، حیدرآباد اور جامشورو منتقل ہونا پڑا تھا۔ اگرچہ حکومت اور فلاحی اداروں نے بعد میں جان محمد باہوٹو گاؤں میں ان کے لیے گھر تعمیر کیے، لیکن البینیزم کے شکار افراد اب بھی ملک کی موسمیاتی پالیسیوں (Climate Action Policies) میں مکمل طور پر غائب ہیں۔

صحتِ عامہ کے چیلنجز اور سن اسکرین کی عدم دستیابی
پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج مفت ہے، لیکن البینیزم کے شکار افراد کو کینسر، آنکھوں اور جلد کے ماہرین (Dermatologists and Oncologists) تک رسائی میں شدید جغرافیائی، مالی اور وقت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ نجی ہسپتالوں کا علاج اس غریب برادری کی پہنچ سے باہر ہے۔ سندھ میں یو این ماہر سے ملاقات کے دوران 2 مریضوں نے بتایا کہ جلد کے کینسر کی تشخیص کے بعد انہیں جامشورو کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کے لیے 12 لاکھ (1.2 ملین) پاکستانی روپے جمع کرنے پڑے، اور وہ مہنگا ہونے کی وجہ سے اپنا فالو اپ علاج جاری نہ رکھ سکے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے حال ہی میں سن اسکرین (Sunscreen) کو البینیزم کے شکار افراد کے لیے 'لازمی ادویات کی فہرست' میں شامل کیا ہے، لیکن پاکستان نے اسے اب تک اپنی قومی لازمی ادویات کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی سن اسکرین کی قیمت 400 سے 600 روپے تک ہے، لیکن غریب البینیزم برادری کے لیے یہ قیمت بھی بہت زیادہ ہے، اور وہ ان کی کوالٹی پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔ مزید برآں، شدید گرمی کے باوجود البینیزم کے شکار افراد میں سن اسکرین استعمال کرنے کا باقاعدہ کلچر یا شعور موجود نہیں ہے۔

تعلیمی نظام اور ملازمتوں میں امتیازی سلوک
آئینِ پاکستان (1973) کے آرٹیکل 27 اور 38 تمام شہریوں بشمول معذور افراد کے حقوق، مساوات اور طبی و تعلیمی مدد کی ضمانت دیتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت (2020)، سندھ (2018) اور پنجاب (2022) میں معذور افراد کے حقوق کے قوانین بھی موجود ہیں، جن کے تحت ملازمتوں میں 2 سے 3 فیصد معذوری کوٹہ مقرر ہے۔ چونکہ البینیزم کے شکار افراد کو قانوناً معذور تسلیم کیا جاتا ہے، اس لیے وہ بھی اس تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔

تاہم، زمین پر حقائق بالکل مختلف ہیں:

تعلیم میں محرومی: البینیزم کے شکار بچوں کے لیے اسکولوں میں 'ریزن ایبل اکوموڈیشن' (معقول سہولیات جیسے میگنیفائرز، نظر کے چشمے، یا امتحانات میں اضافی وقت) نہ ہونے کے برابر ہے۔ اساتذہ میں شعور کی کمی ہے؛ یہاں تک کہ کچھ اساتذہ بچوں کو بلیک بورڈ کے قریب بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ دیہی علاقوں میں بہت سے بچے بینائی کی کمزوری، اسکولوں کے فاصلے اور تپتی دھوپ کی وجہ سے کبھی اسکول ہی نہیں جا پائے۔ اسکولوں میں دھونس، جہملاٹ (Bullying) اور طنز کے باعث بڑی تعداد میں بچے پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔

روزگار کے چیلنجز: ملازمتوں کا کوٹہ نظام عملی طور پر ناکام نظر آتا ہے، کیونکہ آجر (Employers) معذور افراد کو کم پیداواری صلاحیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ) انڈسٹری جیسے نجی شعبے البینیزم کے شکار افراد کو نوکری دینے سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کا پبلک امیج متاثر نہ ہو۔ مجبوراً یہ افراد ٹیکنالوجی، زراعت یا سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں یا پھر کڑی دھوپ میں مزدوری اور کھیتی باڑی کرنے پر مجبور ہیں جہاں ان کا استحصال ہوتا ہے۔

معذوری سرٹیفکیٹ اور سماجی بدنامی (Stigma)
کونسل آن رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز کی جانب سے میڈیکل بورڈ کے معائنے کے بعد ڈس ایبلٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر نادرا (NADRA) خصوصی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔ اس کارڈ سے تعلیم، صحت اور سفر میں رعایت ملتی ہے۔ لیکن بیوروکریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے البینیزم کے شکار افراد کو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے اور نادرا میں رجسٹر کروانے میں شدید مشکلات آتی ہیں اور اکثر اوقات درخواستیں بغیر وجہ بتائے مسترد کر دی جاتی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں لوگ اس سرٹیفکیٹ اور اس کے فوائد سے سرے سے واقف ہی نہیں ہیں۔

سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ معاشرتی رویوں اور معذوری سے وابستہ بدنامی (Stigma) کے خوف سے بہت سے البینیزم کے شکار افراد اپنے شناختی کارڈ پر معذوری کا اندراج کروانے سے کتراتے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے ان کے لیے ملازمت اور شادی کے مواقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔

نفسیاتی مسائل اور سماجی رویے
معاشرے میں البینیزم کے شکار افراد کو روزمرہ کی سطح پر ہراساں کیے جانے، گھورنے اور جملے بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں البینیزم کے شکار افراد نے بتایا کہ انہیں "گورا" کہہ کر چھیڑا جاتا ہے یا ایسے ناپسندیدہ نام دیے جاتے ہیں جن کا موازنہ جانوروں اور جنات سے کیا جاتا ہے ۔ خواتین کو شدید جنسی جملوں اور غیر اخلاقی تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایک نوجوان خاتون نے بتایا کہ مسلسل منفی رویوں اور گھورنے کی وجہ سے وہ او سی ڈی (Obsessive Compulsive Disorder) کا شکار ہو چکی ہے ۔ ان رویوں کے باعث البینیزم برادری میں اضطراب، مایوسی اور شدید ڈپریشن پایا جاتا ہے، اور وہ خود کو سماجی اور خاندانی تقریبات سے الگ تھلگ کر لیتے ہیں ۔ بچوں میں چڑچڑاپن اور جارحانہ رویہ بھی پایا گیا جو اسکولوں میں ہونے والی بلنگ کا نتیجہ ہے ۔

شادی بیاہ کے معاملے میں البینیزم کے شکار مردوں کو مسترد کر دیا جاتا ہے، حالانکہ سماجی و اقتصادی حیثیت بہتر ہونے سے مردوں کے لیے شادی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ، خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ البینیزم کا شکار خاتون بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی یا وہ لازمی طور پر البینیزم کے شکار بچوں کو ہی جنم دے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک جینیاتی عمل ہے جس کے لیے والدین دونوں کا اس جینیاتی عنصر کو کیری کرنا لازمی ہوتا ہے، لیکن سارا الزام خواتین پر دھر دیا جاتا ہے۔

پاکستان البینیزم سوسائٹی (PAS) کی جدوجہد
رپورٹ میں پاکستان البینیزم سوسائٹی کے کردار کو سراہا گیا ہے جو البینیزم کے شکار افراد کو متحد کرنے اور ان کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اہم کام کر رہی ہے ۔ تاہم، فنڈز اور وسائل کی شدید کمی اور باقاعدہ رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث یہ تنظیم زیادہ تر سوشل میڈیا تک محدود ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہر نے حکومت اور عالمی عطیہ دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ اس سوسائٹی کی فوری مدد کریں۔

اقوامِ متحدہ کی اہم ابتدائی سفارشات
ملوکا این میتی ڈرمنڈ نے اپنے مشاہدات کے آخر میں حکومتِ پاکستان کو درج ذیل اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے، جبکہ ان کی مکمل تفصیلی رپورٹ مارچ 2027 میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جائے گی۔

وفاقی اور صوبائی سطح پر البینیزم کے شکار افراد کا باقاعدہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی حکمتِ عملی شروع کی جائے۔

پاکستان البینیزم سوسائٹی (PAS) کی صلاحیت کار بڑھائی جائے اور اس کی فوری رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی موافقت (Climate Adaptation) اور تدارک کی پالیسیوں میں البینیزم برادری کو شامل اور مدعو کیا جائے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا دائرہ کار بڑھا کر البینیزم کے شکار افراد کو 'خصوصی کیٹیگری' کے تحت اس میں شامل کیا جائے۔

معذوری کے حقوق کے فریم ورک پر نظرثانی کی جائے اور عالمی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق البینیزم کے شکار افراد کو معذور تسلیم کیا جائے۔

ڈبلیو ایچ او (WHO) کے فیصلے کی روشنی میں سن اسکرین کو پاکستان کی لازمی ادویات کی فہرست (Essential Drugs List) میں شامل کیا جائے۔

اسکولوں اور کام کی جگہوں پر البینیزم کے شکار افراد کے لیے معقول سہولیات (Accommodations) کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

نظر کے چشمے، سن گلاسز، میگنیفائرز اور مونوکولر جیسے امدادی آلات تک البینیزم برادری کی مفت رسائی ممکن بنائی جائے۔

اسکولوں، یونیورسٹیوں اور نظامِ صحت کے اندر البینیزم کے حوالے سے باقاعدہ آگہی مہم چلائی جائے۔

طبی عملے کی صلاحیتوں کو نکھارا جائے تاکہ وہ البینیزم برادری کی جسمانی اور نفسیاتی (Mental Health) ضروریات کو پورا کر سکیں۔

یہ رپورٹ پاکستان میں البینیزم کے شکار افراد کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔
_________________________
یہ رپورٹ صحافی عمیر خان آباد نے UN کی رپورٹ Preliminary observations: Visit of the Independent Expert on the enjoyment of human rights by persons with albinism to Pakistan سے دیکھ کر بنائی ہے۔

UN Albinism: Muluka-Anne Miti-Drummond
Pakistan Albinism Society - PAS
Umair Khan Abad

Address

Mansehra
21300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ABAD Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ABAD Pakistan:

Shortcuts

Share