31/08/2026
ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے مجبور اور بے سہارا خاندان موجود ہیں جو بنیادی انسانی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
ایسی ہی ایک دردناک کہانی ڈنہ ٹاپ، شکر پانی جو سطہ سمندر سے 8 ہزار فٹ بلندی پر واقع گھنے اور دشوار گزار پہاڑی جنگلات میں رہنے والی ایک بیوہ خاتون کی ہے، جو اپنے کمسن بچے کے ساتھ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں۔
اطلاع ملنے پر چوہدری مولاداد میر کی میڈیا ٹیم نے اس مجبور خاتون تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم نے تقریباً چار گھنٹے مسلسل گنے جنگلات کا پیدل سفر کیا۔ راستے میں گھنے اور خوفناک جنگلات، دشوار گزار پہاڑی راستے اور ویران علاقے عبور کرنے کے بعد بالآخر ٹیم اس بیوہ خاتون کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
وہاں پہنچ کر جو منظر ہماری ٹیم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ انتہائی دلخراش تھا۔
خاتون کا گھر ایک انتہائی خستہ حال مکان پر مشتمل تھا، جس کی چھت صرف چادروں سے بنائی گئی تھی۔ مکان میں نہ مناسب دروازہ تھا، نہ کھڑکیاں اور نہ ہی کوئی چار دیواری۔ رات کے وقت خود کو محفوظ کرکے سونے کے لیے بھی کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا۔
صرف ایک ہی کمرہ تھا، جس میں خاتون اپنی زندگی گزار رہی تھیں۔ اسی کمرے میں مال مویشی بھی رکھے جاتے ہیں، ایک طرف کچن بنا ہوا ہے اور اسی جگہ سونے کا انتظام بھی ہے۔
کچن میں کھانے پینے کے خالی برتنوں کے سوا تقریباً کچھ موجود نہیں تھا۔ گھر کا راشن ختم ہو چکا تھا اور غربت و بے بسی کی ایسی تصویر سامنے تھی جس نے ہماری ٹیم کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر دیے۔
خاتون کے پاؤں میں پہننے کے لیے مناسب چپل تک موجود نہیں تھی جبکہ وہ پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں زندگی گزار رہی تھیں۔
جب ہماری ٹیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کا گزر بسر کس طرح ہوتا ہے؟ تو خاتون نے بتایا کہ وہ بھینس کا دودھ فروخت کرکے اپنے اور اپنے بچے کا گزر بسر کرتی ہیں، لیکن ان دنوں دودھ بھی دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ دن میں تین وقت کا کھانا تو دور، صرف ایک وقت کا کھانا ہی نصیب ہوتا ہے۔
خاتون نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ ان کا شوہر نہیں سر پر، والد بھی وفات پا چکے ہیں اور دنیا میں کوئی بھائی بھی نہیں جو ان کا سہارا بن سکے۔ وہ اس ویران اور گھنے جنگل میں اپنے کمسن بچے کے ساتھ تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کے گھر کے آس پاس دور دور تک کوئی دوسرا مکان نہیں۔ نہ بجلی کی سہولت ہے، نہ پینے کا مناسب پانی، نہ پکی سڑک اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات میسر ہیں۔
ہماری میڈیا ٹیم نے اس پورے سفر اور خاتون کی حالتِ زار کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور ان کا خصوصی انٹرویو بھی ریکارڈ کیا ہے، تاکہ ہمارے ناظرین بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایک مجبور ماں کس طرح زندگی کے مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہے۔
اہلِ خیر سے اپیل
یہ تحریر کسی پر احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ ایک مجبور اور بے سہارا ماں کی آواز آپ تک پہنچانے کے لیے ہے۔
ہم اپنے تمام صاحبِ استطاعت افراد، مخیر حضرات، سماجی کارکنوں اور اہلِ خیر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حسبِ استطاعت مالی یا راشن کی صورت میں اس خاندان کی مدد ضرور کریں تاکہ اس بیوہ ماں کے گھر کا چولہا جل سکے، اس کے بچے کو دو وقت کا کھانا میسر آ سکے اور وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق تھوڑی سی مدد کرے تو شاید ایک مجبور ماں کی زندگی میں آسانی پیدا ہو جائے۔
آئیے! اس بیوہ ماں کو اکیلا نہ چھوڑیں۔
آپ کی معمولی سی مدد کسی کے لیے زندگی کی ایک بڑی امید بن سکتی ہے۔
رابطہ:
میڈیا ٹیم — چوہدری مولاداد میر
سوشل ایکٹیوسٹ
📞 0346-2727585
انسانیت کے ناطے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ آواز اہلِ خیر تک پہنچ سکے