05/04/2026
حکومت خیبرپختونخوا نے موجودہ علاقائی صورتحال اور ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر صوبہ بھر میں بجلی کے مؤثر اور محتاط استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں سے محفوظ رکھنا اور توانائی کی مسلسل دستیابی کو برقرار رکھنا ہے۔
حکومت کے مطابق بجلی کی پیداوار کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر ہے، اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں غیر ضروری بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے عارضی طور پر نئی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، تاکہ خاص طور پر شام کے اوقات میں توانائی کی بچت ممکن بنائی جا سکے جبکہ ضروری خدمات اور معاشی سرگرمیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں۔
نئے اوقات کار
حکام کی منظوری سے صوبے بھر میں درج ذیل اوقات کار نافذ العمل ہوں گے:
ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تمام بازار، شاپنگ پلازے، کمرشل مراکز اور رات کے کھیلوں کی سرگرمیاں رات 9:00 بجے تک بند کی جائیں گی۔
دیگر اضلاع میں تمام بازار، شاپنگ پلازے اور کمرشل سرگرمیاں رات 8:00 بجے تک بند ہوں گی۔
تمام ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 10:00 بجے تک بند ہوں گے، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس جاری رہ سکتی ہے۔
شادی ہالز، مارکیز، ایونٹ ہالز اور دیگر تقریبات رات 10:00 بجے تک اختتام پذیر ہوں گی۔
کمرشل اداروں کی تعریف
ان ہدایات کے تحت کمرشل اداروں میں نجی دفاتر، کنسلٹنسیز، ایجنسیاں، بینک، تعلیمی اکیڈمیاں، ٹیوشن سینٹرز، دکانیں، شو رومز، جیولری شاپس، بیکریز، جم، فٹنس سینٹرز، گیسٹ ہاؤسز، کیٹرنگ سروسز اور اسی نوعیت کے دیگر کاروبار شامل ہوں گے۔
مستثنیٰ خدمات
مندرجہ ذیل خدمات کو بنیادی نوعیت کے باعث ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے:
زراعت اور تعمیراتی سرگرمیاں
میڈیکل سٹورز/فارمیسیز (24 گھنٹے، مخصوص شرائط کے ساتھ)
ہسپتال، لیبارٹریز اور ایمرجنسی ہیلتھ سروسز
تنور (روٹی/نان کی تیاری کے لیے)
پیٹرول پمپس (صرف ایندھن کی فراہمی کے لیے)
اجتماعی ذمہ داری کی اپیل
حکومت نے عوام، تاجروں اور تمام متعلقہ طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ قومی مفاد میں توانائی کی بچت ممکن ہو سکے اور عوام پر اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔