News Club

News Club social uplifting is key goal.

عمران خان کے متعلق بڑا اعلان! کیا دوبارہ حکومت ملے گی؟
05/06/2026

عمران خان کے متعلق بڑا اعلان! کیا دوبارہ حکومت ملے گی؟

ہندوستان کے مشہور گلوکار اداکار اور موسیقار جی ایم درانیجی ایم درانی   G.M. Durrani کا پورا نام غلام مصطفی درانی Ghulam ...
05/06/2026

ہندوستان کے مشہور گلوکار اداکار اور موسیقار جی ایم درانی

جی ایم درانی G.M. Durrani کا پورا نام غلام مصطفی درانی Ghulam Mustafa Durrani تھا جو کہ ۱۹۱۹ کو پشاور Peshawar میں ایک پٹھان Pathan گھرانے میں پیدا ہوۓ.ابھی ان کی عمر بہت کم تھی کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا .ان کے والد ایک سخت مزاج انسان تھے. والدہ کی وفات کے بعد دادی نے پالا پوسا اور بڑا کیا .اپنے والد کے ساتھ پشاور میں فوٹوگرافی اور پینٹنگ کی دکان پر کام کرتے تھے.آواز چونکہ اچھی تھی اس لیے اکثر لوگوں کومشہور گلوکار اور موسیقار رفیق غزنوی Rafiq Ghaznavi کے انداز میں گیت سنایا کرتے تھےاور ان سے داد وصول کرتے تھے . ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں نے جب ان کے گانوں اور آواز کی تعریف کی تو ان کا حوصلہ بڑھا اور باقاعدہ طور پہ انھوں نے رفیق غزنوی کو اپنا استاد مان لیا.اور ان کے گانوں کی مشق شروع کردی.لیکن ان کے والد اور خاندان کے باقی لوگ گانے بجانے کے سخت خلاف تھے اور گانے والوں کو کنجر اور مراثی کہہ کر بلاتے تھے.چنانچہ ان کے والد نے ان کو فوٹوگرافی کی دکان سے ہٹا کر اپنے بھائی کے گاڑیوں کے سپئیر پارٹس بیچنے والی دکان پر بٹھا دیا.انہوں نے چند دن وہاں کام کیا لیکن ان کے اندر کے فنکار نے ان کو زیادہ عرصہ وہاں ٹکنے نہیں دیا اور ایک دن موقع پا کر اور جیب مین بائیس روپے ڈال کر پشاور سے لاہور بھاگ گئے.لاہور میں ریڈیو پر تھوڑا بہت گانا گانے کا کام مل گیا اور اسطرح ان کا گزر بسر ہونے لگا.کچھ عرصہ لاہور میں کام کرنے کے بعد بمبئ چلے گئے.بمبئ میں ریڈیو پر انھیں گانا گانے کا موقع مل گیا. مشہور فلمسآز اور اداکار سہراب مودی نے ان کی گائیکی کی صلاحیت جانچ لی اور ان کو اپنی فلم’ صید ہوس ‘ میں گانے کا موقع دیا اس وقت ان کی عمر بمشکل سولہ سترہ سال تھی. جب درانی بمبئ آۓ تو فلم میں پلے بیک کا سسٹم موجود نہیں تھا اور ایک اداکار کو گلوکاری ک ساتھ ساتھ فلم سکرین پر اداکاری بھی کرنی پڑتی تھی لیکن فلموں میں اداکاری ان کو پسند نہین آئی اور چھوڑ دی . ان کا کہنا تھا کہ سارا دن دھوپ میں درختوں اور داکاراوں کے آگے پیچھے بھاگنابڑا مشکل کام تھا.اداکاری چھوڑنے کے بعد بیروزگار ہوگۓ اور پریشان ہوگئے .پشاور واپس گھر جا نہیں سکتے تھے کیونکہ گھر والے اب ان کو مراثی اور کنجر کے ناموں سے پکارتے تھے. اس دوران وہ آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگۓ.اور وہاں پر بطور براڈکاسٹر کام کرنے لگے.کچھ عرصہ بعد ان کا تبادلہ بمبئ ہوگیا.بمبئ میں وہ بطور ڈرامہ آرٹسٹ کام کرنے لگے اور چالیس روپے ماہانہ تنخواہ مقر ر ہوئی.جلد ہی ان کا نام ریڈیو کے بڑے آرٹسٹوں میں ہونے لگا اور ان کی تنخواہ بھی بڑھ کر ستر روپے مہینہ ہوگئی.انیس سو انتالیس چالیس میں فلم انڈسٹری مین بھی لوگ ان کے نام سے مانوس ہوگئے اور ان کو فلم بہو رانی میں ایک گانا گانے کی آفر ہوئی. لیکن وہ گانا ریکارڈ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ اس وقت ریڈیو کے فنکارون کو نجی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں تھی.اس فلم کے موسیقار رفیق غزنوی نے جب اصرار کیا تو ان کو انکار نہ کر سکے اور درانی نے ان کو کہا کہ ٹھیک ہے میں اتوار کی رات یہ ریکارڈنگ کر سکتا ہوں. چنانچہ بقول ان کے انھوں نے اتوار کی رات اس گانے کی ریکارڈنگ کردی اور بطور معاوضہ ان کو پچھتر روپے ادا کردئے گئے. ریڈیو میں انہیں پورے مہینے کے ستر روپے ملتے تھے اورفلم میں صرف ایک گانا گانے کے انھیں پچھتر روپے ملے . چنانچہ انہوں نے ریڈیو کی نوکری چھوڑدی اور اپنا پورا دھیان فلموں پر دینے لگے.انیس سو چالیس سے انیس سو پچاس تک انہوں فلم انڈسٹری کے تقریباً 100 فلموں کے لئے گانے گائے اور تمام نامی گرامی موسیقاروں کے ساتھ مل کر کام کیا.انھوں نے اپنے دور کے سب مشہور گلوکاراؤں اور گلوکاروں کے سات گانے گاۓ تھے. جن میں شمشاد بیگم، نورجہاں، ثریا ، امیر بائی کرناٹکی ،گیتا دت ، راجکماری ، لتا منگیشکر ، آشا بھوسلے اور مکیش ، محمد رفیع ، کشورکمار وغیرہ شامل ہیں. لتا منگیشکر نے اپنے فلمی کیرئیر کا پہلا گانا ' چھورے کی ذات بڑی بے وفا ' بھی جی ایم درانی کے ساتھ گایا تھا. محمد رفیع نے اپنے کیرئیر کے ابتدا میں ان کے ساتھ کورس میں گانا گایا تھا اور ان کی طرح گانے کی کوشش کی تھی.ایک بہترین گلوکار ہونے کے باوجود گی ایم درانی کا انیس سو پچاس کے بعد زوال شرع ہوگیا کیونکہ ان میں مستقل مزاجی کی کمی تھی اور ایک جگہ جم کر کام نہیں کرتھے تھے. انھون نے پہلے اداکاری چھوڑی پھر ریڈیو کی نوکری چھوڑی اور گلوکاری کے ساتھ بھی سنجیدہ نہیں تھے اور اکثر سٹوڈیو میں ریکارڈنگ کے وقت تمسخرانہ انداز اپناتے تھے. ایک دفع لتا منگیشکر کو کہنے لگے کہ یہ آپ کیا ہر وقت سفید ساڑھی لپیٹے رہتی ہیں .لتا منگیشکر جب ریکارڈنگ کرنے آتی تھی تو سفید ساڑھی مین ملبوس رہتی تھیں. انھوں نے اس کا برا منایا اور آئیندہ کے لئے ان کے ساتھ نہ گانے کا اعلان کردیا.
جی ایم درانی کاآخر میں رجحان روحانیت کی طرف ہوگیاتھا اور اپنی ساری دولت فقیروں میں بانٹ دی . داڑھی رکھ لی ور خود بھی فقیروں کی طرح زندگی گزارنی شروع کردی. وہ اکثر لوگوں کو کہتے تھے کہ میرا اس چمکتی دمکتی فلمی دنیا سے جی اچاٹ چکا ہے ان قیمتی بنگلوں ،کاروں اور عیش و عشرت کی زندگی میں کچھ نہیں رکھا. یہ دنیا فانی ہے . اس مال و دولت نے یہی رہ جانا ہیےاور انسان نے خالی ہاتھ یہاں سے جانا ہے.
جی ایم درانی آٹھ ستمبر انیس سو اٹھاسی کو انہتر سال کی عمر میں بمبئ میں اس دار فانی سے رخصت ہوگئے اور بمبئ میں ہی ان کو دفن کیا گیا.

29/05/2026

Latest Big Update of Donald T Bufflow! @

29/05/2026

ڈونلڈ ٹرمپ بھینسے کی تاذہ ترین خبر جس نے امریکی صدر کے نام سے شہرت پائ۔ بنگلہ دیش سے اب نکل گیا!

محب وطن لوگوں کو جب خون کے آنسو رلاے گئے۔ ان کی خدمات کے فائیدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا ۔تحریر:@ اختر نعیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
28/05/2026

محب وطن لوگوں کو جب خون کے آنسو رلاے گئے۔ ان کی خدمات کے فائیدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا ۔تحریر:@ اختر نعیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ انجینئر ذوالفقار صاحب ہیں۔ شنکیاری مانسہرہ میں چائے کے قومی تحقیقاتی مرکز میں ابتداء میں تعینات رہے۔ جب یہاں چائے کا باغ تیار ہوا تو پراسیسنگ پلانٹ کی ضرورت پڑی ، پروگرام بنا کہ باہر سے پلانٹ درآمد کیا جائے لیکن ذوالفقار صاحب نے کہا کہ باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں میں خود ہی پاکستان میں پلانٹ تیار کروں گا ، پھر انھوں نے ایچ ایم سی ٹیکسلا میں جاکر چند لاکھ روپئے سے سبز چائے بنانے کا پلانٹ تیار کیا اور اسے شنکیاری مانسہرہ میں نصب کرکے چائے کی تیاری کی کامیاب پروسیسنگ شروع کردی۔
انھوں نے دوبارہ درخواست کی کہ میں تھوڑے ہی خرچ سے کالی چائے کا پلانٹ تیار کرتا ہوں لیکن اچانک انھیں یہاں سے ہٹاکر دوسرے شعبہ میں تبدیل کردیا گیا
بعد ازاں یہاں ساڑھے تین کروڑ روپے میں ایک پرانا پلانٹ درآمد کیا گیا ۔ جبکہ اسی موقع پر ایک نجی کمپنی نے ایک کروڑ بیس لاکھ میں دنیا کا جدید ترین پلانٹ درآمد کیا ، یہ معلومات مجھے اس وقت ملیں جب بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر خوراک و زراعت یار محمد رند صاحب مانسہرہ آئے اور انھوں نے سرکاری ادارے اور نجی کمپنی سے بات چیت کی تو یہ چیزیں سامنے آئیں ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک مشین پاکستان کے اندر ہی ایک پاکستانی انجینئر تیار کرسکتا ہے تو پھر باہر سے مہنگے داموں لاکر زرمبادلہ کیوں ضائع کیا گیا ۔

سب سے بڑی خبر:قابل غور۔۔۔ہر ایک استعمال ہو رہا ہے!کسی کی وال سے لی جہاں ذیادہ ہی مبالغہ آرائ تھی۔ جسے میں نے ہلکا سا ترم...
26/05/2026

سب سے بڑی خبر:قابل غور۔۔۔ہر ایک استعمال ہو رہا ہے!کسی کی وال سے لی جہاں ذیادہ ہی مبالغہ آرائ تھی۔ جسے میں نے ہلکا سا ترمیم کر کے سب کو نظام کی اصل روح سے روشناس کر دیا!خواجہ سراؤں سے جی ٹی روڈ کھلوانے کی پاداش میں ایس ایچ او تھانہ سٹی ہارون خان، ایک اے ایس آئی سمیت 6 پولیس اہلکاروں کومعطل کر دیا گیا۔

چند روز قبل ہری پور میں خواجہ سرائوں نے ڈی سی آفس کے باہر جی ٹی روڈ پر ایک گھنٹے تک دھرنا دیا۔ جس سے تمام ٹریفک بلاک ہو گئی۔

شدید گرمی میں مسافر اور مریض گاڑیوں میں تڑپتے رہے۔ جبکہ خواجہ سراء اپنے مطالبات کی منظوری تک کسی صورت جی ٹی روڈ سے دھرنا ختم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔

ایسی صورتحال میں پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ جس سے فوری طور پر ٹریفک بحال ہو گئی۔ اب پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی کریں تو بھی گناہ گار اور نہ کرے تو پھر بھی ان کیلئے مسئلہ۔ آخر یہ لوگ کدھر جائیں۔

پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔ لیکن سڑکیں بلاک کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینی چاہئے۔

اگر یہی سڑک عام لوگوں نے بند کی ہوئی ہوتی تو ان کو گرفتار کرکے مقدمہ بھی درج کیا جاتا۔

کیا یہ درست ہکہ؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ جس کا فوری ازالہ کیا جانا چاہئے۔

اہم خبر:کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں چاے کے پہلے کاشتکار اور دیگر ان بڑے ناموں کو!
22/05/2026

اہم خبر:کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں چاے کے پہلے کاشتکار اور دیگر ان بڑے ناموں کو!

خزانے کی تلاش میں قبروں کی بےحرمتی کرنے والے 4 ملزمان گرفتار ، تھانہ گڑھی حبیب اللہ میں مقدمہ درج کرلیاگیا ، ملزمان سے م...
17/05/2026

خزانے کی تلاش میں قبروں کی بےحرمتی کرنے والے 4 ملزمان گرفتار ، تھانہ گڑھی حبیب اللہ میں مقدمہ درج کرلیاگیا ، ملزمان سے مزید تفتیش جاری

گڑھی حبیب اللہ کی حدود رتوالی قبرستان میں خزانے کی تلاش میں قبروں کی بےحرمتی کرنے والے 4 ملزمان (1) ثواب خان ولد خیال دین سکنہ ہنگو (2) محمد منظور ولد محمد ایوب سکنہ دلولہ (3) محمد ثاقب ولد فضل احمد سکنہ خوشحالہ (4) عثمان علی ولد محمد جاوید سکنہ ملک پورہ ایبٹ آبادشامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف تھانہ گڑھی حبیب اللہ میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئ ہے۔

17/05/2026

Anmol Pinky Openly Exposes All.
News Club

17/05/2026

انمول عرف پنکی نے سرعام وہ کیا جو صدیوں یاد رہے گا

Address

Near DPO Office
Mansehra
21300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to News Club:

Share