شريعت اور طريقت

شريعت اور طريقت اے بندے یہ احساس پیدا کرلے کہ الله محبت سے دیکھ رہا ہے

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:"میں نے کبھی کوئی ریشم یا دیباج نہیں چھوا جو چھونے میں رسولُ اللّٰه ﷺ (کے ہاتھوں) سے زیادہ نرم و مل...
01/12/2025

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
"میں نے کبھی کوئی ریشم یا دیباج نہیں چھوا جو چھونے میں رسولُ اللّٰه ﷺ (کے ہاتھوں) سے زیادہ نرم و ملائم ہو۔"
📚 صحیح مسلم، حدیث: 6053

✨ 1 — نبی کریم ﷺ کی جسمانی لطافت

حضرت انسؓ نے دس سال خدمتِ نبوی کی، اور وہ اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ:
✔ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ دنیا کے ہر نرم کپڑے سے زیادہ نرم تھے
✔ آپ ﷺ کی ہتھیلی میں ایسی لطافت تھی جو کسی مخلوق میں نہ تھی
✔ آپ ﷺ کی ذات صرف روحانی نہیں، جسمانی طور پر بھی اللّٰه کی خاص نعمتوں کا مظہر تھی

یہ آپ ﷺ کے حسن و جمال کا ایک پہلو ہے۔

✨ 2 — صحابہؓ کی محبت کا انداز

حضرت انسؓ نے یہ بات محبت اور عقیدت سے بیان کی:
✔ وہ آپ ﷺ کے قریب رہے
✔ ہاتھ پکڑے، مصافحہ کیے
✔ آپ کی شفقت کو محسوس کیا

اسی لیے وہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللّٰه ﷺ کے ہاتھوں کی لطافت دنیا کے ہر نرم پر فائق تھی۔

✨ 3 — حدیث کا پیغام

✔ نبی کریم ﷺ اللّٰه کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامل اور خوبصورت تھے
✔ آپ ﷺ کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی ہر صفت سب سے اعلیٰ تھی
✔ صحابہؓ کی محبت نبی ﷺ کے ہر پہلو سے جڑی ہوئی تھی
✔ یہ حدیث حضور ﷺ کی شانِ جمال کا ثبوت ہے
✔ مومن کے دل میں رسول ﷺ کی محبت بڑھانے والی روایت ہے

🌸 دعا

اے اللّٰه! ہمیں نبی کریم ﷺ کی کامل محبت عطا فرما،
ان کی سنت پر چلنے کی توفیق دے،
اور قیامت کے دن ہمیں ان کے قرب اور شفاعت سے سرفراز فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

*صحافی نے مولانا مودودی ؒسے سوال کیا :’’سر تبلیغی جماعت نے نئی بدعات شروع کر دی ہیں، یہ فضائل اعمال ، چلہ اور دیگر معمول...
01/12/2025

*صحافی نے مولانا مودودی ؒسے سوال کیا :’’سر تبلیغی جماعت نے نئی بدعات شروع کر دی ہیں، یہ فضائل اعمال ، چلہ اور دیگر معمولات کو فرض کا درجہ دیتے ہیں اور انہوں نے دین میں نئے نئے اضافے کر دیے ہیں آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔‘‘ مولانا مودودی ؒنے بڑے تحمل اور پرسکون لہجے میں جواب دیا :’’جماعت اسلامی اور تبلیغی جماعت دونوں دینی جماعتیں ہیں ، شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ جماعتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت میں کوئی اختلاف ہے، ہم نے کوئی دکان نہیں کھول رکھی کہ جس نے ہماری دکان سے سامان نہیں خریدا وہ ہمارا دشمن ہے، جماعتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت دونوں اسلام کی خدمت کے لیے اْٹھے ہیں، وہ بھی اللہ کی طرف بلا رہے ہیں اور ہم بھی۔‘‘مولانا مودودی ؒنے کچھ دیر توقف کیا اور دوبارہ گویا ہوئے :’’ آپ خود غور کریں میں کیوں اِن سے خفا ہو سکتا ہوں، کیا نماز کی طرف دعوت دینی اتنی بری ہے کہ مجھ پرغصہ سوار ہو جائے؟ کیا کلمہ شہادت پڑھانا اور اس کی تعلیم دینا اتنا بڑا گناہ ہے کہ میں ان پر اپنا جام غضب انڈیلنے پر تل جاوں؟ میں اسلام کا داعی ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ وہ میرا ہی کام کر رہے ہیں، وہ کوئی زنا، شراب نوشی، کفر و شرک کی دعوت نہیں دے رہے کہ وہ ایک صف میں کھڑے ہو جائیں اور میں دوسری صف میں کھڑا ہو جاؤں۔ ہم سب اسلام ہی کی صف میں کھڑے ہیں اور ہمارے
مقابل کفر اور جاہلیت کی صف ہے۔

اعلیٰ ظرف لوگ ہمیشہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ ہی کرتے ہیں

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"جو شخص لوگوں کی رضا مندی کے لیےاللّٰه تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے،تو اللّٰه تعالیٰ اسے لوگوں ہی کے سپر...
22/11/2025

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص لوگوں کی رضا مندی کے لیے
اللّٰه تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے،
تو اللّٰه تعالیٰ اسے لوگوں ہی کے سپرد کر دیتا ہے۔"

📚 صحیح ابن حبان
حدیث نمبر: 277

لوگوں کو خوش کرنے کی خواہش
اگر اللّٰه کی ناراضگی تک لے جائے
تو یہ سب سے بڑی خسارے کی راہ ہے۔

مخلوق کبھی خوش، کبھی ناراض—
لیکن اللّٰه اگر راضی ہو جائے
تو ساری دنیا کا راضی ہونا بے فائدہ ہو جاتا ہے۔
اور اگر اللّٰه ناراض ہو جائے
تو لوگ بھی انسان کے کسی کام نہیں آتے۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ
فیصلہ، عمل اور نیت
اللّٰه کی رضا کے مطابق ہو۔

🌸 دعا:
اے اللّٰه! ہمیں لوگوں کے نہیں،
تیرے فیصلوں اور تیری رضا کے مطابق زندگی گزارنے والا بنا۔ آمین۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"مومن پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔"(یعنی مومن کی موت اکثر سختی اور تکلیف کے ساتھ آتی ہے،اور اسی...
22/11/2025

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مومن پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔"
(یعنی مومن کی موت اکثر سختی اور تکلیف کے ساتھ آتی ہے،
اور اسی مشقت کے سبب اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے۔)

📚 جامع الترمذی
حدیث نمبر: 982

موت…
مومن کے لیے آخری امتحان ہوتی ہے۔
دنیا کی تھوڑی سی سختی
آخرت کی بڑی آسانی کا دروازہ بن جاتی ہے۔

مومن کی پیشانی کا پسینہ
گناہوں کی معافی کی علامت ہے،
اور اس کی آخری لمحات کی تکلیف
اللّٰه کے ہاں بلند درجات کا سبب بنتی ہے۔

اللّٰه اپنے محبوب بندے کو
دنیا میں تھوڑا تھکا کر
آخرت میں ہمیشہ کا سکون دے دیتا ہے۔

🌸 دعا:
اے اللّٰه! ہمیں ایمان پر زندگی دے،
ایمان پر موت دے،
اور آخری وقت میں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھ۔ آمین۔

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا ...
22/11/2025

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں "چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد "ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی "چلیپا” اور "تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب اس کے شیر کے جیسے سر کی وجہ سے دیا۔ ان دونوں جنات کی وجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور تبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان دونوں کی وجہ سے قوم کے جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے۔ ایسے میں حکم الٰہی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران جب "عزرائیل علیہ السلام” کو ابلیس نے دیکھا تو سجدہ میں گر گیا۔

ابلیس شروع سے ہی ایک نڈراورذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا باقاعدہ اعلان کیا اور پھر فرشتوں سے فیض علم حاصل کرنے لگا۔ علم حاصل کرنے اور ریاضت کا یہ عالم تھا کہ پہلے آسمان پہ "عابد”، پھر دوسرے آسمان پر "زاہد”، تیسرے آسمان پر "بلال”، چوتھے آسمان پر "والی”، پانچویں آسمان پر "تقی” اور چھٹے آسمان پر "کبازان” کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا۔ ساتویں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا۔ ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دیا گیا یہاں تک پہنچ کر ابلیس نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی انتہا کردی۔

کم و بیش ابلیس نے چودہ ہزار سال عرش کا طواف کیا یہاں اس نے فرشتوں میں استاد/سرادر "عزازیل” کے نام سے شہرت پائی کم و بیش تیس ہزار سال مقربین فرشتوں کا استاد رہا۔ ابلیس کے درس و وعظ کی میعاد کم و بیش بیس ہزار سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار سال ہے۔

ابلیس کو حکم ہوا کہ داروغہ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہل جنت فرشتوں کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم سے داروغہ جنت رضوان کو سیراب کیا اور یوں جنت رضوان کی کنجیاں ابلیس کے پاس رہیں۔ روایات کے مطابق ابلیس 40 ہزار سال تک یہ فرض خزانچی انجام دیتا رہا۔ یہی وہ مقام اعلیٰ ترین جنت رضوان ہی تھا جہاں ابلیس نے پہلی بار بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس وقت ابلیس کے پاس ہفت اقلیم، افلاک، جنت و دوزخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پہ سجدے کیے تھے۔ مگر یہاں پہ ابلیس عاجزی سے پہلی بار بھٹکا اور خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ کئی ملائکہ کے سامنے ربوبیت کی بابت بات بھی کی مگر ملائکہ کے انکار کے سبب چپ ہو گیا اور یوں نظام چلتا رہا مگر اس سب سے اللّٰه تعالیٰ کی ذات بے خبر نہ تھی۔

پھر آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مرحلہ آیا جیسے قرآن مجید میں واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ابلیس آدم علیہ السلام کو جزو جزو مرحلہ وار مختلف اقسام کی مٹی سے تخلیق ہوتا دیکھتا رہا اور چپ رہا مگر جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدم علیہ السلام اللّٰه تعالیٰ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا عبادات اور اطاعت کا واسطہ دیا پھر طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی ہے اور آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکاری ہوا۔

تب اللّٰه تعالیٰ نے کہا نکل جا شیطان مردود۔لعنتی قرار پانے کے بعد ابلیس نے اپنی عبادات اور ریاضت کا رب کریم سے عوض مانگا جس پر اللّٰه تعالیٰ نے ابلیس کو ایک وقت معلوم تک مہلت فراہم کی۔ جس پر ابلیس نے اولادِ آدم کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا کر اپنا پیروکار بنانے کا دعویٰ کیا جس پر رب کریم نے فرمایا کہ جو متقی اور پرہیزگار ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پائے گا۔

ابلیس کے اس لعنتی کام میں اس کے پانچ ساتھی ہیں۔

1۔ ثبر » اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں گریبان پھاڑتے ہیں منہ پہ طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2۔ اعور » یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور بدی کو لوگوں پہ اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3۔ مسوّط » یہ کزب، جھوٹ اور دروغ پہ مامور ہے جسے لوگ کان لگا کر سنیں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے اور انھیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4۔ داسم » یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے اور آدمی کو گھر والوں پہ غضبناک کرتا ہے۔
5۔ زکنیور » یہ بازاروں کا مختار ہے بازاروں میں آ کر یہ بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔ بازاروں میں برائیوں اور فحاشی پہ ورغلاتا ہے۔

ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدے سے انکار کا جزبہ حسد تھا کہ جس نے اسے مجبور کیا کہ میری جگہ آدم (خاک) کو کیوں ملی۔ یہ اس کا جزبہ تکبر اور غرور تھا کہ میں اعلیٰ ہوں اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات اطاعت سے سرکشی کی تھی، شرک کی تھی۔ ابلیس نے دل میں خود کو "رب” مان لیا تھا۔ اسی شرک عظیم کی بدولت ابلیس تا قیامت رسوا و لعنتی ٹھہرا اور اولادِ آدم کو بھٹکانے کیلئے آزاد قرار پایا۔

حاصل نتیجہ یہ ٹھہرہ کہ رب کریم کو انسان کی عبادات عاجزی علم و دانش سے کچھ غرص نہ ہے۔ رب کریم صرف دیکھتا ہے کہ دل میں اطاعت و فرمانبرداری کتنی ہے۔ اسی بنیاد پہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے قرار پاتے ہیں۔

منابع و ماخذ: صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق

رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:"حرام سے پرورش پانے والا گوشتجنت میں داخل نہیں ہوگا۔"📚 مشکوٰۃ المصابیححدیث نمبر: 2772اللّٰه پاک ...
22/11/2025

رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:

"حرام سے پرورش پانے والا گوشت
جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

📚 مشکوٰۃ المصابیح
حدیث نمبر: 2772

اللّٰه پاک ہے اور پاکیزگی ہی کو پسند فرماتا ہے۔
حرام کھانا صرف جسم کو نہیں،
دل، روح اور اعمال کو بھی آلودہ کر دیتا ہے۔

جو رزق حرام سے کماتا ہے،
اس کی عبادت کمزور،
دعائیں بے اثر
اور دل بے نور ہو جاتا ہے۔

حلال کمائی تھوڑی بھی ہو
تو اس میں برکت، سکون اور نور ہوتا ہے۔
حرام کی زیادتی بھی قبر کے اندھیرے کے سوا کچھ نہیں بڑھاتی۔

🌸 دعا:
اے اللّٰه! ہمیں پاکیزہ اور حلال رزق عطا فرما،
اور ہر حرام سے ہماری حفاظت فرما۔ آمین۔

✨ نبی کریم ﷺ کا فرمان ✨رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:"ہم سب کے بعد آنے والے ہیں، اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے۔"📚 صحیح ...
22/11/2025

✨ نبی کریم ﷺ کا فرمان ✨

رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:

"ہم سب کے بعد آنے والے ہیں، اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہوں گے۔"

📚 صحیح مسلم
حدیث نمبر: 1979

امتِ محمد ﷺ اللّٰه کے ہاں خاص فضیلت اور بلند مقام رکھتی ہے۔
دنیا میں آخری اُمت ہونے کے باوجود،
قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جانا
اللّٰه کی رحمت، محبت اور شانِ مصطفوی ﷺ کا عظیم کرم ہے۔

جو سنتِ نبوی ﷺ کو تھام لیتا ہے،
وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو۔

🌸 دعا:
اے اللّٰه! ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی امت کا حقیقی شرف عطا فرما
اور قیامت کے دن ان کے ساتھ اٹھا۔ آمین۔

21/11/2025

دبئی ائیر شو میں بھارتی طیارہ گر کر تباہ، ویڈیو سامنے آگئی




21/11/2025

Address

Mansehra

Telephone

+923156548037

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شريعت اور طريقت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to شريعت اور طريقت:

Share