19/10/2025
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے نام کھلا خط
تحریر رفاق باچہ مردان
محترم وزیر اعلیٰ صاحب!
اگر آپ واقعی عمران خان کے وژن کے مطابق نظام چلانا چاہتے ہیں، تو براہِ کرم مردان کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں۔مردان کے مختلف سرکاری اداروں میں جونیئر افسران سینئر عہدوں پر براجمان ہیں۔ بعض کے پاس دو دو چارج ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سیاسی پشت پناہی کی بنیاد پر من پسند افراد کی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ جعلی لوکل بلز کے ذریعے محکموں سے رقوم نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں ایڈوانس ادائیگیاں کی گئی ہیں جبکہ کئی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود ہیں زمینی حقیقت میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ کئی ڈاکٹر اسپتالوں کی بجائے اپنے دفاتر پر ترجیح دیتے ہیں تاکہ ذاتی کلینک پر توجہ دے سکیں۔ ملحقہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باوجود سیاسی سفارش پر کچھ افسران اپنے ہوم اسٹیشن پر تعینات ہیں۔جنابِ عالی، یہ بات بھی آپ کی نوٹس میں لانا چاہتا ہوں ذرائع نے بتایا ہے کہ متعدد سینئر افسران جمعرات کو دفتر سے نکل کر پیر کے دن تاخیر سے واپس آتے ہیں۔ کلاس فور اور دیگر سٹاف عوام کو کہتے ہے کہ "صاحب پشاور میٹنگ کے لیے گئے ہیں"، جبکہ حقیقت میں صاحب اپنی ذاتی کام یا گھر گئے ہوتے ہے ۔ باقی دنوں میں بھی میٹنگز کے نام پر عوام کو گھنٹوں تک انتظار کروایا جاتا ہے اور دفتروں میں کپ شپ ہوتے ہے ۔کرپشن کا بازار گرم ہے اور محکمہ اینٹی کرپشن کا کردار وہ نہیں جو ہونا چاہیے۔ عوام بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں جبکہ سیاستدانوں کی پروٹوکول ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ سیاسی مداخلت کے باعث افسران بھی بے خوف ہو چکے ہیں کہ چلو آب یاری دوستی ۔۔۔اگر آپ واقعی عمران خان کے نظریے کے حقیقی سپاہی ہیں تو مردان کے منتخب نمائندوں اور بااثر کارکنوں کی مالی حیثیت کی مکمل جانچ انٹیلیجنس اداروں کے ذریعے کروائیں — ان کے سابقہ اور موجودہ اثاثوں کا موازنہ کرایا جائے۔جناب وزیر اعلیٰ! مردان اس وقت لاوارث محسوس ہو رہا ہے۔ یہاں قتل اقدام قتل چوری، ڈکیتی، راہزنی اور منشیات فروشی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں ایک ایسا ڈی پی او کی تعیناتی کی جائے جو جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ ساتھ کرپٹ پولیس اہلکاروں کا قبلہ بھی درست کرے۔آخر میں گزارش ہے کہ اراضی تنازعات، کاروباری جھگڑوں اور مالی لین دین کے مسائل کے حل کے لیے ڈی آر سی کو مزید اختیارات دیے جائیں یا۔اسی طرح پولیس میں ایک الگ شعبہ قائم کیا جائے جو ان معاملات کو قانونی انداز میں حل کرے۔اور اس میں سفارش کلچر نہ ہو
آپریشن اور انویسٹیگیشن پولیس کے دفاتر میں غیرقانونی فیصلوں اور جرگوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ پولیس اصل جرائم کے خاتمے پر ذہنی طور پر توجہ دے سکے۔
امید ہے آپ مردان کے عوام کی آواز سنیں گے، ان کے مسائل کا نوٹس لیں گے، اور عملی اقدامات کریں گے۔
خیر اندیش،
مردان کے عوام کی جانب سے