The Mardan Times

The Mardan Times 📍 مردان کی پہچان، ہمارا فخر | خبریں، ثقافت، تاریخ اور خوبصورتی — سب ایک جگہ! 🌟
(1)

ملک آدم خان مہمند ترکزی مورچہ خیل — پختونخوا کا وہ بہادر جوان جس نے جرأت، غیرت اور عزت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ وہ نہ صر...
13/10/2025

ملک آدم خان مہمند ترکزی مورچہ خیل — پختونخوا کا وہ بہادر جوان جس نے جرأت، غیرت اور عزت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ وہ نہ صرف ایک نڈر انسان تھا بلکہ مظلوموں کا سچا ہمدرد بھی تھا۔ دولت اور طاقت رکھنے کے باوجود ہمیشہ کمزور کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔

پشاور کے غنڈہ مافیا اور ظالموں کے لیے وہ ایک خوف کی علامت بن گیا تھا۔ جب ملک آدم خان پشاور آتا، تو اس کے دشمن زیرِ زمین چھپ جاتے۔ اس کی آواز، ویڈیوز، اور پیغامات مخالفین کے لیے بجلی کا جھٹکا ثابت ہوتے تھے۔ وہ کہتا تھا:
“میری دس دشمنیاں ہیں، جن میں چار میری اپنی ہیں، اور چھ میں نے مظلوموں کے لیے اپنے سر لی ہیں۔”

پولیس چیک پوسٹوں پر اسے سلوٹ کیا جاتا، اور کئی اہلکار اُس کے دربار میں فیصلے کروانے جاتے۔ مگر پھر اچانک وہی آدم خان ایک ہی رات میں “دہشت گرد” قرار پایا۔
جو آدم خان کل تک عزت و وقار کی علامت تھا، وہی آج اچانک “افغانی”، “اشتہاری”، اور “بھتہ خور” بنا دیا گیا۔
جو شخص سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی میں بالا حصار تک جاتا تھا، وہی چند دنوں میں غدار ٹھہرا دیا گیا۔

ملک آدم خان کی کہانی ایک دن میں نہیں بنی — مگر اس کا انجام ایک رات میں لکھ دیا گیا۔
اس نے زندگی عزت سے گزاری، اور موت کے بعد پختونخوا کے لیے ایک تاریخ رقم کر گیا۔
وہ چلا گیا، مگر اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گیا — کہ کیا سچ بولنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا ہمیشہ موت ہی ہوگی؟

اللہ پاک ملک آدم خان مہمند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ 🤲🏼

لیڈر بننا ممی ڈیڈی لوگوں کا کام نہیں ہوتا۔ ایمل ولی خان آخرکار دباؤ میں آ ہی گیا — سیکورٹی ہٹنے اور پنجاب کے پریشر کے بع...
10/10/2025

لیڈر بننا ممی ڈیڈی لوگوں کا کام نہیں ہوتا۔ ایمل ولی خان آخرکار دباؤ میں آ ہی گیا — سیکورٹی ہٹنے اور پنجاب کے پریشر کے بعد اپنے ہی بیان سے پیچھے ہٹ کر معذرت کر لی۔ آج کے واقعے نے ثابت کر دیا کہ ولی خان بابا جیسا کردار اور جرات ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایمل ولی چاہے جتنی کوشش کرے، ولی خان بابا کے نقشِ قدم پر چلنے کی صلاحیت اس میں نہیں۔

10/10/2025
عجیب بات یہ ہے کہ تین گھنٹے کے مقابلے میں ایک بھی پولیس اہلکار نہیں مرا، جبکہ ملک آدم خان اپنے دو ساتھیوں سمیت شہید ہوا۔...
10/10/2025

عجیب بات یہ ہے کہ تین گھنٹے کے مقابلے میں ایک بھی پولیس اہلکار نہیں مرا، جبکہ ملک آدم خان اپنے دو ساتھیوں سمیت شہید ہوا۔ یاد رکھیں، آدم خان ایک ذہین اور ہوشیار نوجوان تھا۔ اس نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو ایسے حالات میں پولیس کے حوالے ہونے کی ہدایت کی تھی۔ وہ کوئی عام شخص نہیں تھا، بہت سمجھدار تھا، اور یہ ناممکن ہے کہ اس نے پولیس پر فائرنگ کی ہو۔

اس سے پہلے بھی وہ ایسے واقعات سے دوچار ہو چکا تھا اور ہمیشہ خود تھانے جا کر افسروں سے بات کرتا تھا۔ برسوں پہلے ضلع دیر کے علاقے بلامبٹ میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جہاں پولیس نے 75 قیدیوں کو جعلی مقابلے میں مار کر دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ وہ سب معمولی مقدمات میں قید تھے۔ ایک بھی پولیس اہلکار نہیں مرا — کیا یہ ماننے کے قابل ہے؟

پولیس ہمیشہ جعلی مقابلوں میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتی آئی ہے، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ملک آدم خان نے خود کو پولیس کے حوالے کیا، مگر اسے دھوکے سے شہید کیا گیا۔ اس کے مخالفین انتہائی امیر لوگ تھے، پولیس نے ان سے کروڑوں روپے لیے — صرف ایک کمپنی والے سے 6 کروڑ روپے۔ اگر پیسہ نہ ہوتا تو پولیس کبھی اتنی “خیر خواہ” نہ بنتی۔

ملک آدم خان — ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل یا جعلی پولیس مقابلہ؟ملک آدم خان کی موت نہایت مشکوک اور افسوسناک حالات میں ہوئی...
10/10/2025

ملک آدم خان — ایک منصوبہ بندی کے تحت قتل یا جعلی پولیس مقابلہ؟

ملک آدم خان کی موت نہایت مشکوک اور افسوسناک حالات میں ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق، پولیس اور کچھ اعلیٰ افسران نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ:

“ہم آپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، کسی غیر جانبدار جگہ پر ملاقات کریں تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔”

ملک آدم خان، جو ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کرتے تھے، اس پر راضی ہوگئے اور خود ملاقات کی جگہ بھی طے کی۔ لیکن افسوس، یہ ملاقات دراصل ایک جال ثابت ہوئی۔
پولیس پہلے ہی سے کارروائی کی تیاری میں تھی۔ جیسے ہی آدم خان وہاں پہنچے، فورس نے ان کے اردگرد گھیرا ڈال دیا۔

جب آدم خان کو شک ہوا کہ یہ کوئی عام ملاقات نہیں، تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا:

“مجھے گرفتار کر لو، فائرنگ کی ضرورت نہیں۔ میں مزاحمت نہیں کروں گا۔”

لیکن پولیس نے ان کی بات نظرانداز کر دی۔
پہلی گولی سیدھی ان کے جسم میں لگی — وہ گر گئے، مگر اب بھی زندہ تھے۔ اس کے باوجود پولیس نے فائرنگ جاری رکھی، یہاں تک کہ آدم خان اور ان کے دو ساتھی شہید ہو گئے۔

بعد ازاں، پولیس نے میڈیا میں اسے “مقابلہ” قرار دیا تاکہ اپنی کارروائی کو جائز ظاہر کیا جا سکے۔ مگر زمینی حقائق اور عینی شاہدین کے بیانات اس دعوے کو جھوٹا اور منصوبہ بند قتل ثابت کرتے ہیں۔

ملک آدم خان نے کچھ دن پہلے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ:

“میرے دشمنوں نے میرے سر کی قیمت لگائی ہے، اور کچھ پولیس افسران ان سے پیسے لے چکے ہیں۔”
بدقسمتی سے، وہی بات آج سچ ثابت ہو چکی ہے۔

یہ سوال اب بھی باقی ہے —
کیا ملک آدم خان اور ان کے ساتھیوں کے خون کا حساب کوئی دے گا؟
کیا پولیس کا کام مجرموں کو عدالت میں پیش کرنا ہے یا خود منصف بن جانا؟

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی جائے، تاکہ سچ سامنے آئے اور ظلم کا پردہ فاش ہو۔



️ ملک آدم خان اور ساتھیوں کا پولیس انکاؤنٹر — انصاف کا خون؟تینوں پشتون نوجوان نہایت خوبصورت اور باصلاحیت تھے، لیکن افسوس...
09/10/2025

️ ملک آدم خان اور ساتھیوں کا پولیس انکاؤنٹر — انصاف کا خون؟
تینوں پشتون نوجوان نہایت خوبصورت اور باصلاحیت تھے، لیکن افسوس کہ ان کا بھی ایک پیک اِنکاؤنٹر ہوا — یعنی ایک غیر عدالتی قتل۔
سوال یہ ہے کہ اس ظلم کا جواب کون دے گا؟

سی سی پی او پشاور اس واقعے کا کریڈٹ لے رہے ہیں، جبکہ آر پی او راولپنڈی خمدانی بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک “بدنامِ زمانہ دہشت گرد” کو ہلاک کیا ہے۔ مگر حقیقت اس طرح نہیں ہے۔

ان نوجوانوں پر مقدمات پہلے سے درج تھے، لیکن ان کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی۔ ملک آدم خان نے خود چند دن پہلے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ کچھ لوگ ان کے مخالفین سے پیسے لے کر پولیس کے ذریعے انہیں قتل کروانا چاہتے ہیں۔ آج وہی بات سچ ثابت ہو گئی۔

اگر امن قائم کرنا مقصد تھا، تو پولیس کو چاہئے تھا کہ ان نوجوانوں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرتی — نہ کہ انہیں موقع پر مار دیا جاتا۔ پولیس مقابلہ انصاف نہیں، قتل ہے۔

ملک آدم خان کوئی عام شخص نہیں تھا۔ اسے کبھی سیکیورٹی فراہم کی گئی، کبھی اسے خطرہ قرار دیا گیا۔ جب اس نے بعض افسران کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو وہی افسران اس کے قتل کے ذمہ دار ٹھہرے۔
یہ واقعہ سوال چھوڑ گیا ہے:
کیا ہمارے ادارے اب خود قانون سے بالاتر ہو چکے ہیں؟
کیا طاقتور ہمیشہ بچتا رہے گا اور کمزور مٹتا رہے گا؟

ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ملک آدم خان اور اس کے ساتھیوں کے قتل کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ سچ سامنے آئے۔



🕊️ انا للہ و انا الیہ راجعون 🕊️ملک ادم خان — ایک باہمت، نڈر اور دلیر نوجوان، جسے خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور میں لوگ عزت...
08/10/2025

🕊️ انا للہ و انا الیہ راجعون 🕊️

ملک ادم خان — ایک باہمت، نڈر اور دلیر نوجوان، جسے خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور میں لوگ عزت، غیرت اور سچائی کے حوالے سے جانتے تھے۔

ملک ادم خان ایک بہادر اور صاف گو انسان تھا۔ اس کی ذاتی دشمنی کافی عرصے سے جاری تھی، اور اس کے مخالفین انتہائی بااثر اور امیر لوگ تھے۔
ذرائع کے مطابق، انہی مخالفین نے ادم خان کے سر کی قیمت رکھی تھی، جس کا ذکر ادم خان نے خود اپنی حالیہ ویڈیو میں کیا تھا۔
اور آج، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر وہ ہم سے جدا ہو گیا۔

یہ واقعہ صرف ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ ایک جرأت مند آواز کا خاموش ہونا ہے۔
ہم اس ظلم اور ناانصافی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ قاتلوں کو قرارِ واقعی سزا دی جا سکے۔

اللہ پاک ملک ادم خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ 🤲🏼
آمین یا رب العالمین 💔

😢 مشہور ٹک ٹاکر ملک ادم خان راولپنڈی کے علاقے واہ کینٹ، کوہستان کالونی میں ایک پولیس کارروائی کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ پو...
08/10/2025

😢 مشہور ٹک ٹاکر ملک ادم خان راولپنڈی کے علاقے واہ کینٹ، کوہستان کالونی میں ایک پولیس کارروائی کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران دو دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق، ان کا نام حال ہی میں پشاور پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے واقعے سے بھی جڑا رہا ہے۔ ملک ادم خان خیبر پختونخواہ میں خاص طور پر پشاور میں کافی معروف تھے۔

سوشل میڈیا پر صارفین ان کے انتقال پر افسوس اور حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پولیس اور دیگر اداروں کے لیے درد سر بننے والے مشہور ٹک ٹاکر ادم خان راولپنڈی کے علاقے واہ کینٹ کوہستان ...
07/10/2025

خیبرپختونخوا میں پولیس اور دیگر اداروں کے لیے درد سر بننے والے مشہور ٹک ٹاکر ادم خان راولپنڈی کے علاقے واہ کینٹ کوہستان کالونی میں پولیس مقابلے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت مارے گئے
حال ہی میں ادم خان نے پشاور کے علاقے پشتہ خرہ میں ایک فیکٹری میں سرعام فائرنگ کرکے فیکٹری کو جلایا تھا ۔
تصویر کمنٹ میں

تو ہو جاۓ مقابلہ ۔!!
07/10/2025

تو ہو جاۓ مقابلہ ۔!!

ریاست پاکستان کے قانون کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی بھی شخص کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ...
06/10/2025

ریاست پاکستان کے قانون کے آرٹیکل 9 کے تحت کسی بھی شخص کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیوں؟؟

نوشہرہ، اکوڑہ خٹک کے علاقے سوریا خیل میں پولیس کے مطابق حاد علی عرف خادوگے کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلہ ہوا، جس میں وہ جاں بحق ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق، چند روز قبل حاد علی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، اور بعد میں اسے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔

سوال یہ ہے: نوشہرہ پولیس آخر کیوں ملزمان کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہتی ہے؟ اور کیوں ہر بار مبینہ جعلی مقابلوں کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے؟

اگر یہ مقابلہ حقیقی تھا تو پھر پولیس پر کروڑوں روپے کی ٹریننگ، جدید اسلحہ اور آپریشنل استعداد پر خرچ ہونے والا سرمایہ کہاں جا رہا ہے؟ ایک پیشہ ورانہ فورس کا بنیادی کام ملزمان کو زندہ گرفتار کرکے قانون کے حوالے کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ہر بار مقابلے میں مار دینا۔

اور اگر یہ مقابلہ جعلی تھا تو یہ طرز عمل نوشہرہ میں پولیس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، جہاں مسلسل مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں ملزمان کو مارنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔

بالآخر سوال یہ ہے کہ ریاست میں قانون کس لیے ہے؟
کیا پولیس کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے کہ کس کو کیسے مارنا ہے، سزا دینا ہے یا جزا؟ اگر ایسا ہے تو پھر عدالتوں، تفتیشی نظام اور انصاف کے پورے ڈھانچے کا کیا کردار رہ جاتا ہے؟

ایمل ولی خان کی حالیہ تقریر بظاہر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور مشورے سے کی گئی ہے۔ آرمی کو بخوبی اندازہ ہے کہ خیبر پختونخوا می...
06/10/2025

ایمل ولی خان کی حالیہ تقریر بظاہر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور مشورے سے کی گئی ہے۔ آرمی کو بخوبی اندازہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں صرف وہی جماعت عوام میں مقبول ہو سکتی ہے جو بظاہر اسٹیبلشمنٹ مخالف مؤقف رکھتی ہو۔

اسی حکمتِ عملی کے ذریعے آرمی شاید عمران خان کی مقبولیت اور اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، جب بھی آرمی کو ایمل ولی خان یا ان کی جماعت کے ووٹ یا حمایت کی ضرورت پڑے گی، وہ انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تاحال آرمی نے ایمل ولی خان کے بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔



#اسٹیبلشمنٹ

Address

Mardan Bank Road
Mardan
3953

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Mardan Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share