13/10/2025
ملک آدم خان مہمند ترکزی مورچہ خیل — پختونخوا کا وہ بہادر جوان جس نے جرأت، غیرت اور عزت کی ایک نئی مثال قائم کی۔ وہ نہ صرف ایک نڈر انسان تھا بلکہ مظلوموں کا سچا ہمدرد بھی تھا۔ دولت اور طاقت رکھنے کے باوجود ہمیشہ کمزور کے ساتھ کھڑا رہتا تھا۔
پشاور کے غنڈہ مافیا اور ظالموں کے لیے وہ ایک خوف کی علامت بن گیا تھا۔ جب ملک آدم خان پشاور آتا، تو اس کے دشمن زیرِ زمین چھپ جاتے۔ اس کی آواز، ویڈیوز، اور پیغامات مخالفین کے لیے بجلی کا جھٹکا ثابت ہوتے تھے۔ وہ کہتا تھا:
“میری دس دشمنیاں ہیں، جن میں چار میری اپنی ہیں، اور چھ میں نے مظلوموں کے لیے اپنے سر لی ہیں۔”
پولیس چیک پوسٹوں پر اسے سلوٹ کیا جاتا، اور کئی اہلکار اُس کے دربار میں فیصلے کروانے جاتے۔ مگر پھر اچانک وہی آدم خان ایک ہی رات میں “دہشت گرد” قرار پایا۔
جو آدم خان کل تک عزت و وقار کی علامت تھا، وہی آج اچانک “افغانی”، “اشتہاری”، اور “بھتہ خور” بنا دیا گیا۔
جو شخص سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی میں بالا حصار تک جاتا تھا، وہی چند دنوں میں غدار ٹھہرا دیا گیا۔
ملک آدم خان کی کہانی ایک دن میں نہیں بنی — مگر اس کا انجام ایک رات میں لکھ دیا گیا۔
اس نے زندگی عزت سے گزاری، اور موت کے بعد پختونخوا کے لیے ایک تاریخ رقم کر گیا۔
وہ چلا گیا، مگر اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گیا — کہ کیا سچ بولنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا ہمیشہ موت ہی ہوگی؟
اللہ پاک ملک آدم خان مہمند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ 🤲🏼